عورت ، ماں اور اسلام - ماہ وش طالب

راز ہے اس کے تپِ غم کا یہی نکتہء شوق

آتشیں، لذتِ تخلیق سے ہے اس کا وجود

کُھلتے ہیں اسی آگ سے اٙسرارِ حیات

گرم اسی آگ سے ہے معرکہء بودو نبود

(علّامہ اقبال- ضربِ کلیم ، ١٠٧)

صدیوں سے عورت خواہ وہ بہن ہو بیوی ہو یا ماں اپنے حقوق کی تکمیل کی طلبگار ہی رہی ہے۔ اور صدیوں سے ہمارے غریب طبقے کی عورت اپنی اس کوشش میں ناکام رہی ہے جبکہ امیر طبقے کی خاتون نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنی اہمیت اور حقوق کو ثابت کردیا ہے ، گوکہ عورت کے حوالے سے احکامِ الٰہی چودہ سو سال پہلے ہی بذریعہ پیغمبرِ اسلامؐ کتاب اور حدیث سے ثابت ہوچکے ہیں ، مگر دنیا کے مختلف کونوں بالخصوص پاکستان میں ان حقائق کو منوانے کے لئے عورت کو آج بھی بہت جدوجہد کرنی پڑرہی ہے اور تاحال وہ اپنی اس کوشش میں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہوسکی جو کہ اسلامی جمہوریہ میں رہتے ہوئے ہم سب کے لیے شرم کی بات ہے ، اگر کوئی سمجھے تو!

اس ضمن میں معاشرے کے بیشتر علماء نے تو عورت کے حقیقی اور بنیادی حقوق (جو قرآن و حدیث سے بغیر کسی حیل و حجت کے ثابت ہیں ) سے نظریں چراتے ہوئے عوام کو گمراہ رکھا ہے لہذا ان سے یہ امید لگانا کہ یہ حضرات، خواتین کی طاقت اور اہمیت کو قبول کرکے اسے برابری کا درجہ دیں گے ، بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ بہرِ حال اس تمہید کا مقصد کوئی پرانی بحث چھیڑنا نہیں بلکہ چند اہم واقعات کی طرف قارئین کی توجہ دلانا ہے جس کی جانب ہماری نام نہاد پڑھی لکھی جماعت قصداً، غفلتاً یا غیر ارادتاً توجہ نہیں دلا سکی۔ مگر انہیں پڑھ کر غورو فکر کرنے والا شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ان واقعات میں کتنی گہرائیاں ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں بیان کردہ تمام واقعات، اور احکامات میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر درج ہے:
وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمرٰن کی بیوی نے کہا کہ اے اللہ جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں ، اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما۔ ( ال عمرٰن، ٣۵)

عمران کی بیوی کا یہ قصد مکمل طور پر اس کا اپنا فیصلہ تھا ۔اسی طرح موسیٰ کو فرعون سے بچانے کے لیے ان کی ماں کی تدبیر بھی کلی طور ان کا اپنا فیصلہ تھی جس میں اللہ کی طرف سے نصرت شامل تھی ۔اسلامی تاریخ کے مطابق موسیٰ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئے تھے جب حکمران فرعون نے نبی جوزف (یوسف) کے زمانے کے بعد بنی اسرائیل کو غلام بنایا تھا۔ موسٰی کی ولادت کے وقت ، فرعون نے ایک خواب دیکھا جس میں اس نے یروشلم شہر سے آگ آتی دیکھی جس نے اس کی سلطنت میں سب کچھ جلا دیا سوائے اسرائیل کی سرزمین کے۔ کچھ روایات کے مطابق فرعون نے ایک چھوٹے سے لڑکے کا خواب دیکھا جس نے فرعون کا تاج پکڑ لیا اور اسے تباہ کر دیا۔ جب فرعون کو اطلاع ملی کہ بچہ اس کے تختہء حکومت کو الٹنے کے لئے بڑا ہوگا تو اس نے تمام نوزائیدہ بچوں کے قتل کا حکم دیا ۔ اس عرصے میں موسی کی ماں نے اسے چھپ چھپا لیا۔

قرآن پاک کے مطابق (القصص ،٧-١٢) جب موسیٰ کے پکڑے جانے کا خطرہ تھا تو خدا نے ان کی ماں کو الہام کیا کہ وہ اسے ٹوکری میں رکھ دے اور اسے دریائے نیل پر چڑھا دے۔ اس نے اپنی بیٹی کو ہدایت کی کہ وہ کشتی کے راستے پر چلے اور اس کو اس کی اطلاع دے۔ جب اس کی بیٹی دریا کے کنارے کشتی کے پیچھے گئی تو موسی کو فرعون کی اہلیہ آسیہ نے دریافت کیا جس نے فرعون کو قائل کیا کہ وہ اسے اپنا لے۔ اس واقعے سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح اللہ کے بھروسے ایک عورت/ماں نے کتنا بڑا قدم اکیلے اٹھایا ۔دوسری طرف ایک بچے کو دریا تک لے جانے والا کوئی اور نہیں حضرت موسیٰ کی بہن تھی ۔

ان واقعات سے جہاں ایک طرف یہ بھی ظاہر کہ اللہ کیسے تنہا عورت کو اہم ترین فیصلے کرنے کی قوت وصلاحیت بخش کر اسے کامیابی عطا کرتا ہے وہیں دوسری جانب یک ماں کو اپنی اولاد کے حوالے سے کلی طور پر فیصلے کرنے کا اختیار بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے لیے اسے شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔مگر آج عورت کو اس نہج تک اختیار دینا تو دور کی بات ہمارے ہاں بچے کا نام رکھنے کا معاملہ ہو تو ماں کے علاوہ ہر کوئی بالخصوص دودھیال میں ہر کسی کو اس اہم کام میں حصہ لینے کا اختیار ہوتا ہے جو ہفتوں تک فیصلہ ہی نہیں کرپاتے اور جب تک وہ سوچ نہیں لیتے ، تب تک بچے کے عارضی نام مُنّا، گڈو، مانو، وغیرہ بھی پکّے ہوچکے ہوتے ہیں ۔

ہمارے متوسط معاشرے میں ماں کی حق تلفی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ساری زندگی ماں اپنے بچوں کو دادا دادی اور باپ کے حسبِ خواہش پالتی پوستی ہے باپ چاہے تو بچے کی تربیت سخت اصولوں پر ہوتی ہے ، دودھیال چاہےتو بچوں ( بالخصوص بیٹے) کو غیر ضروری لاڈ پیار سے بگاڑ دیا جاتا ہے اور جب بچہ خوب بگڑ کر ماں باپ کا نام روشن کرتا ہے تو سارا کا سارا ملبہ ماں پر آگرتا ہے کہ یہ عورت تو اپنے بچوں کی تربیت اچھے خطوط پر نہ کرسکی یہ کسی کام کی نہیں ۔
تاہم، عورت کی تخلیق کا مقصد یہ نہیں کہ وہ رنگ برنگ پوسٹرز لے کر سڑکوں پر آ نکلیں نہ ہی ایک ماں کا مقصد اپنے بیٹے کو شادی کے بعد بھی بیوی سے بچا کر رکھنے کے لیے نت نئی چالبازیوں میں حصہ لینا ہے بلکہ اللہ تعالی کے فرمان اور نبی ؐ کی زندگی کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ عورت /ماں بہت سے اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت اور اختیار رکھتی ہے۔

اللہ نے عورت کو بہت سی اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے اوراق ایسی خوبصورت مثالوں سے بھرے ہوئے ہیں جہاں خواتین نے جنگ کے میدانوں میں اپنے شوہروں، بھائیوں، بیٹوں اور باپوں کی مدد کی، ان کی ہمت افزائی کی۔ اسلامی دنیا سے وومن ایمپاورمنٹ کی عظیم ترین اور عالمگیر مثال حضرت خدیجہؓ ہیں جو شادی کے بعد بھی بہت سے اہم مواقع پر حضورِ پاک ؐ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں ۔خواتین کی عظمت اور حقوق کی پاسداری کی خاطر ہمارے ہاں جب بھی تاریخ سے مثالیں بیان کی جاتی ہیں توساتھ ہی ناقص العقل لوگ یہ تاویلں گھڑ نے لگتے ہیں کہ آج کی عورت ویسی باحیا یا باوقار نہیں رہی حتی کہ ایک ماں بعض معاملات میں اپنی اولاد میں امتیازبرتتی ہے ، یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کامرد بھی پہلے مردوں (انبیاء،اولیاء اصحاب یا تبع تابعین وغیرہ کے نقشِ قدم پر چلتا ہے؟ نہ ہی ایک شوہر بیوی کے ساتھ خیر خواہ ہے نا بھائی میں شرم اور غیرت رہ گئ ہے ، بیشتر مرد حضرات کا جوشِ ٹھرک پچاس سے اوپر جاکر پھر سے بیدار ہوتا ہے، ایک باپ مفلسی سے تنگ آکر اپنی اولاد کو قتل کردیتا ہے اور پھر خودکشی بھی کرلیتا ہے۔

اگر سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے تو سب خواتین بھی ایک جیسی نہیں ہوتی اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد ہر عورت کی اپنے حساب سے درجہ بندی کرکے اس کے ساتھ اپنی مرضی کا سلوک کریں۔ یاد رکھیں کہ خواہ عورت ہو یا مرد مقابل عورت کو کردار کی تکڑی میں تولتے ہوئے اس سے کسی بھی قسم کا منفی سلوک روا رکھنا آپ کی اپنی تربیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ جس کے ذمہ دار یقینی طور پر آپ کے والدین ہوتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہو اگر ہمارے معاشرے کی خواتین / مائیں خواہ امیر ہو یا متوسط، اپنے جائز حقوق پر غور کریں اور ہمارے نااہل علماء کی توجہ ان کی جانب مبذول کرائیں ناکہ معاشرے میں انتشار پھیلانے والے ، ذومعنی پوسٹرز پکڑ کر مردوں کی توجہ اصل مقصد سے ہٹا کر ان کو دروغ گئی، بے جا بحث اور عورت/ماں کے احترام سے انحراف کا موقع فراہم کرنے کی وجہ بنیں۔