چڑھ جا بیٹا سولی پر۔رام بھلی کرے گا - اوریا مقبول جان

آج سے دس سال قبل جب پوری دنیا 2008ء کی معاشی کساد بازاری کا بدترین شکار تھی اور امریکہ کے کارپوریٹ سیکٹر نے حکومت سے سات سو ارب ڈالر کی مدد طلب کی تھی تاکہ وہ اس بحران سے نکل سکے‘ ایسے میں امریکی حکومت نے اپنے مشہور تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ وہ ایک ایسی جامع رپورٹ مرتب کرے کہ امریکی معیشت اس معاشی بحران سے کیسے نکل سکتی ہے۔ ایک سال کی محنت کے بعد جو رپورٹ رینڈکارپوریشن نے امریکی حکومت کو جمع کروائی اس کا لب لباب بہت خوفناک تھا۔ رپورٹ کے مطابق سات سو ارب چھوڑ ‘چودہ سو ارب بھی دے دیے جائیں تو وال سٹریٹ اس بحران سے نہیں نکل سکتی۔ امریکہ کو اگر اس بدترین اقتصادی بحران سے نکلنا ہے تو اس کی اسلحہ ساز صنعت جسے ملٹری انڈسٹریل کمپلکس کہتے ہیں ،کو ایک بہت بڑی مارکیٹ چاہیے اس مارکیٹ کو پیدا کرنے کے لئے دنیا میں دو بڑی جنگیں بہت ضروری ہیں۔ یہ جنگیں بھی ان ملکوں کے درمیان ہونا چاہیں جن کی معیشتیں مضبوط ہوں اور جو جنگ کے اخراجات کا بوجھ برداشت کر سکیں۔رپورٹ کے مطابق ایسی معیشتیں صرف تین تھیں۔ ایک بھارت‘ دوسری چین اور تیسری روس اور اگر ان تینوں کو کسی بڑی نہ ختم ہونے والی جنگ میں الجھا دیا جائے تو امریکی اسلحہ سازی کی صنعت رات دن سپلائی میں لگ جائے گی ۔ جس سے امریکی معیشت کا پہیہ چلنے لگے گا۔ یہ رپورٹ یوں تو خفیہ رکھی گئی لیکن جنوری 2010ء میں جب اس کے مندرجات سامنے آئے تو چین کی حکومت نے اس پر باقاعدہ احتجاج کیا تھا۔ اس رپورٹ کی پہلی بنیادی تجویز یہ تھی کہ تینوں ملکوں میں مسلمان اقلیتیں کثیر تعداد میں موجود ہیں اور اگر انہیں حکومتی طاقت سے گتھم گتھا کروا دیا جائے تو ایک پراکسی(proxy)جنگ دیر تک چل بھی سکتی ہے اور معیشت کو بھی بری طرح تباہ کر سکتی ہے۔ اس خفیہ پلاننگ کے لئے پاکستان اور افغانستان کے مسلمان جہادی گروہوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کر کے جہاد کے لئے بھارت‘ چین‘اور روس دھکیلنا ضروری تھا۔

لیکن طالبان کے ہاتھوں امریکہ اور نیٹو افواج کی ذلت آمیز شکست کے ساتھ ساتھ شمالی علاقہ جات میں بھارتی سرمایہ پر منظم ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے گروہوں کی ناکامی نے یہ خواب چکنا چور کر دیا۔ اب ان تینوں ملکوں کو براہ راست جنگ میں اتارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ روس کو بشار الاسد کے شام کی جنگ میں الجھایا گیا کیونکہ اس کے لئے شام کی بندرگاہ بہت ضروری تھی۔ اس نو سالہ جنگ میں جس قدر اسلحے کا کاروبار چمکا اس کی وسعت کا اندازہ لگائیں کہ قطر‘ترکی‘ سعودی عرب‘ ایران‘ متحدہ عرب امارات‘عراق اور مصر کی طرح کئی اور ممالک اپنے اپنے پروردہ گروہوں کو آزاد مارکیٹ سے اسلحہ خرید کر سپلائی کرنے میں لگے ہیں۔ آزاد مارکیٹ کا یہ اسلحہ امریکی فیکٹریاں تیار کرتی ہیں۔ باقی رہ گئے چین اور بھارت‘چین گزشتہ تیس سالوں سے پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر اپنی معاشی ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔لیکن اس کی سرحد کے دو مقامات ایسے تھے جہاں بھارت کے ساتھ تنازعات کی راکھ سلگ رہی تھی۔ تنازعے کا پہلا مقام لداخ کا وہ بے آباد پہاڑی سلسلہ ہے جہاں سے قدیم شاہراہ ریشم گزرتی ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی افواج نے 1834ء میں جب لداخ کو ریاست جموں میں شامل کیا تو اس کے بعد وہ تبت پر حملہ آور ہو گئیں جنہیں چینی افواج نے 1842ء میں بری طرح شکست دے کر پیچھے دھکیلا،لداخ میں داخل ہوئیں اور وادی لیپہ کا گھیرائو کر لیا۔ سکھ افواج امن معاہدہ کر کے واپس لوٹ گئیں۔برطانیہ نے پنجاب میں سکھ راج کو شکست دی تو برطانیہ اس علاقے کا وارث بن بیٹھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب مشرقی چین کے مسلمان علاقوں خصوصاً سنکیانگ میں مسلمان رہنما یعقوب بیگ کی سربراہی میں انقلاب برپا تھا۔ یہ علاقے 1862ء سے 1877ء تک مغربی چین میں حکمران خاندان کوینگ(Qing)کی عملداری سے نکل چکے تھے۔ لیکن بعد میں جب ان کے آپس کے قبائلی جھگڑے شروع ہوئے تو حالات نے چین کو دوبارہ ان پر قابض بنا دیا۔ اس دوران برطانیہ کے ایک بیورو کریٹ ڈبلیو ایچ جانسن(W.H. Johnson)نے وہاں کا سروے کیا اور ایک لائن نقشے پر کھینچتے ہوئے ’’عکسائی چن‘‘ کے 37.244مربع کلو میٹر کے علاقے کو جموں و کشمیر میں دکھا دیا۔

چین نے جب 1878ء میں سنکیانگ پر دوبارہ قبضہ کیا تو اس تجارتی شاہراہ کی اہمیت کے پیش نظر اس نے دوبارہ اس کی جانب پیش قدمی کی۔ برطانیہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی وجہ سے چین سے مخاصمت مول نہیں لینا چاہتا تھا اس لئے وہ خاموش رہا۔ یوں چین نے قراقرم سلسلہ کوہ کے ساتھ ساتھ اپنی پوسٹیں بھی بنائیں اور سڑک بھی تعمیر کی۔البتہ نقشوں پر وہی لائن قائم رہی جسے جانسن لائن کہا جاتا ہے اسی طرح کے عالمی بے یقینی میں برطانیہ چلا گیا اور برصغیر میں دو نئے ملک وجود میں آ گئے۔ ایک بھارت اور دوسرا پاکستان۔ بھارت خود کو دو وجوہات کی بنیاد پر اہم سمجھنے لگا۔ ایک یہ کہ تاج برطانیہ کا اصل وارث ہے اور دوسری وجہ یہ کہ ہمالیہ کے پہاڑ دراصل پورے ہندوستان کے میدانی علاقوں کا مذہبی طور پر حصہ ہیں۔ یہیں سے ان کے دیوتا برہما‘وشنو اورشیو اپنے جلو میں ہزاروں لاکھوں دیوی دیوتا لئے مقدس ’’ہندوتوا‘‘سرزمین پر اترے تھے، اس لئے ہمالیہ سے بحر ہند تک یہ پوتر سرزمین ہندومت کی میراث ہے۔یہ علاقہ اس قدر بے آباد تھا کہ چین نے چیانگ کائی شیک سے اپنی آزادی کے فوراً بعد ہی جب اس کی اہمیت کے پیش نظر 179کلو میٹر روڈ بنانا شروع کی تو تقریباً دس سال یعنی 1958ء تک بھارت کو اس کی خبر تک نہ ہوئی اور تماشہ اس وقت کھڑا ہوا جب چین نے اس سڑک کو اپنے نقشے پر ظاہر کر دیا۔ تبت کے علاقے 1959ء میں بغاوت شروع ہوئی تو بھارت نے باغی لیڈر دلائی لامہ کو پناہ دے کر چین کو اپنی حیثیت جتانے کی کوشش کی۔

مذاکرات شروع ہوئے جو بے نتیجہ ثابت ہوئے اور 20اکتوبر 1962ء کو چین نے اپنی افواج اس متنازعہ علاقے میں داخل کیں اسے جس قدر علاقہ اپنے عسکری مقاصد اور سرحدی حفاظت کے لئے ضروری تھا۔ اس پر قبضہ کیا اور 20نومبر 1962ء کو خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ یہ سرحدی لکیر آج تک لائن آف ایکچوئل کنٹرول (line of actual control)کہلاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس سے آج جنگ کی چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پورے خطے کو متنازعہ بنانے کی کوشش اس وقت سے تیز تر کر دی گئی تھی جب سے چین نے اپنی اقتصادی ترقی کے ایک مناسب عروج کو حاصل کرنے کے بعد اپنی تنہائی ختم کرنے کے لئے یورپ ایشیا اور افریقہ کے ممالک سے کاروباری روابط بڑھانے کے لئے سی پیک(cepac)منصوبے کا آغاز کیا تھا جو بعد میں ون بیلٹ ون روڈ کے عالمی نیٹ ورک میں ڈھل گیا۔ یہ منصوبہ دنیا کے نقشے پر چین کو نہ صرف آبادی کے لحاظ سے عظیم اور فوجی طاقت کے حوالے سے توانا ثابت کرے گا بلکہ اسے عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر غالب کر دے گا۔اس چینی یلغار کو روکنے کے لئے بھارت سب سے اہم مہرہ تھا جسے دو طرف چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔چین سے مڈھ بھیڑ اور پاکستان سے لڑائی۔بنیے کا بیٹا سولی چڑھا دیا گیا ہے۔ (باقی آئندہ)