ترک ریاست کاماضی اورحال - پروفیسر جمیل چودھری

آج کل ترک ڈرامہ ارطغرل دنیاکے اکثر ملکوں میں دیکھاجارہا ہے۔عالمی سطح کی کئی فلموں کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ان کے اداکاروں سے بھی پاکستانیوں کو ایک خصوصی تعلق سانظر آتا ہے۔خلافت موومنٹ کادور دوبارہ آتاہوا محسوس ہوتا ہے۔ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستانیوں اورترکوں کے دل اکٹھے دھڑکتے ہیں۔مستقبل کے خواب بھی ایک ہی جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ہم پہلے ماضی کاذکر کرکے حال پرگفتگو کریں گے۔1258ء میں بغداد کی تباہی کے بعد ہرطرف مایوسیوں کادوردورہ تھا۔

لیکن1299ء میں عثمانی سلطنت کے قیام اور1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد مایوسیاں ختم ہوگئیں۔ایک عباسی شہزادہ مصر پربرائے نام سی خلافت قائم کئے ہوئے تھا۔جب عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطنت کوپھیلانا چاہا تو وہ لشکر جرارلیکر مصر پہنچے۔جنگ نہیں ہوئی اورمصریوں نے خلافت کی نشانیاں ترک سلطان کے سپرد کردیں یوں1517ء میں خلافت استنبول منتقل ہوگئی۔یہ سلسلہ خلافت کئی صدیوں تک کامیابی سے چلتارہا۔ترکوں نے بحر اسود اوربحیرہ روم کے تمام علاقے اپنے ماتحت کرلئے تھے۔1683ء تک استنبول کے ماتحت لیبیا،تیونس،الجزائر،مصر،شام،عراق جزیرہ العرب کابڑا علاقہ آچکاتھا۔خانہ کعبہ کی چابیاں ترک پہلے ہی وہ حاصل کرچکے تھے۔سنٹرل ایشیاء اوریورپ کا مشرقی جنوبی علاقہ بھی ترکوں کے ماتحت آچکاتھا۔لیکن یورپین نے ترکوں کوآسٹریا سے آگے نہیں آنے دیا۔ترک خلافت کے ماتحت وہ تمام علاقے تھے۔

جوکبھی ریاست کارتھیج کاحصہ تھے۔یہاں کسی زمانے میں معروف کمانڈر ہنی بال جنگ وجدل میں مصروف نظر آیاکرتے تھے۔یونیانیوں نے بھی ایک زمانے میں انہی علاقوں پرحکومت کی تھی ۔سکندر اعظم کی ریاست مقدونیہ بھی ترکوں کے ماتحت آچکی تھی۔پھر رومی ابھرے اور صدیوں تک بحیرہ روم کے اردگرد تمام ممالک پرحکمران رہے۔رومیوں اورایرانیوں کی جنگوں کاذکر قرآن کی سورۃ الروم میں آچکاتھا۔ترک خوش قسمت تھے کہ وہ تاریخ میں نمایاں رومی سلطنت کے علاقوں پر حکمران تھے۔خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کی تعمیر وتوسیع پربھی ترکوں نے خصوصی توجہ دی۔بغداد سے مدینہ منورہ تک ریلوے لائن کی تعمیر بھی ترک خلفاء کابڑا کارنامہ تھا۔اپنے تمام علاقوں میں ترکوں نے امن وامان قائم کردیا تھا۔وہ جوکہا گیاہے۔

ہرکمالے راز والے است۔

یہاں بھی اسی اصول نے کام کیا۔ہرزوال کوتاریخ دان کھوج کھوج کرمعلوم کرتے ہیں۔چند باتوں کے ذکر کے بعد ہم بھی ترکی کے موجودہ حال پرآجائیں گے۔ترک اپنی سلطنت کوپھیلاتے تورہے لیکن اپنی آبادی کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دے سکے۔ترکوں نے تلوار اوربندوق توخوب چلائی اورایک وسیع وعریض سلطنت قائم کرلی۔ترکی میں دینی مدرسہ سسٹم صدیوں تک قائم رہا۔تمام مدارس کوسلطان کی طرف سے امداد دی جاتی تھی۔مدرسوں کے نصابات تقریباً وہی تھے جومسلم علاقوں میں پہلے ہی رائج چلے آرہے تھے۔صوبائی شہروں میں ایک مدرسہ قائم تھا۔مدرسوں کی ترکی میں وہی حیثیت تھ جو وسطی دورکی یورپین یونیورسٹیوں کی تھی۔یہاں کے فارغ التحصیل سرکاری اداروں اورفوج میں بھی خدمات سرانجام دیتے تھے۔مغربی طرز کے سکول1904ء سے کچھ ہی عرصہ پہلے ترک علاقوں میں قائم ہوئے۔لیکن اس طرح کا جدید سکول سسٹم ترکی کے ماتحت عرب علاقوں میں قائم نہیں ہوسکا۔وہاں پرانامدرسہ سسٹم ہی چلتارہا۔عرب علاقے چونکہ ترکوں کے ماتحت تھے۔یہاں کے بچوں کوجدید تعلیم فراہم کرنا اور اس کا انتظام وانتصرام استنبول کے حکمرانوں کی ذمہ داری تھی۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ترک جدید تعلیم کانظام اپنے تمام صوبوں میں قائم نہ کرسکے۔بوسنیا اورالبانیہ کے علاقوں میں جدید ترک سکول قائم ہوئے۔

