سفیرِ کشمیر۔۔۔ خاموش کیوں؟ - حافظ مطیع الرحمان جمالیؔ

کچھ دن پہلے ایک خبر آئی اور جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔۔۔ خبر یہ تھی کہ طالبان نے انڈیا کو دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انڈیا تیار ہوجائے، ہم عید کے بعد غزوہ ہند شروع کرنے جارہے ہیں۔

بظاہر یہ ایک فیک نیوز تھی مگر بطور قوم ہم نے صرف اسی خبر پہ خوب انجوائمنٹ کیا اور رہی سہی کسر میڈیا چینلز کی کوریج نے نکال دی۔ بغیر تحقیق کیے خوب اس خبر کو اچھالا گیا۔

اب کچھ دنوں سے ہم انڈیا/چین کے مابین جھڑپیں لیے کافی انجوائے کررہے ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے پیش قدمی چین نے کی خوشی یہاں منائی جارہی ہے۔ حالانکہ ہمیں ان دونوں خبروں پہ غیرت کرتے ہوئے بے حسی کی چادر اتار پھینک دینی چاہیے تھی۔

ہمیں بطور قوم اپنے حکمرانوں سے سوال کرنا چاہیے کہ تم کس چیز کے انتظار میں ہو؟ کونسا ظلم ابھی دیکھنا باقی رہ گیا جو انڈین آرمی نے ابھی تک نہتے کشمیریوں پہ نا کیا ہو؟ کشمیر سے اور کتنے جنازے اٹھانے باقی رہ گئے؟ کتنی مائیں، بہنیں اپنے ہاتھوں اپنے پیاروں کو دفناتے رہیں گے؟ اُس امہ کی بیٹیوں کا کیا قصور جو ساری زندگی شوہر کی شھادت کے بعد موت کے انتظار میں گزارے گی؟ وہ کٹتے رہے۔۔۔ جنازے اٹھاتے رہے۔۔۔ بیوہ اور بچے یتیم ہوتے رہے، مگر نعرہ پاکستان کا ہی لگاتے رہے۔۔۔ کیا کبھی سوچا کہ ہم کیا کررہے ہیں؟

کشمیر ہماری شہ رگ کا نعرہ نا تو چین کا ہے اور نا ہی طالبان کا۔۔۔ یہ نعرہ ہمارا،  ہم اس نعرے کو لگاتے تھکتے نہیں۔۔۔ اور جب یہ شہ رگ کٹ رہی ہے تو ہم کیا کر رہے ہیں؟
اقوام متحدہ کی قراردادوں پہ عملدرآمدی کا انتظار۔۔۔
دو چار جوشیلے خطاب۔۔۔
ایک دو جمعہ آدھے گھنٹہ خاموشی کا اظہار۔۔۔!
کیا ایسے ہوگا کشمیر آزاد۔۔۔؟؟؟

اگر اسی پالیسی پہ عمل افغان طالبان کرتے جن کی فیک نیوز پہ قوم خوشی مناتی رہی۔۔۔ تو وہ کیا جنگ جیت پاتے؟
ہمارا تو ایمان ہے کہ مسلم آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ جس کا ذکر ہمیں کئی احادیث مبارکہ میں بھی ملتا ہے۔ ایک حدیث پاک میں ہے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں، اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے" {صیح مسلم}

ہم کب تک دوسروں کی داستانیں سناتے رہیں گے؟ چین نے تو پھر بھی غیرت دکھائی، پیش قدمی کردی۔۔۔ ہمارے حکمران کب ایسے فیصلیں کریں‌گے۔۔۔ جبکہ ہمیں ہمارا دین، ایمان اور عقیدہ یہ سب کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔۔۔ پھر ہم کیوں غافل خرگوش کی نیند سورہے ہیں۔۔۔ جبکہ احادیث مبارکہ میں ایسے بےشمار احکامات موجود ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے {لہٰذا} نا خود اس پہ ظلم و زیادتی کرے نا دوسروں کا مظلوم بننے کے لیے اس کو بے یار و مدد گار چھوڑے" {صحیح مسلم}

اس حدیث کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ہم نے اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کو انڈیا آرمی کے رحم و کرم پہ بےیار و مدد گار نہیں چھوڑ دیا؟

خان صاحب فیصلہ کرنا ہوگا۔۔۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی کو اپنا حق ان قراردادوں سے نہیں ملا۔۔۔ اٹھیے نعرہ تکبیر لگائیے، قوم آپ کے ساتھ ہے، مظلوم کشمیریوں کو بزورِ بازو حق دلوانا ہوگا۔

ارطغرل غازی قوم کو دیکھنے کا مشورہ دینے والے سفیرِ کشمیر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے نام چند اشعار

‏یوں کب تک رہوگے اٹھاتے کشمیر سے جنازے
کشمیر تو ہے جنت اس میں یہ کیسے خونیں نظارے

اٹھو کہ جگاؤ امہ کو کشمیر کی خاطر
وادی میں لٹتی عزت اس خون میں لپٹی ماں، بیٹی کی خاطر

حیران ہوں تیری شہ رگ کٹی۔۔۔ تو رویا کیسے؟
پریشان ہوں کہ نا اٹھی امت۔۔۔ یہ ہوا کیسے؟

اب بدلنا پڑے گی تجھے رونے کے سلیقے
ڈھونڈنا پڑے گی نت نئے۔۔۔ جگانے کے طریقے

شرط ہے یہ۔۔۔ کہ اول جاگیں بذاتِ ہم
اٹھ جائے گی امت۔۔۔ گر کریں اعلانِ جہاد ہم

آخر ہوگا آزاد۔۔۔ ہمارا کشمیر جہاد سے
یوں دیر کرکے۔۔۔ کتنے جنازے اٹھائیں گے کشمیر سے

خدارا۔۔۔۔! اٹھو کیوں دیکھتے ہو دنیا کی طرف
ہمارا جذبہ، حوصلہ، ایمان کم ہے جو دیکھیں دوسروں کی طرف

جمالیؔ لگاؤ اِک نعرہ وجد میں آکر
آؤ کشمیر آزاد کروائیں راہ جہاد میں جاکر

یوں کب تک رہوگے اٹھاتے کشمیر سے جنازے
کشمیر تو ہے جنت اس میں یہ کیسے خونیں نظارے