قسطنطنیہ کی فتح اور تہذیبوں کا فرق - معظم معین

آج کا دن یعنی 29 مئی قسطنطنیہ کی فتح کا دن ہے۔ وہ شہر جسے آپ استنبول کے نام سے جانتے ہیں۔ کیا ارطغرل کے شیدائی یہ جانتے ہیں کہ قسطنطنیہ کی فتح کتنا بڑا کارنامہ تھا؟ بہت سوں کو یہ جان کر بھی حیرت ہو گی کہ سلطان محمد خان ثانی جب قسطنطنیہ فتح کر کے "سلطان محمد فاتح" بنا تو اس کی عمر اس وقت صرف 21 برس تھی۔ وہ عمر جب ہمارا جوان محض PUBG اور Fortnite پر ہی جنگیں جیت رہا ہے۔

یہ وہ دن ہے جسے آج بھی یورپ نہیں بھولا ہے۔ قسطنطنیہ سلطنت روم کا دل تھا اور مسلمان سینکڑوں برس سے اسے فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فتح کی بشارت تو اپنی زندگی ہی میں دے دی تھی مگر اس کو پورا کرتے کرتے امت کو آٹھ صدیاں لگ گئیں اور وہ پیش گوئی بالآخر 1453 میں آج کے دن پوری ہوئی۔ اس شہر بے مثال کی فتح کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔

یہ شہر جو 330 عیسوی میں یعنی آج سے سترہ صدیاں قبل کاسنٹنین نامی رومی بادشاہ نے بسایا تھا 1923 میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے تک قسطنطنیہ ہی کہلاتا تھا مگر پھر کمال اتاترک نے اس کا نام بدل کر استنبول کر دیا۔

قسطنطنیہ کیسے فتح ہوا؟ یہ ایک تاریخ ہے محض مسلمانوں یا عیسائیوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی۔۔۔ کہ یورپی مورخین کے مطابق اس عظیم فتح کے ساتھ یورپ کے عہد وسطٰی کا اختتام ہوتا ہے۔ اور اس کی فتح ایک لازوال داستان ہے عزم و ہمت اور استقلال کی۔ جس شہر کو فتح کرنا بظاہر ناممکنات میں سے تھا اور محمد خان کے ہر مشیر نے اسے اس "مہم جوئی" سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا مگر 21 سالہ سلطان اپنی دھن کا پکا تھا اور وہ حاصل کر کے رہا۔اپنی فوج کو اس وقت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا ، اربان نامی ایک نومسلم ماہر اسلحہ ساز تھا اسے بلوایا اوراس سے بہترین توپیں بنوائیں ، حملے کیلئے تین سو جنگی جہاز تیار کیے اور ستر ہزارفوج لے کر اس وقت کی دنیا کے ناقابل تسخیر شہر کو فتح کر نے کیلئے روانہ ہوا۔ دوسری طرف قسطنطنیہ کی حفاظت کے لئے یورپ کے سارے حکمرانوں نے اپنی اپنی فوجیں اور بحری جہاز قسطنطنیہ پہنچا دیے، کلیسا کے سب فرقے باہم متحد ہو گئے۔ پھر 48 دن کے طویل اور اعصاب شکن محاصرے کے بعد اور اپنی بے تحاشا فوج کی قربانی دینے کے بعد یہ شہر فتح ہوا تھا۔ جس کے لیے سلطان نے خصوصی توپیں تیار کروائیں اور بحری بیڑہ تشکیل دیا تھا۔

اس بڑی فتح کے بعد سلطان محمد خان نے اہل شہر کے ساتھ نہایت نیک سلوک کیا اور کسی کے ساتھ ظلم یا زیادتی نہ کی عام عبادت گاہیں جوں کی توں قائم رہنے دیں صرف آیا صوفیہ کے گرجا کو مسجد میں تبدیل کیا جو آج بھی استنبول جانے والوں کے لیے ایک دلچسپ مقام ہے۔ ارطغل کے نام پر ناک بھوں چڑھانے والے نہیں جانتے کہ اس امت کی تاریخ ایسے ان گنت کرداروں سے بھری پڑی ہے کس کس پر فلم یا سیریل بنائیں۔ ارطغل تو شاید ایسے کئی کرداروں کے سامنے طفل نظر آئے۔

بہرحال ارطغرل کو پسند کرنے والے سلطان محمد فاتح پر بنی ترکی فلم 1453 Fetih بھی دیکھ ڈالیں جس میں عزم و ہمت کی اس لازوال داستان کی منظر کشی کی گئی کے اور خوب کی گئی ہے۔ یو ٹیوب پر موجود ہے۔ ایسے ہی ایک موضوع پر ہالی وڈ کی شہرہ آفاق فلم Troy بھی تھی، دونوں میں قلعہ بند شہر فتح کیا جاتا ہے مگر فتح کے بعد کے رویوں میں زمین آسمان کا فرق دیکھا جا سکتا ہے کہ یونانی فوج نے ٹرائے شہر کو فتح کرنے کے بعد اہل شہر کے ساتھ کیسا عبرت انگیز سلوک کیا۔ اور محمد خان نے اہل شہر کے ساتھ کیسا شریفانہ برتاؤ کیا۔ اور یہی فرق دراصل ان دونوں تہذیبوں کا فرق ہے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.