توحید،دین کی بنیاد - اسوہ بتول

موجودہ زمانے میں بہت سے لوگوں کے دین کی بنیاد ہی کمزور ہے۔وہ نماز تو پڑھتے ہیں لیکن نہیں جانتے کس لیے؟ وہ روزہ تو رکھتے ہیں لیکن نہیں جانتے کس لیے؟آئیے اپنے اور اپنے بچوں کے دین کی بنیاد یعنی توحید کو مضبوط کرتے ہیں۔ توحید کا مطلب ہے اللہ کی وحدانیت اور عظمت پر پختہ یقین ہونا۔جس طرح عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد کی مضبوطی پر منحصر ہے، اسی طرح دین کی مضبوطی عقیدۂ توحید کی مضبوطی پر منحصر ہے۔

جس طرح ایک زلزلے سے مضبوط بنیاد والی عمارت کھڑی رہتی ہے اور کمزور بنیاد والی عمارت گر جاتی ہے، بلکل اسی طرح آزمائشوں سے مضبوط عقیدۂ توحید رکھنے والے سرخرو ہو جاتے ہیں جبکہ کمزور عقیدۂ توحید رکھنے والے لڑکھڑا جاتے ہیں اور اپنے دین سے دور ہو جاتے ہیں۔اللہ سب سے بلند و بالا ہے۔ نہ کوئی ذات و صفات میں اس کا شریک ہے اور نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے لہذا کوئی عبادت میں بھی اس کا شریک نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ صرف اور صرف اللہ ہی اِس کا حقدار ہے اُس کی عبادت کی جائے۔ آئیے ہم جامع ترین صفات الہی پڑتے ہیں جس سے انسان کو پتہ چلتا ہے کہ اس کا سابقہ کسی معمولی ہستی سے نہیں پڑا، بلکہ ایک عظیم اور جلیل ہستی سے پڑا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔"وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غیب اور حاضر کا جاننے والا، وہی رحمٰن اور رحیم ہے۔""اللہ ہی وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے، نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا، وہ بڑا ہی ہو کر رہنے والا، پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔"
"وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے، اس کے لیے بہترین نام ہیں، ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اس کی تسبیح کر رہی ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔"(سورہ حشر آیات 22,23,24)

ان آیات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ •اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق یا حقدار نہیں۔ •اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل سب کا جاننے والا ہے۔ •اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا تصرف ہونے کے باوجود اپنی مخلوق پر رحمت کرتا ہے۔ •اللہ تعالیٰ دنیا وما فیہا اور وما دون ذٰلک کا حقیقی خالق ہے۔ •اللہ تعالیٰ کی ذات سے کسی برائی کا تصور نہیں کیا جا سکتا، اللہ کی ذات سے صرف امن اور سلامتی کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ •اللہ تعالیٰ کے منصوبے اور صورت گری کے طریقے بے مثال اور اللہ کی اپنی ایجاد ہیں جبکہ انسانی منصوبے سابق نمونوں سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ •اللہ تعالی ہر قسم کی انسانی کمزوری سے بالاتر اور بےنیاز ہے۔

اگر اُسی خدا کی طرف ہم رجوع نہیں کریں گے، تو اور کس کی طرف کریں گے؟ اگر اُسی خدا سے معافی نہیں مانگیں گے، تو اور کس سے مانگیں گے؟ اگر اُسی خدا سے غم غمگساری نہیں کریں گے، تو اور کس سے کریں گے؟ عقیدۂ توحید کی پختگی ہی ہمارے لئے ذریعۂ نجات ہے۔ ہمیں اللہ ہی کی عبادت کرنی چاہیے اور اپنی خواہشات کو بھی اپنا معبود بنانے سے باز رہنا چاہیے۔ خواہشات کو معبود بنانے کا مطلب ہے کہ انسان اپنی خواہشات کے پیچھے اتنا اندھا ہو جائے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز ہی نہ کرے۔

●جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا، تو وہ جان لیں کہ بیٹے کی ضرورت تو اس کو ہوتی ہے جس کو اپنے بعد کوئی جانشین چاہیے ہو، جو اس کی حکومت سنبھالے۔ لیکن اللہ کی ذات تو ہمیشہ زندہ غالب رہنے والی ذات ہے۔ اسے بیٹے کی کیا ضرورت؟

●جو لوگ کہتے ہیں کہ کوئی خدا نہیں، ان کو اگر ایک معمولی کتاب پکڑا کر کہا جائے کہ یہ الفاظ آسمان سے اترے ہیں اور یہ رنگ بھی خود بخود اس میں بھر گئے تو کیا وہ یقین کر لیں گے؟ ہرگز نہیں۔ تو اس طرح وہ اس بات کا کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ اتنے complex DNA codes جو کہ ہر انسان کے اندر مختلف ہوتے ہیں خود بخود ہی وجود میں آگئے اور ان کا کوئی خالق نہیں..؟

●جو لوگ کہتے ہیں کہ ایک سے زیادہ خدا ہیں، تو ان کو جان لینا چاہئے کہ ایک نظام تبھی اچھا چلتا ہے جب اس کا چلانے والا ایک ہو۔ اگر دو یا دو سے زیادہ لوگ اس نظام کو چلائیں گے تو کبھی بھی وہ ایک دوسرے کے مقابل آ کے سارا نظام خراب کر دیں گے۔لہذا ہمارا خدا ایک اللہ ہی ہے اور ہمیں اسی کی بندگی کرنی چاہیے۔

گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی

دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا اِک نام اسکا