جانبداری، آدھا سچ اور مفادات - وقاص احمد

با وثوق اخباری اطلاعات کے مطابق( جو نہایت سہولت سےانٹرنیٹ پر ڈھونڈی جاسکتی ہے اور جو بوجوہ پاکستانی میڈیا تو درکنار، یورپین اور امریکی مین سٹریم میڈیا پربھی جگہ نہ پاسکی) ناروے کی ہیلتھ چیف نے بیان جاری کیا ہے کہ ڈھائی تین مہینے کے اعداد و شمار کے تجزیے کے بعد اب واقعتاً یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ناروے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی پیش گو شرح جوہر انفیکٹڈ شخص کے لیے3 سے زیادہ بتائی گئی وہ زیادتی پر مبنی تھی اور اب پچھلے اعداد و شمار کو دیکھ کریہ تعین ہوتا ہے کہ یہ شرح 1.1 کے ہی آس پاس رہی۔

کیونکہ ناروے میں بھی دیگر کئی ملکوں کی طرح لاک ڈاؤن سے پہلے ہی وائرس کے پھیلاؤ کا گراف نیچے آنا شروع ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ ناروے نے اپنے پڑوسی سویڈن کے بر خلاف بارہ مارچ سے سخت لاک ڈاؤن کے اقدامات کیے اور اسکولوں، عبادت گاہوں سمیت تمام پبلک مقامات، بازاروں کو بند رکھا۔ نارورے کی سرکاری ہیلتھ اتھارٹی نے گزشتہ ہفتے ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے جسے خوف کے شکار ہر پاکستانی اور خاص طور پر ڈاکٹرز اور تجزیہ کاروں کو پڑھنا چاہیے جس میں انہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر تسلیم کیا کہ کورونا وائرس کبھی بھی اس طرح نہیں پھیل رہا تھا جس کا دعویٰ امپیریل کالج لندن اور ہمنوا نے اپنے غلط اندازوں اورمستقبل کی خوفناک تصویر کے ذریعے کیا۔ (جس نے نہ صرف یورپ میں خوف کا بازار گرم کیا بلکہ ان کی آواز سے آواز ملانے والوں میں امریکا میں کلیدی عہدوں پر فائز ڈاکٹر انتھونی فاؤچی، ڈاکٹر ڈیبرا برکس اور رابرٹ ریڈ فیلڈ بھی شامل ہوگئے جنہوں نے امریکا میں کورونا سے بائیس لاکھ لوگوں کے مرنے کی ہولناک خبرسنائی اور جس کو میڈیا کی اکثریت نے مبینہ طور پر اپنے سنسنی پسند کاروبار اور معاشی مقاصد کے لیے بھرپور ہوا دی)۔

رپورٹ میں یہ سنجیدہ سوال اٹھائے گئے کہ کیا کورونا وائرس کے لیے اس سطح کے انتہائی اقدامات ضروری تھے جس نے ناروے کے پورے بنیادی تعلیمی عمل کا ستیاناس کردیا (چھوٹے درمیانے کاروربار اور روزگار کی تو بات ہی نہ کی جائے)۔ ناروے کی صحت کی سربراہ کے مطابق عوام میں جسمانی فاصلوں اور حفاظتی اقدامات کی ترویج و تشویق کے ذریعے ( اور بعض حالات میں جرمانے اور کاروباری پابندیوں کی صورت میں جیسا سویڈن نے شروع میں ہی بعض ریسٹرانٹس پر جرمانے لگا کر کیا اور جس کے بعد تمام ریسٹرانٹس نے سماجی فاصلوں کی ہدایات پر عمل کرنا شروع کردیا ) سماج اور معاش کو نقصان پہنچائے بغیر اس بیماری کا مقابلہ جاسکتا تھا۔ ناروے دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی نقصانات اور اسکے دوررس اثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی اور صرف اس نقصان کو دیکھنے کے بعد ہی وہ اس بیماری اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہوئے ۔ رپورٹ کھل کر کہتی ہے کہ لاک ڈاؤن کو فوری کھو لنے کے بعد اگر بیماری کی دوسری لہر آتی ہے (چونکہ لاک ڈاؤن سے ہرڈ امیونٹی کا توازن بھی بگڑا ہے) تو صحیح اور بہتر فیصلے کرنا ضروری ہیں۔ یعنی ایک ایسا فیصلہ جو سماج اور معاشرے کو مسائل اور تباہی کی طرف نہ لے کر جائے۔

امریکا میں چھ سو (600) ڈاکٹروں نے صدر ٹرمپ کو خط لکھ کر باور کرا یا کہ لاک ڈاؤن کا کیسے کینسر، گردوں، سانس، شوگر، دل کے امراض میں مبتلاء مریضوں کی حالت مزید خراب کر رہا ہے۔ کیسے شراب پینے ، ڈیپریشن اور اس کے نتیجے میں تشدد اور خود کشیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ تقریباً سب ڈاکٹروں نے کہا کہ کورونا کے مرض کی ہلاکت خیزی کے مقابلے میں دوسرے نقصانات اور برے اثرات کے بارے میں جانے بغیر کسی منصوبے کے بغیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ غلط اور اسے جاری رکھنا کورونا سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہورہا ہے۔ اور اسکے دوسرے ایک طرف ناروے ، جرمنی امریکا کے ڈاکٹرز ہیں ہے اور دوسری طرف ہمارے حکومتی وزارتوں کے زیر انتظام اور یونیورسٹیوں کے تحقیقاتی ادارے ہیں ، ڈاکٹرز ہیں اور میڈیا کے تحقیقاتی رپورٹرز اور لکھاری ہیں جن کی طرف سے لاک ڈاؤن میں مزدوروں ، محنت کشوں، فیکٹری ملازمین، دکان داروں اور انکے ساتھ کام کرنے والوں ، دوسری بہت سی بیماریوں کے شکار مریضوں، طالبعلموں اور بچوں کے حالات اور سماجی اثرات کے حوالے سے ریسرچ اور تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے ۔

دوسری اہم اور مصدقہ خبر جو یورپ اور امریکہ کے چھوٹے اخبارات نے ہی رپورٹ کی اور بڑے اخباروں نے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی وجہ کر اس سے کنی کترائی وہ یہ ہے کہ امریکا کے بیماریوں کے روک تھام کے سب سے بڑے ادارے سی ڈی سی نے امریکا میں تمام کرونا اموات کی شرح (جس میں لوگوں کو شک کی بنیاد پر بھی شامل کیا گیا، غلط پی سی آر ٹیسٹ والوں کو بھی شامل کیا گیا، ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا جو دل ، گردے، کینسر، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کے آخری سٹیج پر تھے) 0.26 % کے قریب قرار دی ۔ جبکہ اس میں راقم کا غالب گمان ہے کہ ان لوگوں کو صحیح تناسب سے بھی شامل نہیں کیا گیا جو کورونا سے متاثر ہوئے لیکن بغیر ہسپتا ل آئے اور جانے بغیر کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں صحتیاب ہوگئے یا بیمار ہی نہیں پڑے۔ یہ دونوں خبریں انتہائی غیر معمولی اور اہم ہیں۔ اہل علم و نظر کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس وائرس کے لئے آخر کیوں بل گیٹس، بڑی فارما کمپنیاں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے مغرب سے لیکر مشرق تک کے سیاسی رہنما اور اور میڈیا کی اکثر یت ہمیں ویکسین کی آمد کی قوالی سنا رہے ہیں ۔ کیوں تقریباً سارا میڈیا بل گیٹس، بڑی فارما کمپنیوں اور انکے ہم نوا ڈاکٹروں کی بولی بول رہا ہے۔

بل گیٹس اور بڑی فارما کمپنیوں کے مفادات تو سمجھ آتے ہیں لیکن میڈیا اور سیاسی رہنماؤں ، حکمرانوں کے ایسے کونسے مفادات وابستہ ہوگئے ہیں جو وہ دنیا کے سات ارب لوگوں کو چودہ ارب ٹیکے لگانے کی پلاننگ کر رہے ہیں ۔ ایک ایسا ٹیکا جو اس نوعیت کے وائرس کے لیے پہلا ہوگا۔ جو اتنی جلد بازی میں بنایا جارہاہے کہ اللہ کی پناہ۔ جس کی ٹیسٹنگ میں ضروری مراحل کو نظر انداز کرنے کی خبریں آرہی ہیں۔ جن افراد پر یہ ویکسین ٹیسٹ کیا جا رہا ہے وہ دنیا میں موجود لوگوں کی تمام عمروں، صحت کے مسائل ، جسمانی خواص اور دیگر کئی چیزوں کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ ویکسین کے سا ئڈ افیکٹس کو جانچنے کے لیے بھی سالوں کا وقت چاہیئے ہوتا ہے تبھی کوئی بھی ویکسین مکمل نہ بھی سہی قدرے محفو ظ قرار دی جاتی ہے اور ہمارے وزیراعظم پتا نہیں کیوں ویکسین کے انتظار کا عالمی فریضہ سر انجام دے رہے ۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں دس لاکھ پر تین سو سے اوپر لوگ مرے اور شرح موت 0.26 % سے کم رہی وہاں بھی با شعور لوگ سوال کر رہے ہیں کہ بتایا جائے ویکسین کیسے بنائی جارہی ہے، کس آزاد ادارے سے چیک کرائی جارہی ہے، نوجوانوں اور خاص طور پر بچوں کو خوامخواہ یہ کیوں انجیکٹ کی جائے۔

جبکہ پاکستان میں جہاں دس لاکھ پر الحمدللہ صرف سات اموات ہیں وہاں کے وزیر اعظم غیر ذمہ دارانہ لا علمی کا شکار ہیں یا پھر تجاہل عارفانہ کے مصداق بن رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ جاننا آپ کا فرض ہے کہ قوم کے لوگوں، بچو ں کے جسم میں کیا چیز جا رہی ہے ۔ خاص طور پر وہ چیز جو حکومتی سرپرستی اور ذمہ داری کے ذیل میں آتی ہے اس حوالے سے چوکنا رہنا اور صحیح اقدامات کرنا بے انتہا اہم ہے۔قومی صحت کے حوالے سے فون پر بل گیٹس کی ہاں میں ہاں ملانا کمال نہیں غفلت ہوسکتا ہے۔ راقم کا ادنیٰ خیال ہے کہ جب تک آنے والی ویکسین کے استعمال کے اثرات اور اس کے شفاف تجزیات اٹلی، برطانیہ، اسپین، امریکا سے نہیں آجاتے، پاکستا ن میں ویکسین کی درآمد اور استعمال کے بارے میں سوچا بھی نہ جائے اور اس بھیڑچال والے میڈیا کو بھی سمجھا دیا جائے۔ ہاں علاج چاہے وہ دوا سے ہو یا اینٹی باڈیز سے پُر پلازما سے ہو یا دوسری ریسرچ ہو اس پر بھرپور کام کیا جائے۔ کارپوریٹ معاشی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوام کی صحت پر رونے اور فکر مند ہونے کا حق اگر میڈیا ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ سگریٹ نوشی اور دیگر مضر صحت کھانوں اور مشروب کے خلاف پروگرام کرنے اور مہم چلانے کی ہمت کرے۔

موٹاپا دورکرنے اور قوت مدافعت بڑھانے کے لیے کیا ضروری ہے اس پر کھل کر بات کرے۔ اور اگر یہ کام مشکل ہے تو کم از کم کورونا وائرس اور ویکسین کے بارے میں سائنسی اور طبی حلقوں میں اٹھنے والے تمام سوالات اورتجزیات کا احاطہ کیا جائے اور آزاد ذہن یا متبادل رائے کے حامل سائنسدانوں اور ڈاکٹرز کو بھی موقع دیا جائے۔ آپ کی طرح وہ صرف کورونا نہیں بلکہ عوام کی جسمانی اور ذہنی صحت سے جڑے تمام پہلؤوں کےحوالے سے فکرمند ہیں ۔مین سٹریم میڈیا اپنی جانبداری، خبروں کے یک طرفہ انتخاب اور آدھا سچ پیش کرنے کی وجہ سے دنیا کے سنجیدہ اور بالغ النظر علمی لوگوں میں شدید غیر مؤثر اور ناقابل اعتماد ہوتا جارہا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر دوسرے تجربہ کار، انتہائی تعلیم یافتہ کہنہ مشق اور نامور سائنسدانوں ، ڈاکٹرز اور محققین کو سن رہے ہیں ۔ عوام میں شعور و ادراک کے بڑھنے سے یہ ماہرین تیزی سے مشہور و معروف بھی ہورہے ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب لوگوں کو عقل سلیم و ہدایت عطا کرے اور ہم سب کے ایمانِ حقیقی میں اضافہ کرے۔