’’ابھی تو… شروع ہوئی ہے‘‘ نصرت جاوید

کئی دنوں سے روزانہ کی بنیاد پر میرے دل میں پچھتاوے کا احساس شدید تر ہوتا چلاجارہا ہے۔نہایت ایمانداری سے دریافت کرنا شروع ہوگیا ہوں کہ نام نہاد ’’اہم اور سنجیدہ‘‘ موضوعات کے بارے میں بہت سوچ بچار کے بعد لکھنے میں جو عمر گزاری ہے،رائیگاں کاسفر تھا۔ لوگوں کے ذہن میں کوئی ’’نئی بات‘‘ڈالنے کا خیال محض جی کو خوش رکھنے کا بہانہ ہے۔لکھنا مگر سانس لینے کی طرح مجبوری بھی بن چکا ہے۔عادت ہے۔نبھائے چلاجارہا ہوں۔
اپنی کم مائیگی کا اعتراف بھی اس کالم میں نام نہاد Big Pictureکے بارے میں کچھ لکھنے سے باز نہیں رکھ پایا۔ہمارے میڈیا میں دھواں دھار سرخیوں کیساتھ اس امر کے بارے میں انبساط کا اظہار ہورہا ہے کہ ہمارے یار چین نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کی لداخ کے محاذ پر درگت بناڈالی۔اسے ’’ٹکاٹوکری‘‘ کردیا۔

بھارت کی مذکورہ محاذ پر خفت اگرچہ ایک حقیقت ہے۔ اس کے میڈیا پر چھائے بڑھک باز بھی اسے چھپانے میں ناکام رہے ہیں۔اب فقط یہ امید دلائی جارہی ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے Face Savingکا اہتمام ہوگیا ہے۔لداخ اور بھارت کے مابین 200کلومیٹر تک پھیلی سرحدی پٹی میں چینی افواج ان علاقوں میں ’’ہرگز داخل‘‘ نہیں ہوئی ہیں جنہیں بھارت ’’اپنا علاقہ‘‘ تصور کرتا ہے۔ نام نہاد ’’No Man's Land‘‘ میں تھوڑی پیش قدمی ہوئی۔’’مقامی کمانڈر‘‘ معاملے کو سنبھال نہیں پائے۔اعلیٰ سطحی روابط کے ذریعے بالآخر دونوں ممالک نے اپنے لئےWin-Win والا بندوبست ڈھونڈ لیا۔
بھارتی عوام کی ایک بڑی تعداد کو البتہ اس حقیقت نے بہت پریشان کررکھا ہے کہ مودی کے ’’جگری یار‘‘ ڈونلڈٹرمپ نے کئی دنوں کی خاموشی کے بعد بالآخر ایک ٹویٹ لکھا۔ چین کو للکارنے کے بجائے بھارت سے گفتگو کے ذریعے معاملات سنبھالنے کا مشورہ دیا۔ اس ضمن میں ’’ثالثی‘‘ کی پیش کش بھی کردی۔ایسی پیش کش سے گھبرانا چاہیے۔ ہمارے وزیر اعظم اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بارگزشتہ برس جولائی میں جب امریکی صدر سے ملے تھے تو پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھی موصوف کی جانب سے ثالثی کی پیش کش ہوئی تھی۔ نظر بظاہر ٹرمپ نے ازخود یہ مہربانی فرمائی۔ہمیں خوش کردیا۔

جولائی کی عمران -ٹرمپ ملاقات کے لیکن چند ہی ہفتے بعد مودی سرکار نے 5اگست 2019کے روز بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ گزرے وقتوں کی ریاستِ جموںوکشمیر دوحصوں میں بانٹ دی گئی۔لداخ کو جموں وکشمیر سے جدا کردیا گیا۔اب دونوں حصے نئی دہلی کے براہِ راست انتظام میں آئی Union Territory تصور کئے جارہے ہیں۔ وادیٔ کشمیر کے 80لاکھ باسیوں کو اس کے بعد جدید دور میں میسر تمام تر ذرائع ابلاغ سے محروم کرتے ہوئے دُنیا سے کاٹ دیا گیا۔ ’’لاک ڈائون‘‘ کی اصطلاح اسی کی وجہ سے پہلی بار سیاسی لغت کا حصہ بنی۔اب کروناکی بدولت دُنیا بھر میں مستعمل ہے۔ ’’عالمی ضمیر‘‘ نامی شے اس قصے میں کہیں نظر ہی نہیں آئی۔
5اگست2019کے روز سے 80لاکھ کشمیریوں پرنازل ہوئی آفت کا اس کالم میں بارہا ذکر کیا ہے۔ذکر سے زیادہ مگر یہ حالات کا ماتم ہی رہا۔اپنی بے بسی کا ملال۔ "Strategic"سوال اٹھانے سے ’’دانشور‘‘ ہونے کے گماں میں مبتلا ذہن اگرچہ باز نہیں رہا۔مسلسل یہ جاننے کی جستجو رہی کہ لداخ کو جموںوکشمیر سے جدا کیوں کردیا گیا ہے۔اس سوال کا تسلی بخش جواب ڈھونڈ نہیں پایاہوں۔

ایک معتبر صحافی نے تعلق جس کا وادیٔ کشمیر سے ہے اور بھارت کے پالیسی سازوں کے ذہن کو حیران کن حد تک پڑھ لیتا ہے یہ دعویٰ کرتے ہوئے مجھے چونکا دیا تھا کہ لداخ کو جموںوکشمیر سے جدا کرنے کا اصل مقصد چین کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کی سرحد سے جڑی پٹی کا قضیہ دونوں ممالک کے مابین حتمی طورپر طے کرلیا جائے۔پاکستان کو اس ضمن میں ’’غیر متعلق‘‘ فریق شمار کیا جائے۔گلگت بلتستان کی موجودہ شناخت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے قابل اعتبار دوست کے تجزیے کو میں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ٹھوس حقائق تک رسائی کے بغیر اگرچہ یہ محض اندازہ ہی تھا۔
اس برس کے آغاز میں کرونا کی وباء پھوٹ پڑی۔اس کی بدولت ہوئی اموات،لاشوں کے ڈھیر،کاروبار کی قطعی بندش، مقامی اور بین لاقوامی پروازوں کا طویل تعطل میرے دل خوش فہم کو یہ امید دلانا شروع ہوگیا کہ دُنیا بھر کی حکمران اشرافیہ اب اپنا چلن قطعی انداز میں بدل لے گی۔جدید ترین ہتھیاروں کی طاقت سے عالمی نقشے پر Power Projectionکے جنون کو بھلاتے ہوئے صحت عامہ کے نظام میں نمایاں ہوئے بحران سے سبق سیکھے گی۔غریب آدمی کی اذیت بھری زندگی کو بہتر بنانے کی کوششیں ہوں گی۔انسان مگر ’’اشرف المخلوقات‘‘ کے زعم میں مبتلا ہونے کے باوجود مگر جانور ہی ثابت ہورہا ہے۔جنگل کے قانون کو مزید وحشت کے ساتھ لاگو کرنے کو ہمہ وقت بے چین۔

کرونا کے ابتدائی ایام میں امریکی صدر رعونت سے اس مرض کو ’’نزلہ زکام‘ ‘ ہی کی ایک قسم ٹھہراتارہا۔نیویارک میں لاشوں کے ڈھیر لگے تو کرونا کو ’’چینی وائرس‘‘ پکارنا شروع ہوگیا۔اس کے اتباع میں امریکہ ہی نہیں یورپ کے سفید فام نسل پرستوں نے سرد جنگ کے دنوں میں ایجاد ہوئے پراپیگنڈہ ہتھیاروں کو یکسوہوکر چین کی مذمت کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔دوسری جنگِ عظیم کے دنوں میں ہٹلر کے جرمنی کے خلاف بھی ایسے ہی رویے بھڑکائے گئے تھے۔مجھے تیسری عالمی جنگ کی تیاریاں ہوتی نظر آئیں۔
دریں اثناء بھارت میں جنگی جنون پھیلانے کا ایک اجارہ دار ٹیلی وژن نیٹ ورک بھی متحرک ہوگیا۔ "Times Now"کے نام سے چلائے اس نیٹ ورک پر چند ہفتے قبل Stephen k Bannonنمودار ہوا۔یہ شخص دورِ حاضر کا نسل پرست نظریہ ساز ہے۔ Deep Stateسے نفرت کرتے ’’انقلابی‘‘ ہونے کا دعوے دار۔ٹرمپ کو امریکی صدر منتخب کروانے کی مہم میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔وائٹ ہائوس میں لیکن جم نہیں پایا۔ان دنوں ’’آزادانہ‘‘ حیثیت میں نسل پرستی کے جنون کو فروغ دے رہا ہے۔

’’ٹائمز نائو‘‘ سے طویل انٹرویو کے دوران بینن نے کرونا کے پھیلائو کی تمام تر ذمہ داری انتہائی سخت زبان میں چین پر ڈال دی۔ بہت اعتماد سے دعویٰ کرتا رہا کہ کرونا پر قابو پالینے کے بعد ’’مہذب‘‘ دنیا یکسو ہوکر چین کو یہ مرض پھیلانے کے ’’جرم‘‘ میں کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔موجودہ چینی قیادت کے خلاف’’ نیورمبرگ ٹرائل‘‘جیسا مقدمہ چلایا جائے گا۔ وہ بھارتی صحافی کو یقین دلاتا رہا کہ نریندر مودی چین کے خلاف ابھرتے ممکنہ ’’عالمی محاذ‘‘ کے ’’قائدین‘‘ میں نمایاں ترین ہوگا۔ سادہ الفاظ میں بھارت کو چین کے خلاف کھڑا کرنے کی یہ ایک بہت ہی ماہرانہ کاوش تھی۔
مجھے ہرگز خبر نہیں کہ بھارتی پالیسی سازبینن کے نظریات سے کس حد تک متاثر ہیں۔اپنی جگہ مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ برس اگست میں لداخ کو وادی سے جدا کرنے کے بعد بھارت نے وہاں چین کی سرحد تک سرعت سے پہنچنے کو یقینی بنانے والی سڑکیں تعمیر کرنا شروع کردی تھیں۔کئی حوالوں سے بنجر اور بے آباد علاقوں میں ہوا یہ ’’تعمیراتی کام‘‘ ہر حوالے سے Strategic Initiativeنظر آیا۔ چین نے اسے بروقت بھانپتے ہوئے پیش قدمی دکھائی۔مئی 2020کا آغاز ہوتے ہی مختلف مقامات پر اپنے پانچ ہزار فوجی تعینات کردئیے۔وہ خندقیں کھودنے کے بعد اب وہاں مستقل قیام کے ارادے پر ڈٹ چکے ہیں۔

مودی سرکار نے چینی پیش قدمی کی بابت اپنے عوام کو دو ہفتوں تک بالکل بے خبر رکھا۔ بالآخر ’’ذرائع‘‘ کی بدولت چند اخبارات میں ’’خبر‘‘ چھپی۔ پاکستان کے کبوتروں کی پرواز پر ’’کڑی نگاہ‘‘ رکھنے والے ٹی وی اینکروں نے البتہ اس خبر کو کماحقہ اہمیت ہی نہ دی۔چین کے بجائے نیپال کی ’’زیادتیوں‘‘ کا رونا روتے رہے۔ اپنے عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ اس کا کمزور اور Land Lockedہمسایہ چین کے ایما پر بھارت کا ’’جغرافیہ‘‘ بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ اور دفاعی امور سے متعلق تمام اداروںنے بھی لداخ کے ضمن میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔بہت تاخیر کے بعد اگرچہ امید اب یہ دلائی جارہی ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی کے طفیل ’’معاملہ‘‘ خوش کن انداز میں ‘‘ حل ہوگیا ہے۔میری ناقص رائے میں البتہ ’’ابھی تو …شروع ہوئی ہے‘‘۔ ہمارا خطہ بتدریج ایسے تنازعات کی جانب بڑھ رہا ہے جوکسی ایک مقام پر ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے کئی مقامات پر اپنا اثر دکھائیں گے۔ اس خطے کے ہر ملک میں ’’وطن پرستی‘‘ کی ایک شدید لہر اٹھے گی جو مابعدازکرونا معیشت کو سنبھالنے کے بجائے جنگی جنون کوہوادیتے ہوئے چاروں جانب تباہی پھیلانے کا باعث ہوگی۔