جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن- جویریہ بتول

بچے کسی بھی باغ کی رونق،خوشبو اور زینت کی طرح اور کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ان کے حقوق کا دفاع،تربیت،فلاح و بہبود اور تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ہی ہم ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں ۔ جنگیں ہوں یا قدرتی آفات،معاشرتی بے راہ روی ہو یا گھریلو تنازعات ان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم بچے ہی ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپیل پر 1982ء سے چار جون کو جارحیت کا شکار معصوم بچوں کے حوالے سے منانے کا اعلان کیا گیا۔کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض اس مسئلہ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تو ہو سکتا ہے۔ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیئے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنےاور اپنےفرائض کا اداک کرنے میں ہے۔کیونکہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کوترستےلاکھوں بچےکوئی حقوق حاصل نہیں کرسکے۔بچوں کی صحت،تعلیم،موسمی ملبوسات،ذہنی بالیدگی،تفریح طبع کےاسباب مہیا کرناان کے بنیادی حقوق ہیں۔مگرافسوس ہے کہ معاشرے سے عالمی سطح تک یہ پھول،جھلستے،مرجھاتے اور کملاتے دکھائی دیتے ہیں۔اور اپنے حقوق کے لیئے انصاف کے منتظر ہیں۔

کسی معاشرے میں تو اس کی وجہ غربت،شعور کا فقدان اور وسائل کی عدم دستیابی ہوتی ہے۔۔۔بچوں کی خوراک کی کمی،اور بچپن کی بڑھتی اموات اس کی مثال کے طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔۔۔پھر آگے بڑھ کر سوسائٹی کا یہ طبقہ جو معاشی جھمیلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے تواسی وجہ سے یہ ننھی جانیں اپنے سہانے بچپن کے خواب جلد ہی بکھیرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔۔۔اور زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیئے بھٹوں اور فیکٹریوں،ورکشاپوں اور کارخانوں میں ننھے مزدوروں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔ننھے ہاتھوں میں پکڑے بھاری آوازار اور میلے اور چکنے کپڑوں میں ملبوس یہ پھول کسی بھی معاشرے کی زندہ دلی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن منا کر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے اس استحصال کو روکا نہیں جا سکتا۔ان ننھے پھولوں کو کام کی جگہوں پر مار پیٹ،تشدد سے بری طرح مسلا جاتا ہے۔

یہی صورت حال اکثر کم عمر گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔۔۔جو ایک معاشرتی المیہ ہے! حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟
(صحیح بخاری)۔

رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ملازمین اور خدام کو اپنے جیسا کھِلانے،پلانے اور پہنانے کا حکم دیا ہے!یعنی سوفٹ ٹارگٹ کی وجہ سے یہ معصوم بچے ہر جگہ متاثر دکھائی دیتے ہیں ۔ پھر اسی طرح جنسی زیادتی کی دہشت گردی کے واقعات کا سامنے آنا اور زیادہ ذلت کا عکاس ہوتا ہے۔ان تمام صورتوں میں متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم اور پھولوں کی مانند بچے ہی ہیں۔والدین کی طرف سے عدم توجہ،بے جا مار پیٹ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی معاشرے کے اس اہم ستون کو کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔ شروع سے ہی بہترین تربیت،غربت ہو یا امارت مستقبل کی بہترین صلاحیتوں کے سامنے آنے کی نوید ہو سکتی ہے۔پیار نرمی،اور محبّت سے ان پھولوں پر خوب صورت رنگ چڑھائے جا سکتے ہیں۔عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا کے کئی خطوں میں یہ پھول سخت گرم و سرد تھپیڑوں سے نبرد آزما ہیں۔۔۔جن کے گھر،درسگاہیں اُن سے چھین لی گئی ہیں۔

