ارطغرل کیوں دیکھیں - محمد احمد رضا

پاکستان میں آج کل ترکی ڈرامہ ارطغرل غازی کے چرچے ہیں۔ قارئین یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں ہے بلکہ ایک ہتھیار ہے۔ یہ دور تلوار، تیر اور نیزے اٹھا کر جنگیں کرنے کا نہیں بلکہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے۔ یہ نظریاتی جنگوں کا دور ہے، یہ ورلڈ آرڈر اور دی گریٹر اسرائیل کی گیمز کا دور ہے۔ اس دور ميں کہیں فری میسنز تو کہیں الیومناتی جیسے ایجنڈے ہیں تو کہیں سورج غائب کرنے اور زمین کی حرکت روکنے کے تجربے۔

کبھی پوپی جیسے کریکٹر سامنے آتے ہیں تو کبھی اسیسن کریڈز جیسی سیریز۔وہ دور اور تھا جب صرف تلوار سے حملہ ہوتا اور تلوار سے دفاع ہو جاتا، پھر دور بدلا، تلوار و تیر کی جگہ بندوق و ٹینک نے لے لی۔ آج دور اسلحے کی خالی نمائش یا آٹے میں نمک برابر استعمال کے ساتھ ساتھ ذہنی و نظریاتی چالوں کا ہے۔
دشمن تو اس فیلڈ میں کافی ماہر ہے لیکن ہم بیچارے مسلمان شائد ابھی تک اس گیم کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ انہوں نے تو پچاس سال قبل دنیا کا نیا نقشہ جاری کر دیا تھا، جو آج بھی گوگل پر دی گریٹر اسرائیل لکھ کر سرچ کیا اور دیکھا جا سکتا ہے۔اس دور کا بہترین ہتھیار یہ ہے کہ مخالف کی ذہن سازی کر دی جائے، ذہن سازی کے لئے بہترین میدان میڈیا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا کس کےہاتھوں میں ہے، اس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ اسی میدان میں دشمن نے Assassin's Creed کا بم پھینکا۔ پہلے کتاب آئی اور پھر ویڈیو سیریز بنائی گئی، کسی نے دیکھی اور کسی نے نہ دیکھی۔ پھر اس پر ویڈیو اور کمپیوٹر گیم بنا کر گھر گھر کی دہلیز پر اسے پہنچا دیا گیا۔ اس میں واضح طور پر مسلمان اور اسلامی کلچر کو جاہل اور گنوار کلچر بنا کر پیش کیا گیا۔ اس سیریز میں ایک بدبخت عیسائی زائيونسٹ یعنی صیہونی جنگجو بیت المقدس کی دیواروں اور گنبد پر کسی بندر کی طرح چھلانگیں مارتا گھومتا ہے۔ اسے ایک بہادر جنگجو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مسلمان دنیا بالخصوص صاف ذہن اور بچوں کے لئے یہ ایک نظریاتی بم تھا جس کے ذریعے اسلامی تعلیمات اور کلچر کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کی توہین کی گئی تھی۔میں ان حالات میں جھک کر ترکی کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے ففتھ جنریشن وار کے میڈیا محاذ میں ایسا کامیاب قدم رکھا ہے جو باطل کے لئے ایٹم بم ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دشمن کے ساتھ ساتھ اسیسن کریڈز کے ڈسے لبرل، نام نہاد ایکٹر (میری مراد سٹیج ڈراموں اور فلموں میں حرام معاشقے دکھانے اور اسلام کو مسخ کرنے والوں) کی آنکھوں کو ارطغرل چبھتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ماڈرن ترکی کیسا ہو گا، ترکی کے موجودہ نظریات کیا ہیں۔ لیکن ترکی نے موجودہ حالات میں ارطغرل جیسے ایٹم بم بنا کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہے۔ (ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ مجھے ارطغرل کی کاسٹ سے کوئی لگاؤ نہیں بلکہ ارطغرل نظریے سے محبت ہے)۔

قارئین یہ تو ایک ارطغرل ہے، میڈیا کے اس دور میں ترکی کئی ایٹم بم بنا چکا ہے۔ ابھی تو پاکستانی قوم نے سلطان عبد الحمید اور یونس ایمرے دیکھنے ہیں۔
بعض من پسند مذہبی کہتے ہیں کہ ڈرامہ جائز نہیں، بھائی کس نے کہا جائز ہے لیکن جب دنیا الیومناتی، گریٹر اسرائیل، ورلڈ آرڈر کے ایجنڈے پر ڈراموں، فلموں اور سیریز کے ذریعے مسلم دنیا کے نظریات گرد آلود کرنے لگ جائے تو ارطغرل جیسے ڈرامے ضروری ہوتے ہیں۔ میری تو خواہش ہے کہ اگر کوئی صاحب اختیار یہ تحریر پڑھے تو التمش کی ’’داستان ایمان فروشوں کی‘‘ پر ایک ڈرامہ سیریز بنائے۔بیت اللہ کو قبلہ بنانے کے لئے فتح مکہ اور بتوں سے پاکی کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اس فتح کو یقینی بنانے کے لئے کئی سال قبل قبلہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر قبلہ فتح مکہ کے بعد بنتا یا بتوں سے پاکیزگی کا انتظار کیا جاتا تو شائد رہتی دنیا تک آنے والے مسلمان کہیں نہ کہیں شش و پنج کا شکار ضرور ہو جاتے۔یہ اللہ کریم کا اصول ہے کہ سامنے والے کو جواب اسی کی زبان میں دیا جاتا ہے۔ اسی اصول پر اللہ رب العزت نے قرآن میں سورۃ العادیات نازل فرمائی۔ فرمایا:

وَٱلۡعَٰدِيَٰتِ ضَبۡحٗا فَٱلۡمُورِيَٰتِ قَدۡحٗا فَٱلۡمُغِيرَٰتِ صُبۡحٗا فَأَثَرۡنَ بِهِۦ نَقۡعٗا فَوَسَطۡنَ بِهِۦ جَمۡعًا۔

(میدانِ جہاد میں) تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قَسم جو ہانپتے ہیں۔ پھر جو پتھروں پر سُم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر جو صبح ہوتے ہی (دشمن پر) اچانک حملہ کر ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس (حملے والی) جگہ سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ پھر وہ اسی وقت (دشمن کے) لشکر میں گھس جاتے ہیں۔قارئین ذرا تصور کریں کہ مندرجہ بالا پانچ آیات میں توحيد، رسالت، نماز، روزہ، عبادات، معاملات کا کوئی موضوع نہیں بلکہ اسلامی لشکر کے گھوڑوں کی تعریف ہو رہی ہے۔ ذرا آنکھیں بند کر کے ان آیات کی منظر کشی کریں کہ گھوڑے بھاگ رہے ہیں، ان کے سُموں سے چنگاریاں نکلتی ہیں، وہ دشمن پر حملہ کرنے کو دوڑتے ہیں، گرد و غبار اڑتی ہے اور وہ گھوڑے دشمن کے لشکر میں گھس جاتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ دور میڈیا کا نہیں تھا، اس دور میں منظر کشی اشعار و نثر میں ہوتی تھی، اللہ تعالی نے اسلامی لشکر کے گھوڑوں کی منظر کشی فرما دی اور اسی منظر سے نجانے کتنے دشمن مرعوب ہو گئے اور مسلمانوں میں کتنا جذبہ پیدا ہو گیا۔ آج میڈیا کا دور ہے اور میڈیا ہی میدانِ جنگ ہے۔

اس دور میں اگر اسلامی قیود کی حتی الامکان پاسداری کر کے اس منظر کی تصویر کشی اور سیریز بنائی جائیں تو یقیناً ميڈیا کے محاذ میں بہت کارآمد ثابت ہو گا۔
میری اپنے احباب سے بھی عرض ہے کہ نا صرف ارطغرل سیریز دیکھیں بلکہ اپنے بچوں کو ساتھ بیٹھا کر ارطغرل کے ساتھ ساتھ سلطان عبد الحمید اور یونس ایمرے بھی دکھائیں،جہاں بچوں کو سمجھ نہ آئے تو انہیں اپنی تاریخ اور اسلامی نظریات سمجھائیں۔ ممکن ہو سکے تو التمش کی ’’داستان ایمان فروشوں کی‘‘ کا مطالعہ بھی ضرور کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */