تری امت کی آبرو - آمنہ قاسم

وہ دل مردہ ہے جسمیں کچھ کر گزرنے کی آرزو نہیں ہے۔یہ آرزو ہی ہے جو انسان کو گردش میں رکھتی ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ انسان اپنی ارزو پانے کے لئے جان سے گزر جاتا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا کہ خواب وہ نہیں جو آپ سوتے میں دیکھتے ہیں بلکہ خواب تو وہ ہیں جو آپ کو سونے نہیں دیتے۔

اور جسکے خواب نہیں اسکا مستقبل نہیں ۔ بعض دفعہ تصور کی بلندی انسان کو عارضی طور پر اپنے گردوپیش سے غافل کر کے کسی اور ہی دنیا کی سیر کرا دیتی ہے۔علام اقبال کے خیالات کی بلندی سے کون واقف نہیں۔وہ تصور میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتے تھے اور جاگتی انکھوں سے خواب دیکھتے تھے۔دراصل تو وہ اپنی شاعری سے امت کو ایک پیغام دینا چاہتے تھے۔اب دیکھیں زیر نظر شاعری وہ کیا پیغام دے رہے ہیں۔

گراں جومجھ پہ ہنگامہ زمانہ ہوا

جہاں سے باندھ کے رخت سفر روانہ ہا

جب اس دنیا کے دکھ وتکالیف مجھ پہ گراں گزرے تو میں اپنا سا زو سامان باندھ کر اگلے جہاں کے لئے روانہ ہو گیا۔

قیودشام وسحرمیں بسر تو کی لیکن

نظام کہنہ عالم سے آشنا نہ ہوا

میں نے یہاں زندگی تو بسر کی مگر اس دنیا کے فرسودہ نظام میں میرا دل نہ لگا۔

فرشتے بزم رسالت میں لے گئے مجھکو

حضور آیہ رحمت میں لے گئے مجھکو

چنانچہ اگلے جہاں میں مجھے فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لے گئے اور حضور مجھے اپنے سایہ رحمت میں لے گئے۔آیہ رحمت سے مراد قرآن کی وہ آیت ہے جسمیں حضور کو دونوں جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجنے کا ذکر ہے۔

کہا حضور نے،اےعندلیب باغ حجاز!

کلی کلی ہے تری گرمی نوا سے گداز

حضور نے کہا اے باغ اسلام کی بلبل تری پرسوزآواز یعنی تیری جذبوں کو بیدار کرنے والی شاعری نے اس امت کے نوجوانوں کے دل تڑپا دیے ہیں

ہمیشہ سرخوش جام ولا ہے دل تیرا

فتادگی ہے تری غیرت سجود نیاز

تیرا محبت بھرا دل ہمیشہ ہی

خوش رہا ہے۔تیری عاجزی تو عاجزانہ سجدوں کے لئے باعث رشک ہے۔

اڑا جو پستی دنیا سے تو سوئے گردوں

سکھلائی تجھکو ملائک نے رفعت ہرواز

تو جو پستی سے بلندی کی طرف ایا ہے تو فرشتوں نے تجھے بلندی کی طرف اڑنا سکھایا ہے۔

نکل کے باغ جہاں سے برنگ بو آیا

ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کر تو آیا؟

تو دنیا سے خوشبو کی طرح اڑ کر آیا ہے۔اب یہ تو بتا کہ وہاں سے ہمارے لئے کیا تحفہ لایا ہے؟

حضور دہر میں اسودگی نہیں ملتی

تلاش جسکی ہے وہ زندگی نہیں ملتی

ہزاروں لالہ وگل ہیں ریاض ہستی میں

وفا کی جسمیں ہو بو،وہ کلی نہیں ملتی

حضور دنیا میں مجھے خوشی اور سکون نہیں میرے لئے اپنی مرضی کی زندگی بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔انسانوں کی کمی تو نہیں مگر وہ صاحب ایمان جو اخلاص کا پیکر تھے وہ اب ناپید ہیں۔

مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں

جو چیز اس میں ہے،جنت میں بھی نہیں ملتی۔

مگر میں آپکی خدمت میں بطور تحفہ ایک قیمتی پیالے میں کوئی چیز لایا ہوں اور وہ اتنی قیمتی ہے کہ جنت میں بھی نہیں ملتی۔

جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اسمیں

طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اسمیں

اس قیمتی تحفے سے تیری امت کی آبرو ظاہر ہوتی ہے اور یہ قیمتی تحفہ ہے کیا؟یہ طرابلس کے شہیدوں کا لہو ہے۔1911میں جب سلطنت عثمانیہ زوال پذیر تھی اٹلی نے طرابلس(لیبیا) پر حملہ کیا اگرچہ عثمانی بے جگری سے لڑے مگر شکست ہو گئی اور لڑائی میں بہت سے شہید ہو گئے۔ اس غزل کا اخری شعر کمال درجے کا ہے۔آنکھیں اشک بہائے بغیر رہ نہیں سکتیں۔مگر اصل چیز تو پیغام ہے کہ اس امت کی آبرو کیا ہے اور کس چیز میں ہے۔