پرانے پوپلزئی سے نئے پوپلزئی تک- خالد مسعود خان

قوم کورونا کی وبا اور اس کے بعد طیارے کے المناک حادثے کے باعث افسردگی کے عالم میں عید منانے کے مرحلے میں تھی اور ایسے میں سال میں دو بار خبروں کی زینت بننے کے شوقین مفتی منیب الرحمان اور ہمہ وقت خبروں میں اِن رہنے کے ٹھرک میں مبتلا فواد چودھری اپنا اپنا پھٹا سجانے اور چمکانے کے چکر میں تھے۔ دین اور مذہب سے بیزار طبقے کا یہ عالم تھا کہ عمومی حالات میں فواد چودھری کے لتے لینے والے بھی صرف اور صرف مفتی منیب کو نیچا دکھانے کی خاطر فواد چودھری کے کیمپ میں ڈیرے لگائے بیٹھے تھے۔ وہ لوگ جنہیں سائنس کے سپیلنگ بھی درست طریقے سے نہیں آتے وزیر سائنس کی روشن خیالی اور سائنس کے کارناموں پر ایسے بیان جاری فرما رہے تھے کہ محسوس ہوتا تھا‘ سائنس اور علم فلکیات ان کے گھر کی لونڈیاں ہیں۔ حکومت وقت کی دو عدد وزارتیں لوگوں کو کنفیوژ کرنے میں مصروف اور ایک طرح سے باقاعدہ برسر پیکار تھیں۔ اصولی اور آئینی طور پر وزارت مذہبی امور کا ذیلی ادارہ یعنی مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی چاند کے بارے میں اعلان کرنے کی مجاز ہے اور اس کی موجودگی میں کسی دوسرے سرکاری ادارے، وزارت یا وزیر کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی اجازت نہیں۔ ہاں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی بات دوسری ہے کہ ان کی نہ کوئی سرکاری حیثیت ہے اور نہ اختیار۔ لیکن اس بار پوپلزئی سے زیادہ غلغلہ فواد چودھری نے مچایا اور قوم کو باقاعدہ طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ فریقین کو بلوچستان کی ساحلی پٹی پر نظر آنے والے چاند نے بمشکل ایک پیج پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا‘ وگرنہ ملک میں چاند کے مسئلے پر حکومت بمقابلہ حکومت نے صورتحال خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اس سارے ڈرامے میں سب سے کمزور اور قابل اعتراض کردار اپنے وزیراعظم عمران خان تھا۔ آپ کہیں کہ اس ساری بدانتظامی میں عمران خان کہاں سے آ گئے؟ تو عرض ہے کہ جب ان کی ماتحت دو وزارتیں باہم برسرپیکار تھیں تو ایسے میں انہیں دو میں سے ایک کام کرنا چاہئے تھا۔ پہلا یہ کہ وہ صدارتی آرڈی نینس جاری کرواتے، رویت ہلال کمیٹی کو فارغ کرتے‘ چاند دیکھنے کی ذمہ داری علامہ فواد چودھری پوپلزئی کو دیتے اور مفتی منیب الرحمان کو گھر بھیج دیتے۔

دوسری صورت یہ تھی کہ وہ فواد چودھری کو شٹ اپ کال دیتے اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اس کا کام کرنے دیتے‘ لیکن وہ حسب معمول تماشا دیکھنے میں لگے رہے۔ حسب معمول کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ سال میں عمران خان صاحب ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت کرنے کے دوران آپس کی نوک جھونک کا ڈرامہ اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ وہ اس میں باقاعدہ لطف لینے کے درجے پر فائز ہو چکے تھے۔ ان کی یہ عادت وزیراعظم بننے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی اور اب وہ اپنی کابینہ میں وزرا کو باہمی چونچ لڑاتے دیکھ کر لطف لیتے ہیں۔ یہ بات منطقی طور پر درست ہے کہ چاند دیکھنے کیلئے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید طریقے اپنائے جانے چاہئیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی نئے سرے سے تشکیل بھی ہو جانی چاہئے اور علماء کے ساتھ ساتھ فلکیات، موسمیات اور دیگر متعلقہ سائنسی علوم سے تعلق رکھنے والے افراد کی مناسب تعداد کو اس کا حصہ بنانا چاہئے۔ محض علما پر اس کا انحصار ختم کیا جائے اور چاند کو آنکھوں سے دیکھنے کے ساتھ اس علمی اور سائنسی طریقہ کار کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا چاہئے جو جدید دنیا میں اب حقیقت بن چکا ہے اور جس میں چاند کی پیدائش، اس کے نظر آنے کا وقت اور اس علاقے کا تعین شامل ہے جہاں چاند نظر آنے کے امکانات روشن ہوں۔ لیکن اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی درکار ہے اور اس کے بغیر کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی سرکاری حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے ایک قانونی طور پر مجاز فورم کی موجودگی میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کھڑی کرے اور قوم کو یکجا کرنے کے نام پر مزید تقسیم کرے۔
فواد چودھری کو میڈیا میں رہنے کا ٹھرک ہے اور بیان بازی کی ہڑک ہے۔ وزارت اطلاعات ان کے پاس تھی تو وہ اپنا یہ ٹھرک اور ہڑک پوری کرتے رہتے تھے۔ پھر انہیں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی خاموش طبع وزارت عطا کر دی گئی۔ سائنسی ترقی کا بنیادی مرکزہ ریسرچ ہے جو خاموشی، یکسوئی، سکون اور سوچ بچار کی متقاضی ہے۔ بھلا اس میں بیان بازی اور دکانداری کی گنجائش کہاں نکلتی ہے؟ مگر چوہدری صاحب کے ذہن رسا نے اس میں بھی اپنا پسندیدہ شغل دریافت فرما لیا اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے بلکہ زیادہ مناسب الفاظ میں مولویوں سے مجادلہ فرما لیا۔ قوم کورونا کی وبا میں مبتلا ہے۔