کرد علاقوں میں سلطان عبدالحمید دوم کے زمانے میں جدید سکول سسٹم کارواج پڑا۔مجموعی طورپر جدید طرز کے سکولوں کی تعداد کم رہی۔ترک اشرافیہ کے طلباء آخری دورمیں فرانس اور انگلستان کے اداروں میں داخلہ لینے لگے تھے۔لیکن بچیوں کی تعلیم کااس طرح کاکوئی نظام نہ تھا۔سلطنت جو بہت ہی پھیلی ہوئی تھی اس میںکل12ہزار جدید سکول تھے اوریہ اندازہ1908ء میں لگایا گیاتھا۔بعد میں سکولوں کی تعداد بڑھی لیکن کل طلباء کاصرف5.3۔فیصد جدیدتعلیمی اداروں تک پہنچ رہاتھا۔استنبول میں خلافت کے آخری دورمیں صرف12جدیدطرز کے ہائی سکول تھے۔استنبول یونیورسٹی 18۔ویں صدی کے بالکل آخر میں قائم ہوئی۔ترکی میں جدیدیونیورسٹی سسٹم،آسٹریا۔ہنگری اورروس کے بعد قائم ہوا۔پہلامیڈیکل سکول1867ء میں قائم ہوا۔شام کے جدید تعلیمی ادارے بھی ترکوں کے آخری دورمیں قائم ہوئے۔ایک بات اس پورے تعلیمی نظام پرنظر ڈالنے سے معلوم ہوتی ہے کہ جدیدعلوم کے تعلیمی ادارے خلافت عثمانیہ میں بہت ہی کم اور آخری دورمیں قائم ہوئے اور یوں ترکی یورپ کی تعلیمی ترقی سے پیچھے رہ گیا۔18۔ویں صدی کا ایک سروے بتاتاہے کہ خواندگی کی شرح پوری عثمانیہ سلطنت میں5تا8۔فیصد تھی۔اس کامطلب تھا کہ انسانی وسائل کی ترقی کی طرف ترکوں کی توجہ بہت ہی کم رہی۔

ایک بہت ہی اہم مسٔلہ حرکت پذیر پرنٹنگ پریس کاہے۔یہ پریس گٹن برگ نامی جرمن نے1450ء میں ایجاد کرلیاتھا۔پریس بہت تیزی سے پورے یورپ میں پھیلا۔1727ء تک اس پریس کو ترکی میں لگانے کی اجازت سلطان نے نہیں دی۔ان کے پیچھے علماء اور خطاط تھے۔وہ چاہتے تھے کہ خلافت کے دور میں تمام کتب ہاتھوں سے لکھی جائیں۔جب پریس کی اجازت ملی توشرائط کے ساتھ اور1729تا1743ء کے درمیان صرف17 کتب چھپ سکیں۔اورمصر میں پہلا پرنٹنگ پریس ایک فرانسیسی نے1798ء میں لگایا۔یہاں تک علاقوں میں تعلیم کی پسماندگی ظاہرہورہی ہے۔کتاب نے ہی لوگوں کو شعور عطاکرناتھا۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرناتھا۔اور اس کی چھپائی پر3۔صدیوں تک پابندی لگی رہی۔نئی ٹیکنالوجیز اورنئی ایجادات کے خلاف علماء کی رائے پوری مسلم دنیا میں اچھی نہیں رہی۔ہماری تباہی کے اسباب میں بڑا سبب ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ صنعتی انقلاب سب سے پہلے انگلستان میںآیا۔برطانیہ سے باہر یہ پورے یورپ میں تیزی سے پھیلا اورامریکہ اورجاپان تک پھیل گیا۔لیکن اس صنعتی انقلاب کے اثرات ترکی پر بہت کم اور بہت دیر سے پڑے۔ترکوں نے فرانس سے اپنی ملٹری آفیسرز کوٹریننگ دلوانی شروع کردی تھی۔ہتھیار بھی کسی حد تک جدید ہوگئے تھے۔

لیکن پوری معیشت کا انحصار زراعت پر رہا۔یادستکاریوں پر۔جدید صنعتوں کانظام اتاترک کے بعد ہی ترکی میں نظر آتا ہے۔بنکوں کے قیام نے یورپ کے معاشی حالات میں بڑی تیز تبدیلیاں کی۔یورپ میں کاروباری اورصنعتی لوگوں کابنک سے قرض لینا آسان بن گیاتھا۔لیکن اس طرح کے ادارے ترک خلافت میں بہت بعد میں بنے۔اور پہلا بنک خلافت میں یورپین نے آکر بنایا۔جیسے جدید تعلیمی نظام ترکی میں دیر سے پہنچا ایسے ہی صنعتی انقلاب سے ترکی نے فائدہ بھی بہت دیربعداٹھایا۔جدید معیشت کی بنیاد یورپ میں آدم سمتھ کی کتابWealth of Nationسے رکھی جاچکی تھی۔یورپ کی معیشتیں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ترکی میں جدید معیشت پر اپنا لٹریچر نظر نہیں آتا۔لیکن یہ مسٔلہ توپوری مسلم دنیا کاہے۔جواب تک چلا آتا ہے۔لیکن ہمارا دوست ترکی اس وقت بہت ہی اچھی پوزیشن میں آگیا ہے۔ترکی اب دنیا کی19۔ویں بڑی معیشت شمارہوتا ہے۔اسے عالمی ادارے اب ترقی یافتہ دنیا کہتے ہیں۔اب اسکی زراعت ،صنعت اور سروس سٹرکچر بہت آگے بڑھ چکا ہے۔اس کی بڑی بڑی صنعتوں میں ٹیکسٹائل،گاڑیوں کی صنعت،نقل وحمل کے ذرائع،تعمیراتی میٹریل کی تیاری،الیکٹرانک اشیاء کی تیاری،ہرطرح کی گھریلو اشیاء کی تیاری شامل ہیں۔اسکی کوشش ہے کہ وہ یورپی یونین کاممبر بنے۔ترکی نیٹو کاپرانا ممبر ہے۔

اس اتحاد میں اسکی افواج کی تعداد امریکہ کے بعد سب سے بڑی ہے۔عالمی ادارے اسکی معیشت کو پھیلتی ہوئی معیشت بتاتے ہیں۔اسکی سالانہ جی۔ڈی۔پی 744بلین ڈالرہے۔ترک معیشت اب سالانہ 5فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اسکی فی کس آمدنی 8958ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔اسکی صنعتی ترقی کا اندازہ پوری معیشت میں27فیصد سے لگایاجاسکتا ہے۔اب ترکی کا دارومدار قدیم زمانے کی طرح صرف زراعت پر نہیں ہے۔زراعت پر انحصار اب کم ہوگیا ہے۔شرح غربت سے نیچے اب صرف13فیصد آبادی ہے۔انسانی ترقی کا اشاریہ اب.806ہے۔ترقی کا یہ اشاریہ اونچے درجے میں آتا ہے۔شہریوں کو ہرطرح کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ترکی اپنی بے روزگاری کی شرح کو کم کرنے کی ہرکوشش کررہا ہے۔ترکی میں کاروبار کرنا اب آسان ہے۔سالانہ برآمدات اب108بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ہمارے دوست ملائیشیاء سے ابھی یہ کم ہیں۔ترکی کے پاس104۔ارب کے محفوظ ذخائر ہیں۔عالمی معاشی ادارے ان ذخائر میں اضافے کاقومی امکان دیکھ رہے ہیں۔ترکی نے اپنے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

وہ غلطیاں نہیں دھرائی جارہیں جو پہلی جنگ عظیم سے پہلے کے دورمیں ہوئیں۔اسکی یونیورسٹیاں اب عالمی رینکنگ میں آتی ہیں۔تحقیق میں اب ترکی اورملائیشیاء کو ایک خاص مقام حاصل ہوگیا ہے۔قیادت اگرمخلص ملے تو قومیں تیزی سے آگے بڑھتی ہیں۔طیب اردگان سے پہلے ترکی پر کافی غیر ملکی قرض تھا۔لیکن اب بہت کم رہ گیا ہے۔جمہوریت کا استحکام قوموں کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔ترک کی فوج نے بھی کئی دفعہ مارشل لاء لگایا۔لیکن آخری مارشل لاء کو ترکی کی عوام نے طیب اردگان کی قیادت میں بری طرح ناکام کردیاتھا۔بہت سے فوجیوں اوردیگر اداروں کے لوگوں کوسزائیں سنادی گئی تھیں۔امید ہے اب آئندہ ترک فوج مارشل لاء لگانے کی کبھی کوشش نہیں کرے گی۔ترکی میں پیداشدہ ادب اب دنیا کی بہت سی اقوام تک پہنچ رہا ہے۔اردو میں ترکی ادب کے تراجم نظر آتے ہیں۔

ترک ادیبوں نے نوبل انعام بھی لئے ہیں۔کئی سال پہلے عزیز سنکارنامی سائنسدان نے بھی کیمسٹری میں نوبل انعام لیاہے۔اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ترکی کے تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں اپنا اصل کام کررہے ہیں۔اس دنیا میں آگے بڑھنے کے لئے سائنس میں تحقیقی اورتخلیقی کام کرناضروری ہوتا ہے۔ترکی میں اب یہ کام ہوتا نظر آرہا ہے۔مسلم ممالک ترکی کو قائد کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ترک تاریخ میں کبھی غلام نہیں رہے۔ترکی اب یورپ کی بہت سی اقوام کے ساتھ Fair Competitionکرتا نظر آتا ہے۔جنگ و جہاد کی بجائے سائنس اور صنعتوں میں آگے بڑھنا ہی مسلمانوں کے مسائل کاحل ہے۔ترکی سے ہمیں اچھی امید رکھنی چاہئے۔