کچھ متحدہ عرب امارات کے بارے میں - سلمان اسلم

شروع سے ہی یہ معقولہ زبان زد عام رہا ہے کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ مری طرح ہر کوئی اس محاورے کو نہ جانے کتنی بار پڑھتا اور سمجھتا ہے مگر ادراک اس ڈھول کے پاس جائے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ دوسرے ممالک میں سفر کرنے والے ڈھول کی آواز اوراحوال نہایت مسحور کن ہوتی ہے لاکن اس کے پاس جانے پر اسکی آواز اتنی ہی ہیبت ناک ہوتی ہے۔

اسی سحر میں میں خود بھی آج سے کوئی قریبا 15 سال پہلے جکڑ گیا تھا جب میں ابھی ہائی سکول میں تھا۔ ملک سے باہر سفر کرنے کا سحر مرے اندر پلتا گیا اور بالآخر ماسٹرز کرنے کے بعد میں پہلی بار متحدہ عرب امارات ویزٹ پہ گیا۔ یہ مری زندگی کا پہلا بڑا ٹور تھا جو مرے لیے انتہائی اذیت ناک ثابت ہوا اور اک مہینہ رکنے کے بعد میں واپس وطن چلا آیا۔ وطن عزیز میں باقاعدہ جاب کی تلاش میں سرگرداں رہا مگر تین سال بعد دوبارہ میں نے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا اور میں 2015 میں باقاعدہ جاب پر متحدہ عرب امارات آگیا۔ یہ تو ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ ٹی وی اور انٹرنیٹ پہ دکھائے جانے والے دوسرے ممالک کی تصاویر بظاہر خوبصورت ہوتے ہیں۔ ویسے تو ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بہت سارے ایسے ممالک ابھی بھی دنیا میں موجود ہیں جن کے دکھائے جانے والے تصاویر کے درپردہ رخ اگر منظر عام پر آجائے جو ہمیشہ پوشیدہ رکھا جاتا ہے تو عمومی اکثریت ان ممالک کا سفر کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوجائیں گے۔

کسی بھی شہر یا آبادی کو بنانے اور آباد کرنے میں اس کی تزین و آرائش میں عام مزدور یعنی لیبر کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ لیکن اسی شہر و آبادی کے رنگ و روغن میں وہی مزدور گمشدہ رہتے ہیں۔ اور یہی حال متحدہ عرب امارات کا بھی ہے۔ صرف دوبئی کو دیکھا جائے جس کو آج دنیا میں سب زیادہ سیاحوں کی مرعوب جگہ مانا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ صحرائی ریت سے بھرے چٹیل میدان تھے۔ لیکن آج وہی چٹیل میدان ہر دوفٹ کے فاصلے پہ بلند وبالا اور خوبصورت تعمیرات میں تبدیل ہوچکا ہے۔ نہ ختم ہونے والے سڑکوں، میٹرو بس ٹریک اور ٹرام سروسز کے ٹریک میں اک جال کی مانند بنا جا چکا ہے۔ یہ سب ایسے آسان تو نہ تھا اور نہ یہ ازخود دیکھتے ہی دیکھتے میں بن گیا۔ بلکہ اس کے درپردہ تارکین وطن سے آئے ہوئے وہ مزدور طبقہ ہے جنہوں نے صحراء کی اس تپتی ریت پہ گرمی میں رہ کر اس صحرائی چٹیل میدانوں کو دنیا کے سب سے زیادہ مرعوب سیاحتئ مقام میں تبدیل کیا لیکن وہی مزدور آج بھی ناگفتہ بہ حالت سے دوچار ہیں۔

