اسلام کا نظامِ معیشیت اور زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت - مزّمّل مقبول

دین ِاسلام نام ہے امن و سلامتی اور صلح و آشتی کا۔اُن کامل ہدایاتِ ربّانی کا جو قرآنِ مقدّس کی شکل میں رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ٰ ‘ جو دنیاے انسانیت کی راہنمای اور رہبری زندگی کے ہر گوشے اور ہر شعبے میں بدرجہ اتم فراہم کرتا ہے ۔یہ دین انسان کے ظاہر و باطن اور اُس کے زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔عقاید ‘عبادات اور اخلاق سے لے کر معیشت ‘معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کو یٔ شعبہ ایسا نہیں جو اس کے دایرے سے خارج ہو۔

انسانی زندگی کا ایک اہم شعبہ نظامِ معیشت ہے۔اس کو انصاف اور راستی کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے اسلام نے ابدی اصول و حدود مقرّر کر دیے ہیں تاکہ دولت کی پیدایش ‘ استعمال اور گردش کا پورا نظام انہی خطوط کے اندر چلے جو اس کے لیے کھینچ دیے گیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدّس میں اس کو مختلف انداز میں واضح فرمایا ہے کچھ مثالیں پیشِ خدمت ہیں: ۔

ـِِـ’’ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے‘اس کے اطراف میں چلو پھرو اور اللہ کا رزق کھاو اور اسی کے پاس تمہیں زندہ ہو کر واپس جانا ہے۔‘‘(الملک :۱۵)اس آیتِ کریمہ کی تشریح کرتے ہوے صاحبِ تیسیر القرآن مولانا عبد الرّحمٰن کیلانی ؒ صاحب فرماتے ہیں کہــ’’یعنیٰ زمین میں تم جتنے فایٔدے اٹھا سکتے ہو اٹھاو ٔ لیکن یہ بات تمہیں ہمیشہ ملحوظ رکھنی چاہیے کہ تم مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہو لہٰذا زمین سے فائدہ اٹھاتے ہوے تمہیں دوسروں کی حق تلفی نہ کرنا چاہیے‘‘’’وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے جو زمین میں ہے‘‘(البقرۃ :۲۹)

ــ’’ہم نے تم کو زمین میں اقتدار بخشا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے ذرایع فراہم کیے‘‘(اعراف :۱۰)اس آیتِ کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے صاحبِ بیان القرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے ہیں کہ تم لوگوں کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ زمین کے وسائل انسان کے مسلسل استعمال سے ختم نہ ہو جایئں ‘ انسانی و حیوانی
خوراک کا قحط نہ پڑھ جاے ۔مگر تمہہں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ۔ہم نے تمہیں زمین میں بسایا ہے تو یہاں تمہارے معاش کا پورا پورا بندوبست بھی کیا ہے اور دنیاوی زندگی میں تمہاری اور تمہاری آیٔندہ نسلوں کی ہر قسم کی جسمانی ضرورتیں یہیں سے پوری ہونگیں۔‘‘

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کایٔنات کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے اور انسان کو چاہیے کہ ایک طرف حدود اللہ کو مدِّ نظر رکھ کر اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہو ‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قرآنِ پاک میں ارشاد ہے کہ ـ’’اے لوگو جو ایمان لاے ہو آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ ۔۔‘‘(النّساء :۲۹)۔(اس کے علاوہ ملاحظہ ہو سورۃ البقرۃ :۱۸۸ ‘۲۸۳ ‘آلِ عمران:۱۶۱ ‘المایٔدہ :۳۸ ‘المطفّفین :۱تا ۳) تو دوسری طرف اُن لوگوں کی کفالت اور مناسب نگہداشت کریں جو مفلس اور تہی دست ہونے کے ساتھ ساتھ محنت و مشقّت سے عاجز ہوں۔بقولِ علّامہ ہوسف القرضاوی ’’یقینا اسلام انہیں (مفلس لوگوں کو) فراموش نہیں کرسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ اس نے دولت کے امین اور اس کی نگرانی کرنے والوں سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ بنیادی اور شرعی حقوق کی بجا آوری اور ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کے بعد جو کچھ بچ رہے اس کی ایک مخصوص مقدار اپنے بھایٔیوں پر خرچ کریں جو زندگی کے اس سفر میں اُن سے بہت دور جا پڑیں ہیں۔‘‘

نظامِ زکوٰۃ:۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا (جسے قرآن پاک نے مختلف ناموں سے موسوم کیا ہے کبھی انفاق ‘کبھی انفاق فی سبیل ِاللہ ‘کبھی صدقہ تو کبھی زکوٰۃ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے )محض ایک نیکی نہیں اور خیرات نہیں بلکہ ایک اہم عبادت اور اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے کلمہ طیّبہ کا اقرار ‘نما زقایٔم کرنا ‘زکوٰۃ کی ادایٔگی ‘حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔۔‘‘(بخاری کتاب الایمان :۸ ‘مسلم کتاب الایمان:۱۱۱)۔ اسکی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بقولِ صاحبِ تفہیم القرآن مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی ؒ ۳۷ مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا تذکرہ فرمایا ہے۔اور پورے زور سے بتایا گیا ہے کہ یہ لازمہ اسلام اور مدارِ نجات ہے۔کچھ مثالیں پیشِ خدمت ہیں :۔اللہ تعالیٰ لڑنے والے مشرکین کے بارے میں فرماتے ہیں ’’کہ اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز و زکوٰۃ کہ پابندی کرنے لگیں تو انکا راستہ چھوڑ دو‘اب وہ تمہارے بھائی ہوئے۔۔‘‘(التّوبہ :۵)

’’۔۔۔اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے بھائی ہیں ۔۔ــ‘‘(التّوبہ :۱۱)
مومنین کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’۔۔۔زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ۔۔‘‘(المومنون :۴)

’’۔۔جو نماز کی پابندی کرتے ہیں ‘زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔۔‘‘(النمل :۲۔۳)

(اس کے علاوہ ملاحظہ ہوسورۃ القمان:۳۔۴‘البقرۃ :۱۷۷ )

مشرکین کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ پاک کا ارشاد ہے ’’بُرا ہو مشرکوں کا ‘یہ نہ زکوٰۃ دیتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔۔‘‘(فصلت :۶۔۷)
’’اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں ‘‘(التّوبہ :۶۷)

’’خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے کرتے ہیں‘‘ (التّوبہ :۵۴)

زکوٰۃ ہمیشہ سے اسلام کا رکن رہا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور اُن کو(یعنیٰ ابراہیم ؑ ‘ لوط ؑ ‘اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ) ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمای کرتے تھے اور ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کا اور نماز قایٔم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم بھیجا اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے‘‘(الانبیاء ۷۳)
’’اور اہلِ کتاب کو اس کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیا گیا تھا کی اللہ کی بندگی کریں دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے یکسو ہو نانماز قایٔم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی صحیح دین ہے‘‘(البیّنہ :۵)اس کے علاوہ ملاحظہ ہو سورۃ مریم :۵۴۔۵۵‘۳۰۔۳۱‘البقرہ :۸۳‘الحج :۷۸‘الانفال :۲تا ۴)

زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر وعید:۔قرآنِ مقدّس اور رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کے مطالع سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جہاں ایک طرف زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب اور خیروبرکت کا وعدہ کرتا ہے وہی دوسری طرف مستحقین کی حق تلفی کرنے والوں کے لیے ہولناک اور سخت ترین وعیدوں کا اعلان بھی کرتا ہے۔چناچہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔’’اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آپ انہیں درد ناک عذاب کی خبر دیجیے۔۔۔‘‘(التّوبہ:۳۴‘۳۵)۔۔اور حدیثِ پاک میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’جب بھی لوگ زکوٰۃ سے غفلت کریں گیں بارانِ رحمت سے اللہ انہیں محروم کرے گا اور اگر یہ بے زبان چوپائے اور مویشی ان کے پاس نہ ہوتے تو تم دیکھ لیتے کی بارش کا ایک قطرہ بھی ان پرنہ گرتا‘‘(ابنِ ماجہ کتاب الفتن)۔ایک اور حدیث شریف میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا’’صدقہ اور زکوٰۃ کا پیسہ جس مال سے خلط ملط ہو جاتا ہے وہ مال ہلاک ہو جاتا ہے‘‘(بیہقی)

