زرِ تلافی بمقابلہ زرِ ظلم و زیادتی - حبیب الرحمن

یہ بات تو غریب، معصوم اور سادہ دل بندوں کی سمجھ میں بہت ہی اچھی طرح آ چکی ہے کہ زرِ تلافی رحم دل حکمرانوں کی ایک ایسی فراخ دلانہ پیشکش ہے جس کی مدد سے نہ صرف ہمارے نہایت مہربان حکمران عوام کو مہنگائی کے طوفان سے محفوظ رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں بلکہ "خواص" کے کاروبار کو حوصلہ دے کر ان کی ملوں کارخانوں، لہلہاتے کھیتوں، ہری بھری فصلوں، دولت، جائیدادوں اور زمینوں میں اضافہ کرکے عوام کیلئے روزگار کے ہزاروں لاکھوں مواقع فراہم کرکے ملک کو خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کا سبب مہیا کرتے ہیں۔

اگر یہ "زرِ تلافی" یعنی ایسی امداد جو ہمارے غریب و نادار کارخانے داروں، مل مالکانوں اور زمینداروں کو محض اس لئے دی جاتی ہے کہ ان کی ملوں اور کارخونوں میں پیدا ہونے والی اشیا اور زمینوں پر اگنے والی فصلوں پر جو لاگت آتی ہے وہ بازار میں مقرر کی ہوئی قیمتوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی مصنوعات یا فصلوں کو بازار میں مقررہ قیمتوں میں فروخت کرنے لگیں تو پھر ان کو پہنچنے والے مسلسل نقصانات کی وجہ سے اپنی مصنوعات اور اجناس کی پیداوار کو بند کرنا پڑ جائے گا جس کی وجہ سے ایک جانب ملیں اور کارخانے بند ہو نے لگیں گے تو دوسری جانب کھیت اور کھلیانوں میں ویرانیاں رقص کرتی ہوئی نظر آنے لگیں گی جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بے روزگاری میں بے حد اضافہ ہو جائے گا اور لوگ نانِ شبینہ کو بھی ترس جائیں گے۔ اس نقطہ نظر سے سوچاجائے تو جہاں زرِ تلافی بڑے بڑے غریب و نادار مل مالکان اور زمینداروں کی کمر کو سیدھا رکھنے میں ایک بہت بڑا سہارا ہے وہیں مفلس اور سادہ دل عوام کے لئے بھی نعمت خدا وندی سے کم نہیں لیکن حکومت کی اس عنایت کی شکر گزاری غریب و نادار مل مالکان و زمینداران تو ہر ہر لمحے کرتے نظر آتے ہیں مگر ملک کے سادہ دل عوام ہر لمحے حکومت سے شکوے شکایات میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔

یہ تو بات ہوئی رحم دل حکمرانوں کے رزِ تلافی ادا کرنے کی لیکن کسی حکمران نے کبھی اس پر بھی غور کیا ہے کہ "زرِ ظلم و زیادتی" کا ذمے دار کون ہے؟۔ موجودہ حکمرانوں نے آتے ہی وہ سارے کے سارے "زرِ تلافی" بیک جنبشِ قلم بند کر دیے تھے جو بقولِ خود، حکومت مختلف اشیا پر ادا کیا کرتی تھی جس میں بجلی اور پٹرولیم مصنوعات سمیت بیشمار سامانِ ضروریہ شامل تھا جس کی وجہ سے مہنگائی کا زبردست بوجھ عوام پر آن پڑا۔ ایک جانب وہ تمام اشیا جن کا تعلق عام عوام کی ضروتوں سے تھا ان پر زرِ تلافی کا واپس لیاجانا تو دوسری جانب مل مالکان و زمینداروں پر عنایتوں کی بارشیں کیا ایک کھلا تضاد نہیں؟۔انصاف کی بات یہ ہے کہ ایسے تضادات کوئی آج کے تو نہیں جس پر بہت چراغ پا ہوا جائے لیکن اس کو کیا کیجے کہ ایک جانب تو عوامی اشیا پر ملنے والا رزِ تلافی (سبسڈی) بند کر دیا گیا تو دوسری جانب کئی ماہ سے عوام سے جو "زرِ ظلم و زیادتی" وصول کیا جا رہا ہے، کیا اس کا حساب بھی ہمارے رحم دل حکمران دیں گے؟۔

آج یکم جون 2020 سے پٹرولیم مصنوعات پر مزید کمی کر دی گئی جو ایک احسن قدم ہے۔ آج سے قبل پٹرول کی قیمت 120 روپے فی لیٹر تھی جو کم ہو کر اب 75 روپے ہو گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس نرخ پر عالمی منڈی میں آج کل تیل مل رہا ہے اس لحاظ سے اب بھی 20 سے 25 روپوں کی کمی کی ابھی مزید گنجائش موجود ہے۔ عالمی منڈی میں آج سے چار پانچ ماہ قبل تیل جس قیمت پر فروخت ہونا شروع ہو گیا تھا، آج بھی وہیں پر ہی ٹھیرا ہوا ہے گویا جو قیمت جون 2020میں مقرر کی گئی ہے وہ جنوری 2020 سے پہلے بھی مقرر کی جاسکتی تھی۔ اگر یہ بات درست ہے اور قیمتوں کو یک دم گرانے کی بجائے آہستہ آہستہ کم کیا جارہا ہے تو پھر یہ "زرِ ظلم و زیادتی" وصول کرتے رہنے کا ذمے دار کس کو قرار دیا جائے گا؟۔

اگر زرِ تلافی بتدریج ختم کرنے کی بجائے بیک جنبشِ قلم بند کیا جا سکتا ہے تو وہ فائدہ جو عوام کو فوری مل سکتا تھا، اسے ایک تدریج کے ساتھ عوام تک منتقل کرنا رحم دل حکمرانوں کی ایک سنگ دلانہ حرکت ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ اگر ہمارے حکمرانوں کا دل کسی کے نقصانات پر روتا اور دکھتا ہے تو وہ صرف اور صرف غریب و نادار مل مالکان اور بڑے بڑے زمینداروں کے خسارے ہیں لیکن اگر کوئی فوری فائدہ عوام کا نصیبہ بن رہا ہو تو حکمران کوتاہ دست بن جایا کرتے ہیں۔سارے رونے دھونے میں سب سے بڑا رونا دھونا یہ ہے حکمران زرِ تلافی کا چرچہ کرتے تو نہیں تھکتے لیکن ان کو عوام پر ٹیکسوں پر ٹیکس لگا کر، ضروری اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور یوٹیلیٹی کے بلوں میں بڑھوتریاں کرکے "رزِ ظلم و زیادتی" وصول کرنا کبھی نظر نہیں آتا۔