اوقات کار- ردا بشیر

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا، پہننا اوڑھنا... ہر چیز بدل جاتی ہے، جسے انگریزی لغت میں 'living standards' بھی کہا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے ذہنوں کو تھوڑی سی تکلیف دیں اور ماضی میں لے کر جائے تو ہمیں ٹیلی ویژن کا گزرا ہوا ایک دلفریب اور دلچسپ زمانہ یاد آتا ہے، جب ٹیلیویژن 'بلیک اینڈ وائٹ' ہوا کرتے تھے۔ صرف دو سے تین چینلز آتے تھے۔ رات آٹھ بجے والا ایک ڈرامہ آتا تھا۔ 9بجے خبرنامہ اور 12 بجے تک سبھی نشریات بند ہوجایا کرتی تھیں۔

اس وقت کے ڈراموں میں حیا اور تقدس کا عنصر نمایاں تھا۔ ڈرامے کے ختم ہوجانے پر کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق دیا جاتا یا زندگی گزارنے کا کوئی نا کوئی سنہری اصول بتایا جاتا تھا۔ اندھیرا اجالا، دھوپ چھاؤں، وارث اور لاگ ان بہترین ڈراموں کی فہرست میں شامل ہے۔ طارق عزیز کا گیم شو لگا کرتا تھا جس میں آسان سوالات کے جوابات پر قیمتی تحائف سے نوازا جاتا تھا۔۔۔ بچوں کی تفریح کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ ان کی پسند کے کارٹون اور پروگرامز نشر کیے جاتے تھے۔

لیکن۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔۔

اگر اس گزرے ہوئے وقت اور آج کے دور کا موازنہ کیا جائے تو جدیدیت تو بہت ہے۔ فیشن بھی بہت ہے۔ لیکن حیا کی پاسداری کا عنصر کہیں نظر نہیں آتا۔ نوجوان نسل بگڑی پڑی ہے۔ ایک بلا جو'tik tok'کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مستقل اپنے پنجے نوجوانوں میں گاڑھے نظر آتی ہے۔ ادھ ننگے پھٹے کپڑے پہنے لڑکیاں جنہیں فیشن کے نام پر پہن کر فضول سی انڈین دھنوں پر تھرکتے ہوئے جسموں کی نمائش کرتی نظر آتی ہیں۔

تشریف لے آئیے اب ذرا ٹی وی چینلز پر! جہاں اچھے اچھے گھرانوں کی بیبییاں ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے والے اداکاروں کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ان سے چمٹی نظر آتی ہیں۔ جہاں پروگرام کو چلانے والا میزبان گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنے پروگرام کی خصوصیات گنوا رہا ہوتا ہے۔ داڑھی والے حضرات پنجابی گانوں پر رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامے بازیاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جنہیں ایک سمجھدار انسان کی عقل تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ آج ڈھونڈ نے سے بھی ٹی وی کے کسی پروگرام میں اصلاحی پہلو نہیں ملتا۔ TRP کی دوڑ میں ہم ساری حدود و قیود پار کررہے ہیں۔

کسی بھی قوم کا اثاثہ علمائے کرام ہوتے ہیں۔ زندہ و جاوید قوموں کی طرح ہمارا اثاثہ بھی وہی ہیں۔ جنہیں براہ راست نشریات میں ذلیل کروا کر ہم اتراتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگیوں کا تقابلی اور اجتماعی جائزہ لیں تو کہیں بہتری کے آثار نہیں نظر آتے۔ یہ تو صرف یقیناً ان الفاظ کا صدقہ ہے کہ جن کی زبان مبارک پر دنیا سے پردہ فرماتے بھی بس یہی الفاظ تھے"اے اللّٰہ میری امت۔۔۔۔۔اے اللّٰہ میری امت"