زکوٰۃ کا نظامِ اجتماعی اور اس کی حکمتیں:۔زکوٰۃ انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں ادا کی جا سکتی ہے لیکن اسلام چونکہ اجتماعیت پر بہت زیادہ زور دیتا ہے ‘بلکہ یوں کہے کہ اسلام اجتماعیت ہی سے قائم ہے اور ہوسکتا ہے‘ تو بیجا نہ ہوگا۔اجتماعیت پر رحمتوں کے نزول اور نصرتِ خداوندی کی بشارتیں دی گئی ہیں۔اس لیے بہتر صورت یہی ہے کہ زکوٰۃ اجتماعی طور پر مقامی بیوتُ المال میں جمع کی جائے تاکہ اجتماعی طور پر مستحقین تک اُن کا حق پہنچایا جائے۔ علماء کرام اس کی بہت سارے حکمتیں بیان کرتے ہیں ہم درجہ ذیل علّامہ یوسف القرضاوی صاحب کی بیان کردہ کچھ حکمتوں ‘جن کا تذکرہ انہوں نے اپنی شاہراہ آفاق کتاب ’’اسلام میں غریبی کا علاج ۔ص ۱۳۴۔۱۴۴‘‘ میں کیا ہے ‘ کی طرف اشارہ کررہے ہیں :

’’۱۔عوام کی بھاری اکثریت مال کی محبت اور دولت کی لالچ میں گرفتارہوتی ہے۔ایسی حالت میں زکوٰۃ کا حکم سنا کر خاموش ہو جانا در حقیقت اس عظیم ترین منصوبے کوخاک میں ملا دینے کے مترادف ہوگا اور غریبوں کی حق تلفی ہوگی۔

۲۔افراد کی بجاے خود(اسلامی)حکومت( یا اسلامی جماعت) جب زکوٰۃ کی تقسیم کرے گی تو غریبوں کی خودی اور عزّتِ نفس کی حفاظت ہوگی۔اور کسی دینے والے کے اندر رِیا اور لینے والے کے اندر احساسِ کمتری کے جزبات پیدا نہ ہونگیں۔

۳۔انفرادی طور پر زکوٰۃ بانٹنے کی صورت میں عین ممکن ہے کہ کو یٔ غریب ڈھیروں خیرات جمع کرلے اورکوی سرے سے محروم رہے۔

۴۔عام ذہن کچھ اس قسم کا بن گیا ہے کہ زکوٰۃ بس فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہے ۔حالانکہ واقع یہ ہے کہ آٹھ اصناف پر مشتمل زکوٰۃ پانے والوں کی طویل فہرست میں ان دونوں کا شمار اگر سرِ فہرست ہے تو ان کے بعد چھ قسم کے افراد پھر بھی لسٹ پر باقی رہ جاتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اس فہرست میں شامل بعض مصارف ایسے ہیں جن کا تعین اور صحیح تشخص صرف امّت کے با صلاحیت اور بیدار مغز افراد ہی کر سکتے ہیں ۔مثلاََ امّت کا یہی منتخب طبقہ بتا سکتا ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لیے کس نوعیت کے لیے ساز و سامان اور آلات کی ضرورت ہے یا اسلام کی صحیح نشر و اشاعت کے لیے کس قسم کے مبلّغین اور لٹریچر تیار کرنے چاہیے۔‘‘

المختصر ہمیں بحیثیتِ مسلمان اپنی معاش میں تمام احکامِ خداوندی کو مدِّ نظر رکھ کر ‘ بالخصوص وقتِ حاضر میں جبکہ پوری امّت انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر بد ترین معاشی بحران کی شکار ہوچکی ہے ‘ غرباء ‘مساکین ‘ یتٰمیٰ اور مستحقین تک اُن کا حق پہنچانے کے لیے اپنے دل میں وسعت پیدا کرنی چاہیے۔