اہل ِکشمیر، مروت وہمدردی کی تصویر- ایس احمد پیرزادہ

کسی قوم کے خصائل میں خود غرضی، انانیت ، شکم پرستی، لالچ اور حرص راہ پائے تو قوم کا عام انسان صرف اپنے ہی بارے میں چوبیسوں گھنٹے سوچنے لگتا ہے لیکن اسے کشمیری قوم پر قدرت کا عظیم ترین احسان ہی ماناجانا چاہیے کہ زمانے کی ماریں سہنے اور مصائب کے کوڑے کھانے کے باوجود ناگہانی آفات کے مواقع پر یہ فرداًفرداًدوسروں کے لیے فکر مند رہتی ہے۔

مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کرنا،آزمائشی حالات کی ستم رانیوں کے شکار ہونے والوں کی داد رسی کرنا ۔ تکالیف کا سامنا کر نے والوں کا سہارا بننا کشمیریوں سے خود بخود ظاہر وباہر ہوتی ہیں۔ تازیخ کے مختلف ادوار میں ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کر رہے کشمیری عوام وہ اونچاکردار ادا کر تے رہے ہیں جس کے بارے میں بیرون دنیا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ رحم دلی، مروت اور احسان مندی اہل ِ کشمیر کی وہ ناقابل تسخیرطاقت ہے جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔کروناوائرس کی وجہ سے پوری دنیا نے چینی طرز کے لاک ڈاون کا فارمولہ اپناکر وائرس سے بچنے کی تدبیریں کیں، انڈیا میں بھی لاک ڈاون کیا گیا جو تادم تحریر جاری ہے۔

صرف دو ماہ کے عرصے میں ہی ہندوستان میں(جو دنیا کی سب سے بڑی پانچ ٹریلین معیشت بننے کا خواب دیکھتا اور دکھاتارہا ہے ) یکایک ایسے گھمبیر حالات سے دوچارہوا کہ ملکی معیشت کی گویاکمر ہی ٹوٹ گئی ہے ۔ ایسے میں مہاجر مزدوروں کی مظلومیت اور غربت و محرومی کے عفریت کاان پر پے درپے حملوںکا پوری دنیا نے مشاہدہ کیا ، اس بارے میں آج تک ایسے دلدوز ویڈیوز منظر عام پر آئے جن کو دیکھنے سے بڑے بڑوں کے کلیجے بھی پھٹ جاتے ہیں ، حد یہ کہ ایسے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ ہوئے جن میں دیکھا گیا کہ بھوکے لوگ کس طرح مردہ کتوں کے گوشت سے اپنی پیٹ کی آگ بجھا رہے تھے۔ایسے میں کشمیریوں کے لیے لاک ڈاون کا تجربہ کیسا رہا ہوگا، اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا تھا۔ کشمیر گزشتہ سال کے ۵؍اگست سے ہی مسلسل لاک ڈاون میں جی رہا تھا، اس چھوٹے سے خطے کی معیشت پہلے ہی بری طرح متاثر ہوچکی تھی،مارچ میں جیسے ہی یہاں زندگی کا پہیہ چلنا شروع ہوا چاہتا تھا،کورونا وائرس نے کشمیر کو ایک اور لاک ڈاون کے سپرد کرڈالا۔ ایسے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قوم کی مجموعی صورت حال کیا ہے، یہاں زندگی کس کس نوعیت کی سخت اور آزمائشوں سے عبارت ہے۔ اس موضوع پر جتنا کہاجائے کم ہوگا ۔