لاکھوں مہاجر بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں ۔ شامی، فلسطینی اور کشمیری بچوں کے گھروں،سکولوں پر غاصبوں نے نا جائز قبضے کر رکھے ہیں۔اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادویات و خوراک کے سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی قابلیت میں معاون سہولیات انٹر نیٹ وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔جہاں دس ماہ کے لاک ڈاؤن کی پابندیوں نے ان معصوم ذہنوں پر انتہائی غیر صحت مند اور منفی اثرات مرتب کیئے ہیں…
جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا تشویش کا اظہار کرتی ہیں،مگر دنیا میں امن کے حصول کے دعویدار صرف دعوؤں میں ہی کھوئے رہ جاتے ہیں۔۔۔اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔اسی طرح لیبیا،شام،عراق،یمن،افغانستان برما،میں بھی جنگی کاروائیوں(زمینی و فضائی) کے دوران ہزاروں،لاکھوں معصوم بچے لقمۂ اجل بن جانے کی خبریں عالمی میڈیا پر گردش تو کرتی رہتی ہیں مگر سوائے افسوس کے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،تاکہ ایسی گھناؤنی مثالوں کو روکا جا سکے۔

جنگوں سے متاثر مہاجر کیمپوں میں بسیرا کیئے ہوئے بچوں کو ان کے مسائل سمیت ساری دنیا جانتی ہے۔اسلام تو وہ دینِ فطرت ہے جو جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں،عورتوں اور بوڑھے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا اور ان کے قتل سے سختی سے منع فرماتا ہے۔ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بچوں کو پیار کرتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،اوربوسہ دیتے تھے۔نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سن کر اس ڈر سے کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو،نماز مختصر کر دیتے۔۔۔(صحیح بخاری)۔

ایک بدوی نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟(رواہ البخاری،کتاب الادب )مگر آج اسلامی ممالک کے بچوں کے حقوق ہی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔آج بھی بچوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔تاکہ ہر جگہ،ہر خطے میں مذہب،قوم اور نسل سے قطع نظر یہ پھول مسکراتے رہیں،
خوشبو سے گلشنوں کومہکاتے رہیں۔ ایک محاورہ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ان پر غلط نگاہیں پڑنے ہی نہ دیں۔۔۔ان کے محافظ بن جائیں تاکہ ان کے گُل رنگ چہروں پر یاسیت کی پرچھائیاں نہ پڑنے پائیں۔

ان کی تعلیم،صحت اور تحفظ کے لیئے کیئے جانے والے اقدامات کا حصہ بنیں۔ان کے جنسی استحصال،اغواء اور تشدد جیسی کاروائیوں پر سخت سے سخت سزائیں جائیں تاکہ ان کی روشن آنکھوں میں کہیں بھی کمتری کے آنسو نہ جھلملانے پائیں کہ ان بچوں کے حقوق کی حفاظت اپنے روشن مستقبل کی حفاظت کی ضمانت ہے۔
ان بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی زمہ داری والدین،معاشرے،درسگاہوں کے معلموں،عہدیداروں،اور حکومتوں سبھی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔یہ بچے پھول ہیں گلشن کے، ان پھولوں کو نہ کملاؤ سب ان پھولوں اور کلیوں کی اداؤں کو مہکاؤ سب۔ان پھولوں پر جوبن سے ہی یہ گلشن مسکرائے گا۔کوئی سماج تب ہی پھر کامیاب بھی کہلائے گا۔دنیا کو چار جون کا دن مناتے ہوئے اڑتیس برس بیت گئے ہیں ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بچوں کے مسائل بجائے کم ہونے کے بڑھتے ہی جا رہے ہیں،وہ معاشرتی جرائم ہوں یا عالمی سطح کے جنگی جرائم ور یہ پھول اس جارحیت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں اس صورتحال میں سنجیدگی سے لائحہ عمل مرتب کرنے اور پھر اس پر تندہی سے عمل کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ اس انسانی المیے سے نکلا جا سکے۔کیا محض دن منائے جاتے رہیں گے اور انسانیت بتدریج روبہ زوال رہے گی اور یہ معصوم بچے پیدائش سے ہی مختلف جارحیتوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیئے ترستے اور منتظر ہی رہیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */