کورونا، پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ - ڈاکٹر اسامہ شفیق

میں اس معاملے پر زیادہ نہیں لکھنا چاھتا لیکن معذرت کے ساتھ ھمارے لوگ بھی خوف پھیلانے میں کم نہیں۔ یہ باتیں سنی سنائی نہیں بلکہ ذاتی اور ڈاکٹرز کے تجربے کی بنیاد پر لکھ رہا ھوں۔
پاکستان کا صحت کا نظام عام حالات میں ہی ناکافی ہے کجا کہ وہ کسی وبا کو برداشت کرسکے۔

کراچی صرف ایک شہر 2 کروڑ کی آبادی کی صحت عامہ کا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ دو صوبوں سندھ اور بلوچستان کے مریضوں کا مکمل دارومدار کراچی کے اسپتالوں پر ہے۔

کورونا ایک عالمی وبا ہے جس کا مقابلہ دنیا کی بہترین صحت عامہ کی سہولیات رکھنے والے ممالک نہیں کر پارہے۔

برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور یورپی ممالک اپنی عوام کو گھر میں رکھنے کے لیے بیروزگاری الاؤنس دے رہے ہیں پاکستان جیسا ملک جس میں 50 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارتے ہیں وہاں حکومت اور این جی اوز کس کس کو امداد فراہم کرسکتی ہیں؟

پاکستان میں کرونا سے بڑا مسئلہ غربت بن چکا ہے۔ ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سفید پوش لوگ مانگ نہیں رہے لیکن ان کے گھر بھی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔

کورونا بجٹ اس وقت پاکستان میں 500 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ اب تک 200 ارب روپے ٹھکانے لگ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ایم ڈی این اے کے بیان کے مطابق فی مریض خرچہ 25 لاکھ روپے ہے۔ صرف لاہور ایکسپو میں فیلڈ اسپتال نہ جس کی چھت بنی نہ زمین نہ اے سی آئے اس کا خرچہ 90 کروڑ روپے ہے۔ جامعہ کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر زمین پر گذشتہ حکومت کا 200 بستروں کا اسپتال بنانے کا منصوبہ تھا جس کی لاگت 2 ارب روپے تھی۔ یہ صرف ایک مثال ہےکہ اس پیسے سے کیا کچھ ہوسکتا تھا اور کیا، کیا جارہا ہے؟

کوئی این جی او جوکہ کرونا کرونا کا شور مچارہی ہے ان معاملات پر کوئی تنقید کرتی ہوئی نظر آئے تو مجھ کو بتائے گا۔ ڈاکٹرز کی تنظیمیں بھی مجموعی طور پر حکومت کے بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ کوئی ان معاملات کو اٹھانے کو تیار نہیں۔ سندھ کا صحت کا بجٹ کہاں جاتا ہے۔ کرونا کا بجٹ کہاں جارہا ہے؟ جب ڈاکٹرز تک کو لباس تک یہ این جی اوز دے رہی ہیں تو حکومت پر تنقید کون کرےگا؟

عام حالات میں کراچی جیسے شہر میں بھی وینٹیلیٹرز ملنا مشکل ہوتا ھے تو اس وبا میں کون ایسا ممکن کرسکتا ہے۔
آپ پوش اسپتال آغاخان چلے جائیں تو عام دنوں میں بھی داخلہ نہیں ملتا۔

مسئلہ کرونا کا تو عارضی ہے اس سے زیادہ صحت عامہ کی سہولیات کا معاملہ ہے۔ اس لیے دونوں کو الگ الگ کریں۔ کرونا ابھی تک تباھی پھیلا چکا ہوتا۔ کبھی اپریل کا آخر کبھی رمضان اور ان عید کے بعد میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاملہ مزید ایک سال چلے گا۔ کیا آپ لوگوں کو گھر بٹھا کر کھلا سکتے ہیں؟ کیا آپ ایک سال میں صحت عامہ کی سہولیات کو دگنا کرسکتے ہیں؟

امریکا جیسا ملک بھی ایک لاکھ ہلاکتوں کے بعد اگر ملک کھولنے کا اعلان کرتا ھے تو ہم کب تک بند رکھ سکتے ہیں؟

کورونا سے زیادہ پاکستان میں غربت ہلاکت خیز ہے۔ براہ کرم اپنی سوچ کے زاویوں کو حکومتی بیانئے سے آگے لے کر جائیں۔ آپ ڈاکٹرز کی کسی بھی تنظیم سے ان امور پر ایک پریس کانفرنس تو کروالیں، پھر دیکھیں کتنی میڈیا کوریج ملتی ہے۔ حکومت کتنا پروٹوکول دیتی ہے۔ اگر ڈاکٹرز کام بھاڑ کے ٹٹو بنا رہ گیا ھے تو کرتے رہیں۔ ہر چار دن بعد آپ کی عزت افزائی آپ ہی کے لوگ کریں گے۔ سوال اٹھائیں حکومتی کارکردگی اور ایم ڈی این اے پر اگر ہمت ہے تو ورنہ چپ رہیں کم از کم لوگوں کو خوفزدہ نہ کریں۔