خواتین کی ادائیگی نماز اور مسجد - پروفیسر جمیل چودھری

بھارت میں ایک مسلم جوڑے کو مسجد میں ادائیگی نماز سے انتظامیہ کی طرف سے منع کیا گیا۔کہا گیا صرف مرد جا سکتا ہے عورت نہیں ۔اس جوڑے نے اپنے وکیل کے ذریعے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اس پابندی کو چیلنج کردیا۔

کچھ غیر مسلم خواتین نے بھی اپنی عبادت گاہوں میں لگی پابندی کو چیلنج کیا ہے ۔9 رکنی سپریم کورٹ نے درخواست کے فیصلے کیلئے وفاقی حکومت ، خواتین کے قومی کمیشن ،سنٹرل وقف کونسل، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ابھی تک عدالت نے فیصلہ تو نہیں سنایا ۔البتہ بھارت میں مسلمانوں کے سب سے معتبر ادرے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالت میں ایک حلفیہ بیان داخل کرا دیا ہے ۔ بیان میں بتا یا گیا ہے کہ اسلام کیبنیادی کتابوں میں عورتوں کے مسجد میں جاکر نماز ادا کرنے پر کو ئ پابندی نہیں ہے ۔ ایک عورت کواجازت ہے کہ وہ مسجد میں جاکر نماز اداکرے ۔اس کو مسجد میں موجود سہولیات سے فایدہ اٹھانے کا اختیار ہے ۔بورڈ نے مساجد میں موجود سہولتوں سے فایدہ اٹھانے کا کہا ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ وہاں خواتین کیلئے علیحدہ جگہ بنی ہوئ ہو ۔ صرف اسی صورت میں عورت مسجد جاکر نماز اداکر سکتی ہے ۔ بنچ نے اس مقدمہ کو فروری میں سننا شروع کیا تھا ۔ اس مقدمہ کا ذکر اب ریگولر اور سوشل میڈیا پر شروع ہو گیا ہے ۔اس کا بھی امکان ہے کہ اسے پاکستانی عدالت میں لے جایا جائےبھارت کی ایک تعلیم یافتہ مسلم خاتون نے 2005 میں ایک خو اتین کا مسلم بورڈ بنا یا تھا ۔امبر کے مطا بق ابھی تک مرد علماء کی طرف سے پابندیوں کا ہی بتایا جا رہا تھا ۔ اب آکر مسلم پرسنل بورڈ نےمساجد میں خواتین کو داخلے کی اجازت دی ہے ۔ شائستہ امبر نامی خاتون کا کہنا ہے کہ میں نے کافی عرصہ پہلے دارالعلوم دیو بند سے اس مسئلہ پر پوچھا تھا ۔ مجھے کہا گیا تھا کہ عورتوں کے مساجد میں جاکر نماز ادا کرنے پر پابندی ہے ۔ اس خاتون نے 1997 میں لکھنئو شہر میں ایک قطعہ زمین خریدا اور مسجد تعمیر کرائی ۔ہیاں مردوں اور عورتوں کو نماز کی اجازت دی گئ ۔اس کے علاؤہ پورے ہندوستان میں چند مساجد کے سوا پابندی ہے ۔

مسلم بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ مذہبی ادارےفتاوی جاری کرتے ہیں ان کو ماننا یا نہ ماننا مسلمانوں کے اپنے اختیار میں ہو تا ہے۔ عدالت سے کہا گیا ہے کہ ان فتاوی میں مداخلت نہ کی جائے ۔ یہ لوگوں کا پرائیویٹ مسئلہ ہے ۔۔بھارت کی سپریم کورٹکیا فیصلہ کرتی ہے ۔ابھی اس کا انتظار ہے ۔۔آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن وسنت کے اس مسئلہ میں کیا احکامات ہیں ۔ سورہ توبہ کی آیت 18 کا ترجمعہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے "اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور روز قیا مت پر ایمان لاتے ہیں نماز پڑھتے اور زکو ہ ادا کرتے ہیں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ۔یہی لوگ امید ہے ہدایت یافتہ ہونگے ۔" اس آیت میں مساجد کے آباد کرنے کی بات کی گئی ہے۔ کسی کی اجازت یا پابندی کی بات نہیں ہے ۔امام بخآری کی کتاب سے ایک حدیث کا ترجمعہ درج ذیل ہے ۔"حضرت عائشہ رض سے مروی ہے کہ مسلمان عورتیں نبی اکرم ص کے کے ساتھ نماز فجر میں شامل ہونے کی خاطر چادروں میں لپٹی ہوئی حاضر ہوا کرتیں ۔ جب نماز سے فارغ ہو جاتیں تو اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں ۔اندھیرے کے باعث کوئ بھی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔"

ایسی بھی احادیث ہیں جن میں نبی اکرم ص کی طرف سے کہا گیا " اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو " اور یہ بھی " عورتیں اگر تم سے رات کی نماز مسجد میں ادا کرنے کی اجازت طلب کریں تو انہیں اجازت دے دو " ان احادیث کے حوالے بھی بخآری اور مسلم شریف میں ملتے ہیں ۔یہ بھی " کہ عورتوں کی صف بہترین آخری ہے اور بد ترین پہلی صف ہے " ایسی ہدایات بھی ملتی ہیں کہ نبی اکرم ص خوتین کو عید الفطر اور عید الاضحی کی با جماعت نماز کیلئے تاکید کیا کرتے تھے ۔اور جب عورتوں کی طرف سے کہا گیا کہ ہمارے پاس چادریں نہیں ہیں تو آپ نے فرمایا کہ آپ اپنی دوسری بہن کی چادر میں لپٹی جایا کریں ۔ مطلب تھا کہ ایک چادر 2 عورتیں استعما ل کریں لیکن علماء یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ اجازت صرف دور نبوی میں تھی ۔حضرت عمر رض کے زمانے میں صحابہ کے مشورے کے بعد عورتوں کو گھروں میں نماز ادا کرنے کا کہا گیا تھااس وقت جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے ۔ہم میں سے اکثر جانتے ہیں ۔

مسجد الحرام خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں خواتین بڑی تعداد میں نماز میں شریک ہوتی ہیں مسجد الاقصی سے بھی عورتوں کی شرکت کی خبریں آتی ہیں ۔سعودیہ کے ایک شہری نے بتایا کہ سعودی عرب کی ہر مسجد میں خواتین کیلئے علیحدہ جگہ بنی ہوئ ہے اور ان کے مسجد جانے پر کوئ پابندی نہیں ہے ۔پاکستان ، بھارت اور باقی دنیا جہاں سنی حنفی مسلک چھا ہوا ہے ، یہاں خواتین کو پابندیوں کا سامنا ہے ۔ پاکستانی شہریوں کی چند مساجد میں عورتوں کا علیحدہ حصہ بنا ہوا ہے ۔95 فیصد مساجد میں یہ حصہ بنا یا ہی نہیں جا تا۔ یوں خواتین نماز جمعہ کے خطبات اور دروس قرآن سے فایدہ نہیں اٹھا سکتیں ۔اسلامی احکامات سے واقفیت جہاں مردوں کیلئے ضروری ہے وہیں خواتین کیلئے ضروری ہے۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ نے خوتین کی تعلیم وتر بیت کیلئے اپنا ایک نیٹ ورک بنا یا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کا خواتین ونگ بھی کام کر تا رہتا ہے لیکن پھر بھی خواتین کے مسجد سے تعلق کی اشد ضرورت محسوس ہو تی ہے ۔

وحدانیت،نبوت،اور عقیدہ آخرت کا جاننا جہاں مردوں کیلئے ضروری ہے وہیں خوتین کا ان تینوں عقائد کی تفصیل جاننا بھی انتہائ ضروری ہے ۔نماز،روزہ،زکوہ اور حج کے مسائل جاننا مردوں اور عورتوں کیلئے لازمی ہے ۔قرآن وسنت میں عقائد،اعمال اورا قرار کی تاکیدمیں مردوں اور عورتوں میںکوئ فرق نہیں رکھا گیا۔کچھ علماء فر ما تے ہیں کہ مسلم مرد علماء سے باتیں سنیں اور اپنی خوتین کو پہنچائیں ۔لیکن دیکھا جاتا ہے کہ گھروں میں اس طرح کا ماحول نہیں ہے۔ شہری خواتین اپنے وقت کا بیشتر حصہ مو بائل اور ٹی وی پر صرف کر رہی ہیں ۔لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اگر خواتین کو مسجد میں ادئیگی نماز کی اجازت ہو تو کچھ وقت موبائل کی برائی سے بچا جا سکتا ہے۔نماز جمعہ کیلئے تو بہت ضروری سمجھاجارہا ہے کیونکہ خطبہ جمعہ میں کئ ضروری باتیں سننے کو ملتی ہیں مساجد میں ہونے والے دروس قرآن وسنت بھی عورتوں کو بہت فایدہ پہنچا سکتے ہیںکیا نوجوان لڑکیاں مسجد جاتے ہوئے ان پابندیوں پر توجہ دیں گی جو اسلام خواتین پر عائد کر تا ہے چادر میں لپٹنا ،زیوراور زینت کی اشیاء استعمال نہ کرنا، خوشبو نہ لگانا۔

آج کل کے دور میں نوجوان نسل کو ان پابندیوں پر عمل کرانا کافی مشکل نظر آتا ہے ۔پھر رائے یہی بنتی ہے کہ خواتین گھروں میں ہی نماز ادا کریں تو بہتر ہے ۔کچھ تعلیم یافتہ خواتین کا اعتراض میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ان کے مطابق قرآن و سنت پر شروع ہی سے مردوں کا اجارہ ہے اور انہوں نے اسلام کے دونوں ذرائع یعنی قرآن وسنت کی ایسی تشریحات کی ہیں کہ خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا ہے ۔جیسے باقی شعبوں میں مردوں نے خواتین کو پیچھے رکھا ایسے ہی دینی شعبے میں بھی خواتین کو آگے نہیں آنے دیا ۔ہمارے ملک میں نظر آتا ہے کہ صرف اہل حدیث حضرات مسجد کی تعمیر کے وقت خواتین کیلئے علیحدہ حصہ بنا تے ہیں ۔اکثر یتی مسلک کے لوگ یہ ضروری نہیں سمجھتے۔صرف قاضی حسین احمد مرحوم یہ کہا کرتے تھے کہ خواتین کو مسجد میں جاکر نماز ادا کرنے کا حق واپس لینا چاہئے۔ حنفی مسلک کے 2 معروف مدارس کے مفتیوں نے عورت کو مسجد میں نماز ادا کرنے سےمنع کیا ہے ۔

مدرسہ بنوری ٹائون اور دارا لعلوم دیوبند کی یہی رائے سامنے آتی ہے ۔جب خواتین سورہ احزاب کی آیت 35 کا مطالعہ کرتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو نیک اعمال میں مردوں کے برابر سمجھتی ہیں ۔ہر نیک عمل جیسے مردوں کا مرتبہ بلند کر تا ہے ۔یہی صورت حال عورتوں کی بھی ہے سید ابوالاعلی مود دی اس 35 نمبر آیت کی تشریح میں فر ما تے ہیں۔کہ اس آیت میں بتایا گیا ہےکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قدر وقیمت کن اوصاف کی ہے۔ یہ اسلام کی بنیادی قدریں ہیں جنہیں ایک فقرے میں سمیٹ دیا گیا ہے ۔ان قدروں کے لحاظ سے مرد اور عورت میں فرق نہیں ہے ۔عمل کے لہاظ
سے دونوں کا دائرہ کار الگ ہے ۔خواتین نے چونکہ بچوں کو سنبھالنا ہو تا ہے اس لئے عورتوں کو مسجد جانے کا پابند نہیں بنایا گیا ۔

لیکن کوئ عورت اگر اجازت مانگے تو اسے اجازت دی نے کا کہا گیا ہے اجازت وہی مانگے گی جس کے بچے بڑے ہو گئے ہوں ۔ اسلام کے قوانین خاندان اور معاشرے کی بہتری کے لئے ہیں اس تفصیل کے بعد یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ مساجد میں خواتین کی لئے علیحدہ حصہ ضرور تعمیر کیا جائے اور جو بھی عورت مسجد میں جاکر نماز ادا کرنا چاہے ۔وہ ادا کر سکےنماز جمعہ کیلئے عورتوں کو تلقین کرنا بھی ضروری ہے۔دروس قرآن وسنت سننے کی بھی اہمیت سب پر واضح ہے ۔مسجد کی طرف سے عورتوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہونا لازمی ہے ۔علماء کو اس مسئلے میں نرم رویہ رکھنا چاہئے ۔