چاہئے تو یہ تھا کہ وہ قوم کو خوشخبری سناتے کہ ہم نے وینٹی لیٹرز پر غیر ملکی انحصار ختم کر دیا ہے اور جدید قسم کا سٹیٹ آف دی آرٹ وینٹی لیٹر ملک میں ہی تیار کر لیا ہے جو چاند رات کو ایک تحفے کی صورت میں قوم کو دیں گے۔ یا یہ کہ ہم نے کورونا ویکسین کی تیاری میں کافی پیش رفت کر لی ہے اور عید کے بعد اس کو مریضوں پر آزمائشی طور پر ٹیسٹ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ مگر ہوا کیا؟ قوم کو اور قسم کے مسئلے کا سامنا تھا اور وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے قوم کو چاند کے چکر میں ڈال دیا۔ جو کام برسوں سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی غیرسرکاری حیثیت میں صرف ایک صوبے کی حد تک سرانجام دے رہے تھے وہ کام وزیر موصوف نے سرکاری حیثیت میں پورے ملک کی حد تک پھیلا دیا۔ میں ذاتی طور پر اس بات سے متفق ہوں کہ مفتی منیب الرحمان کو بھی چاند کا اعلان کرتے ہوئے فواد چودھری کی نمازوں کا حساب نہیں مانگنا چاہئے تھا کہ یہ وہ سوال ہے جو اللہ نے بندوں سے کرنا ہے اور بندوں کو بندوں سے یہ سوال شاید زیب نہیں دیتا‘ لیکن صرف ایک سوال کی آڑ لے کر مذہب بیزار لوگوں نے وہ طوفان کھڑا کیا ہے کہ اس اڑائی گئی دھول میں فواد چودھری کی ساری شر انگیزی دب کر رہ گئی ہے اور حکومتی سطح پر چاند کو متنازع بنانے کا یہ فعل اس ایک بات پر چھپ گیا ہے۔ اگر فواد چودھری کے پاس وزارت نہ ہوتی اور وہ یہ سب کچھ صرف اپنی انفرادی سطح پر کرتے تو اسے ایک فرد واحد کا نقطہ نظر کہا جا سکتا ہے مگر وزارت کا قلمدان رکھنے کے بعد ان کی یہ حرکت انفرادی سطح پر نہیں سرکاری طور پر تصور ہوگی۔ اگر انہیں اپنا مؤقف اتنا عزیز تھا تو وہ وزارت سے مستعفی ہوتے اور اپنا مقدمہ قوم کے سامنے پیش کرتے۔ لیکن اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ موصوف کو ایک متنازعہ موضوع درکار تھا جس پر سوار ہو کر وہ میڈیا میں اِن ہو سکتے اور یہ بات تو طے ہے کہ فواد چودھری اور شیخ رشید کو اپنی وزارت کے کرنے والے کاموں سے زیادہ دلچسپی اس بات میں ہے کہ وہ خبروں میں رہیں۔ فواد چودھری نے اس مسئلے پر اپنا سارا زور چاند پر لگا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں جدید تحقیق اور سائنسی ترقی صرف اور صرف اس لیے نہیں ہو پا رہی کہ چاند دیکھنے کی ذمہ داری مولویوں کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے اور اگر یہ مسئلہ وزیر سائنس کے سپرد کر دیا جائے تو ملک میں ریسرچ کے دریا کے سامنے جو بند بندھا ہوا ہے وہ ہٹ جائے گا۔ زرعی اجناس کے اعلیٰ بیج بھی اسی چاند کے مسئلے کی وجہ سے ایجاد نہیں ہو پا رہے۔ جدید مشینری بھی اسی وجہ سے امپورٹ کی جا رہی ہے۔ وینٹی لیٹرز کے بننے میں بھی اسی چاند کے مسئلے کی وجہ سے پیشرفت نہیں ہو رہی۔ جدید تحقیق کے سارے ادارے مسلسل روبہ انحطاط ہیں۔ کسی بھی شعبے میں تحقیق کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہے۔ زرعی تحقیق ترقیٔ معکوس پر ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں نصاب ناکارہ اور متروک ہے اور وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو چاند چڑھانے کی پڑی ہوئی ہے۔ انہیں اگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے کوئی پرخاش یا مسئلہ ہے تو براہ کرم پریس کانفرنس کرنے کے بجائے کابینہ اجلاس میں بات کریں‘ چاند دیکھنے کی ذمہ داریوں کا از سر نو تعین کروا لیں اور اسے قانونی حیثیت دلوا دیں۔ اس عاجز کو اس سارے عمل پر رتی برابر اعتراض نہیں ہوگا لیکن یہ کیا؟ قوم کی پرانے پوپلزئی سے جان نہیں چھوٹی تھی کہ اب نئے پوپلزئی سے پالا پڑ گیا ہے۔