کشمیریو ں کو ماضی سے حال تک یہ شرف حاصل ہے کہ حالات کتنے بھی کٹھن کیوں نہ ہوں ، آزمائشیں کتنی ہی زور آور کیوں نہ ہوں ، یہ لوگ کسی کو فاقہ مرنے نہیں دیتے ہیں، یہاں ہر کسی کا چولہا کسی نہ کسی طرح جلتا ہے۔ لوگ اپنے اردگرد غریب اور مفلوک الحال خاندانوں کو اپنے نوالے میں شریک کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ موجودہ لاک ڈاؤن میں رمضان المبارک میں ایک پروفیشنل بھکاری( اس سے میں ذاتی طور پر بھی واقف ہوں کہ وہ ایک ایسی بستی سے تعلق رکھتا ہے جس کا پیشہ ہی گداگری ہے)نے کسی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی مدد سے اپنی ویڈیو فیس بک پر اَپ لوڈ کروائی جس میں اس نے اپنے اردگرد چار پانچ بچوں کو رکھ کر سوانگ رچایا کہ وہ کئی روز سے فاقہ کشی کاشکارہے ، اُس کے بچے بھوکوں مررہے ہیں۔ اُس نے لوگوں سے امداد کی اپیل کرکے ویڈیو میں ہی اپنا بنک اوکاؤنٹ بھی شیئر کیا تھا۔

اگلے 48 گھنٹوں میں اُس کے اکاؤنٹ میں 27 لاکھ کی خطیر رقم جمع ہوئی تھی ۔ گزشتہ سال ایک سماجی ادارہ نے سرطان کے ایک مریض کی اسٹوری شیئر کی جس میں اُن کے علاج کے لیے لوگوں سے تعاون کی اپیل یہ کہہ کر کی تھی کہ اُن کی سرجری پر چند لاکھ کا خرچہ آتا تھا لیکن چند ہی دن بعد ادارہ نے لوگوں سے دوبارہ اپیل کی کہ اب مطلوبہ رقم سے کئی گنا زیادہ رقم جمع ہوئی، اس لیے اب براہ مہربانی اکاونٹ میں مزیدپیسہ جمع نہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ اُن کے اکاؤنٹ میں 70 لاکھ جمع ہوچکے تھے۔ یہ مثالیں باورکراتی ہیں کہ کشمیر میں رحم ، مروت اور ہمدردی کی مشعلیں کس طرح فروزاں ہیں ۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سرینگر کے ایک بستی میں مسلح تصادم میں تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید صحرائی سمیت دو عسکریت پسندوں کام آئے ۔ اس جھڑپ میں بستی کے پندرہ رہایشی مکانات زمین بوس ہوکر ملبہ کا ڈھیر بن گئے۔

اس واقعے کے فوراً بعد مقامی مسجد انتظامیہ کمیٹی نے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ پندرہ کروڑ کے آس پاس بتایا۔ منہدم شدہ رہایشی مکانات کو از سر نو تعمیرکرنے کے لیے مقامی مسجد انتظامیہ کمیٹی نے لوگوں سے مالی تعاون کی اپیل کی۔ صرف تین دن بعد انتظامیہ کمیٹی نے دوبارہ لوگوں سے اپیل کی کہ مذکورہ بنک اکاونٹ میں پیسہ ٹرانسفر نہ کریں۔ شاید اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ لوگوں نے اتنی امدادی رقومات جمع کی تھیں کہ مکانات کی تعمیرممکن ہو سکے۔یہ صرف چند تازہ مثالیں ہیں ۔ کشمیر کے روز وشب گواہ ہیں کہ ہر مشکل اور غم زدہ گھڑی میں کشمیری لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مالی تعاون کر کے کسی بھی عنوان سے پیدا شدہ نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ انفاق، ایثار اور ایک دوسرے کے دُکھ درد کا ساجھی بننے میں دنیا بھر میں کشمیریوں کا کوئی ثانی نہیں ۔ایثار اور انفاق کا یہ مظاہرہ اُن حالات میں کیا جا تارہا جب عام کشمیری کی مالی حالت نہایت ہی پتلی ہوچکی ہے۔

