عید جو کھو گئی- محمد اظہارالحق

سِن اس وقت کچا تھا۔
یہ گائوں تھا‘ نہ شہر جہاں ہم رہتے تھے۔ قصبہ تھا۔ چھوٹا نہ بڑا۔ بس اتناکہ اس میں بڑا بازار تھا! لڑکوں کا ہائی سکول تھا اور لڑکیوں کا بھی۔ ہسپتال تھا جہاں ایک ہی ڈاکٹر ہوا کرتا۔ ایک معمر شخص وہاں ڈسپنسر تھا جسے قصبے والے ''کمپوڈر‘‘ کہاکرتے۔ وہ زمانہ مکسچروں کا تھا۔ نظامِ ہضم درست کرنے کیلئے لال رنگ کا ایک مکسچر عام تھا۔ ذائقہ اس کا کچھ کچھ کھٹا ہوتا۔ اگر حافظہ غلطی نہیں کررہا تو اسے ''28 نمبر‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس ڈسپنسر نے ایک دن مجھے آڑے ہاتھوں لیا۔ میں چوتھی یا پانچویں میں پڑھتا تھا۔ پوچھنے لگا: تم تو پڑھے لکھے گھر سے ہو‘ بتائو بیوی کے بھائی کو کیا کہیں گے؟ جواب میں میں نے ہونّق پن کا ثبوت دیا تو اس نے بتایا: برادرِ نسبتی! ان دنوں گھر میں گلستانِ سعدی سبقاً سبقاً پڑھ رہا تھا۔ بوستانِ سعدی پڑھائی جا چکی تھی۔ برادرِ نسبتی کا لفظ ان میں کہیں بھی نہیں آیا تھا!! اس کے بعد جب بھی ہسپتال جاتا‘ جو ہمارے گھر کے نزدیک ہی تھا‘ تو اُس سے میں خائف ہی رہتا کہ کہیں پھر نہ امتحان لینے بیٹھ جائے!
بتانے کی بات جس سے قصبے کا ذکر شروع ہوا‘ وہ میلہ تھا جو عید کے دن شروع ہوتا اور چار پانچ دن رہتا۔ قصبے کے جنوب مشرقی کنارے غضب کی رونق ہوتی۔ کیا ان دنوں یقین کیا جا سکتا ہے کہ چوتھی‘ پانچویں جماعت کا بچہ‘ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لیے‘ قصبے کے ایک سرے سے چلنا شروع کرتا ہے اور دوسرے سرے پر پہنچ کر میلے میں شریک ہوتا ہے؟ کیا وہ اور کوئی زمانہ تھا یا وہ کوئی اور دنیا تھی؟ع
یا وقت کوئی اور تھا یا اُس کی ہوا تھی!
گم ہونے کا خوف تھا نہ اغوا کیے جانے کا ڈر!
رستہ بھولنے کا بھی اندیشہ نہ تھا کہ سب لڑکے لڑکیاں‘ بڑے‘ چھوٹے اُسی سمت جا رہے ہوتے! میلے کی یاد آئی ہے یا ذہن میں طلسم کدہ کھل گیا ہے! کچے فرش سے مٹی اڑ رہی ہوتی۔ لوگوں کے چلنے سے دھول اٹھتی۔ رنگا رنگ دکانیں تھیں۔ بڑے تھالوں میں سجی‘ گہرے سُرخ‘ کچھ کچھ اورنج رنگ کی جلیبی سب سے زیادہ جاذبِ نظر ہوتی۔ لال‘ پیلے‘ ارغوانی رنگوں کے شربت ہوتے۔ چنے اور لال لوبیے کی چاٹ ہوتی! پکوڑے اور سموتے ہوتے۔

طرح طرح کی مٹھائیاں بھی! اُس علاقے کی خاص سوغات مکھڈی حلوہ الگ گرم گرم بک رہا ہوتا!
یہی ہمارا فاسٹ فوڈ پزا تھا۔ یہی ہمارا برگر تھا۔ یہی ایپل پائی تھی۔ یہی چاکلیٹ تھی۔ برف کے میٹھے گولے ہماری آئس کریم تھی۔ ہم خوش تھے! بہت خوش! ہم اس اذیت سے ناآشنا تھے کہ فلاں لڑکے کے پاس زیادہ پیسے کیوں ہیں‘ نہ ہمیں یہ تجسس ہوتا کہ وہ کیاکھاتا‘ کیا پیتا اور کیا پہنتا ہے!
آج کے معیار‘ آج کے نخرے اور آج کی نام نہاد ''ہائیجین‘‘ کے اعتبار سے یہ سب اشیائے خورونوش سخت مضر تھیں۔ ان پر گرد بھی تھی۔ مکھیاں بھی یقینا ہوں گی! تولنے والے اور پلیٹوں میں ڈال کردینے والوں کے ہاتھوں پر دستانے بھی نہ تھے۔ مگر کیا جادو تھا کہ ہمارا پیٹ خراب ہوتا نہ گلا! شاید یہ عافیت کا احساس تھا‘ تحفظ کا یقین تھا یا اندر سے پھوٹتی کوئی ایسی طمانیت تھی جو سب کچھ ہضم کرا دیتی۔
سب سے بڑا چارم میلے کا وہ آئٹم ہوتا جس میں ڈبے سے خانے ہوتے۔ دودو نشستوں والے۔ یہ سارے ڈبے پہلے اوپرجاتے‘ پھر نیچے آتے۔ ایک بڑے سے دائرے میں گھومتے۔ یہ اس زمانے کا رولر کوسٹر تھا۔ اس پر بیٹھ کراوپر جاتے وقت اور تیزی سے نیچے آتے ہوئے دل میں تھوڑا تھوڑا ہول اٹھتا اور مزہ بھی آتا۔ پھر اس سٹال پر جاتے جہاں ایک دوربین نما شے آنکھوں سے لگاتے۔ کبھی اس میں ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے ٹکڑے آپس میں مل کرپھول اور ڈیزائن بناتے‘ کبھی اس میں کچھ عمارتیں دکھائی دیتیں‘ شاید مکہ مدینہ کے مقدس مقامات! پھر ایک طرف فوٹوگرافر ہوتا جو فوٹو کھینچتے وقت‘ اپنا سرکالے کپڑے میں چھپا لیتا۔ تب تصویر کھنچوانے میں کافی دیر لگتی تھی۔ آج کی طرح صرف کلک نہیں کرنا ہوتاتھا!
دوپہر سہ پہر میں تبدیل ہونے لگتی۔ سائے لمبے ہونے لگتے مگر تھکاوٹ نام کی کوئی شے ہمیں لاحق نہ ہوتی۔ شاید ہم تب اس تماشے سے نکلتے جب پیسے ختم ہوجاتے! ہمیں دن بھر کی اس عیاشی کے لیے زیادہ پیسے کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ پیسے کی کیاقدر تھی؟ اس کااندازہ اس بات سے لگائیے کہ پانچویں جماعت میں وظیفے کا امتحان دیا۔ ضلع اٹک کیلئے یہ امتحان ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے آبائی قصبے بسال کی بغل میں واقع ایک گائوں دومیل میں لیا جاتا۔ امتحان میں کامیابی ہوگئی۔ آج کل کی اصطلاح میں میں ''سکالرشپ ہولڈر‘‘ ہو گیا۔ آپ کا کیا خیال ہے ماہانہ وظیفے کی مقدار کیا تھی؟ چار یا شاید پانچ روپے! یہ تین سال ملتا رہا۔ یہاں تک کہ آٹھویں جماعت کے اختتام پر ایک اورامتحان ہوا۔

روپے کی قدربتدریج کم ہوئی۔ اکبر عمر کوٹ میں 1542ء میں پیدا ہوا۔ ہمایوں کے رفقاکا بیان ہے کہ عمر کوٹ میں انہیں ایک روپے کی چار بکریاں مل جاتی تھیں۔ انگریز افسر کے پائوں کی ٹھوکر سے کوئی ہندوستانی نوکر مرجاتا تو وائسرائے کی حکومت اس قتل کی سزاکے طور پر اسے دو روپے جرمانہ کرتی۔ اس کالم نگار کے داداجان اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ گائوں کے فلاں شخص سے گائے پندرہ روپے میں خریدی! یہ شاید 1930ء یا 40 کی دہائی کا قصہ تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران سکالرشپ کی رقم ایک سو ستر روپے ماہانہ تھی۔ ایم اے کا طالب علم ہونے کی وجہ سے ہوسٹل میں الگ کمرہ ملا۔ ایم اے سے نیچے‘ آنرز کے طلبہ‘ ایک کمرے میں دو دو رہتے! کمرے کا کرایہ سولہ روپے ماہانہ تھا۔ پورے مہینے کے ناشتے پر تیس روپے خرچ ہوتے۔ ناشتے میں ایک انڈہ‘ ڈبل روٹی کے ٹوسٹ‘ یا دلیہ‘ اور ایک کیلے کے علاوہ ڈیڑھ پائو دودھ بھی شامل تھا۔ بنگال میں دودھ گھی کھانے کا رواج نہیں۔ بنگالی دوستوں نے مشہورکر رکھا تھاکہ یہ ہرروز ڈیڑھ کلو دودھ پیتا ہے۔ مَیس کے کھانے کا بل ستر روپے ماہانہ تھا‘ جس میں اکثروبیشتر بریانی‘ روزانہ شام کو سویٹ ڈش اور عموماً مرغی ہوتی! ادھ پکے ناریل کا پانی چار آنے میں ملتا۔ 1980ء میں پہلی بار یورپ جانا ہواتو ڈالر دس ساڑھے دس روپے کا مل جاتا تھا۔ پھر ہمارے روپے کو دیمک چاٹنے لگی۔ آج ایک ڈالر ایک سو اکسٹھ روپے کا ہے۔ بھارت میں ڈالر 76 روپے کا اور بنگلہ دیش میں 85 ٹکہ کا ہے! ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں روپے کی قدر اورانسان کی قدر یکساں رفتار سے نیچے کی طرف گئی!
واپس عید کی طرف آتے ہیں۔ عید جو کھو گئی! جس طرح بچے کی چوّنی گرتی تھی اور وہ نیچے مٹی میں اُسے ڈھونڈتا تھا‘ اسی طرح بچے کی عید بھی کھوگئی۔ جتنی بھی مٹی پھرولیں‘ یہ عید کبھی نہیں ملے گی! عید کبھی ہم قصبے میں مناتے اورکبھی اپنے آبائی گائوں میں۔ دونوں میں بہت فرق ہوتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہرگائوں میں جمعہ کی نماز پڑھی جاتی نہ عید کی! علاقے میں کسی بڑے گائوں میں جمعہ اور عیدکی نماز ہوتی تو لوگ پیدل چل کر‘ یا گھوڑوں پر سوار ہو کروہاں جاتے۔ گائوں میں میلہ نہ ہوتا‘ پھر بھی گائوں کی عیدکا اپنا ذائقہ تھا۔ صبح اٹھتے تو نانی یا دادی کھیر اور حلوہ پکاچکی ہوتیں۔ نئے کپڑے اور نئی پشاوری چپل پہنی جاتی! ہرگھر‘ ہر دوسرے گھر کو عید کی خاص ڈش بھیجتا‘ گلیوں میں ٹرے اٹھائے ہوئے لڑکوں‘ لڑکیوں کا تانتا بندھ جاتا۔

دس بجے تک کھانے سے فراغت ہوچکتی۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتا۔ گائوں کے مرد اور عورتیں آتیں۔ یہ ایک طرح کی عیدملن ہوتی۔ مردانہ اور نسوانی بیٹھکیں الگ الگ ہوتیں مگر مخلوط محفلیں بھی گائوں کے کلچرکا حصہ تھیں۔
دوپہرکے وقت گائوں کے مشرقی کنارے واقع‘ سیڑھیوں والے بڑے پختہ تالاب کے اردگرد جمگھٹا ہوتا۔ آسماں بوس درخت کی سب سے موٹی ٹہنی کے ساتھ مضبوط رسّوں والی پینگ ڈالی جاتی۔ دو جوان اور توانا عورتیں‘ اُس پر کھڑے ہو کر یوں جھلاتیں کہ دونوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف ہوتا۔ ہر عورت اپنی باری پر پینگ کواونچا سے اونچا لے جانے کی کوشش کرتی۔ یہ عید کھوچکی۔ اس میں لوگ ایک دوسرے کوعید مبارک کہنے اس لیے نہیں جاتے تھے کہ نوکری پکی کریں یا بزنس حاصل کریں۔ اب تو عیدکی شام کو ایک احساسِ زیاں ہوتا ہے کہ جس کاانتظار تھا وہ عید آئی اور گزر بھی گئی! جیسے کوئی خالی ہاتھ پلٹ آئے۔ تب ایسا نہیں تھا۔ تب عید گزر جانے کے بعد لذّت جیسے دوچند ہوجاتی تھی!