کردار کے غازی - محمد ارشد

دنیا میں کسی فردکی شخصیت کو بنانے میں مندرجہ ذیل عوامل کارفرما ہوتے ہیں:بچے کی شخصیت سازی میں ماں باپ اور اُس خاندان کا حصہ، جہاں ایک بچہ پروان چڑھتا ہے:گھر کے افراد بالخصوص ماں اور باپ کوبچے کی تربیت پر خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماں کی آغوش کو پہلی درس گاہ کہا گیا ہے، حدیثِ مبارکہ ﷺ ہے کہ: ’’باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت ہے‘‘۔لیکن بدقسمتی سے آج کل کے دور میں والدین کے پاس بچوں کے لئے وقت کی کمی کے ساتھ ساتھ(یہ الگ بات ہے کہ اکثریت کو معاش کی پریشانیاں بھی درپیش ہیں، جس کے باعث وہ چاہنے کے باوجود تربیت پروہ توجہ نہیں دے سکتے ) دین سے دوری اورموجودہ دور کے تقاضوںسے ہم آہنگی کا نہ ہونا بھی تربیت کی کمی کا باعث بن جاتی ہے ، درسگاہ/اسکول بھیج کروالدین یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ تربیت بھی حاصل کرلیں گے، جبکہ ایسانہیں ہے اسکی بہترین مثال ایک صاحب نے یہ دی کہ: اگر ہم کسی بیکن ہاوس جیسے اسکول میں کوئی معمولی سا موبائل فون کسی جگہ رکھ دیں تو ذیادہ امکان ہے کہ وہ چوری ہوجائے گا، حالانکہ اُس اسکول میں زیرِتعلیم زیادہ تر بچے سونے کا نوالہ لے کے پیدا ہوئے ہوتے ہیں ۔

اس کی وجہ یقینا تربیت کی کمی ہی ہو سکتی ہے جو کہ ایک درسگاہ/اسکول میں پوری طرح ممکن نہیں ہے۔بطور والدین ہمیںاس فرق کو ملحوظ رکھ کر سوچنا پڑے گا کہ کیاتعلیمی ادارے ہمارے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اُن کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری بھی پورے طور پر ادا کررہے ہیں یا اُس میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔اگرچہ کچھ اساتذہ انفرادی طور پر اپنے طالب علموں کی اخلاقی تربیت کے لئے بھی کوشش کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ ذمہ داری والدین کی ہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کی تربیت کرنے کا بھی خاطر خواہ انتظام کریں ۔دورانِ تعلیم بچہ عمر کے اُس حصہ میں ہوتا ہے جہاں اُس کی تعلیم و تربیت اُس کی شخصیت پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے۔اللہ رب العزت نے قرآن میں تاکید کی ہے کہ:

ترجمہ : ’’اے ایمان والوں اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچائو‘‘ (التحریم:6)۔

بحثیت مسلمان اگر ہم یہ یقین کرلیں کہ آخرت میں ہم سے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بھی سوال ہو گا تو یقینا ہم اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرنے کی شعوری کوشش کریں گے۔

٭اُس کے بعد وہ درسگاہ/اسکول جہاں پر کسی بچے کودینی اوردنیاوی علوم سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ ایک اچھا انسان اور کارآمد شہری بنے:جہاں تک نظامِ تعلیم کا تعلق ہے، اس کو قائم کرنے اور اس کے لئے حکمتِ عملی بنانے میں،دنیا جہاں کی حکومتیںہی اپنا کردار ادا کرتیں ہیں۔ حکومتوں کوچاہے کہ دورِ حاٖضر کی ضروریات اور مستقبل میں درپیش معاملات کو مدِنظر رکھ کر تعلیمی نظام کو تشکیل دیا جائے ،تاکہ ایک شخص زندگی میں خاص پیشے / شعبہ زندگی میں اپنی بہترین صلاحتیں بروئے کار لاسکے ،اس کے لئے لازمی طور پروہ اہل افراد ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جنھوں نے سخت محنت کے ساتھ ساتھ ماہر اساتذہ کی رہنمائی حاصل کی ہوتی ہے۔تعلیمی اداروں میں نہ صرف جدیدبلکہ قدیم علوم سے بھی آگاہی دینی چاہے اور اُن چیزوں کو پڑھانے سے گریز کرنا چاہئے ،جو کہ نہ صرف ہمارے معاشرے بلکہ ہمارے دین کے ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔اسی طرح دورانِ تعلیم، طالب علم کے رجحان کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے۔تاکہ حصولِ تعلیم میں ایک طالب علم کاشوق بھی شامل ہو، اور وہ معاشرے اور اپنے ملک کے لئے ایک فعال اور فائدہ مند شہری ثابت ہوسکے۔

٭کردار سازی میں معاشرے کا حصہ:باکردار اور بہتر تعلیم و تربیت سے آراستہ نوجوان ہی قوم و ملت کی ترقی کا زریعہ بنتے ہیں لیکن عمر کے اس خاص حصہ میںجہاں ایک نوجوان معاشرے میں دوست بھی بناتا ہے وہاں اُس کے دشمن بھی بن جاتے ہیں، جن سے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے جو اُس کے کردار کو سنوار بھی سکتے ہیں اور بگاڑ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔نوجوانی میں خود سری ، جوانی کاجوش، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کازعم اور طاقت کے احساس ہونے کے باوجود اپنے مثبت کردار اور اعتدال کے ساتھ قائم رہنے والے ہی مستقبل میں کامیاب ہوتے ہیں۔چونکہ اُس عمر تک پہنچتے پہنچتے اُس کی شخصیت کی کردار سازی میں قریبا ایک تہائی کام ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، والدین کی بچوں پر خاص نظر ہونی چاہئے اور اُن کو یہ احساس دلائیں کہ وہ عمر کے اُس دور سے گزر رہے ہیں، جس میں انسان جو بوئے گا کل کو وہی کاٹے گا۔اس طرح اُنہیں اچھے اوربُرے میں تمیزکرنا بھی سکھاناہوگا تاکہ کل کو وہ بہترین فیصلے کرنے کے قابل ہوں ، اور وہ معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں، اور اپنے سے پیچھے آنے والوں کے لئے مشعل ِ راہ بھی بن سکتے ہیں۔ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے والدین بچوں کواپنے حقوق کے علاوہ پڑوسیوں، چھوٹے بڑے کے حقوق، اساتذہ کے حقوق اور رشتے داروں کے حقوق کے بارے میں دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق آگاہی دیں۔

٭ ـ ’’فطرتِ سلیمہ‘‘کی رہنمائی: حدیثِ مبارکہ ﷺہے کہ: ــ’’ہر بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے پھر اُس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں‘‘ ۔جس طرح زندگی میں ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان بھی ہوتا ہے جو اُس کو بُرائی اور گناہ کی ترغیب دیتا ہے اسی طرح اللہ نے ہر شخص کو شیطان کے ہتھکنڈوں سے مطلع/خبردار کرنے کے لئے فطرت سلیمہ بھی عطا کی ہوتی ہے، اگر ہم کمپیوٹر کی زبان میںبات کریںتوہر شخص میں پیدائشی طور پر فطرتِ سلیمہ کی صورت میں قدرت نے ایک آپریٹنگ سسٹم انسٹال کر رکھا ہوتا ہے جس سے ہر انسان نہ صرف خیروشر میں تمیز کرسکتا ہے بلکہ اُس آپریٹنگ سسٹم کی وجہ سے اُسے نیکی اور خیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے، اور دوسروں کواس کی ترغیب دینے کا جزبہ بھی ملتا ہے۔

اسی طرح اچھے کاموںسے خوشی اور بُرے کاموں سے افسوس اور دکھ کا احساس بھی قدرتی امر ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے نظر اندازکرکے شیطان کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑے جو اُسے یقینا گمراہی اور تباہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ فطرت کی اس پیدائشی صلاحیت کو اُبھارنے اور مضبوط کرنے کے لئے والدین کا کرداربہت اہم ہوتا ہے۔ اگر ہم ان سب باتوں کا نتیجہ نکالیں تو، والدین کیطرف سے دی گئی تعلیم و تربیت بچے کواُس کے لاشعو ر سے لے کر شعور تک کے سفر میں بنیادی چیزہوتی ہے، تو بنیاد جتنی مضبوط ہوگی عمارت بھی اتنی ہی دلکش اور مضبوط ہوگی۔بحثیت والدین ہمیں بچوں کو کردار کا غازی بنانا ہوگا۔

علامہ اقبال کے ایک شعرپر بات ختم کرتا ہوں کہ:

اقبال بڑا اُپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے

گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا