چڑھ جا بیٹا سولی پر۔ رام بھلی کرے گا- اوریا مقبول جان

بھارت میں گذشتہ دو سو سال سے جس مصنوعی ہندو قومی تشخص کا تصور ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے اس نے وہاں بسنے والے ہندوؤں اور انکی متعصّب قیادت کو آج اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ ایک بہت بڑے جنگ کے میدان میں اتار دیا ہے۔ یہ جنگ ویسے تو قومی ریاستوں کے درمیان ہے، لیکن مذہبی ہندو قیادت اسے دیوتاؤں کی "پوتر" سرزمین کی یدھ (لڑائی) سمجھ رہے ہیں۔ مگر مغربی عالمی طاقتیں اسے ایک ایسا میدان جنگ بنائے بیٹھی ہیں جہاں پر ہونے والی لڑائی سے دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی دو معاشی طاقتیں چین اور بھارت اپنی اپنی بربادی کے پروانوں پر دستخط کردیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف 2001 میں شروع ہونے والی جنگ کے عین بیچوں بیچ، جب جارج ڈبلیو بش نے دوسری دفعہ امریکی صدارت کا انتخاب جیتا تو اس نے اپنے پہلے "اسٹیٹ آف یونین خطاب" میں کہا، " ہم اس قدر بھولے بھی نہیں کہ ہمیں چین اور بھارت کی معیشتوں کے خطرات کا اندازہ نہ ہو۔ بھارت کی معیشت ہمارے لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس کا تعلیمی نظام ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ جارج بش نے یہ خطاب 2 فروری 2005 کو کیا تھا اور آج اس کے ٹھیک پندرہ سال بعد عالمی اسٹیبلشمنٹ نے کسقدر غیر محسوس طریقے سے بھارت میں "ہندوتوا" کے تصور کو کارپوریٹ سرمائے کی مدد اور ہندو اکثریت کی بالادستی کو جمہوری لبادہ پہنا کر بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریا سیوک سنگھ اور بجرنگ دل کی خونی آوازوں کو نریندرمودی کی صورت میں 26 مئی 2014 کو اکثریتی وزیراعظم کی کرسی پر بٹھایا، اور پھر بھارت کے عوام میں اس نفرت کے غبارے میں مزید ہوا بھر دی گئی۔ نعرہ یہ دیا گیا کہ اس "یدھ" کے بعد پورے بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، برما، نیپال، سری لنکا، سکھم، بھوٹان یہاں تک افغانستان کے کابل و قندھار پر "ہندوتوا" کا گیروی پرچم لہرائے گا۔ اس نعرے نے بھارت میں بسنے والے ہندوؤں کو اسقدر پرجوش بنا دیا کہ پانچ سال بعد اگلے الیکشنوں میں مودی نے 30 مئی 2019 کو بے پناہ اکثریت کے ساتھ حلف اٹھایا، جس نے بھارتی سیکولر آئین کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ صرف دو ماہ بعد 30 جولائی 2019 کو مسلمانوں کے طلاق ثلاثہ کے فقہی قانون کو پارلیمنٹ نے غیر قانونی قرار دیا،اسکے صرف پانچ دن بعد 5 اگست کو آرٹیکل 370 ختم کرکے کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کی گئی اور جولائی کی اکتیس تاریخ کو ہی بھارت میں شہریوں کا ایک قومی رجسٹر مرتب کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں تھیں، جس کے نتیجے میں 12 دسمبر 2019 کو مسلمان دشمن این آر سی قانون لایا گیا۔

اس بل کے پیچھے یہ تصور کارفرما تھا کہ دنیا بھر کے ہندوؤں کو بھارت میں جمع کیا جائے، جو بھارت کی لوکل ذاتوں کے لوگ مسلمان، یا عیسائی، بدھ یا جین مت قبول کر چکے ہیں، انہیں واپس ہندو بنایا جائے اور باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کو بھارت کی "پوتر" سرزمین سے باہر دھکیل دیا جائے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد سے پورا بھارتی سماج دو حصوں میں منقسم ہو چکا ہے، ایک ہندو اور دوسرے نان ہندو۔ اس فضاء میں بھارت میں بسنے والے ہندوؤں کی اکثریت اس پوتر یدھ (مقدس جنگ) میں حصہ لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے پنڈت، یوگی، مہامنت اور کنڈلی نکالنے والے مہورتیں نکال رہے ہیں کہ اگر ?فلاں شبھ گھڑی میں بھارت لڑائی میں داخل ہوا، تو ہمالیہ کے پہاڑوں سے دیوتاؤں کی فوجیں ان کی مدد کو ویسے ہی اتریں گی جیسے راون کو شکست فاش دینے کے لیے تمام آسمانی و زمینی دیوتا اکٹھے ہوگئے تھے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس کے نشے میں بھارت کا ہندو سرشار ہے اور سمجھتا ہے کہ اب دنیا پر اس کا زمانہ آنے والا ہے۔ بھارت میں "ہندوتوا" کے اس خواب کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں۔ پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی بھی کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہیں تھی۔ اسلئے کہ بیرونی حملہ آوروں کے آنے سے پہلے ہندوستان کبھی متحد نہ تھا بلکہ لاتعداد ریاستوں پر مشتمل ایک ایسی سرزمین تھی، جس میں راجے مہاراجے ایک دوسرے سے مسلسل جنگ میں مصروف رہتے تھے۔ بدھ مت کے پیروکار اشوک کی انصاف پسندی نے بھارت کو ایک بار پھر متحد کیا لیکن اس کی موت کے بعد سب بکھر گئے۔ اس کے قرب و جوار سے حملہ آور اس ہندوستان پر ہر طرف سے ٹوٹتے رہے۔ یونان سے سکندر، ایشیائے کوچک سے سفید ہن، ایران سے پارتھین اور پھر افغانستان سے محمود غزنوی کی للکار سے لے کر مغلوں کی یلغار تک سب کے سب کسقدر آسانی سے یہاں حکمرانی کرتے رہے۔ آخر میں انگریز آئے۔ انگریزوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوستان پر استعماری حکومت (Colonize) قائم کی۔ دراصل انگریز ہی نے ہی سب سے پہلے متحدہ ہندوستان، اکھنڈ بھارت یا برصغیر ہندو کا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا۔

انگریز کے اس متحدہ ہندوستان کو ساوریکر اور گولوالکر کی "ہندوتوا" نے مقدس بناکر ہندوؤں کے سامنے پیش کیا اور اس اکھنڈ بھارت کے تصور میں ایسا بدلا کہ آج بھارت کا ہندو خود کو ایک ایسی جنگ کے لیے تیار کیے بیٹھا ہے جو "کلیوگ" یعنی "آخری یوگ" یا آخری زمانے میں ہوگی اور ایک دن بھارت ماتا پر ہندو قانون "منو سمرتی" نافذ ہو کر رہے گا، گیروی پرچم ہمالیہ کی بلندیوں سے لہرائے گا اور ہر بیرونی نسل کے لوگوں سے یہ بھارت دھرتی پاک ہوجائے گی۔ رینڈ کارپوریشن کی 2010 کی رپورٹ میں بھارت اور چین کو ایک بڑی جنگ میں ملوث کرنے کی تجویز، جارج بش کا 2005 میں دونوں معیشتوں کا عالمی منڈی پر منڈلاتا ہوا خطرہ اور اس کے بعد بھارت میں مودی کو کارپوریٹ سرمائے کی فراہمی، یہ سارا ایک ایسا تانا بانا ہے جسے آج لداخ میں بھارت چین تصادم سے جوڑا جا سکتا ہے۔ مگر اس لڑائی کو ایندھن ہندوتوا کا تصور فراہم کر رہا ہے۔اسوقت بھارت چین پر صرف لداخ کے علاقے میں ہی آمنے سامنے نہیں ہے بلکہ سکھم کا علاقے بھی خطرناک تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بھارت کی مشرقی سمت یعنی بنگلہ دیش کے بعد سات ریاستیں، ارونا چل پردیش، میزو دام رام، مانی پور، تربپورہ، ناگالینڈ، آسام، دسپور واقع ہیں۔ ان ریاستوں کو بھارت سے ایک مختصر سی زمینی پٹی سلگری کاریڈور ملاتی ہے جسے عرف عام میں "مرغی کی گردن" Chicken Neck کہا جاتا ہے۔ اس پٹی کے دونوں جانب بھارت اور چین کی سرحدیں ہیں جن کے درمیان صرف چودہ میل کا فاصلہ ہے۔ یہ چودہ میل اگر توپوں کی زد میں آجائیں تو وہ ساتوں ریاستیں بھارت سے مکمل طور پر کٹ جاتی ہیں۔ ان سات ریاستوں میں گذشتہ پچاس سالوں سے علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جنہیں بھارتی فوج طاقت سے دبا رہی ہے لداخ کے ساتھ ساتھ یہ دوسرا اہم محاذ ہے جو اسوقت گرم ہوچکا ہے۔

نیپال جس کے گورکھے بھارتی فوج کا اہم حصہ تھے، اس آزاد ملک کے ساتھ بھارت کے مشہور "کالا پانی" کے علاقوں کا تنازعہ تصادم میں بدل چکا ہے اور بھارت چین پر پشت پناہی کا الزام لگا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کا سرحدی تنازعہ این آر سی کے بعد شدید ہوچکا ہے، اس لئے کہ ایک کروڑ بنگلہ دیشیوں کو جو بھارت کی ہجرت کر گئے تھے، انہیں کو بھارت واپس بنگلہ دیش دھکیلنا چاہتاہے۔
افغانستان میں بھارت کی اٹھارہ سالہ سرمایہ کاری طالبان کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکی ہے اور امریکہ خطے میں مکمل طور پر غیر جانبدار بن کر رہ گیا ہے۔ خالصتان کے نعرہ میں اب 1984 کے بعد ایک بار نئی جان پڑی ہے اور سکھ سوال کرتے پھرتے ہیں کہ بی جے پی حکومت نے مہاتما گاندھی کو مارنے والا "ہندو گوڈسے" کو آج تو ہیرو بنا دیا ہے مگر اندرا گاندھی کو مارنے والے سکھوں کو غدارہی کہا جاتا ہے اور انتقام کے جوش میں 1984 میں دلی میں پانچ ہزار سکھ زندہ بھی جلائے گئے تھے۔ بھارت کی فوج شروع دن سے ہی سکھ اور گورکھے سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ دونوں اس وقت ہندو بھارت کے سخت مخالف بن چکے ہیں۔ کشمیر کا محاذ الگ مسلسل دہک رہا ہے۔ ایسے میں مغربی دنیا جس طرح بھارت کو چین کی معاشی ترقی روکنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اسے جنگ میں دھکیل چکی ہے، اس کا انجام بہت واضح نظر آرہا ہے۔ یہ ایک ایسا انجام ہے جس کے بعد بھارت اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گا یعنی ایک اکھنڈ بھارت نہیں بلکہ پانچ سو ریاستوں والا منقسم بھارت۔(ختم شد)