ایک اور حادثہ ، ایک اور سانحہ - حسین اصغر

ایک بار پھر حادثہ ہوگیا ! پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں گر کر تباہ اور تقریباً ۹۰ سے زائد افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے”۔ دل اوردماغ میں بے چینی ہے سکون جیسے روٹھ گئی ہو آنکھوں سے گرتا آنسو ہے کہ روکتا نہیں اور دل ہے کہ ڈوبا جارہا ہے جسے سوال کررہا ہو! کیا یہ واقعی محض ایک حادثہ ہے ؟ہر حادثہ تکلیف اور دکھ تو ضرور لاتا ہے ساری تدبیروں کے بعد انسان پھر بھی بے بس ہوتا ہے اور حادثہ اس انسانی بے بسی کینشانی ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ! لیکن اللہ نے یہ اختیار تو پھر بھی انسانوں کو دے رکھا ہے کہ جس نے بھی اسمیں غفلت برتی ہو اسے قانوں الہی کے مطابق پوری پوری سزا دی جائے ۔

نہیں ہرگز نہیں اور یقیناً نہیں یہ حادثہ نہیں ہے !حادثات تو اس دنیا میں ہوتے ہیں جہاں وہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور فہم کو استعمالکرتے ہوئے ساری احتیاتی تدبیر کرتے ہیں سیفٹی کے نام پر ہر ہر اقدام کرتے ہیں اور اس کے باوجود حادثہ ہوجائے تو وہ کیا وزیراور کیا مشیر کسی کو نہیں چھوڑتے ہیں۔حادثہ نام ہی ناگہانی کے ہونے کا ہے جہاں انسان کی تدبیر کام نہیں آتی۔
مگر “پاکستان میں حادثات نہیں پاکستان میں سانحات ہوتے ہیں” اور ہر سانحہ کو انسانی لاشوں کو منوں مٹی تلے دفنا دیا جاتا ہے اورجب آنکھوں سے جاری ہونے والے آنسو کسی دوسرے حادثے کی نظر ہوجاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ حادثہ تو ہوا ہی نہیںُ تھا وہ توسانحہ تھا سانحہ !

اب کون نہیں جانتا بلدیاٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن حادثہ نہیں سانحہ تھا کون نہیں جانتا بارہ مئی ، آرمی پبلیک اسکول ، باجوڈ اور ساہیوال، تیز گام ایکسپریس واقعات حادثہ نہیں سانحات تھے ۔اس لئے نا اس کی کوئی انکوئیری ہوئی اور نا اس پر کسی کو سزا ہوئی ۔ آج بھی “ پی آئی اے طیارہ حادثہ ” کے بعد بھی وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے یعنی حکومت کی طرف سے تعزیت ۔ جو عمران اپنے وزیرریلوے شیخ رشید سے پے درپے ٹرین حادثے پر اسکا احتساب نہیں کر سکا وہ اب ایک “ایئرمارشل ارشد محمود چیئرمین پی آئی اے“ سے کیسے سوال کرنے کی ہمت کریگا۔

بس یاد رہے جب عمران نیازی اپوزیشن میں ہوا کرتے تھے تو وہ کہا کرتے تھے کہ ‏ساؤتھ کوریا کا پرائم منسٹر استعفی دیتا ہے کیونکہ کشتی ڈوب جاتی ہے، کشتی وہ تو نہیں چلا رہا ہوتا لیکن وہ کہتا ہے کہ میرے ہوتےہوئے کشتی ڈوبی”۔خیر سے پاکستان میں یہ والی اخلاقیات اپوزیشن تک محدود ہے یاد دیلا کر انہیں اور انکے سپوٹروں کو شرمندہ کرنے سے کیا فائیدہ مگر یہایک شعوری قتل عام ہے اس کی سزا ہر اس کو ملنی چائیے جو اس میں شامل ہے لیکن خیر سے یہ واقعہ بھی کسی معطلی ، ٹرانسفر اور“لواحقین کیلیے معاوضہ دینے کا اعلان “ جیسے اقدامات کے بیشمار فائیلوں کے نیچے دب کرمر جائے گا۔اوراقتدار کےاس گردشی کھیلمیں عوام خون ، بھوک اور لاچاری کی موت مرتے رہیں گے۔

اپنی ہی آستیں کے ہمیں ڈس رہے ہیں سانپ

انسان مٹ چکے ہیں یہاں بس رہے ہیں سانپ

انسان کے روپ میں ہیں کچھ حیوان یہاں پر

ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر