حادثے کی زد میں آئے خاندانوں کا دکھ- نصرت جاوید

تین روز سے لداخ کی سرحد پر چین اور بھارت کے مابین سنگین تر ہوتی صورت حال پر غور کررہا ہوں۔ اس علاقہ کا جغرافیہ مجھ ایسے ڈنگ ٹپائو صحافی کے لئے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ قضیہ کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔برطانوی استعمار کے عروج کے دنوں میں چلائی ’’گریٹ گیم‘‘ کا ایک اہم سنگ میل تھی۔برطانوی ہند اور کمیونسٹ انقلاب سے پہلے والے چین کے حکمرانوں نے اس مقام پر ’’اپنے اپنے علاقوں‘‘ کے جو نقشے بنائے تھے مائوزے تنگ کی سربراہی میں لائے انقلاب نے انہیں سامراجی ورثہ قراردیا۔ بھارت کے جواہر لعل نہرو نے انہیں حتمی قرار دینے پر اصرار کیا۔ ’’چینی-ہندی بھائی بھائی‘‘ کے نعروں کے باوجود دونوں ممالک میں 1962کے برس بالآخر ایک جنگ ہوگئی۔بھارت کو اس کے نتیجے میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پرانی داستان اب ایک نیا موڑلیتی نظر آرہی ہے۔سوچا تھا کہ آج کے لکھے کالم میں اس پر توجہ دی جائے۔

منگل کی رات سونے سے قبل مگر حسب عادت سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی تو جی پریشان ہوگیا۔میرے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک وڈیوکلپ گردش کررہی تھی۔اس کلپ میں کراچی کے فضائی حادثے کی زد میں آئے ایک اعلیٰ سرکاری افسر خالد شیر دل صاحب کی ’’اہلیہ‘‘ فریاد کناں نظر آئیں۔ بہت ہی نپے تلے الفاظ میں ان مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے مجھے حیران وپریشان کردیا کہ ان کے ’’شوہر‘‘ جو اس بدنصیب طیارے کے مسافروں میں شامل تھے ٹھوس حقائق کے تناظر میں ابھی تک ’’لاپتہ‘‘ ہیں۔حادثے کے چار دن گزرجانے کے باوجود کوئی شخص یہ طے کرنے کے قابل نہیں کہ ملبے سے نکالے ہوئے افراد میں وہ بھی شامل ہیں یا نہیں۔ان کی گفتگو سے یہ بھی گماں ہوا کہ ابھی تک بدنصیب طیارے میں سوار تمام افراد کو یازیاب نہیں کروایا جاسکا ہے۔بازیاب ہوئے افراد کی DNAکی بدولت شناخت کا مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوپایا ہے۔
صبح اُٹھتے ہی مگر ہماری ایک محترم ساتھی کا لکھا ایک ٹویٹ دیکھا۔وہ ایک نہایت ذمہ دار اور سینئر پروڈیوسر ہیں اور ایک مقبول ویب سائٹ بھی چلارہی ہیں۔ان کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ ویڈیو میں گفتگو فرمانے والی خاتون خالد شیر دل خان کی اہلیہ نہیںہیں۔میں ان کے دعویٰ پراعتبار کرنے کو جبلی طورپر مجبور ہوں۔

مذکورہ کلپ سے قبل مگرسوشل میڈیا پر ایک اور صاحب بھی اپنی اہلیہ اور تین کم سن بچوں کے حوالے سے ایسی ہی فریاد کرتے نظر آئے تھے۔لہجہ ان کا بھی بہت مہذب اگرچہ دُکھ سے بھرارہا۔ ان دونوں کلپس کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ آئے۔رات بھر کروٹیں لیتا ان کے بارے میں سوچتا رہا۔
خالد شیر دل سے میری ذاتی شناسائی نہیں۔2010میں جب وطنِ عزیز ایک وحشیانہ سیلاب کی زد میں آیا تو نواز شریف صاحب سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے ایک NGOکی مدد سے تعمیر ہوئی بستی کا افتتاح کرنے لاہور سے ایک نجی طیارے میں اُچ شریف میں خواجہ فرید کے مزار کے دامن میں واقع ایک قطعہ اراضی کی جانب روانہ ہوئے۔میں ان دنوں ایک ٹی وی شو کی میزبانی بھی کرتا تھا۔انہوں نے جہاز میں ساتھ بٹھانے کی دعوت بھیجی۔ یہ وعدہ بھی ہوا کہ لاہور واپسی کے سفر کے دوران وہ مجھے اور مشتاق منہاس کو ایک "Live"دِکھتا انٹرویو بھی دیں گے۔

بہرحال بستی کی افتتاحی تقریب کے اختتام پر ایک پنڈال میں چائے پانی کا اہتمام ہوا۔ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مسائل نواز شریف کو بتانے کے لئے ان کے گرد جمع ہوتی رہی۔چند لوگوں کی بات سن کر وہ اچانک ’’خالد صاحب‘‘ کو پکارتے۔ وجیہہ شکل کے ایک لمبے قد والے افسر تھے۔ سرجھکائے نوٹس لیتے رہے۔شکوہ کناں لوگوں کی ہر ممکن مددکا وعدہ کیا۔ وہ مجھے ایک بہت ہی مستعدومتحرک افسر نظر آئے جن کے رویے سے پرخلوص انسان دوستی کا نمایاں اظہار ہورہا تھا۔میرے لئے انہیں دیکھنے کا یہ پہلا اور آخری موقع تھا۔
میری اطلاع کے مطابق خالد صاحب کا تعلق سول سروس کے تناظر میں ایک تگڑے اور ایماندار مشہور ہوئے گھرانے سے ہے۔ ان کی اہلیہ ہونے کی دعوے دار خاتون بھی ایسے ہی خاندان کی دُختر نظر آئیں۔اقوام متحدہ کے لئے نیویارک میں مقیم رہ کر ایک معقول عہدے پر فائز تھیں۔ ان کے بقول خالد شیر دل صاحب نے انہیں وطن کی خدمت کے لئے واپس لوٹنے کی ترغیب دی۔دُنیاوی اعتبار سے شاندار نظر آتے مستقبل کے امکانات کو قربان کرتے ہوئے واپس لوٹ آئیں۔
مذکورہ خاتون کے دعویٰ کو نظرانداز کردیا جائے تب بھی مختلف حوالوں سے یہ تاثر شدت سے اجاگر ہورہا ہے کہ حادثے کا شکار ہوئے مسافروں کے لواحقین کو ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جارہیں۔ جو بدنصیب بازیاب ہوئے ہیں ان کی DNAکی بدولت شناخت کا قابل اعتبار بندوبست نہیں ہوپایا۔اپنی اہلیہ کو تین بچوں سمیت کھودینے والے شخص کی فریاد بنیادی طورپر ان ہی مسائل کو سامنے لائی۔

کراچی والا حادثہ جمعتہ الوداع کی دوپہر ہمارا مقدر ہوا تھا۔مروجہ اصولوں کے مطابق حادثے کے فوراََ بعد جائے وقوعہ کو تیز ترین بنیادوں پر Cordon Offکردیا گیا تھا۔اس کے بعد تباہ ہوئے طیارے میں سوار افراد کی بازیابی کا عمل شروع ہوا۔ پاکستان یقینا بہت ترقی یافتہ ملک نہیں۔ریاستی نظم کے اعتبار سے مگر ہم 22کروڑ آبادی والا منظم ملک ہیں۔آفات ہمارے لئے انوکھی بات نہیں۔زلزلے اور سیلاب کئی برس سے ہم پر نازل ہوتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ اس صدی کے آغاز میں دہشت گردی کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔ گزشتہ چار ماہ سے کرونا کی وباء بھی نازل ہوچکی ہے۔
آفات سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمارے ہاں عالمی اعتبار سے جدید ترین اداروں کی موجودگی کے دعوے ہوتے ہیں۔ان اداروں کی آن بان کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ حقیقت بہت تکلیف دہ محسوس ہورہی ہے کہ پانچ دن گزرجانے کے باوجود نام نہاد Perfectنظر آتے تمام سرکاری ادارے حادثے کا شکار ہوئے طیارے کے ہر مسافر کو ابھی تک بازیاب نہیں کرواپائے ہیں۔ان بدنصیبوں کی شناخت کا عمل بھی مکمل نہیں ہوپایا۔

سوال اٹھتا ہے کہ ایسے جذباتی مسائل کے ضمن میں لواحقین کی تسلی وتشفی کا کماحقہ بندوبست کیوں نہیں ہوپایا۔اگریہ بندوبست موجود نہیں تو اسے یقینی بنانے کا ذمہ دار وطنِ عزیز میں کون ہے۔اس ’’ذمہ دار‘‘ کی نشان دہی ہونے کے بعد ہی ہم کسی درپرہاتھوں میں فریاد لئے جاسکتے ہیں۔عمران خان صاحب آئینی اعتبار سے ہمارے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘کہلاتے ہیں۔ان تک وہ اطلاعات ازخود کیوں نہیں پہنچیں جنہیں منظرِ عام پر لانے کے لئے دو افراد کو سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑا۔
مجھ جیسے شخص کو لہذایہ لکھنے کے لئے کوئی جواز تراشنے کی ضرورت نہیں کہ فضائی حادثے کا شکار ہوئے بدنصیبوں کا حقیقی معنوں میں کوئی ’’والی وارث‘‘ نہیں ہے۔وہ اپنے پیاروں کا سراغ لگانے کے لئے دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ان کی مشکلات ہمارا ’’توانا اور ہمہ وقت متحرک‘‘ میڈیا کماحقہ انداز میں بیان نہیں کرپایا۔ نام نہاد میڈیا کی بے بسی،نااہلی اور بے وقعتی کے اس موسم میں Citizen Journalismہی کچھ امید دلاتا محسوس ہورہا ہے۔اسی باعث مجھے خدشہ لاحق ہورہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اب اس امر پر اُکسایا جائے گا کہ سوشل میڈیا کا ’’مکوٹھپنے‘‘ کا بھی اہتمام ہو۔وطن عزیز پر قبرستان ایسی خاموشی مسلط کردی جائے۔جائز ترین سوالات اٹھانا بھی یہاں ’’جرم‘‘ ٹھہرا دیا جائے۔

کراچی میں ہوئے حادثے کے حوالے سے میڈیا کی تمام تر توجہ ’’پائلٹ کی غلطی‘‘ والی کہانی کو فروغ دینے پر مرکوز کردی گئی ہے۔دل وجان سے تسلیم کرلیتے ہیں کہ مذکورہ دعویٰ درست ہے۔غلطی پائلٹ کی تھی یا جہاز کے نظام میں کوئی تکنیکی مسائل تھے؟ اس سوال کا کماحقہ جواب فراہم کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔جن لوگوں نے اس حادثے میں اپنے عزیز اور پیارے کھوئے ہیں ان کے لئے لیکن ہر نوعیت کے جوابات اپنی وقعت واہمیت کھوچکے ہیں۔انہیں فی الوقت ٹھوس شہادتوں کے ساتھ اپنے پیاروں کی نشان دہی درکار ہے۔زندگی بھر ان کے ساتھ رہنے والے دُکھ کا یہ کم از کم ازالہ ہے۔خدارا اس عمل کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم صاحب کسی بہت ہی بااختیار شخص کو اس تناظر میں حتمی Point Personنامزد کریں۔وہ شخص 24/7بنیادوں پر حادثے کا شکار ہوئے افراد کے لواحقین سے رابطے میں رہے۔انہیں احساس دلائے کہ وہ لاوارث نہیں ہیں۔ہماری ریاست وحکومت تن دہی سے ان کے دُکھ میں برابر کی شریک ہے۔
جس وقار سے حادثے کی زد میں آئے خاندان اپنا دُکھ بیان کررہے ہیں انہیں ذہن میں رکھتے ہوئے میرے اندر موجود پھکڑباز فی الوقت شاہد آفریدی کی ’’پھرتیوں‘‘ کو بھی نظرانداز کرنے کو مجبور محسوس کررہا ہے۔ یہ بات کہے بغیر مگر باز نہیں رہ سکتا کہ موصو ف نے جس سرعت سے جائے حادثہ پر پہنچ کر اسے Photo Oppsکے لئے استعمال کیا وہ کسی بھی باوقار شخص کے لئے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے تھا۔