والدین کے ساتھ رہنے والے شادی شدہ لڑکوں کے لیے - محمد زاہد صدیق مغل

ہمارے معاشرے کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ شادی کے بعد میاں بیوی بننے والے اکثر و بیشتر جوان لڑکا لڑکی والدین کے ساتھ رہتے ہیں جو ایک پسندیدہ امر ہے، یہاں اس کے فضائل و فوائد پر گفتگو مقصود نہیں۔ یہاں مجھے اس کے اس پہلو پر گفتگو کرنا ہے جو ایک حقیقی مسئلے کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ وہ مسئلہ ماں باپ (یعنی لڑکی کے ساس سسر) کی بے جا مداخلت اور بسا اوقات زیادتی پر مبنی رویے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور ان کا یہ رویہ نہ صرف یہ کہ میاں بیوی کے باہمی تعلق کو تباہ و برباد کردیتا ہے بلکہ بعض اوقات طلاق کی نوبت تک پہنچا دیتا ہے، بلکہ مزید کڑوا سچ کہوں تو بعض اوقات ساس جان بوجھ کر ایسا ماحول پیدا کردیتی ہے کہ بیٹا بہو کے ساتھ مار پیٹ کرے یا اسے طلاق دے۔

یہ سب کیوں ہوتا ہے، اس سے بچاؤ کی تدابیر کیا ہونی چاہئیں، بالخصوص نوبیاہے لڑکے (یعنی شوہر) کو اس سے نبٹنے کے لیے کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے، کافی عرصے سے اس پر کچھ لکھنے کا ارادہ ہے۔ ان پہلووں سے ہمارے یہاں نہ کوئی کتاب میسر ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تربیتی مجلس منعقد ہوتی ہے جہاں نوجوانوں کی تربیت کے لیے ان مسائل کو ڈسکس کیا جائے، ان کے مسائل سنے جائیں اور ان کے حل پیش کیے جائیں۔ ہر کوئی تلخ تجربات سے گزر کے کوئی راستہ تلاش کرتا ہے۔ اس سلسلہ تحریر میں چند خیالات کو مربوط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ممکن ہے کسی کے کام آجائے۔
یہ بات بتاتا چلوں کہ یہ باتیں ذاتی تجربات و مشاہدات سے سیکھی ہوئی ہیں نہ کہ کسی کتاب سے پڑھ کر۔ عین ممکن ہے کہ یہ سب تجزیات و تجاویز ہر قسم کے گھریلو ماحول کے لیے سو فیصد سودمند نہ ہوں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ پاکستان کے پچاس فیصد سے زائد جوائنٹ فیملی سسٹم کے اندر قریب قریب اسی قسم کے مسائل ہوتے ہیں، اس اعتبار سے یہ تجاویز ہمارے یہاں کے ایک بڑے طبقے کے لیے فائدہ مند ہونے کی امید ہے۔

تحریر کے اصل مخاطب شادی شدہ لڑکے ہیں نہ کہ ان کے والدین۔ وہ میاں بیوی جو الگ تھلگ رہ کر اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کے لیے اس تحریر میں سیکھنے کے لیے کوئی سامان شاید میسر نہ ہو۔

1۔ سب سے پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہئے کہ لڑکی کے ساتھ آپ کی "انفرادی" شادی ہوئی ہے، جی ہاں لڑکی کا نکاح آپ کے ساتھ ہوا ہے۔ کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ اس کے حقوق کے حفاظت کی ذمہ داری "اصلا" آپ پر ہے۔ جب آپ نے کسی سے نکاح کیا تو "اصلا آپ" اس کے "قوام" بنتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ "قوام" ہونا بنیادی طور پر ایک ذمہ داری ہے نہ کہ حق۔ کس چیز کی ذمہ داری؟ جس پر آپ کو قوام بنایا گیا ہے اس کے حقوق کے تحفظ اور فراہمی کی ذمہ داری۔ چنانچہ خدا نے شوہر پر بیوی کے حقوق کا محافظ ہونے کی ذمہ داری عائد کی ہے اور اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے شوہر کو چند اضافی یا مختلف، جو کہنا چاہیں کہہ لیں، حقوق بھی عطا کیے ہیں (حقوق ہمیشہ ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہی دئیے جاتے ہیں)۔ تو اللہ نے آپ کو قوام بنا کر ذمہ دار بنایا ہے، نکاح کے ایجاب و قبول اور کاغذ پر دستخط کرکے آپ اس ذمہ داری کو اٹھانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ تو خوب سمجھ لیجئے کہ نکاح کا مطلب کسی دوسرے کے حقوق کی ذمہ داری اٹھانا ہے، روز محشر خدا آپ سے ان حقوق کے بارے میں پوچھنے والا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی بیوی آپ کے خلاف خدا کے حضور فریادی بن کر کھڑی ہو۔ تو یہ بات خود کو روز یاد کروائیے کہ لڑکی کے ساتھ "اصلا" آپ کی شادی ہوئی ہے۔

2۔ اسی بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اپنے والدین کو یہ کہہ کر آپ اس انفرادی ذمہ داری سے نہ تو بھاگ سکتے ہیں اور نہ ہی خدا کے حضورسبکدوش ہوسکتے ہیں کہ "آپ نے شادی کروائی ہے آپ جانیں اور یہ جانے"، اور اس کے بعد بیوی کو والدین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اگر آپ کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر نکاح نہیں کروایا گیا تھا بلکہ آپ کسی طرح خود ہی نکاح کے لیے راضی ہوئے تھے، اس کے لیے سوٹ وغیرہ سے لے کر ہر قسم کی شاپنگ کی تھی، پھر سوٹ پہن کر شادی ہال تک گئے تھے، وہاں مبارک بادیاں وصولی تھیں اور لڑکی بیاہ کر لائے تھے تو اب اسے نبھانا آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ یہ اس لیے کہا کیونکہ بسا اوقات والدین کسی نہ کسی طرح بچوں کو نکاح کے لیے راضی کر لیتے ہیں، لیکن یہ بہرحال فائدے اور نقصان کے کسی نہ کسی تصور کے تحت سوچی سمجھی رضامندی ہی ہوتی ہے اور ہماری زندگی کے بہت سے فیصلے اسی طرح ہوتے ہیں لہذا یہ کوئی عذر نہیں۔ مثلا بعض اوقات والدین سختی کرتے ہیں کہ گھر سے نکال دیں گے، یا والدہ کہتی ہیں کہ ناراض ہوجاؤں گی، یا وہ رو کر فریاد کرتی ہیں وغیرہ اور لڑکا والدین کی ناراضگی سے بچنے یا انہیں تکلیف سے بچانے کے لیے راضی ہوجاتا ہے۔ تو بھائی راضی کس بات کے لیے ہوئے تھے؟ اسی بات کے لیے ناں کہ اچھا فلاں فلاں حقوق کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں، تو اب اٹھاؤ۔ جو لڑکی آپ کے ساتھ بیاہی گئی ہے بھلا اس کا اس سب میں کیا قصور یا اس کا اس بات سے کیا لینا دینا کہ آپ کے والدین نے آپ کو کیسے راضی کیا تھا؟ یہ کیا عجب تضاد ہے کہ ہمبستری تو تم کرو اور ذمہ داری ماں باپ پر ڈالے جاؤ! اس ھمبستری کے حق کے ساتھ وابستہ جو ذمہ داریاں ہیں وہ بھی آپ پر لازم ہوتی ہیں۔

3۔ بعض بیوقوف قسم کے نوجوان شادی کی پہلی رات بیوی سے کہتے ہیں کہ "میں تم سے جھوٹ نہیں بولنا چاہتا، سب کچھ سچ بتاؤں گا کہ میں پہلے فلاں سے پیار کیا کرتا تھا"، بعض نادان اس کے ساتھ اس فلمی جملے کا تڑکا بھی لگا دیتے ہیں کہ "لیکن اب جبکہ تم سے شادی ہوگئی ہے تو تمہارا بھی خیال رکھوں گا" اور وہ سمجھتے ہیں گویا اس سچ کے ذریعے انہوں نے بیوی کا دل جیت لیا اور اس سچ کے بعد ماشاء اللہ زندگی اچھی گزرے گی۔ یاد رکھئے کہ ایسی باتیں کرکے آپ اپنی بیوی کی توہین کرتے ہیں، آپ اسے پہلے ہی دن یہ احساس دلاتے ہیں کہ "تم میرے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہو"۔ کیا خیال ہے کہ اگر تمہاری بیوی تم سے ایسی بات کہے تو عزت نفس جروح ہوگی ناں؟ تو خوب یاد رہے کہ اس قسم کی گفتگو کرکے آپ اپنے تعلق کی بنیاد ہی غلط زمین پر قائم کررہے ہیں۔ ایسے احمقانہ سچ سے خاموشی بہتر ہے۔

4۔ یک اہم بات یہ یاد رکھیے کہ اپنی بیوی کو اپنے والدین کی خدمت و ادب کرنے کا ضرور کہیے اور بار بار کہیے، چاہیں تو پہلے ہی دن کہیے لیکن بیگم کے ساتھ اپنی رضامندی کو اس امر سے مشروط نہ کیجیے کہ "میرے ماں باپ تم سے خوش ہوں گے تو میں بھی خوش ہوں گا"۔ کامیاب ازدواجی زندگی گزارنے کا یہ کوئی اصول نہیں ہے۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے یہاں کے بہت سے والدین کبھی خوش نہیں ہوتے چاہے بہو کچھ بھی کرلے (بہو تو کیا بیٹا بھی کچھ بھی کرلے)۔ بہو کو جگہ بنانے میں بڑا وقت لگتا ہے، اور اس قسم کی شرائط عائد کرکے آپ نوبیاہتی لڑکی پر خوف کی ایک مسلسل تلوار لٹکا دیتے ہیں۔ ہاں، اسے ادب و خدمت کی نصیحت کرتے رہیے، غلطی کرے تو سمجھائے بھی، ضرورت پڑے تو ڈانٹ بھی پلا دیجئے لیکن اپنی خوشی و تعلق کو کلیتا والدین کی خوشی سے مشروط نہ کیجیے۔

یہ بات اس لیے اہم ہے کیونکہ جب ساس کو یہ معلوم ہوجائے کہ میرا بیٹا میرے موڈ کو دیکھ کر بیوی کے ساتھ چلتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ کبھی خوش نہیں ہوتی بلکہ آپ کے اس "خوشنما اصول اور اطاعت گزاری" کا استحصال کرنے لگتی ہے۔ عورت کا یہ رویہ کسی بدنیتی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمارے خاندانی نظام کا ایک جزو ہے جہاں عورت مرد کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی ماہر ہوجاتی ہے۔ ہمارے خاندانی نظام میں یہ رویہ عورت کی ایک ضرورت بھی ہوتی ہے کہ وہ ایسا کرے، کیونکہ بالعموم وہ خود براہ راست فیصلے کرنے کی پوزیشن میں کم ہی ہوتی ہے۔ تو ایک بیوی سالہا سال کی محنت، خدمت و غور و فکر کے بعد جان لیتی ہے کہ اس کے میاں کی جذباتی کمزوریاں کیا ہیں، وہ کس بات پر اور موقع پر وہ میرے حق میں بپھر جاتا ہے اور پھر عین اس موقع پر مرد کے غصے کو اپنے حق میں استعمال کرتی ہے (ہمارے یہاں "عقل مند یا چالاک" عورت کا یہی مفہوم ہے کہ وہ مرد کے غصے کو ڈھال اور تلوار دونوں طرح استعمال کرنے کا گر جانتی ہو)۔ جب اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ میری پریشانی، جزع فزع یا شور شرابا سن کر میاں کے ھاتھ پیر پھول جاتے ہیں تو وہ اس حکمت عملی کو شعوری یا غیر شعوری طور پر گھر کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتی ہے، چاہے وہ بچوں کے رشتے کرنے کا معاملہ ہو یا پھر کسی رشتے دار کو (مثلا الگ رہنے کی صورت میں لڑکے کے والدین کو مستقل طور پر) گھر آنے سے روکنے کا معاملہ۔ اگر اس نے دن بھر کی کسی بات پر شام کو کسی بچے کو سزا دلوانی ہو یا کسی رشتے دار کی کسی اونچی نیچی بات پر ھنگامہ کروانا ہو، وہ شام تک میاں کے گھر آنے کا انتظار کرتی ہے (ویسے فون آجانے کے بعد اس کی ضرورت کم ہوتی جارہی ہے) اور شوہر کے گھر گھستے ہی ایسا ماحول بنا دیتی ہے کہ میاں کے ھاتھ پیر پھول جائیں اور وہ "فوری کاروائی" کرڈالے۔ یہی ہمارے یہاں کی ایک عورت کی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ یہ قوت حاصل کرلے۔ چونکہ یہ عمل سست روی کے ساتھ سالوں میں وقوع پزیر ہوتا ہے لہذا ہمارے یہاں کے 90 فیصد مردوں کو کبھی احساس ہی نہیں ہوپاتا کہ طاقت کی بساط الٹی جاچکی (table has been turned)۔

یہی عورت جب ماں بن جاتی ہے تو بیٹے کے ذریعے یہ سب کچھ کرواسکنے کی اس کی صلاحیت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بیٹا اس کے شوہر کے مقابلے میں کئی سو گنا اس کے قابو اور کہنے میں ہوتا ہے (اور اصولا ایسا ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے)۔ جب اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ بیوی کے ساتھ میرے بیٹے کے رویے کا تعلق میرے چہرے کے تاثرات اور زبان پر جاری الفاظ کے ساتھ ہے تو وہ اپنے مفادات یا حسد و خوف کی تسکین کے لیے اسے استعمال کرتی ہے۔ ہمارے یہاں خواتین کی پٹائی کی عظیم ترین وجہ ایسی ہی ساس ہوتی ہے جو خوش نہیں ہوتی، شام کو بیٹا گھر آیا نہیں اور شکایت کا پنڈورا بکس کھول کر بیٹھ گئیں، ادھر ماں نے جزع فرع شروع کی اور ادھر بیٹے کے ھاتھ پیر پھول گئے اور ادھر اس نے بیگم کے ساتھ دیے مار ساڑے چار شروع کردی۔ بہو کی صورت میں جب وہ اپنا ایک دشمن و مدمقابل وضع کرلیتی ہے تو سمجھتی ہے کہ ایسا کرنے سے اس کے بڑھاپے کا سہارا بیٹا اس کے قابو میں رہے گا، کبھی علیحدہ نہیں ہوگا (وہ اور بات ہے کہ ہمارے یہاں کی تقریبا ہر عورت بالاخر اپنی اس جدوجہد میں ناکام ہوجاتی ہے)۔

تو بھائیو اگر اپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی خوشگوار گزرے تو اپنا ریموٹ کنٹرول دوسرے کے ہاتھ میں نہ پکڑائیں اور یہ اصول کہ "میں تب خوش ہونگا جب میرے والدین خوش ہونگے" ایسا ہی ریموٹ کنٹرول ہے۔ یاد رکھیے کہ لڑکی کی شادی آپ کے ساتھ ہوئی ہے۔

5۔ "لڑکی کا نکاح آپ کے ساتھ ہوا ہے" کا معنی یہ بھی ہے کہ اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق نیز بیگم کے ساتھ اپنے تعلق کی سطح کا تعین جیسے فیصلے آپ نے کرنے ہیں نہ کہ آپ کے والدین نے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسی خواتین کا تجربہ بھی ہوا ہے جو حسد و خوف کے سبب اپنے بیٹے کو بیوی کے ساتھ وقت گزارتے دیکھ نہیں پاتیں، یہاں تک کہ بعض خواتین بیٹے کو رات دروازہ کھلا رکھ کر سونے کا حکم دیتی ہیں، ورنہ وہ ماں ناراض ہوکر رونا دھونا ڈال دیتی ہے اور تابعدار بیٹا بلیک میل ہوجاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ سب زیادتی و عدوان ہے اور اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ نے کسی بیٹے کو یہ حکم جاری نہیں کیا کہ وہ ظلم و عدوان میں ماں باپ کی اطاعت کریں، بلکہ ایسا کرکے نہ صرف یہ کہ آپ خود گنہگار ہوتے ہیں بلکہ گناہ کرنے میں والدین کی معاونت کرتے ہیں (ایسے میں والدین کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہئے اس پر کچھ گفتگو آگے کرتے ہیں)۔

البتہ حسد کے سبب اس سطح تک جانے والی خواتین عموما کم ہوتی ہیں، اکثر خواتین کا یہ خوف کہ "بہو بیٹے پر قبضہ نہ کرلے" یا "اسے لے کر الگ نہ ہوجائے" انہیں اس حد تک مداخلت پر اکساتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں میاں بیوی "ضرورت سے زیادہ" (اس "ضرورت" کا تعین وہ خود کرتی ہیں) ہنسی مذاق، بات چیت، گھوم پھرت نہ کریں۔ وہ بیٹے کو اس طرح انگیج کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ اسے بیوی کے ساتھ وقت گزارنے کا کم سے کم موقع ملے۔ یاد رکھیے کہ یہ بھی زیادتی پر مبنی رویہ ہے، آپ نے اپنی بیوی سے کتنی بات کرنی ہے، کب اس کے ساتھ ھنسنا ہے، کب اس کے ساتھ کہیں جانا ہے یہ سب آپ کے کرنے کے فیصلے ہیں، نہ کہ آپ کے والدین کے (کہنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ گھر کے کام کاج اور ذمہ داریاں چھوڑ کر آپ بیگم کے ساتھ سیر کو جا نکلا کریں)۔

ہمارے یہاں اکثر گھروں میں ایک اور مشکل اور لڑائی جھگڑے کا فیصلہ لڑکی کا چند روز کے لیے اپنے میکے جانا بھی ہوتا ہے۔ کئی والدین کو یہ ناگوار گزرتا ہے (جس کی وجوہات متعدد ہوتی ہیں)۔ میرا خیال ہے کہ اپنی بیوی کے حق میں یہ فیصلہ کرنے کا اختیار اصولا شوہر کو ہونا چاہیے، اگرچہ مجھے اس امر کا ادراک ہے کہ بہت سے گھروں میں لڑکوں کے لیے یہ سب کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ایسے گھروں کے لڑکوں کو آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن یہ فیصلہ بالاخر اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے، اس کے بغیر گزارا نہیں۔ بصورت دیگر نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ کچھ عرصے بعد آپ کی بیگم آپ سے لڑے گی اور بس۔ جو فیصلے آپ کے کرنے کے ہیں جب وہ کوئی دوسرا کرتا ہے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔

بیوی کا گابے بگاہے (اگر شادی قریب کے علاقے میں ہوئی ہے) یا کچھ عرصے بعد (اگر دور کے شہر میں ہوئی ہے) میکے جاتے رہنا یہ ہمارے یہاں کا رواج ہے اور اس کے بہت سے معاشرتی فنکشنز ہیں جنہیں کم اہم نہیں سمجھنا چاہہے۔ اس کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ لڑکی اپنے والدین سے مل آئے اور بس۔ اس کا ایک اہم فکشن ساس اور سسرال سے الگ تھلگ رہ کر کچھ فری ٹائم گزار آنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یاد رھنا چاہیے کہ اکثر ساسیں "ساس" ہی ہوتی ہیں، اور ساس بہو کا تعلق کسی نہ کسی سطح پر افسر اور ماتحت کی طرح ہی ہوتا ہے جہاں بہو کے نکتہ نظر سے گھریلو ذمہ داریوں کی رکھوالی کرنے والا افسر ہمہ وقت اس کی غلطی کی تاک میں ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص طرح کے ذہنی تناؤ کا باعث ہوتا ہے (بالخصوص شادی کے ابتدائی مہینوں اور بسا اوقات سالوں تک، اس وقت کا انحصار ساس کی عادت پر ہے)۔ تو جب لڑکی ماں کے گھر جاتی ہے تو ریلیکس ہوجاتی ہے اور کچھ وقت یا دن وہاں گزارنا تازہ دم ہوکر ذمہ داریوں کی طرف پلٹنے کا باعث بنتا ہے۔

"مسلسل ٹنشن" چڑچڑے پن کو جنم دیتی ہے، جو بالاخر انسان کو توڑ دیتی ہے اور یا پھر بیماریوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ پھر آپ تمام عمر اپنی بیگم کی خود کے ساتھ گاھے بگاہے لڑائیاں اور اس کی بیماری کے اخراجات بھگتیں گے۔ ایک مزید فائدہ یہ ہوتا ہے کہ تعلق میں کچھ وقفہ آجاتا ہے، یہ وقفہ آنا بھی اچھا ہوتا ہے، خود میاں بیوی کے لیے بھی۔ اگر بچے بھی ہمہ وقت ماں پر سوار رہیں تو وہ تنگ آجاتی ہے، بچہ صبح سکول جاکر یا کھیل کود کرکے یا کسی رشتے دار کے یہاں سے ہوکر گھر آتا ہے تو اس کی غیر موجودگی میں ماں کو اس کا خیال بھی آتا ہے اور واپسی پر پیار بھی، میاں کام کاج سے شام کو واپس آتا ہے تو اس کی آؤ بھگت کا کچھ امکان ہوتا ہے، زیادہ دن کہیں گزار کر آئے تو بیگم اچھا کھانا پکاتی ہے (کرونا کے باعث ھمہ وقت گھروں پر بیٹھے رہنے والے شوہروں سے پوچھیے ان کے ساتھ کیا بیتی!)۔ دراصل یہ کچھ عرصے کی دوری دوسرے کو welcome کرنے کا موقع دیتی ہے، یہ بھی تعلق استوار رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تعلق پکانے کے لیے زندگی میں چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی درکار ہوتی ہیں اور انہیں بگاڑنے کے لیے کوئی بہت بڑے بڑے گڑھے نہیں کھودنا پڑتے۔

6۔ اب تک کی تمام گفتگو کی نوعیت فیصلوں اور ان کے آؤٹ پٹ سے متعلق ہے (کہ یہ کریں اور وہ کریں)، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی حکمت عملی کیا ہو کیونکہ سخت گیر والدین یہ سب کچھ اتنی آسانی سے کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ تو حکمت عملی کے باب سے متعلق بھی کرنے کے کچھ کام ہیں، یہاں ان پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور ان سب کا خلاصہ "کڑوے گھونٹ" پینا ہے۔

7۔ پہلا کڑوا گھونٹ یہ ہے کہ آپ کو ایک ایسی لائن کھینچنا ہوگی جس سے آگے آپ اپنے والدین سمیت کسی کو اپنی ازدواجی زندگی اور بیگم سے متعلق فیصلوں میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ والدین اس پر ناراض ہوں گے، آپ پر ماں باپ کا گستاخ ہونے اور سب سے بڑھ کر جورو کا غلام ہونے کا فتوی بھی جاری کریں گے۔ لیکن ان سے گھبرائیں مت، یہ دوسرے پر اثر ہوکر اپنے فیصلے منوانے کی جذباتی باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کے نوے فیصد مرد کسی نہ کسی درجے میں بیوی کے غلام ہی ہوتے ہیں اور باقی دس میں سے 8 فیصد کو اس کا علم نہیں ہوتا، صرف 2 فیصد لوگ برے ہوتے ہیں۔ ہر شریف آدمی کو گھر میں سکون درکار ہوتا ہے اور اس کا واحد حل بیگم کو ساتھ لے کر ہی چلنا ہوتا ہے، ورنہ گھر میں بالاخر صرف مار دھاڑ، گالم گلوچ اور شور شرابا رہ جاتے ہیں اور ان 2 فیصد میں 1 فیصد کی گھریلو زندگی کا مقدر یہی ہوتا ہے۔ شاید صرف ایک فیصد ہی لوگ جورو کا غلام بنے بغیر "کامیاب زندگی" گزار پاتے ہیں (اور اس کی وجہ ان کی ذاتی لیاقت نہیں بلکہ کسی مسکین نما بیوی کا میسر آجانا ہوتا ہے جو صرف ایک حادثہ ہے اور بس)۔ ہر مرد کی بیوی کا یہی خیال ہوتا ہے کہ اس کے شوہر کے علاوہ خاندان کا ہر مرد اپنی بیوی کی باتوں میں ہے (آپ کی والدہ یہی سمجھتی ہوں گی کہ تمہارا ابا میری نہیں سنتا لیکن اپنی چچی یا تائی وغیرہ سے پوچھ کردیکھیں، سچائی تب پتہ چلے گی)۔ تو یہ ہمارے یہاں کا ایک عمومی rhetoric ہے، اس سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ کڑوا گھونٹ سمجھ کر پیتے رہنا ہے (یعنی یہ ایک مسلسل عمل ہے)۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ کو عدم مداخلت کا ایک خط امتیاز کھینچنا ہوگا۔ اس کے لیےدو کام کریں:

- والدین (یا دونوں میں سے جو بھی مسئلے کا باعث ہو) کے ساتھ اکیلے میں بات چیت کریں، انہیں سمجھائیں، بحث کریں کہ آپ کی فلاں فلاں بات غلط ہے، فلاں مداخلت درست نہیں، فلاں کام میں میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں وغیرہ، ممکن ہے وہ ناراض ہوں، لیکن گھبرائیں نہیں۔

- پھر جب آپ کی موجودگی میں وہ ایسا طرز عمل اپنائیں تو انہیں ٹوکیں، مداخلت کریں۔ آپ کو انہیں بار بار یہ احساس دلانا ہے کہ میں اس غلط کام میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں۔

اس سب کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا مشورہ دے رہا ہوں، نہیں بلکہ ان کی ناجائز بات نہ ماننے اور اس میں ان کے ساتھ کھڑے نہ ہونے کا مشورہ دے رہا ہوں۔ والدین کو آپ سے یا آپ کی بیگم سے شکایت ہے تو ان سے اکیلے میں بات کریں، ان کی سب باتیں سنیں چاہے وہ گالیاں دیں، آپ کی بیوی کو برا بھلا کہیں سب سنیں، ممکن ہو تو ان کی کسی بات میں ہاں میں ہاں بھی ملا لیں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ کہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو، بس سنتے رہیں ضروری نہیں ہوتا کہ ان کی ہر بات کو ان کے منہ پر جھٹلایا جائے، "ہاں"، "ٹھیک ہے"، "سوچتے ہیں"، دیکھتے ہیں" جیسے الفاظ سے ٹال مٹول کریں لیکن اس سب پر عمل نہ کریں، عمل وہ کریں جو درست ہو۔ آپ کا اتنا سٹینڈ لینا اور طرز عمل اختیار کرلینا ان شاءاللہ آدھے مسئلے حل کرنے کا سبب ہوگا۔ والدین اکثر زیادتی اسی مفروضے پر کرنے پر جری ہوتے ہیں کہ بیٹا ہمارے ساتھ ہے اور آپ کی خاموشی اسی کا اظہار ہوتا ہے، جس دن یہ احساس جاتا رہتا ہے طرز عمل بدلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ یہ سب کرتے ہوئے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتے، ان کی کفالت کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے ہیں تو ان کی غلط بات نہ مان کر ان شاء اللہ گستاخ نہیں ہوں گے، ہر نماز کے بعد اللہ سے توبہ کرلیا کریں کہ اے اللہ تو جانتا ہے میں مجبور ہوں۔ اور کبھی کبھار والدین کا موڈ ٹھیک ہو تو ان کا ھاتھ پکڑ کر معافی بھی مانگ لیا کریں۔

8۔ دوسرا کام آپ نے یہ کرنا ہے کہ رات کو بیگم کی گلی سڑی باتیں پورے تحمل کے ساتھ سننی ہیں، وہ آپ کے والدین کی شکایت کرے گی کرنے دیں، آرام سے سنیں اور اسے احساس دلائیں کہ ہاں تمہاری کچھ نہ کچھ بات ٹھیک ہے، میرے والدین غلط ہیں لیکن میں مجبور ہوں، آخر والدین ہیں کیا کروں! مجبور و مقہور بندہ بن جائیں، اور اسے یقین دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں، لہذا گھبرانے کی بات نہیں۔ جب عورت کو یہ تسلی ہوتی ہے کہ میرا مرد میرے ساتھ ہے تو اسے بڑی تسلی ہوجاتی ہے، اس میں ساس سسر کی سخت باتیں سننے کا کچھ حوصلہ آجاتا ہے۔ اب وہ وقت کا انتظار کرنے لگتی ہے کیونکہ ہر عورت جانتی ہے کہ سسرال میں رہنے کا یا تو ایک وقت ہوتا ہے جو ختم ہو ہی جاتا ہے اور یا پھر بزرگ بالکل بزرگ ہوجاتے ہیں اور پھر اسے کچھ سپیس مل جائے گی۔ اگر آپ نے اس کی ھمت نہ بندھائی تو اب اس کی ھمت جاتی رہتی ہے۔

9۔ یہاں میں آپ کو یہ بات بتاتا چلوں کہ اس حکمت عملی کے بعد آپ کی حالت دھوبی کے کتے والی ہوجائے گی، ماں کہے گی تو جورو کا غلام ہے، بیگم کہے گی آپ صرف ماں باپ کے تابعدار ہیں، میرا کچھ خیال نہیں۔ جب آپ کے والدین اور بیگم دونوں کو یہ یقین ہونے لگے کہ آپ صرف دوسرے فریق کی بات مانتے ہیں سمجھ لیجیے اس روز آپ کامیاب خاندانی زندگی کی راہ پر سوار ہوچکے ہیں۔ والدہ کے ساتھ بیٹھیں گے تو وہ جلی کٹی سنائیں گی، بیگم کے ساتھ بیٹھیں گے تو وہ اپنی سنائے گی، ہر کسی کے پاس اپنے حصے کا آدھا آدھا سچ ہوتا ہے، سب سنیں۔ اس سب سے گھبرانا نہیں، یہی کڑوے گھونٹ کامیاب زندگی کی ضمانت ہیں۔

10۔ میں جانتا ہوں کہ اس سب کے باوجود بھی گھریلو جھڑپیں بہرحال جاری رہیں گی۔ ان کا کوئی معین حل نہیں، اس میں پلڑا کبھی ایک طرف بھاری ہوگا تو کبھی دوسری طرف۔ کبھی آپ کو کسی ایک فریق کو دبا کر کسی دوسرے کو منانا ہوگا تو کبھی اس کے برعکس۔ یہ فن درج بالا اصولوں پر کچھ سال عمل پیرا رہنے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے، سو تجربہ لازم ہے۔

11۔ پچھلی گفتگو سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ بیگم کو کھلی چھٹی دینے کی بات کی جارہی تھی، وہ سب گفتگو تو اس تناظر میں تھی کہ زیادہ غطی والدین کی طرف ہے (اس تحریر میں سرکش بیویوں کا ذکر کرنا مقصود نہیں، والدین کی غلطی کی طرف چونکہ عموما توجہ نہیں جاتی اس لیے یہ تحریر لکھی گئی ہے)۔ عملی زندگی میں عموما ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی زندگی اتنی سادی ہے، وہ بہت پیچیدہ ہے اور عملی زندگی میں اخلاقی اصولوں کا اطلاق کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا (کسی جج سے پوچھ کر دیکھیے)۔ گھریلو زندگی میں ہر فریق تھوڑا تھوڑا حق پر ہوتا ہے اور کوئی بھی فریق اس شعور و سوچ کے ساتھ غلطی نہیں کرتا کہ "میں غلط و ظلم کررہا ہوں"، ہر کسی کے پاس اپنے عمل کی تاویل ہوتی ہے۔ ایسا صرف فلموں اور ڈراموں میں ہوتا ہے کہ ایک فریق کو بالاخر پورے طور پر اپنے غلط ہونے کا ادراک ہوجاتا ہے اور وہ دوسرے سے معافی مانگتا ہے اور ڈرامہ ختم، اس مفروضے کے ساتھ کہ اب ان اداکاروں کی زندگی ہنسی خوشی بسر ہورہی ہے، عملی زندگی میں اکثریت ایسا نہیں کرتی، لوگ اپنے معمول بہ رویے کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ میں ٹھیک ہوں۔ تو عملی زندگی میں آپ کا کام یہ نہیں ہے کہ والدین پر ان کی غلطی کا منطقی لزوم ثابت کردکھائیں، وہ عموما نہیں مانتے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ جسے آپ ان کی غلطی پہچان چکے ہیں اس کے برے اثرات سے خود کی زندگی کو بچانا ہے اور بس۔ عموما یہ ہوگا کہ کسی ایک معاملے میں کوئی ایک زیادہ حق پر پوتا ہے تو کسی میں دوسرا، تو یہاں اکثر و بیشتر کیس ٹو کیس بھی چلنا پڑتا ہے۔ بیگم کو ایسی کھلی چھٹی بھی نہیں دینی ہوتی کہ وہ والدین کے خلاف جری ہوجائے۔ ایک بیلنس قائم کرنا ہوتا ہے، کہیں گھنا میسنا بن کر تو کہیں غضب ناک ہوکر دونوں طرف کو تھوڑا تھوڑا قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ انسان کو قابو کرنے کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہے، موقع محل کے لحاظ سے کبھی محبت سے کام لینا پڑتا ہے، کبھی جھڑک سے تو کبھی منت سماجت سے۔ یہی عملی زندگی ہے، کسی fantasy میں نہیں رہنا چاہیے۔

12۔ بعض دوستوں کا خیال ہے اس سب کے بعد بھلا شوہر "قوام" کہاں رہا، وہ تو پسنے والی مخلوق ہوگیا؟ یاد رکھیے کہ خاندانی سسٹم میں قوام کا عملا یہی مطلب ہے، اس سے زیادہ کا امکان تب ہے جب بیوی نیک بخت یا والدین نرم خو ہوں اوراگر دونوں میسر آجائیں تو سونے پر سہاگہ ہے اور صبح و شام اللہ کا شکر واجب ہے۔ ورنہ یہی سب کچھ قوامیت کا آخری مفہوم ہے اور یہی مردوں کی عظیم اکثریت کا مقدر ہے۔ جو لوگ مغربی پیمانوں پر ہمارے معاشرے پر patriarchal سوسائٹی کے فتوے لگاتے ہیں انہیں ہماری خاندانی زندگی کا ذرا برابر ادراک نہیں۔ اس سے زیادہ قوامیت کا شوق پالنا زندگی خراب کرنا ہے۔ اور اس قوامیت کو کچھ کم نہ سمجھیں، قوامیت ایک ذمہ داری ہے اور گھر ریاست اصغر (جیسے صوفیاء کہتے ہیں کہ انسان عالم اصغر ہے)۔ تو قوامیت کا معنی یہ ہے کہ آپ اس نظام ریاست کے اندر بالعموم دو متحارب گروہوں کے مابین زیادہ سے زیادہ بیلنس قائم کریں، یہی آپ کی ذمہ داری ہے۔ کسی ایک فریق کو دبا کر کسی دوسری طرف مکمل جھک جانا، یہ قوامیت نہیں ہے۔

13۔ بڑوں کی آپسی لڑائی میں حصہ دار نہ بنیں۔ طرفین کے والدین اگر رشتے دار ہوں تو ان کی آپسی رشتے داری کی ایک مستقل تاریخ ہوتی ہے جس میں جھڑپیں اور رنجشیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ بسا اوقات وہ شادی کے بعد بھی ظاہر ہوتی ہیں اور پھر طرفین بالخصوص لڑکے کے والدین لڑکے سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ "ان کی بیٹی" (یعنی اپنی بیوی) کو سبق سکھا کر ھمارا ساتھ دے یا آپ خود ہی ایسا کرنا شروع کردیں۔ ایسا کرنا حماقت ہے، بڑے لڑتے ہیں انہیں لڑنے دیں، آپ حتی الامکان ان کی لڑائی سے باہر رہیں (الا یہ کہ آپ کی بیوی میدان میں آن کھڑی ہو وہ پھر الگ بات ہے، اس صورت میں آپ ابتداء اسے سمجھائیں)۔ بڑوں کی لڑائی یا جملے بازی میں شرکت سے ایسے ہی بچنے کی کوشش کرنا لازم ہے جیسے دو سپر پاورز کی لڑائی میں چھوٹے ملکوں کو باھر رھنے کی کوشش کرنا چاہیے کہ کہیں ان کے بیچ آکر پس نہ جائیں۔ آپ خاموش رہیں۔ ان بڑوں نے (جو عموما آپس میں بھائی بہن یا قریبی کزنز وغیرہ ہوتے ہیں) کل کلاں کو ٹھیک ہوجانا ہوتا ہے اور آپ اپنے سسر ساس سے تعلق خراب کربیٹھیں گے جو انہیں کبھی نہیں بھولے گا کیونکہ آپ چھوٹی جگہ پر ہوتے ہیں۔

14۔ پھر جب آپ اپنے ساس سسر سے لڑیں گے، ان کی بے عزتی کریں گے تو بیگم سے کیسے امید رکھیں گے کہ وہ آپ کے والدین کی غلطیوں کے باوجود ان کی عزت کرے؟ یہ یک طرفہ مساوات زیادہ عرصہ نہیں چلتی۔ تو اگر چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے والدین کی عزت کرے، اس کے والدین کی عزت کیجئے۔ اگر آپ اسے اپنے والدین کی غلطیوں کے باوجود عزت و احترام کا سبق دیتے ہیں تو خود بھی اس پر عمل کرکے دکھائیں۔ اور ہاں، اس کے سامنے خود بھی اپنے والدین کی عزت کیجیے، اگر آپ خود ایسا کرنا بھول رہیں گے تو اسے بھولنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔

15۔ آخری بات یہ کہ بیگم کو آپ تمام عمر خوف کے ذریعے ریگولیٹ نہیں کرسکیں گے، بچے ہوجانے کے بعد عورت مضبوط ہوجاتی ہے اور جوان (بالخصوص بیٹے جوان) ہوجانے کے بعد شیر۔ اگر آپ نے تمام عمر اسے "دوں طلاق"، "بھیجوں ماں کے گھر" جیسے جملوں سے ڈرا دھمکا کر زندگی گزارنے کی حکمت عملی اپنائی تو بچوں کے جوان ہونے کے بعد وہ آپ کو بھیگی بلی بنا کر اس طرح مارے گی کہ آپ کے پاس نہ تو چھپنے کی اور نہ ہی منہ چھپانے کی جگہ ہوگی۔ یقین نہ آئے تو اپنے خاندان کے ان بوڑھوں کا حال معلوم کرنے کی کوشش کیجیے جو "جوانی میں بڑے خرناٹ" مشہور تھے اور دیکھیے کہ ان سب کے ساتھ کیا ہو، ان شاء اللہ عبرت کا سامان میسر آئے گا۔

تو یہ ہیں خاندانی نظام کے اندر زندگی گزارنے والے جوانوں کے لیے چند عملی تجاویز۔

اس ضمن میں سب سے اہم بات کا ذکر رہ گیا اور وہ یہ کہ سخت گیر والدین بھی اللہ کی ایک آزمائش ہوتے ہیں، انہیں اسی طور پر قبول کرنا چاہیے اور یہی سمجھنا چاہیے کہ آپ کی جنت انہیں برداشت کرنے میں ہے۔ ہر کسی کی جنت الگ قسم کی آزمائش میں ہے اور جنت مل جانا کوئی آسان کام تو نہیں، اس کے لیے محنت درکار ہے اور بعضوں کو ان شاء اللہ اسی عمل سے جنت ملے گی کہ انہوں نے والدین کی سخت روی کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ تو مایوس نہیں ہونا ہے اور نہ ہی والدین کی سخت باتوں سے تنگ آکر انہیں اولڈ ھاؤس بھیجنے کا سوچنا ہے بلکہ جنت کمانے کا سوچنا ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.