یومِ تکبیر اور تاریخ کا انکار - خورشید ندیم

28 مئی یوں گزرا جیسے یہ 16 دسمبر ہو۔ مسرت و اطمینان پر حزن و ملال کا غلبہ رہا۔ یومِ تکبیر اور یومِ سقوطِ ڈھاکہ کا فرق باقی نہیں رہا۔ کیا اس لیے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے پہلے سرے پر ذوالفقارعلی بھٹو اور آخری پر محمد نوازشریف کھڑے ہیں؟ سیاست دانوں کی نفی کرتے کرتے، کیا ہم تاریخ کی بھی نفی کر دیں گے؟
ہم جب اپنے ستر سالہ کارناموں کو شمار کرتے ہیں تو ایٹمی قوت ہونے کا تذکرہ سب سے پہلے کرتے ہیں۔ جن نامساعد حالات میں یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا، ان کے پس منظر میں بلاشبہ یہ عزم و ہمت اور فہم و فراست کی ایک لازوال داستان ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ عزیمت کی بھی۔ اس پروگرام کو جاری رکھنا، اپنی جان ہتھیلی پہ رکھنا تھا۔ وہ سب ہماری تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے جان کی پروا کیے بغیر اس پروگرام کی آبیاری کی۔ جنرل ضیاالحق بھی، جنہوں نے اپنی باری پر بھرپور اننگز کھیلی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اور ایٹمی توانائی کمیشن بھی۔ ایسے کارناموں کا کریڈٹ لیکن قیادت کے نام ہوتا ہے جس کا وژن اور حکمتِ عملی، ایک خیال کو امرِ واقعہ بنا دیتے ہیں۔ کارکن لائقِ تحسین ہوتے ہیں لیکن تاریخ کارناموں کا انتساب لیڈروں کے نام کرتی ہے۔ اس لیے اس کارنامے کا کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف سے کوئی نہیں چھین سکتا‘ لیکن یہاں سوال دوسرا ہے۔
سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہوتی ہیں لیکن مہذب معاشروں میں سیاسی اختلاف بھی اخلاقیات کے تابع ہوتا ہے۔ تاریخ کی نفی دراصل اخلاقی کمزوری کی نشانی ہے۔ ہم سکول میں تھے جب جنرل ضیا الحق کا مارشل لا لگا۔ درسی کتابوں سے معلوم نہ ہو سکا کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نام کا کوئی حکمران بھی گزرا ہے اور اس نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔ اب یومِ تکبیر آیا ہے تو ریاست وحکومت کو سانپ سونگھ گیا کہ یومِ تکبیر کا ذکر آیا تو نوازشریف کا ذکر ناگزیر ہوگا۔ جو اپنے مخالفین کی خوبیوں کا اعتراف نہیں کر سکتا، تاریخ اس کی خوبیوں کے ذکر سے گریز کرتی ہے۔

جنگِ جمل اور جنگِ صفین مسلم تاریخ کے دو المناک ابواب کے عنوان ہیں۔ جنگِ جمل میں حضرت طلحہؓ حضرت علیؓ کی مخالف فوج کے سپہ سالار تھے۔ جنگ کے بعد ان کے بیٹے عمران حضرت علیؓ کے پاس آئے۔ امیرالمومنین نے ان کو محبت کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا اور کہا: میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہارے باپ کو اُن میں شامل کرے، جن کے بارے میں کہا گیا: ان کے سینوں کی کدورتیں جو کچھ رہی ہوں گی، ہم نکال دیں گے۔ وہ آمنے سامنے تختوں پر بھائی بھائی کی طرح بیٹھے ہوں گے (الحجر15:47)‘‘۔
سیدنا علیؓ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی جس میں اہلِ جنت کے احوال کا بیان ہے اور پھر فرداًفرداً ان کے اہلِ خانہ کا حال پوچھا: تمہارے بھائی کیسے ہیں؟ ان کی مائیں کیسی ہیں؟ بچے کیسے ہیں؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ ڈاکٹر طہٰ جابرالعلوانی نے اپنی کتاب ''ادب الاختلاف‘‘ میں اس واقعے کو نقل کیا ہے۔ جنگِ جمل کے مخالفین کے بارے میں حضرت علیؓ کے خیالات کیا تھے، بہت سے مؤرخین نے روایت کیے ہیں۔
پوچھا گیا: کیا آپ کے مخالفین مشرک تھے؟ کہا: وہ شرک سے دور تھے۔ سوال ہوا: کیا منافق تھے؟ فرمایا: منافقین اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ پوچھا گیا: پھر وہ کون تھے؟ کہا: ہمارے بھائی جنہوں نے ہم سے بغاوت کی۔ (سنن البیہقی، بحوالہ ڈاکٹر العلوانی)۔ اسی طرح خوارج کے بارے میں حضرت علیؓ کے خیالات سنیے جو ان کے مخالف تھے تو ان کی عظمت کا انداز ہوتا ہے۔ یہی وہ بد قسمت گروہ ہے جس نے امیرالمومنین کو شہید کیا۔
ڈاکٹر العلوانی نے اس طرح کے بہت سے واقعات نقل کیے ہیں۔ ابو صالح کی روایت ہے کہ ایک روز ضرار بن ضمرہ کنانی حضرت امیر معاویہؓ کے پاس آئے جب ان کی مجلس برپا تھی۔ انہوں نے ضرار سے کہا کہ وہ علیؓ کا کچھ تذکرہ کریں۔ انہوں نے گریز کرنا چاہا مگر حضرت معاویہؓ نے اصرار کیا۔ اس پر انہوں نے سیدنا علیؓ کے شان میں ایک شاندار خطبہ دیا۔ کہا: ''بخدا وہ ایک بلند نظر اور طاقت ور انسان تھے۔ ان کی بات فیصلہ کن اور حکم عادلانہ ہوتا تھا۔ ان کے اطراف سے علم و حکمت کے چشمے پھوٹتے تھے۔ دنیا اور اس کی رنگینیوں سے دور رہ کر رات کی تاریکیوں سے مانوس رہتے تھے۔ واللہ بہت روتے اور سوچ میں غرق رہتے تھے...‘‘۔

کالم کی تنگ دامنی حائل نہ ہوتی تو میں وہ پورا خطبہ یہاں نقل کرتا۔ جب وہ حضرت علیؓ کے فضائل بیان کر رہے تھے تو حضرت معاویہؓ مسلسل رو رہے تھے۔ ان کی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی۔ مجلس میں بیٹھے سب ہی آب دیدہ تھے۔ ان کی بات ختم ہوئی تو حضرت معاویہ نے فرمایا: 'ابوالحسن (علیؓ) ایسے ہی تھے۔ اللہ ان پر رحم کرے‘۔ لوگ تاریخ سے چن چن کر ایسے واقعات جمع کرتے ہیں جو اس کے بر خلاف منظر پیش کرتے ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ جب تاریخ محض گمان کا فائدہ دیتی ہے تو ایسے واقعات کو کیوں ترجیح نہ دی جائے جس سے اچھا گمان پیدا ہوتا ہو۔
یہ واقعات ان لوگوں کے عظمت کی دلیل ہیں جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ان میں یہ جرأت تھی کہ وہ اپنے مخالفین کی خوبیوں کا اعتراف کر سکتے تھے۔ ان کی جن خصوصیات نے انہیں بڑا بنایا، ان میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ مخالفین کے بارے میں حق بات کہنے کی ہمت رکھتے تھے۔ نا اہل لوگوں کو ممکن ہے اقتدار مل جائے لیکن تاریخ میں ان کا ذکر کبھی اچھے الفاظ کے ساتھ نہیں ہوتا۔ افسوس کہ ہماری تاریخ میں یہ رویہ ایک روایت بن چکا۔
دورِ حاضر کا جمہوری نظام بھی اسی اعتراف کے اصول پر کھڑا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ معاشرے کو آگے کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یہ تاریخ کی نفی سے نہیں ہو گا۔ لوگوں کے ذہنوں سے ماضی کے نقش مٹانے سے نہیں ہو گا۔ یہ خواہشِ تعمیر ہی سے ممکن ہے۔ اگر کسی کا کچھ باقی رہا تو وہ اسی جذبہ تعمیر کا اظہار ہے۔ یہ ایٹمی پروگرام ہو یا موٹرویز‘ کوئی لوحِ تاریخ سے ان کو کھرچ سکتا ہے نہ سطحِ زمین سے۔ بھٹو یا نوازشریف نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا کیا، ان کے حامی بھی ان کا ذکر کرتے ہوئے شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت میں بعض باتوں کا علامتی بیان ہے۔ جیسے وزیر اعظم ہاؤس میں ہر جانے والے وزیر اعظم کی تصویر لگا دی جاتی ہے۔ یہ تسلسل کی علامت ہے۔ یہ تاریخ کو قبول کرنے کا نام ہے۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام اگر ہمارے افتخار کی علامت ہے تو لازم ہے کہ اس کا ذکر ہوتا رہے۔ یومِ تکبیر سرکاری سرپرستی میں منایا جائے۔ اس کو محض اس وجہ سے نظر اندازنہ کیا جائے کہ اس کے ساتھ بھٹو یا نواز شریف کا نام وابستہ ہے۔ جو اعزاز تاریخ نے کسی کو دے دیا، کوئی اس سے نہیں چھین سکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا کہ پاکستان میں کر کٹ کی تاریخ لکھی جائے اور اس میں عمران خان کا تذکرہ نہ ہو؟ ہاں، اگر کوئی اخلاقی سطح پر ایٹمی پروگرام کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو ہمت کرے اور اس کا اعلان کرے۔
قوموں کا وجود اس وقت خطرات میں گھر جاتا جب اعلیٰ مناصب پر براجمان لوگ مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترتے ہوں۔ ایسے معاشرے میں اعلیٰ اخلاقی قدریں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ جہاں سیاست دان دوسرے سیاست دان کی خوبیوں کا اعتراف نہ کریں۔ شاعر دوسرے کو داد دینے سے گریز کریں اور اہلِ علم تعصب کا شکار ہو جائیں، وہاں ہر میدان میں پست سطح کے لوگ نمایاں ہوتے ہیں۔
یومِ تکبیر کا انکار دراصل پاکستان کے افتخار کا انکار ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم میں دوسرے کے کارناموں کے اعتراف کا حوصلہ نہیں۔ نیاپاکستان تو دور کی بات، ایسے لوگ نیا بال اور بلا نہیں بنا سکتے۔ اگر تاریخ کو اسی طرح سیاسی تعصبات کی نذر کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب لوگ ہاتھ پھیلا کر دُھائی دیں گے کہ ہمیں نیاپاکستان نہیں چاہیے۔ ہمیں ہمارا پرانا پاکستان لوٹادو۔ پرانے پاکستان میں کم از کم کچھ قدریں تو تھیں۔ یاد رکھیں، ہم سب کچھ نیا بنا سکتے ہیں مگر تاریخ نہیں۔