کورونامسجد میں ہے بازار میں نہیں - حسیب اعجاز عاشرؔ

کہا گیا کوروناوائرس اتنا خطرناک کہ ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے منتقل ہو جاتا ہے،کپڑوں میںجذب ہوسکتا ہے اور کئی کئی گھنٹے ہوا میں بھی رہتا ہے ۔اِس سے فوری بچائو کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سیلف ایسولیشن ،یہی وجہ ہے کہ سماجی فاصلوں کو بڑھانے کیلئے باہمی میل جول پرغیرمعمولی پابندیاں عائد کر دی گئیں،ہر اُس مقام کو خطرے سے خالی تصور نہ کیا گیا جہاں چند افراد کا ہی مجمع کیوں نہ ہو۔ایک طرف تو دفاتر، تعلیمی مراکز،تجارتی و خریداری مراکز تو بند ہوئے ہی دوسری طرف مسلمانوں کی عبادت گاہیں سب سے زیادہ زیر تاب آئیں ۔

عمرہ،طواف تک موقوف ہوگئے ،حج ہونے سے متعلق تاحال فیصلہ تعطل کا شکارہے۔پاکستان میں بھی کئی بڑی مساجد پر تالے لگ چکے چھوٹی مساجد میں تین فٹ اور چھ فٹ کے فاصلے سمیت کئی پابندیاں مسلط کی گئیں، چلئے فی الوقت ہم اُن ادوار کی بات نہیں کرتے جب خطرناک بیماریاں بھی پھیلتی توزمین پر اللہ کے گھر مساجد کے دروازے مسلمانوں پر بند نہیںہوتے تھے بلکہ عبادات کیلئے اہتمام بڑھ جاتا تاکہ بارگارہ الہی سے رحم و کرم طلب کیا جاسکے۔اسلام کی روشن تاریخ ایسے بے شمار ایمان افروز واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کیسے مساجد میں سجدوں میں گر کر انفرادی اور اجتماعی دعائوں کی قبولیت اور مقبولیت حاصل کی گئی اور کڑے کڑے سے بحران میں بھی اُمت سرخرو ہوئی ،مگر چونکہ تاریخ عالم میں پہلی بار دنیا کا طول و عرض کورونا جیسی خوفناک ترین جان لیوا عفریت کی لپیٹ میں ہے اِسی لئے عائد پابندیاں ہر طبقہ فکر کیلئے تسلیم کرنا لازم قرار پائیں۔

لیکن کورونا سے کئی ماہ دست وگریبان رہنے کے بعد اب معاشی بدحالی سے بچنے کے لئے بازار اور کاروباری سرگرمیوں کاباقاعدہ آغاز ہوچکا ہے ۔گلیوں سڑکوں پر بمپر ٹو بمپر ٹریفک جام ہے،رہی سہی کثر راستوں میں لگے بے جا بیرئرز نے پوری کر رکھی ہے۔ مارکیٹس،بازاروں کی صورتحال دیسی انداز میں لکھوں تو بندے پر بندہ چڑھا ہے،نہ کہیں حکومت ہے نہ حکومت کے ایس اوپیز۔ حکومت واشگاف الفاظ میں اعلان بھی کر چکی ہے کہ اب کورونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بھوک کے ہاتھوں ماری غریب عوام کو رزق کے پیچھے دربددر ہونے کیلئے کھلی چھوٹ مل چکی ہے مگرمساجد کے دروازے بند ہیں یا پھرمشروط کھلے ہیں ۔کتنے تعجب کی بات ہے کہ مساجد جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین مقام ہیں پابندیوں کی زد میں ہے اور بازار جسے اللہ تعالی کے نزدیک مبغوض ترین مقام قرار دیا گیا ہے ڈنکے کی چوٹ پر کھلے ہیں ۔

سوال یہ نہیں کہ بازار کیوں کھلے ہیں ؟سوال تو یہ ہے مساجد پر تاحال پابندیاں کیوں ہیں ؟یہ سب شرائط اور قواعد و ضوابط کسی حد تک تب تک تو قابل قبول تھیں جب ہر طبقہ اِس پر عمل کرنے کا پابند تھا مگر اب صرف مساجد او رمخصوص مذہبی مراکز تک یہ پابندیاں ناقابل فہم بھی ہیں اور ناقابل قبول بھی ۔قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ’’اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اسکے(پاک) نام کے ذکر سے روکے، اور انکی ویرانی کی کوشش کرے؟ ایسوں کو تو ان (پاکیزہ مقامات)میں داخل ہونے ہی کا حق نہیں الا یہ کہ یہ لوگ ان میں داخل ہوں (اس کی عظمت و کبریائی سے) ڈرتے(اورکانپتے)ہوئے،ان کیلئے دنیا میں بڑی رسوائی ہے اورآخرت میںبہت بڑا(اور ہولناک)عذاب(البقرہ)‘‘۔یہ لکھتے ہوئے دل آبدیدہ ہے کہ مساجد سے حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح کی صدائیں تو گونج رہی ہیں مگر ا للہ اور اُس کے بندوں کے درمیان حکومتی مزاحمت آڑے آرہی ہے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے منبرکی ذمہ داری کی سعادت نصیب کی اُن میں سے اکثریت حکومتی اقدامات پر سرخم تسلیم ہیں،کوئی سوال اُٹھانے والا نہیں کہ کورونا ڈیش بورڈ میں ایک کالم پنجاب کے شہروں کا دوسرا تبلیغی مراکز کا ہی صرف کیوں؟اور اب تو یوم علیؑ کے بعدویسے ہی حکومتی یک طرفہ رویے نے کئی شکوک و شہبات پیدا کر دیئے ہیں۔لیکن سوال اُٹھانے کا جرم کون کرے؟

ایک وہ دور تھا جب حضرت جعفر طیارؓ نجاشی سردار کے سامنے حق بات کہنے سے نہیں ہچکچائے۔عبدالرحمن بن حسان اور حجر بن عدی کلمہ حق کہنے کے پاداش میں شہید کر دیئے گئے ۔ حضرت حسین ؓ نے باطل کے سامنے جھکنے پر شہادت کوترجیح دی ۔ امام احمد بن حنبلؒ، امام مالک ؒ اور امام ابو حنیفہ کوڑے کھائے مگر حق کو حق اور باطل کو باطل کہتے رہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ دین کی خاطر جد علماء ، مفتیان کرام اور بڑی مذہبی شخصیات نے کلمہ حق بلند کرنے کے جرم میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔وہ دور کہاں سے لائیں جب اپنے جان و مال اور آبرو کی پروا کئے بغیر مردِ قلندرہر طرح کی مشکلات و مصائب کو سینے پر سجائے باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا اپنا نصب العین تصور کرتا اور پھر لایخافون لومۃ لائم کا عملی عکس بنے ہوئے ایوانوں کو للکارتا اور تمام سازشوں کو پاش پاش کرتے ہوئے اللہ کی خوشنودگی کیلئے اپنا سفر خیر جاری و ساری رکھتا ۔ لیکن اب تو ایسے گوہر ’’ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘کے مصداق ہوچکے ہیں ۔

بہرحال اب وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اعلامیہ کو دیر آئے درست آئے کہا جاسکتا ہے جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی آڑ میں مسجد، مدرسہ اور دینی معاملات کو ہدف بنایا جا رہا ہے جو افسوسناک ہے لہٰذا کورونا وائرس کا مذہب اور مذہبی اقدار و روایات کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کسی طور پر قبول نہیں۔علماء کرام نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک بھر کے دینی حلقوں کو ایک بارپھر مل بیٹھ کر نئے سرے سے صف بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مذہب کے معاشرتی کردارکو فروغ دینے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوششوں کو ہمیشہ کی طرح ناکام بنایا جائے۔یہ اعلامیہ صرف زبانی جمع خرچ ہے کہ آ نے والے دنوں میں علماء کرام اِ س حوالے سے چند قدم آگے بھی بڑھیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر یہ حقیقت ہے باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا موقع اللہ تعالی کی طرف سے اہل دین و فکر کے لئے آزمائش کے ساتھ ساتھ باعث غنیمت بھی ہوتا ہے جو ہر کسی کو بار بار نہیں ملتا ۔

کورونا کے پس پردہ جس انداز میں بظاہری طور پر مذہبی اقدار پر ضرب لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ،بحثیت مسلمان ہم سب پر اِس وقت کڑی اور اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قلم اور زبان سے اپنے اپنے دائرہ کار ،استطاعت،ہمت،جذبے اور وسائل سے بھی ا ٓگے بڑھ کر آواز ضرور بلند کریں ، تاکہ روزقیامت پوچھا جائے کہ جب بازار کھول دیئے گئے اور مساجد پر قفل رہے تو میرے بندے تو نے کیا کیا؟تو ہمارے ضمیر مطمئن ہوں اور ہم سرخرو ٹھہریں