وقتی ابال نہیں سخت اقدام ضروری ہیں - حبیب الرحمن

جسارت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ریاستِ مدینہ کے امیرالمومنین کل ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی کے پر لگ جانے پر بہت زیادہ برہم ہوئے۔ ایسا کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ ہر مرتبہ جب بھی انھیں یہ خیال آتا ہے کہ وہ ملک کے وزیرِ اعظم ہیں اور وہ عوام کی شکلوں پر 12 بجتے دیکھتے ہیں تو انھیں بہت صدمہ ہوتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ انھیں ڈی چوک پر اپنی دھواں دار تقاریر بھی یاد آ جاتی ہوں، جس کی وجہ سے وہ کافی کبیدہ خاطر ہو جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انھیں ہر چیز کے دام آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھ کر اپنا فشارِ خون بھی بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ جان کر وہ شدید غصے میں آ جاتے ہیں اور پھر ہوتا یوں ہے کہ عوام کی مشکلات کے درد کا سارا بخار کابینہ کے سادہ مگر پُر کار ممبران پر اتار دیا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ ارکان ان کی ہدایات اور خفگی کو سنجیدہ لینے کی بجائے ہوا میں اڑا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہدایات "رات گئی بات گئی" بن کر رہ جاتی ہیں۔اگر ان ساری ہدایات اور گرج چمک کو سامنے رکھا جائے تو ان کا نچوڑ کچھ یوں نکتا ہے کہ عمران خان کا دکھایا جانے والا غصہ کچھ وقتی ابال کا سا ہوتا ہے اور جاری کی جانے والی ہدایات ہواؤں کے دوش پر سوار کرکے کچھ یوں جھک کر سر کے اوپر سے گزار دی جاتیں ہیں جیسے خود ان کے سارے باؤنسرز مخالف کھلاڑی اپنے اوپر سے گزار دیا کرتے تھے۔

وزیر اعظم کی برہمی کوئی بیجا نہیں اس لئے کہ وہ عوام کے سامنے 126 دن تک اپنے سارے وعدوں اور دعوؤں کو دہرانہ کسی طور بھی نہیں بھولے ہونگے۔ ان کے پاس عوام کو تسلی دینے کیلئے بے شک ہزاروں عذر ہونگے اور وہ ان مجبوریوں کو سہارا بھی بنائے ہوئے ہونگے لیکن وہ اس بات کو بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوام بہر صورت ان سے بیشمار تبدیلیوں اور آسائشوں کی توقعات باندھے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورت حال کے دفاع کیلئے ان کی پوری کابینہ اور وہ خود عوام کے سامنے مہنگائی کی لاکھ توجیحات بیان کرتے رہیں لیکن عوام بہر حال ہر قسم کے حالات کو گزشتہ حکومتوں سے بہتر شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کو اس بات کا بھی خوب احساس ہے کہ بہر کیف صرف باتوں اور لولی پاپوں سے کسی کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کا سربراہ تنہا تو پورے ملک کے حالات ٹھیک نہیں کر سکتا۔ اسے ایک ایسی ٹیم کی ضرورت ہر ہر قدم پر ہوتی ہے جو نہ صرف ہر معاملے میں اچھی رائے دینا جانتی ہو بلکہ ہر قسم کے شعبہ ہائے زندگی کو کامیابی کے ساتھ چلانا بھی جانتی ہو۔ ان کا گمان یہی تھا کہ ان کے پاس ایک اچھی اور بہت لائق فائق افراد کی ٹیم ہے لیکن اب تک کی ساری صورت حال کی روشنی میں ان کیلئے جو بات صدمے کا باعث بنی ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ ان کی ساری توقعات پر بری طرح پانی پھر چکا ہے اور کوئی محکمہ بھی ایسا نہیں جس کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر وہ عوام کے سامنے کسی فخر کا اظہار پورے اعتماد کے ساتھ کر سکیں۔

انھیں اپنے سارے وعدے اور دعوے بھی اچھی طرح یاد ہونگے اور موجودہ صورت حال بھی بہت اچھی طرح واضح ہوگی۔ وہ جب جب اس پر نظر ڈالتے ہونگے، ان کی پریشانی میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہی ہوتا ہوگا اور یہی پریشانی کسی نہ کسی تلخی کی صورت میں کابینہ کے ارکان کے سامنے ظاہر ہوتی ہوگی۔جس انداز میں عمران خان روز کی بنیاد پر گھنٹوں میٹنگیں بلا رہے ہیں اور ایک ایک پل پر نظر رکھتے ہوئے حالات کو بہتری کی جانب لیجانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں، وہ انداز یقیناً غیر معمولی ہے۔ اس سے قبل کسی بھی وزیر اعظم یا حکومتی سر براہ کو امور حکومت چلانے کیلئے اتنی جانفشانی کے ساتھ کام کرتے نہیں دیکھا گیا لیکن اس کے باوجود بھی اس کا پھل سامنے نہیں آنا، وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج پر کئی سوالات اٹھاتا نظر آ رہا ہے۔وزیر اعظم نہ صرف شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہیں بلکہ لگتا ہے کہ اپنی ٹیم سے ان کی مایوسیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ حالات حکومت کیلئے تو ایک بڑا خطرہ ہیں ہی، ریاست کیلئے بھی کوئی نیک شگون نہیں۔

اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم صاحب سے یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ صرف خفگی سے کبھی کام نہیں چلے گا بلکہ مقابلہ اب اس موڑ پر آ چکا ہے جہاں مسائل کو "ناک آؤٹ" کرکے ہی ٹائٹل جیتا جا سکتا ہے ورنہ پوائنٹ پر انحصار مقابلے کو فتح کی صورت میں حریف کی جھولی میں ڈال سکتا ہے۔ ہر قسم کی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ہر گندے انڈے کو نکال دینا اور ہر سوکھتی شاخ کو چھانٹ دینا بہت ضروری ہو گیا ہے ورنہ حالات کچھ اور ہی کہانی سناتے نظر آ رہے ہیں۔