منزل - ردا بشیر

رمضان المبارک کا آخری جمعہ تھا۔ لوگ سحری سے فارغ ہونے کے بعد سونے کی تیاریاں کرنے لگے۔ وہ سویا نہیں تھا۔ لاہور کا رہائشی "پائلٹ سجاد گل" جس کے پاس 24 سالوں کا جہاز اڑانے کا تجربہ تھا۔ اپنا یونیفارم صحیح کرنے میں مصروف تھا اور یونیفارم سے متعلق باقی کی اشیا۔

پھر طیارے کی اڑان بھرنے کا وقت آن پہنچا۔ ایرپوٹ پر آواز گونجی کہ "pk8303"کے تمام مسافر طیارے میں سوار ہوں تاکہ بروقت انہیں منزل پر پہنچایا جاسکے۔ 100سے زائد مسافروں کی گنجائش ہونے کے باوجود کورونا وبا کے سبب اور حفاظت کے پیش نظر کم لوگوں کو سوار کرایا گیا۔

لاہور سے کراچی کے لیے اُڑان بھری گئی۔ جہاز اپنا سفر تمام کرچکا۔ سب کے سب مسافر آنے والے حسین لمحات کو آنکھیں بند کیے محسوس کررہے تھے۔ کتنے ہی تھے جو کئی کئی ماہ بعد اپنے عزیزوں‌سے ملنے کے لیے بے چین تھے۔ بہت سوں کا خیال تھا کہ عید گھر والوں کے سنگ منائیں گے۔ بہت سے پلان بنارہے تھے۔ طیارہ منزل کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ اعلان بھی ہوگیا کہ ہم چند ہی لمحے میں کراچی ایرپورٹ پر ہوں‌گے۔ سب نے تیاریاں‌پکڑلیں۔ لیکن پھر کیا ہوا کہ سب کچھ بدل گیا۔ سجاد گل نے کچھ محسوس کیا۔ اسے خطرے کا احساس ہوگیا. وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے لگا۔ لیکن پھر خدا پائلٹ کی جانب سے بخیر وخوبی منزل تک پہنچنے کے بجائے خدا کی جانب سے ایک اناؤنسمنٹ ہوگئی۔

ایک آخری کال جو "مے ڈے مے ڈے"تھی اور جب کہا گیا کہ" we have lost engine" آپ سب نے بھی یہ کال سنی ہوگی. حیرت ہوتی ہے کہ موت کا پیغام کتنے آرام اور سکون سے دے رہے ہیں؟ سوچتی ہوں کہ اسے بھی اپنے بچے اپنے اہل خانہ نظر آئے ہوں‌گے! اپنا گزرا زمانہ بھی یاد آیا ہوگا۔ لیکن اس کا حوصلہ دیدنی تھا۔ مضبوط اعصاب کا مالک ایک شیر دل نوجوان کی گفتگو میں کہیں بوکھلاہٹ نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ بوکھلاہٹ جو موت کو سامنے دیکھ کر ہر ایک پر طاری ہوجاتی ہے۔ وہ حواس باختہ بھی نہیں تھا۔ بس سوچ رہا ہوگا یہ کہ کیسے کم سے کم جانوں کا نقصان ہو۔ جہاز کسی بھی عمارت پر گر سکتا تھا لیکن بہت کوششیں کرکے کم آبادی والی جگہ تک لانے کی کوششیں کرتا رہا۔

میں سوچتی رہی لوگوں کا شور ہوگا، کلموں کا ورد ہوگا۔ یا اللّٰہ! یہ کیسا منظر ہوگا۔ چند لمحے مگر ساری دنیا آنکھوں‌کے سامنے آجاتی ہے.... وہ فاصلہ جو تیس سکینڈ کا رہ گیا تھا رہ جانے والوں‌کے لیے پوری عمر کاٹ کر بھی طے نہ ہوسکے گا۔ ایرپوٹ پر جو آنکھیں منتظر تھیں وہ منتظر ہی رہیں۔ کتنی امیدیں، خواب اور خوشیاں۔۔۔۔ طیارے کے ساتھ جل کر راکھ ہوئیں۔ کبھی کبھی منزل پر پہنچ کر بھی منزل چھوٹ جاتی ہے۔ لیکن شاید! وہ تو منزل کو پاچکے ہیں۔ بھٹک تو ہم انسان رہے ہیں۔ حقیقی منزل کو۔ اس کے باوجود کہ وہ اس وقت بھی ہمیں اپنی قدرت دکھاتا ہے۔ ذرا سوچیں‌ کہ اس اندوہناک اور دلخراش حادثے میں دو لوگ معجزاتی طور پر بچ بھی گئے۔
بات منظوری کی تھی ورنہ
ہم تو منزل پر پہنچ چکے تھے

کیا اب بھی ہم یہ یقین نہیں کریں‌گے کہ جس وقت کا وقت مقرر ہو اسے کوئی نہیں بچاسکتا۔ جس کا مقدر زندہ رہنا ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں‌پہنچاسکتی. چاہے آسمان سے گرنے والا جہاز ہی کیوں نہ ہو، موت مقرر نہ ہو تو وہ بھی موت کا پیغام نہیں لاسکتا.