کورونا کا رونا، قصۂ مختصر- محمد فیضان

کئی ممالک میں یہ بات طے کی جا چکی ہے کہ زندگی واپس معمول پر لانا ناگزیر ہے اور اس کے لئے مرحلہ وار اقدامات کا اعلان بھی ہوگیا ہے- لہٰذا غالب گمان ہے کہ پاکستان میں بھی جلد یا بدیر یہی فیصلہ کیا جائے گا- امسال فروری سے ساری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں ایک بڑی تقسیم دیکھی گئی-

جس میں دو دھڑے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے- ایک دھڑے کا ماننا تھا کہ کورونا وائرس حقیقی ہے اور اس سے بچنے کے حوالے سے ہر ممکن احتیاط کرنی چاہیے جبکہ دوسرے دھڑے نے بیشتر وقت شک میں گزارا اور احتیاطی تدابیر سے بھی اعراض کیا- ایسے تمام لوگ جو کورونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں سنجیدہ رہے ہیں اور دیگر لوگوں کو بھی تلقین کرتے رہے ہیں، یہ سب سے زیادہ ذمہ دار شہری ہیں جس کا فائدہ انہیں اس وبا سے بچ کر بھی ملا اور ان کا اجر اللہ رب العزت کے پاس بھی انشاءاللہ محفوظ ہے-

جو کم علمی میں بے احتیاطی کو اپنی روش بنائے رکھے، ان کے لئے ہمیں آگہی کی مزید کوشش جاری رکھنی چاہیے اور فی الوقت ہمارے پاس صرف نیک دعائیں ہی ہیں-جو ضد اور ہٹ دھرمی میں ایسے خطرے کو خاطر میں یہ کہہ کر نہ لائے کہ زندگی فانی ہے اور موت تو آنی ہی ہے، ان کے بھی شعور و آگہی اور فہم کے لئے ہمیں دعاگو رہنا چاہیے کیونکہ ان کے اس فلسفے سے ان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں- مزید یہ کہ بہرحال دعا مسلمانوں کے لئے کرتے رہنا چاہیے-یہ بھی دیکھنے میں یہی آیا کہ احتیاط کرنے والوں پر طنز و طعن کا سلسلہ جاری رہا- کہیں تو ان ذمہ دار اور محتاط شہریوں کو بزدل کہا گیا تو کہیں میڈیا پروپیگنڈہ کا شکار- دعا تو ان طعنہ زن لوگوں کے لئے بھی کرنی چاہیے لیکن اس طبقہ کا رویہ قابلِ مذمت ہے- اس کی دو وجوہات ہیں-

١- جب تمام عالمی ماہرین، حتی الامکان تحقیق، تجزیات اور تجربات کی بنا پر، اس خطرے کو عالمی وبا کہہ رہے تھے تو اس طبقے نے اس کا تمسخر اڑایا جو کم علمی اور جہالت کے زمرے میں آتا ہے- ابھی بھی ان میں سے کچھ باقیات کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ہمارے جاننے والوں میں سے تو کوئی بیمار نہ پڑا-

٢- اب عالمی ماہرین جب اس خطرے کے ساتھ جینا سیکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو یہ اسے اپنی فتح سمجھ رہے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے، گویا جیسے دونوں ایک ہی بات ہوں- خدا کا شکر ہے کہ احتیاط کرنے والوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور اموات کی شرح پاکستان میں اتنی زیادہ نہیں رہی لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ غافل اور ضدی لوگوں کی ضد، جو کہ شروع سے بے بنیاد رہی، درست راستہ تھا-

اصل بات تو احتیاط کرنا تھی- چاہے یہ وائرس کسی انسان نے بنایا ہو، یا کسی لیبارٹری سے لِیک ہوا ہو یا یہ کسی نادیدہ قوتوں کے مقاصد کا ضامن ہو، بہرحال عوام کے لئے واحد لائحہ عمل صرف اور صرف احتیاط تھا اور ہے- زبدگی کا معمول واپس نارمل ہونے والا ہے لیکن.. خطرات پہلے والے نارمل سے کہیں بڑھ کر ہوں گے لہذا آنکھوں اور کانوں کو کُھلے رکھنا ہوگا-