اقوام عالم کو دکھانے کے لیے میں اپنی مرضی سے جو چاہے دکھا دوں لیکن حقیقت ہمیشہ اسکے برعکس رہتی ہے۔ کہتے ہیں جو جیسے دکھتا ہے ویسے ہوتا نہیں یہی حال متحدہ عرب امارت کا بھی ہے۔ میں پچھلے پانچ سال سے عرب امارات میں مقیم ہوں اور میں اس عرصے میں کوئی قریبا 10 رہائشی کیمپوں میں رہا ہوں لاکن میں نے ہر بار ہر کیمپ کو گندگی سے لت پت ہی دیکھا ہے۔ حال ہی میں کورونا وائرس کے اس وبائی مرض میں جہاں لوگ سوشل فصیلیں قائم کر رہے ہیں تاکہ اس مہلک مرض سے بچا جا سکے وہاں متحدہ عرب امارت میں بھی روڈوں اور پبلک مقامات پہ سختی برتی جا رہی ہے مگر کورونا جیسے لاکھوں جراثیم جو کیمپوں کے اندر موجود گندگی میں پائے جاتے ہیں انکی زرہ برابر کوئی فکر نہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وطن عزیز پاکستان میں جسطرح گندگی میں لت پت زندگی مصلی گزارتے ہیں شائد ان سے بھی اک دو ہاتھ آگے متحدہ عرب امارات میں مزدور طبقہ رہائشی کیمپوں میں گزارتے ہیں۔

لیکن حیرانی کی بات ہے کہ آج تک اک فرد بھی اس قسم کے گندگی سے نہ تو بیمار ہوا اور نہ موت کا شکار ہوا۔ ان ممالک میں جو سختی کرونا کی توسط سے کی جارہی ہے وہ پبلک مقامات پہ مزدور طبقے کی حمایت اور فکر میں نہیں ہو رہی بلکہ اپنے وطنی اور تھوڑے بہت ایلیٹ کلاس کے لوگوں کی فکر میں سرگرم ہیں۔ مزدور طبقہ گر آج ہزاروں کی تعداد میں مر بھی جائے تو لاکھوں اور ہیں جو اپنے وطن میں یہاں آنے کے لیے منتظر بیٹھے ہیں۔ مرا مقصد کسی پہ اعتراض اٹھانا نہیں بلکہ خواب غفلت سے جگانے کا ہے کہ خدارا اس خطے میں رہنے والا مزدور طبقے کو بھی انسانیت کے زمرے میں ڈال کر اتنی ہی اہمیت دے دی جائے جتنا کہ باقی لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ آج اس ملک میں اگر اتنی ساری ریل پیل ہے چاہے وہ دولت کی ہو یا عوام یا تجارت کی ہے تو یہ سب اللہ کے فضل کے بعد اسی مزدور طبقے کے ہی مرہون منت تو ہے۔ مزدور طبقہ جن کیپموں میں رہائش پذیر ہے اس کے لیے اور اس کے انتظامیہ کے لیے نہایت سخت تعزیرات صفائی کے حوالے سے لگائے جانے چاہیئے اندرونی اور بیرونی دونوں احاطوں کے اربع تک۔

کسی بھی قسم کی شراب نوشی کو کیمپوں اور اس کے اس پاس علاقوں میں یوں پینے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ دن میں کم ازکم دو بار کیمپوں کی صفائی کو قانون بنا دیا جانا چاہیئے۔ کیونکہ صرف کام اور پیشے کے اعتبار سے کوئی انسان حقیر نہیں ہو جاتا بلکہ ہر ابن آدم کو اللہ رب عزوجل نے عزت اور احترام والا پیدا فرمایا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ عزوجل فرماتا،" یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔"لیکن یہاں عرب امارات میں مزدور طبقہ پیشے کے اعتبار سے جس حقارت اور ذلالت سے گزرتی ہے شائد ہی کہیں اور ایسا ہوتا ہو۔ گر کسی وقت دوبئی کو سب سے زیادہ سیاحت کے لیے مرعوب بنانے والے مزدوروں کے رہائشی کیمپوں کا شام کے وقت معائنہ کرکے دکھایا جایے تب شائد ہی پھر یہ اپناسیاحتی ساکھ برقرار رکھ پائے۔ لاکن اک بات واضح ہونی چاہئیے کہ اس سارے معاملات کا حکومت اکیلا قصور وار نہیں بلکہ جو تھوڑی بہت صفائی ہوتی ہے اس کا رہی سہی بھرکس یہی مزدور طبقہ ہی نکالتا ہے۔

میں نے اپنے ان پانچ سالہ مدت میں عرب امارات میں گر کسی ملک یا قوم کے باشندوں کو تہذیب اور تمدن سے رہتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ صرف پاکستانی ہیں۔ ایشیائئ ممالک میں نیپال انڈیا اور سری لنکا کے لوگ، افریقی ممالک کے باشندے اور فلپائن کے لوگ انتہائی غیر مہذب اور گندے ترین لوگ ہیں۔ رپائشی کیمپوں میں کی جانے والی سرسری صفائی کا ستیاناس انہی ممالک کے عوام ہی کرتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ سارے مادرزاد گندے، غیر مہذب اور تمدن سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا، پان وغیرہ غلیظ چیزیں کھا کر دیواریں اور واش بیسن تک میں تھوکنا، واش روم کرنے کے بعد فلش آوٹ نہ کرنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سارے نجاست بھرے اور غیر مہذب افعال ہیں جو انہی ممالک کے لوگوں کا عمومی شیوہ رہتا ہے۔ کرونا کے وباء سے نمٹنے کی خاطر سوشل فصیلوں کوقائم رکھنے والوں کو چاہئیے کہ وہ ان گندے لوگوں کو یا تو تہذیب سکھا دیں اور یا پھر ان سے اپنی دھرتی کو صاف کرادیں۔ کیونکہ مرا مصمم یقین ہے کہ گر امارات کے تمام لیبرز کا کرونا ٹیسٹ باقاعدہ کیے جائیں تو دنیا امریکہ اور اٹلی کو بھول جائیں گے کہ جتنے کیسز یہاں رپوٹ ہونگے۔

موت تو برحق ہے مگر موت سے چھپنے کا ڈرامہ کرنا بھی ہو تو سلیقے سے تو کیا جائے۔ صد افسوس کی بات ہے کہ ہر چیز واپس کھل رہی ہے کیونکہ تجارت میں مندی کے خوف سے بزنسز اور سینماز تک کھول دہے مگر آخرت کے خوف سے مسجدوں کو تالے پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ کورونا نے معاذ اللہ ثم معاذ اللہ مسجدوں کے ساتھ اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔ میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ دنیا میں گر روزمرہ کے معمول کا مشاہدہ اور تحقیق کیا جائے تو اوسطا روزانہ اک رف اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار لوگ نہ جانے کن کن بیماریوں سیمرتے ہیں اسکی آج تک اتنا فکر اور واویلا نہیں کیا گیا جبکہ اک کورونا نامی وائرس کا واویلا کرتے کرتے دنیا پوری کی زبان نہیں تھکتی۔ سوچنے کی بات ہے چین میں پھیلنے والی بیماری 3 مہینوں میں پوری دنیا میں کیسے پھیل گئی جبکہ یہ ہوا کے ذریعے سفر بھی نہیں کرسکتی۔

کیا تین مہینوں میں چائنہ والے پوری دنیا کا سفر کر گئے یا پھر وائرئس غیر قانونی راستوں سے چل کر داخل ہوتی چلی گئی؟؟؟ کتنی مہا تعجب کی بات ہے جب ورلڈ بینک نے متاثرہ ممالک کو امدادی ڈالر دینے کا اعلان کر دیا تو آن کی آن میں وائرس 196 ممالک تک جا پہنچا۔۔ بہت بڑا اور خرق عادت اور مافوق العقل تضادات سامنے آرہے ہیں۔ یہ وہ معمہ ہے جو کسی طور پہ حل نہیں ہونے والا۔ پشتو کا اک معقولہ ہے کہ "جب سچ پہنچے گا جھوٹ تب تک بستی اجاڑ چکا ہوگا۔"
اللہ ہم سب کو عقل سلیم سے نوازے اور ایسی ہر قسم کی بیماریوں سے نجات عطا فرمائے۔مرزا غالب کے شعر پہ اختتام۔

موت کا اک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی