ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں- اوریا مقبول جان

ایوان اقتدار پر براجمان چند مغرب پلٹ نام نہاد عالمی ماہرین کو اگر اس ملک میں ایک چھوٹے سے تھانے، تحصیل، تعلقے یا پٹوار سرکل چلانے کا بھی تجربہ ہوتا، ان میں سے کسی نے ڈاکٹر کی نشست پر بیٹھ کر پْرہجوم "او پی ڈی" میں بیٹھ کر مریض دیکھے ہوتے، کسی خیراتی ادارے یا سماجی بہبود کے ادارے میں بیمار، مجبور اور بے نوا انسان کی حالت دیکھی ہوتی، تو آج ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی کرونا کی وجہ سے اموات پر ان میں اس قدر بے حسی اور لاتعلقی نہ پائی جاتی۔ آج بھی حکومتی ایوانوں میں سب سے کم گفتگو صحت اور کرونا سے لڑنے کی سہولیات کے بارے میں ہو رہی ہے۔ جب کہ زیر گفتگو یہ موضوعات ہیں کہ بازار کتنے دن کھلیں گے، شاپنگ مالز کیسے کھولے جا سکتے ہیں، سکولوں کا کیا ہوگا، بلڈنگوں کے کرائے، ائیرلائنوں کی پروازیں، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ اور کارخانے کب، کیسے اور کس طرح چالو ہوں گے۔ گذشتہ تقریبا ایک ماہ سے جس ملک میں کرونا کا مرض اموات کی سیڑھیاں تیزی سے پھلانگتا ہوا دنیا بھر میں اٹھارہویں نمبر پر آچکا ہو وہاں انسانی جانوں کو بچانے سے مقدم کوئی اور گفتگو ایک سنگین مذاق سے کم نہیں۔ موت کا احساس اس وقت تک اجاگر نہیں ہوتا، جب تک کوئی شخص اپنے پیارے کو لحد میں نہیں اتارتا، چند مٹھیاں مٹی اس کی قبر پر نہیں ڈالتا اور اس مٹی کے ڈھیر پر کھڑے ہوکر آنسو سے تر آنکھوں کے ساتھ دستِ دعا بلند نہیں کرتا۔ اسی طرح کسی مرض کی شدت، علاج کی کمیابی، طبی عملے کی بے حسی اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اپنے پیاروں کی موت ہی انسان کو بے بسی کی موت کے کرب سے آشنا کرتی ہے۔ ارباب اختیار کی ایسی بے بسی کا تجربہ مجھے اپنی عملی زندگی کے آغاز میں ہی ہو گیا تھا۔ مارچ 1980 میں جب میں نے بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تو طلبہ کو مریضوں کے براہ راست مشاہدے کے لئے سنڈیمن پروفیشنل ہسپتال کے شعبہء دماغی امراض میں ہفتے میں تین دن لے جایا جاتا تھا تاکہ نفسیاتی اور ذہنی امراض کا شکار افراد کی کیس ہسٹری وغیرہ لے کر ان کے نفسیاتی علاج کا عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔ ڈیڑھ کمرے پر مشتمل یہ وارڈ اور پورے ہسپتال میں صرف پانچ بستر۔

یہ تھی کل اوقات۔ چند مہینے کام کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ روزانہ آنے والے مریضوں میں پیدائشی طور پر ذہنی معذور بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایسے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے تو ایک علیحدہ ادارہ چاہیے تھا۔ سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے، ماہر دماغی امراض ڈاکٹر عبدالمالک اچکزئی، بلوچستان یونیورسٹی کے استاد شکراللہ بلوچ جو بعد میں وائس چانسلر بنے، سیکرٹری سوشل ویلفیئر فقیرمحمد بلوچ جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے، شعبہ سماجی بہبود بلوچستان یونیورسٹی کے سربراہ مقصود الحسن رضوی۔ ان سب کے ساتھ مل کر ایک انجمن بنائی گئی۔ پٹیل روڈ پر ایک عمارت متروکہ وقف تھی، اسے فقیر بلوچ صاحب نے ہمارے حوالے کر دیا۔ اب مرحلہ سرمائے اور حکومتی سرپرستی کا تھا۔ ارباب اختیار کے دربار میں درخواست کے بعد، سول سیکرٹریٹ میں میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس زمانے میں پاور پوائنٹ نہیں ہوتے تھے۔ میں نے اغراض ومقاصد، ادارے کی ضرورت و اہمیت اور اخراجات پر چند منٹ درمندی والے لہجے میں بھر پورگفتگو کی۔ بہت سے سیکرٹری حضرات کی موجودگی میں چیف سیکرٹری صاحب نے سیکرٹری مالیات کی جانب دیکھا۔ اس نے پہلے تو مالی حالات کا رونا نا رویا اور پھر مجھے براہ راست مخاطب کر کے کہا، یہاں صحت مند آدمیوں کو علاج میسر نہیں اور آپ معذوروں کے ادارے بنانا چاہتے ہیں۔ عالم شباب تھا، بیوروکریسی کے ایوانوں کا تجربہ نہ تھا، اس لیے بے خوفی زیادہ تھی۔ میں نے ایک دم جواب دیا، " آپ بہت خوش قسمت ہیں، آپ اللہ کے سامنے سجدہ شکر ادا کریں کہ آپ کے گھر میں کوئی ذہنی معذور بچہ یا بچی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ایسے میں آپ سوال کرتے پھرتے کہ اس کے علاج کی سہولیات کہاں ہیں، حکومت اتنی بے حس کیوں ہے۔ کیا ذہنی معذور اس ملک کے شہری نہیں"۔ چالیس سال پہلے کا زمانہ تھا۔ افسران میں برداشت بھی تھی اور انسانیت بھی ابھی باقی تھی۔ میری بات پر ایک دم سناٹا چھا گیا۔ اگلے ہی لمحے ذہنی معذوروں کے ادارے کا بجٹ منظور ہو چکا تھا اور صرف ایک ماہ کے اندر پٹیل روڈ کوئٹہ میں بلوچستان کا پہلا ادارہ برائے بحالی ذہنی معذوراں وجود میں آچکا تھا۔ آج یہ واقعہ یاد آتا ہے تو مجھے مزید حیرت اسلیئے ہوتی ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ پر ایک ایسا شخص فائز ہے جو درد و کرب کے اس تجربے سے ذاتی طور پر گزر چکا ہے۔

جس نے اپنی والدہ مرحومہ شوکت خانم کو کینسر کے علاج کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کسمپرسی اور بے بسی میں جان دیتے ہوئے دیکھ کر ایک ایسا عزم صمیم کیا کہ وہ پاکستان کے کوچے کوچے ہاتھ پھیلاتا ہوا گھوما اور اس نے پاکستان کو ایک عالمی معیار کا شوکت خانم کینسر ہسپتال دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا میرے ملک کا بیوروکریٹ اور مغرب پلٹ حکومتی مشیران اس قدر چرب زبان اور قصہ گو ہیں کہ وہ عمران خان جیسے وزیراعظم کے سامنے بھی حالات کی ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جس میں معاشی ترقی انسانی صحت و زندگی سے زیادہ اہم دکھائی جا رہی ہے۔ کسقدر سادہ سی منطق ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں انسانوں کو کم ازکم ایک سال تک موجودہ پیداوار کے ساتھ گھروں میں قید رکھ کر خوراک فراہم کی جا سکتی ہے اور اس ایک سال میں کوئی شخص بھوک سے نہیں مرے گا۔ اسلیئے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو ہرسال پونے تین کروڑ میٹرک ٹن گندم، ڈیڑھ کروڑ میٹرک ٹن چاول اور پچاس لاکھ میٹرک ٹن دالیں پیدا کرتاہے۔ جس ملک کے پاس تین کروڑ بھینسیں اور گائیں، دو کروڑ اسی لاکھ بیل، ساڑھے پانچ کروڑ بکریاں، پونے تین کروڑ بھیڑیں اور دس لاکھ اونٹ موجود ہوں اور ان کی نسل مسلسل پروان چڑھ رہی ہو۔ ملک میں پولٹری فارمز کا جال بچھا ہوا ہو اور جو ملک دنیا میں دودھ کی پیداوار کے حساب سے چوتھے نمبر پر ہو ایسے ملک میں کوئی بھوک سے مر سکتا ہے۔ لیکن کمال ہے وزیراعظم کے ان مغرب زدہ مشیروں کا جنہوں نے چار ماہ سے پوری قوم کو بھوک سے ڈرایا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کے ہسپتالوں میں، صرف ایک لاکھ اٹھارہ ہزار آٹھ سو انہتّر (1,18869) بیڈ ہیں، رجسٹرڈ ڈاکٹر صرف ایک لاکھ چوراسی ہزار سات سو گیارہ ہیں (1,84,711)اور رجسٹرڈ نرسیں صرف 94 ہزار ہیں۔ آج اس وقت تک پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 65,218 ہے۔

اگر ملک میں کھانے کو تو خوراک وافر موجود ہو گی، لیکن ہسپتالوں میں کوئی بستر خالی نہ ہوگا اور نہ کوئی مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی ڈاکٹر۔ ہر چھوٹا بڑا سیاسی لیڈر پریس کانفرنس نہیں کر رہا ہے، ایک دوسرے پر الزام لگ رہے ہیں۔ نئی نئی تھیوریاں پیش ہو رہی ہیں۔ شیخ سعدی کی ایک حکایت یاد آتی ہے۔۔ ایک بادشاہ کشتی میں چند مصاحبین کے ساتھ دریا کی سیر کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک صاحب بہت شور مچا رہے تھے۔ بادشاہ نے غلاموں کو حکم دیا کہ اسے دریا میں پھینک دو۔ جب دو چار ڈبکیاں لگیں تو اسے باہر نکال کر بٹھا لیا۔ اس کے بعد سارا سفر وہ خاموشی سے ایک کونے میں دبکا بیٹھا رہا۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ، چاروں صوبوں کی صوبائی کابینہ جات بمعہ وزرائے اعلیٰ اور گورنر صاحبان کو ایک دو راتوں کے لیے کسی ہسپتال کے کرونا وارڈ میں ڈیوٹی لگائی جائے۔ ویسی ڈیوٹی جیسی ڈاکٹرز اور نرسیں دے رہے ہیں۔ انہیں وہاں اپنے سامنے موت رقص کرتی نظر آئے، انہیں پتہ چلے کہ کیسے لوگ یہاں بے بسی سے دن گزار رہے ہیں، انہیں معلوم ہو کہ ڈاکٹرز کیسے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کے کرونا ٹیسٹ کیے جائیں اور انہیں اس خوف کے ماحول سے گزارا جائے جس خوف سے کرونا کے مریضوں اور ان کے لواحقین، ڈاکٹرز اور دیگرافراد دن گزار رہے ہیں۔ان چند مہینوں میں اتنے پیاروں کی موت کا دکھ اٹھایا ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی پر رونا آتا ہے۔ شعیب بن عزیز کا شعر بار بار یاد آرہا ہے کوئی روکے کہیں دست اجل کو ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں