ایک مسلم پروڈکشن ہاؤس کی ضرورت- اوریا مقبول جان

دنیا میں کسی آمر، ڈکٹیٹر یا فرعون صفت حکمران نے بھی اپنے مخالفین کی آوازوں کو اس قدرنہیں دبایا ہو گا،جسقدر جدید سیکولر لبرل اور آزاد میڈیا نے اسلام، اس کی عظمت رفتہ اور اس کی نشاۃ ثانیہ کی علمبردار آوازوں کا گلا گھونٹا ہے،یہاں تک کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔ آزادیٔ اظہار کا علمبردار یہ میڈیا جدید دنیا کا سب سے بڑا فرعون ہے، جو اپنے سیکولر، لبرل اور نیم فحش تصورِ اظہار کے مقابلے میں ذرا سی آواز بھی سننا پسند نہیں کرتا اور چوبیس گھنٹے اپنی مرضی کے خیالات، اپنے تصورِ زندگی اور اپنی اخلاقی پستی کا زہر عوام کے کانوں میں انڈیلتا اور آنکھوں کے رستے ذہن کے پردوں کو آلودہ کرتا رہتا ہے۔ گذشتہ تقریبا بیس سالوں میں پاکستان میں اس نو آزاد میڈیا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم عوام کو وہ کچھ دکھائیں گے جو اصل میں عوام دیکھنا چاہتے ہیں،اسلئے کہ ماضی کے حکمرانوں نے لوگوں کو سچ نہیں دکھایا۔ مگر انہوں نے اس دعوے کے برعکس جھوٹ کو اپنا اوڑھنابچھونابنالیا۔مشرف حکومت کی لادینیت اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی برہنہ تلوار اس آزاد میڈیا کے ہاتھ میں ایسی آئی اور انہوں نے ہر اس تصور کو مسخ کرنے کی کوشش کی جو مسلمانوں کے دلوں اور اذہان میں عظمت رفتہ کے روشن چراغوں کی طرح آج تک زندہ تھا۔ حالات حاضرہ کے چینلوں پر وہ ہر آواز کا جو مسلمانوں کی غیرت و حمیت کی علمبردار تھی، اسکایہ کہہ کر بائیکاٹ کیا گیا کہ اس کے خیالات نفرت انگیز (Hate speech) میں آتے ہیں،یہ متعصب چینل خود کو ایک منصوبے کے تحت آزاد اور وسیع المشرب ثابت کرنے کے لئے اسلام کے حوالے سے کمزور آوازوں، بیچارے معصوم علماء کرام اور جذباتی نوجوانوں کو بلاکر، ان کے لتّے لیتے اور یوں انہیں بے عزت کرتے۔ اس کی متعصب ترین مثال یہ ہے کہ "کاروکاری" دراصل سندھی تہذیب کا معاملہ ہے جس کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، اسی طرح "سوارا" یا" خون کے بدلے عورتوں کا رشتہ"دراصل پشتون تہذیب کا مسئلہ ہے۔ لیکن جب بھی کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا، یہ ٹی وی اینکرز کسی سندھی قوم پرست کو بلاکر رسوا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی پشتون قوم پرست سے پشتو روایت کاپوچھتے بلکہ مولویوں کوبلا کر اسلام کو رسوا کرتے۔ حالات حاضرہ کے چینلوں کے آغاز اور ٹاک شوز کی آمد نے پاکستان میں مقبول ترین ڈرامے کی صنعت کو اسقدر تباہ و برباد کیا کہ نوّے کی دہائی میں جو پرائیویٹ پروڈکشن اپنے عروج پر تھی، اس کے ایوانوں میں دھول اڑنے لگی۔ لاتعدادڈرامے ڈبوں میں بند ہوکر گوداموں کی زینت بن گئے۔

چند سالوں بعد جب ٹاک شوز ذرا اپنی جاذبیت اور افادیت کھونے لگے تو اس ملک کے سیکولر، لبرل اور مغرب زدہ طبقے نے ایک خاص مہم کے تحت ایسی کہانیوں پرڈرامے بنانا شروع کیے جو خاندانی زندگی کی بربادی، مقدس رشتوں کی پامالی اور نیم فحش مکالموں پر مبنی تھیں۔ اس زہر آلود فضا سے آہستہ آہستہ لوگوں کو ایک ایسے معاشرے کے خواب دکھائے گئے جس میں اسلام تو دور کی بات، خاندان کے مقدس رشتوں کا احترام بھی ریزہ ریزہ ہو کر رہ گیااور لوگوں کومغرب زدہ اقداراورہندو زدہ تہذیب کادرس دیاجانے لگا۔ پاکستان میں عوام کے جذبات سے کوسوں دور لبرل، سیکولر اور الحاد پرست طبقے کی محنت اکثربربادہو جاتی ہے۔ تقریبا چالیس سال انہوں نے بھارت اور پاکستان کے یکساں کلچر کی بات کی، واہگہ پر جاکر مشعلیں جلائیں، انڈین ڈرامے دکھائے، اس پر مستزادیہ کہ انہیں ایسے مددگاروزرائے اعظم بھی ملے جو فخرسے کہتے تھے کہ ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں اور بھارت والے بھی، لیکن یہ ساری محنت اس وقت ضائع ہو گئی جب کلکتہ میں بھارت میچ ہارا،تو سٹیڈیم میں آگ لگا دی گئی، احمدآباد میں میں ہارا تو سٹیڈیم خالی ہوگیا اور اب تویہ عالم یہ ہے کہ نریندر مودی نے سیکولر لبرل جمہوری نظام کا زور دار تھپڑپاکستان کے ان کے لبرل سیکولر چہرے پر ایسا جڑا کہ انکے منہ سے بات نہیں نکل رہی۔ دوسری جانب بیس سالہ مسلسل محنت تھی جو ڈرامے اور فلم کے میدان میں کی گئی۔ تازہ ترین "میرے پاس تم ہو" کا نشہ ایسا چڑھا ہوا تھا کہ سب سوچ رہے تھے کہ اب اس تہذیب بگاڑنے والے ڈرامے کی بانسری خوب بجے گی۔لیکن خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد ارطغرل غازی پر مبنی ڈرامے کی پاکستان ٹیلی ویژن پر اردو ڈبنگ کے ساتھ نمائش نے ان کی مقبولیت کے تمام محل مسمار کردیئے۔ اس ڈرامے کودیکھنے والے پی ٹی وی کے مجبورناظرین نہیں تھے بلکہ یہ تو یوٹیوب پر دیکھنے والے کمپیوٹر زدہ افرادتھے۔یہ وہ تھے جن کے ذہنوں کو مدتوں زہر آلود کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی تھی۔ اس ڈرامے کویوٹیوب پر صرف 18 دنوں میں دس کروڑ مرتبہ دیکھ کر عوام نے ایک ریکارڈ قائم کر دکھایا۔ پی ٹی وی نے 18 اپریل کو یوٹیوب چینل بنایا جس کے ایک ماہ کے اندر تیس لاکھ سبسکرائبرز ہوگئے اور ایک ماہ میں اسے اکیس کروڑ دفعہ دیکھا گیا۔ اس کی پہلی قسط اب تک چارکروڑ دفعہ دیکھی جا چکی ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ جدید سیکولر لبرل میڈیا کی آمریت نے جس طرح پاکستانی قوم کے دلوں میں راج کرتی مسلم امت کے ہیروز کا راستہ روکا تھا، ارطغرل ڈرامے نے وہ مصنوعی بند پاش پاش کر دیا۔

ارطغرل نے ثابت کردیا کہ تم ایک ہزار سال بھی اپنے پراپیگنڈے کا زہر اور نیم فحش تہذیب کی چاشنی سے مسلمانوں کے ذہن زہر آلود کرنے کی کوشش کرو، یہ نہیں بدلتے۔ تمہاری محنت ہمیشہ رائیگاں جائے گی۔ کیا اس امت میں صرف ایک ارطغرل ہے جس کی شخصیت لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن سکتی تھی۔ ہمارا دامن ایسی لازوال شخصیات سے بھرا پڑا ہے۔ کیا ہم صلیبی جنگوں کی تاریخ پر فلموں اور ڈراموں کا سلسلہ نہیں شروع کر سکتے ،جس میں یورپ کی بربریت اور صلاح الدین ایوبی کے کردار کی عظمت کو دکھائیں۔ آج سے بیس سال قبل جب قبائلی رسم و رواج پر میرا ڈرامہ سیریل گردباد نشر ہوا تو اس کو کتابی صورت میں چھاپتے ہوئے میں نے دیباچے میں تحریر کیا تھا " اکثر ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے سیریل دیکھا ہوتا ہے وہ کتاب نہیں پڑھتے اور جو کتاب پڑھ لیتے ہیں وہ سیریل نہیں دیکھتے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ دونوں کام کر گزرتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی ایک فیصلہ پر ضرور پہنچتے ہیں۔ وہ یہ کہ ایسا کہنہ مشق ہدایتکار ہی تھا ورنہ تحریر میں تو جان نہ تھی یا پھر یہ کہ ڈراما پڑھ کر پتہ چلا کہ اسے کسی بہتر پیش کار کی ضرورت تھی۔بیس سال پہلے یہ میرا خواب تھاکہ کوئی بہتر سہولیات ڈرامے کومیسر ہوں لیکن آج یہ میری آرزو ہے۔" اگر الیگزینڈر سے لے کر قلوپطرہ اور سیزر سے لے کر چنگیزخان تک مغرب کے ہالی ووڈ کا چہرہ ہے تو عمرؓ ابن خطاب سے لے کر خالدؓ بن ولید اور محمود غزنوی سے لیکر محمد بن قاسم تک ہماری میراث ہیں۔ کون ہے جو اورنگزیب عالمگیر کے چہرے سے جھوٹی تاریخ کا نقاب الٹے، محمد بن قاسم کے کردار سے پراپیگنڈے کا زہر ختم کرے۔ لوگ یہ سب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ جنگ میڈیا کی جنگ ہے۔ آج کے دور کا ہتھیار میڈیا ہے۔ جس طرح طالبان نے ایک عالمی طاقت کو ذلت آمیز شکست دی ہے ایسا اگرکسی امریکی یامغربی دنیا میں ہوا ہوتا تو ملا محمد عمر سے لے کر مولاناہیبت اللہ تک لاتعدادسیریل بن چکی ہوتیں۔ کوئی ہے جو اپنے سرمائے کا رخ اس طرف موڑے اور ایک مسلم پروڈکشن ہاؤس کا آغاز کرے۔ یقین کیجیے یہ دنیا میں بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا اور آخرت کا اجر تو یقینی ہے۔