کشمیر ی معیشت کا انحصار زیادہ تر فروٹ انڈسٹری اور محکمہ سیاحت پر منحصر ہے، گزشتہ پانچ برسوں میں یہاں گڑ بڑی کے چلتے سیاحت کا بیڑا ہی غرق ہو گیاہے۔ میڈیا نے کشمیر کے حوالے سے ایسا منفی پروپیگنڈا جاری رکھا کہ لوگ کشمیر کے نام سے ہی خوف کھانے لگے ، یہاں آنا دور کی بات ہے۔ اس طرح سیاحتی شعبے سے وابستہ لاکھوں لوگ ،جن میں شکارے والے ، ہوٹل مالکان، ٹیکسی ڈرائیور، پھیری والے ،دست کاریوں کے تاجر سرفہرست ہیں، کنگال ہو کر رہ گئے ۔ اسی طرح دلی اور ممبئی میں کشمیری سیب اور اخروٹ وبادام وغیرہ کے بجائے گھٹیا کوالٹی کے پھل اور خشک میوے بیرونی ممالک سے درآمد کئے جاتے رہے ہیں، نتیجہ یہ کہ کشمیری سیب اور اخروٹ کی مانگ اور قیمتیںاس قدر گر تی رہیں کہ سیب گرورس کے اپنے اخراجات بھی پورے نہیں ہوپاتے ، یوں آہستہ آہستہ کشمیری فروٹ انڈسٹری روبہ زوال ہوتی جارہی ہے۔

2016 ء کے بعد سے آئے روز کی ہڑتالوں اور کرفیو سے یہاں کا تجارت پیشہ طبقہ زیادہ ترپریشان حال ہے اور اربوں کھربوں روپے نقصانات کا شکار چلاآرہاہے ۔ظاہر ہے اس سے یہاں کی معیشت کی پوری گردش متاثر ہو چکی ہے اور ہر گھر ہر فرد کسی نہ کسی درجے متاثرین کی صف میں شامل ہے۔ اس سب کے باوجود جب کسی گوشے سے مالی امداد کی فریاد ہوجاتی ہے تو کم وبیش ہر کشمیری اپنا حصہ ڈال کر امدادی مہم میں جوں توں شرکت کرتا ہے۔ یہاں سینکڑوں NGO's لوگوں کی امداد سے ہی اپنا کام کررہی ہیں اورسال کے اختتام پر جب یہ این جی اوز اور ودیگر سماجی و مذہبی جماعتیں اپنا گوشوارہ شائع کرتی ہیں تو اُس میں عوامی چندہ سے حاصل ہونے والے کروڑوں اور اربوں کا حساب درج ہوتا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی سے کشمیر کے شہر و دیہات میں مسلح جھڑپوں کے دوران ہزاروں مکانات زمین بوس ہوئے۔ مخصوص موسمی حالات کی وجہ سے یہاں مکانات کی تعمیر ایسی ہوتی ہے کہ اُن کی تعمیر پر لاکھوں کیاکروڑوں روپے خرچہ آتے ہیں ۔ لہٰذا کسی مکان کا خاکستر ہونا یا بستی کا تباہ ہونا ، پھر اُسے سرنو تعمیر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں عام لوگ اُس وقت تک سکھ کا سانس نہیں لیتے جب تک وہ تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نہیں کرتے۔ یہ کوئی معجزہ نمائی ہی ہے کہ سال ہاسال اتنی ٹھوکروں اور معاشی سرگرمیوں کے ٹھپ ہونے کے باوجود یہاں شاید ہی ایسا کوئی ہوگا جس کا اپنا مکان نہ ہو، یہاں ایسا بھی کوئی نہیں جس کو بھکمری کا سامنا کرنا پڑاہو۔یہ اللہ کی دَین کے علاوہ ظاہراًصرف کشمیری قوم کی اخوت اور ملی ہمدری کا نتیجہ ہی جتلایا جاسکتاہے ۔ کشمیری قوم کا جذبہ ٔ ہمدردی محض اپنے ہم وطنوں اور ہم قوم لوگوں تک ہی محدود نہیں رہاہے بلکہ ہر ضرورت کے وقت قوم اپنے حریفوں اور رقیبوں کی جان تک بھی بچا تی رہی ہے ۔

2014 کے بھیانک سیلاب میں سانپورہ پلوامہ میں بھارتی فوج کا ایک پورا کیمپ پانی کی زد میں آگیا تھااور وردی پوش موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ہنگامی حالات میں اُن کی اپنی حکومت بھی مدد کے لیے نہیں آئی۔ اُس وقت سانپورہ کے اُن نوجوانوں نے ،جو وہاں سنگ بازی کے تعلق سے بدنام تھے، اپنی جان پر کھیل کر پورے فوجی اہل کاروں کو نہ صرف محفوظ مقام پر پہنچایا بلکہ کئی دن تک اُن کے لیے کھانے پینے کا انتظام بھی کیا۔ 2016 میں بجبہاڑہ اسلام آباد میں فائرنگ میں درجنوں نوجوان زخمی ہوگئے تھے، مقامی رضاکار نوجوان اپنے زخمی بھائیوں کی مدد کے لیے ہسپتال میں سینکڑوں پوائنٹ خون عطیہ کرچکے تھے کہ اِسی اثناء میں امرناتھ یاترا پر آئے یاتریوں کی ایک گاڑی کو بڑاحادثہ پیش آیا۔ وہاں علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ اس کے باوجود مقامی بستی میں کسی شخص نے مسجد کے لاوڈٔ اسپیکر پر اعلان کردیا کہ یہاں ایک یاتری گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کی امداد کی جانی چاہیے تو اہل بستی نے اپنی جان جوکھم میں ڈالتے ہوئے کرفیو توڑ ااور حادثے کی شکار بس میں پھنسے زخمی یاتریوں کو نکال کر نہ صرف ہسپتال پہنچادیا ۔

بلکہ جن زخمی کشمیری نوجوانوں کے لیے خون عطیہ کیا جاچکا تھا وہ اُن یاتریوںکو عطیہ کرکے اُن کی جان بچائی گئی۔رواں لاک ڈاؤن میں کشمیر کے طول وعرض میں سینکڑوں غیر ریاستی باشندے بشمول مزدور وکاری گرتادم ِ تحریر پھنسے ہوئے ہیں ، عام لوگ مسلسل اُن کے لیے غذائی اجناس کی فراہمی یقینی بناتے ہیں اور اُن کی روزمرہ ضرورت کا خیال رکھنا اپنا انسانی فرض سمجھ کر نبھاتے ہیں ۔یہ انسانی سلوک کشمیریوں کا عام وطیرہ رہاہے، جب کہ چشم ِ فلک نے وہ مصیبت بھرے دن بھی دیکھے ہیں جب دیگر ریاستوں میں کشمیری مسلمانوں کا وہاں کے مقامی شہریوں کے ہاتھوں جینا حرام کرکے رکھ دیا گیا اور کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیاجب کشمیری مسلمان کی تذلیل، پٹائی اور نفرت کی حدیں نہ کی گئیں۔

کشمیریوں کے جذبہ اُخوت و ہمدردی کو توڑنے کے لیے ہمارے کرم فرما ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ کشمیریوں کی معیشت کو تباہ کرنا، اُن کے تعلیمی سسٹم کو برباد کرنا ، اُنہیں جدید تعلیم سے دور رکھنے کے لیے زہرناک اقدامات کرنا، بلکہ اب خطے کی ڈیموگرافک کمپوزیشن تک میں تبدیلیاںلانے کی مبینہ کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ کشمیر کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کے لیے ہر کوئی اوچھا حربہ آزمایا جارہاہے ، دنیا ئے انسانیت تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ کیسی بے مروت ، سنگ دل اور ظالم ہے یہ دنیا۔