سازشی کورونا، بھولے عوام، پاگل ڈاکٹر - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

عوام وبا کی روک تھام میں عدم تعاون کا مظاہرہ کررہی ہے۔ یہ بد احتیاطی وبا کے خطرناک پھیلاؤ اور نتیجتا اسپتالوں پر ناقابل برداشت دباؤ کا موجب ہوگی۔ بیشتر ٹیچنگ اسپتالوں میں کرونا سہولیات ختم ہوچکی ہیں۔ نان کرونا ایمرجینسیز ویسے ہی بند ہیں۔ خاص کیسز بنا کورونا ٹیسٹ کے نہیں کیے جاتے اور عوام ٹیسٹ کروانے سے خوفزدہ ہیں، سو ایسے تمام کیس پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل ہورہے ہیں۔ نتیجتا پرائیویٹ طبی عملہ مزید خطرے میں گھر رہا ہے۔ جو ٹیسٹ، ایلیکٹو کیسز کے لیے کیے بھی جاتے ہیں، ان کی کورونا جانچنے کی صلاحیت 65 فیصد ہے۔ یعنی سو میں سے 35 مریض اس ٹیسٹ سے بھی بچ نکلے ہیں اور دوران آپریشن تھیٹر کے تمام عملے اور مشینری کو انفیکٹ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ٹیسٹ نہ کروانے والے یا سرکاری سیٹ اپ پر عدم اعتماد والے سبھی مریض پرائیویٹ سیکٹر کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔ ان سبھی مریضوں میں بیشتر asymptotic carrier/patient ہیں۔

سرکاری سیٹ اپس میں کرونا وارڈز میں اگر کچھ حد تک میڈیکل عملے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے بھی گے ہیں، تب بھی باقی عام وارڈز میں ایسی سہولیات میسر نہیں یا ناکافی ہیں۔ اب یہ غیرمحتاط کیرئیر جب ناکافی پی پی ایز PPE'S پہننے والے فرنٹ لائن وارئیرز کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو وہ سبھی ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔

یاد رکھیں کورونا وارڈز کے ڈاکٹر اگلے مورچوں کے سپاہی ہیں۔ باقی فیکیلیٹیز کے ڈاکٹرز پچھلے مورچوں میں محاذ پر کال کیے جانے کے منتظر ہیں۔جبکہ پرائیویٹ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو ریزرو فورس کہہ لیجیے۔ حالانکہ پرائیویٹ میڈیکل اسٹاف بھی گورنمنٹ میڈیکل اسٹاف کے ساتھ ساتھ فرنٹ لائن پر جنگ کررہا ہے۔ بس یوں سمجھیں کہ گورنمنٹ سیٹ اپ والے سرحدی محاذ پر ہیں اور پرائیویٹ سیٹ اپ والے شہری محاذ پر ہیں۔

آپ ہر میڈیکل شہادت کو کسوٹی پر پرکھنا شروع کردیتے ہیں کہ فلاں بس میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا یا لیب میں کام کررہا تھا۔ بھئی میڈیکل اسٹوڈنٹس بھی وارڈز میں جاتے ہیں، کام کرتے ہیں اور نہ بھی کرتے ہوں کہ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہیں یہ بچے میڈیکل فیلڈ نیکسٹ جنریشن ہیں۔ "کرونا کے پار" جو بھی پہنچے گا، ان سب کا علاج آج کے میڈیکل اسٹوڈنٹ اور کل کے ڈاکٹر نے ہی کرنا ہے۔ انہیں بھی بچائیں، لیب میں کام کرنے والی ڈاکٹر اگر مرتی ہے تو ایک پیتھالوجسٹ کم ہوگئی جو آپ کے کورونا کی تشخیص کرسکتی تھی۔ ای این ٹی والا گیا تو آپ کورونا کھانسی زکام یا خراب گلے کے ساتھ جس کے پاس جاسکتے تھے، وہ نہ رہا۔

آپ حاملہ ہیں یا گائنی کی مریضہ، آپ کے گھر میں شوہر، دیور، ساس سسر میں سے کوئی کورونا کا مریض ہے، لیکن آپ اسے کچھ سمجھتی نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ رہ رہے ہیں سو آپ کیرئیر تو بن چکی ہیں۔ آپ کو لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ یاد آتا ہے، آپ بنا ماسک ڈاکٹر کے چیمبر میں پہنچ جاتی ہیں۔ گائنی کی دوا لیتی ہیں، ڈاکٹر کو کورونا کا تحفہ دیتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ اللہ کریم سبھی کو بچائے لیکن آپ کی گائناکالوجسٹ نہ رہی تو آپ کا ڈلیوری کیس کرنے والا ایک ماہر کم ہوگیا۔

لوگ کہیں گے خیر ہے کورونا ڈاکٹر تو بچ گیا نا۔ گائنی کی ڈاکٹر گئی ہے، پیتھالوجسٹ گئی ہے یا اینیستھیزیا والا "ڈاکٹر بےہوشی" رخصت ہوا ہے۔ یاد رکھیے یہ سبھی شعبے میڈیکل باڈی کا حصے ہیں۔ ان سبھی کا قائم رہنا عوام کی صحت و سلامتی کا ضامن ہے۔ طبی عملہ وہ کھونٹا ہے جس سے آپ اپنی صحت کا گھوڑا باندھتے ہیں، پھر اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ یہ کھونٹا نہ رہا تو آپ کا گھوڑا(صحت) چوروں(اتائیوں) کے ہاتھ لگنے سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔

آپ کو کورونا عالمی سازش لگتی ہے؟ آپ کی بد احتیاطی آپ کے اپنے پیاروں اور تمام تر طبی عملے کے خلاف آپ کی سازش بن جائے گی۔ آپ اپنی بداحتیاطی سے کورونا عالمی سازش کے آلہ کار کیوں بنتے ہیں؟ خدارا سوچیے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشاء الله
    واضح اور پر اثر تحریر ہے
    "احتیاط" بھرپور اور" توکل علی اللہ" کامل کریں