سفرِ حرم کی خیر کو پوری زندگی پر پھیلائیں - ڈاکٹر زاہدالرحمٰن کھو کھر

پچھلے دس بارہ برسوں میں اللہ تعالی نے مجھے متعدد مرتبہ حج، عمرہ اور دفتری کام کے سلسلے میں مکہ اور مدینہ کی حاضری کا موقع عطا کیا۔ دیارِ حرم کی بےشمار یادوں میں سے جو نظارہ مجھے ہمیشہ سب سے متاثر کن لگتا ہے، وہ ماہِ رمضان میں سحر اور خاص طور پر افطار کا سماں ہے۔ حدِ نگاہ تک کھانے پینے کی چیزیں سجی ہوتی ہیں۔ جا بجا کھانے کے سامان سے لدی گاڑیاں مختلف ماکولات بانٹتی نظر ٓاتی ہیں۔ میزبان ایک مسکراہٹ سے اپنے مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا دستر خوان سب سے پہلے بھر جائے۔

رمضان کے علاوہ بھی کھانا اور مشروبات بانٹنے کے مظاہر دیارِ حرم میں کثرت سے مل جاتےہیں۔ خواہ وہ مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی کی اندرونی جگہ ہو یا آس پاس کا علاقہ۔ حج کے دنوں میں مکہ کی حدود میں داخلے سے واپس ایرپورٹ پہنچنے تک کوئی ایسا پڑاؤ کم ہی ملے گا جہاں کوئی نہ کوئی شخص آپ کو کھانے پینے کی اشیاء بانٹتا نہ دکھائی دے۔ اِن دو موسموں کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی عصر کی نماز کے بعد دونوں مساجد میں مقامی مخیر حضرات اور دوسرے لوگ عربی قہوہ اور چائے سے بھرے تھرماس لے کر آجاتے ہیں اور سرِ شام مشروبات کو تقسیم کرنے کے لیے دستر خوان بچھا دیئے جاتے ہیں ۔ زیادہ تر میزبان اِن مشروبات کے ساتھ کھجوریں، پنیر، خُبز (عربی روٹیاں) اور دوسرے لوازمات بھی پیش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ عام طور پر عشاء کے بعد تک چلتا ہے۔

خدمت ِحجاج اورعمومی سخاوت اہلِ حجاز کی قدیم اور مسلسل روایت ہے۔ اُن کے سقایة الحاج (حاجیوں کو پانی پلانے ) کا ذکر تو قر آن مجید نے بھی کیا ہے (سورة توبہ، آیت ۱۹)۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں سے آئے ہوئے زائرین بھی مختلف طریقوں سے اپنے ساتھی عازمینِ حج وعمرہ کی خدمت کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور دوسروں کی خدمت کے یہ مظاہرے سفرِ حرمین میں جا بجا نظر آتے ہیں ۔ یہ زائرین دوسرے مسافروں کی خدمت کے لیے بڑے انوکھے اور کئی بار کم خرچ طریقے ڈھونڈ نکالتے ہیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حرمین میں جاکر میزبانی اوردوسروں میں آسانی بانٹنے کے لیے لازم نہیں ہے کہ آ پ بہت مالدار اور صاحبِ حیثیت ہوں۔ بلکہ خدمت کا جذبہ اور تھوڑی سے کو شش آپ کے لیے بہت سی اضافی نیکیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

حرمین میں داخلے کو ہی لیجیے، انتظامیہ نے جوتوں کو محفوظ کرنے کے لیے دروازوں کے باہر پلاسٹک رول لگائے ہوتے ہیں۔ اندر داخل ہونے والے لوگ عام طور پر باری باری پلاسٹک کا ایک لفافہ اس رول سے اُتارتے ہیں جہاں رش کے اوقات میں اکثر قطارلگ جاتی ہے۔ بھلائی پھیلانے کے کچھ شائق وہاں کھڑے ہوجاتے ہیں اور جلدی جلدی پلاسٹک کے لفافے اُتار کر حرم میں داخل ہونے والوں کو پکڑانے لگتے ہیں۔

زم زم کے کولروں کے پاس نمازوں کے قریب اکثر خاصا اژدہام ہوتا ہے۔ خیر کے کچھ طلبگار وہاں آنے والوں کو زم زم کے گلاس بھر بھر کر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح صفا اور مروہ کے درمیان دورانِ سعی بہت سے لوگ زم زم کی سبیلوں کے پاس کھڑے مل جاتے ہیں جو آبِ شفا بھر بھر کر دوسروں کو پلا رہے ہوتے ہیں۔ سعی کے مرحلے تک پہنچ کر اکثر لوگ خاصے تھکے ہوتے ہیں اور اُس وقت ذرا سی آسانی بھی بہت بڑی لگتی ہے۔

اِسی طرح تہجد اور تراویح کے اوقات میں جب حرمین اور اُن کے اطراف میں حدِّ نگاہ تک انسانوں کا جمِ غفیر نظر آتا ہے، کچھ لوگ پلاسٹک کی بوتلوں میں زم زم بھر کے اور کچھ ڈسپوزیبل کپ پکڑ کر قطاروں میں بیٹھے نمازیوں کو مبارک مشروب پلانا شروع کردیتے ہیں (چین کی ایک نئی ایجاد کےسبب حرم میں پانی کی ایسی بوتلیں عام ہوگئی ہیں جو خالی ہوکر پلاسٹک کےایسے لفافے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جس کو ڈھکن لگا ہو اور جسے آپ آسانی سے تہہ کرسکیں)۔

مکہ اور مدینہ میں گرم موسم کی شّدت کے سبب زائرین کا پسینہ آنا ایک فطری امر ہے۔ نیکیوں کے بہت سے طلبگار اِس مشکل کو آسان کرنے نکل پڑتے ہیں اور ٹشو پیپر کے ڈبے لے کر حرمین کے دروازوں اور برقی زینوں کے پاس، صحنِ مسجد (مطاف) اور اُوپری منزلوں میں طواف کرنے والوں اور سعی میں مصروف خواتین و حضرات کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں جِن کو راہ چلتے لوگ حسبِ ضرورت نکال لیتے ہیں۔

کچھ اور لوگ اوپر بیان کی گئی جگہوں پر خوشبو کی شیشی لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آنے جانے والوں کے جسم اور لباس کو معّطر کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح کئی حضرات چند درجن تسبیحیں خریدکر حرم کے کسی رستے پر کھڑے ہوکر بانٹنے لگتے ہیں جو اکثر دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہوجاتی ہیں۔ مسجدِ حرام میں2019 کی عیدالفطر کے دن تہجد اور نمازِعید کے درمیانی عرصے میں مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا کہ کوئی نہ کوئی صاحب نمازیوں میں کھجوریں، بقلاوہ، ٹافیاں اور ملتے جلتے لوازمات اُس وقت تک بانٹنے میں مصروف رہے جب تک کہ نمازِ عید کا آغاز نہیں ہوگیا۔

اگر آپ حرمین شریفین میں حج یا عمرے کے سفر کے لیے پروگرام بنارہے ہیں تو اوپر ذکر کیے گئے کسی بھی کارِ خیر کو اختیار کرسکتے ہیں۔ حالات اور موقعے کے مطابق خواتین بھی اپنے دائرہ ِ کار میں مندرجہ بالا یا اِن سے ملتے جُلتے کاموں کے متعلق سوچ سکتی ہیں۔ اور نہیں تو آپ اپنے گروپ کے ساتھیوں کےکاموں میں اُن کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں اور انہیں حسبِ ضرورت رہنمائی مہیا کر سکتے ہیں۔

مگر آسانیاں اور خوشیاں بانٹنے کے اِن کاموں کو آخر سرزمینِ حجاز تک ہی کیوں محدود رکھا جائے۔ کیوں نہ ایسے مواقع ڈھونڈے جائیں جن سے ہماری مسجد، ہمارا علاقہ اورہمارا شہر ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا مظہر نظر آئے۔ اسی مقصد سے اوپر بیان کی گئی مثالوں سے اخذ کردہ کچھ مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

اپنی قریبی مسجد اور حلقے میں ایسے مواقع پیدا کریں جہاں آپ کسی متعین وقت پر کھانے کھلانے اور مشروب پلانے کا اہتمام کر سکیں۔ ملائشیا میں ایک دہائی سے زائدطویل قیام کے دوران میَں جس بلڈنگ (condominium) میں مقیم تھا وہاں کے رہا ئشی مدینہ منورہ سے آئے ہوئے ایک سعودی باشندے ہر جمعے کے دن عشاء کے وقت بلڈنگ کے مصّلے میں عربی قہوہ اور چائے اپنے گھر سے بنا کر لاتے۔ساتھ کھجوریں، کیک اور دوسرے لوازمات ہوتے اور نمازی حضرات)جو کم از کم دس بارہ ملکوں سے آئے ہوئے لوگ تھے(اس بیٹھک میں شریک ہوتے۔ ایک دوسرے کا حال احوال پوچھا جاتا اور آدھ پون گھنٹے تک مل بیٹھنے کا موقع مل جاتا۔

اسی طرح ملائشیا کی بیشتر مسجدوں میں یہ عام رواج ہے کہ نمازِ جمعہ کے بعد مخیّر حضرات کیلے، سیب یا کسی دوسرے پھل کی ایک دو پیٹیاں مرکزی دروازے کے آس پاس رکھ دیتے ہیں۔ عرب ممالک کی بہت سی مساجد میں ریفریجیریٹر رکھنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے جس میں انتظامیہ اور دوسرے لوگ پانی کی بوتلیں اور جوس وغیرہ رکھ دیتے ہیں جن کو نمازی حسبِ ضرورت لےسکتے ہیں۔

مسجدوں سے قطع نظرمیَں آج کل خلیج میں جس دفتر میں کام کرتا ہوں وہاں ہماری ایک ساتھی مقامی عرب خاتون تقریباً روزانہ گھر سے قہوہ بنا کر ایک تھرماس لے آتی ہے جو دفتر کے باقی ساتھی نوشِ جان کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح دفتر کے دوسرے لوگ بھی آئے روز اپنے ساتھیوں کے لیے کچھ نہ کچھ کھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

کھانے پینے کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے طریقوں سے آپ خیر کو پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

با ترجمہ قرآنِ مجید،احادیث کے انتخاب، دعاؤں کے مجموعے اور دوسری مفید کتب اپنے آس پاس کے لوگوں میں بانٹیے۔ صدقہ جاریہ کا عنصر اس عمل کو دوسرے کا ر ہائےخیر سے ممیز کرتاہے۔ بہت سے مشہور تراجمِ قرآن (جیسے مولانا مودودی، مفتی تقی عثمانی، فتح محمد جالندھری، مولانا محمد جونا گڑھی وغیرہ) کی قیمت پاکستان میں دو کلو مٹھائی سے بھی کم ہے۔ اسی طرح کسی کے گھر مہمان جاتے ہوئے احادیثِ رسول کے انتخاب کو لے لیجیے [جیسے زادِ راہ (مولانا جلیل احسن ندوی)، معارف الحدیث (مولانا محمد منظور نعمانی)، احادیثِ صحیحہ (سید مقبول حسین، فیروز سنز لمیٹڈ)، حسنِ اخلاق (الھدیٰ انٹرنیشنل) وغیرہ]۔ دعاؤں کی مشہور کتب [جیسے حصن المسلم (شیخ سعید بن علی القحطانی)، ایاک نعبد و ایاک نستعین (الھدیٰ انٹرنیشنل) وغیرہ] کے علاوہ پاکستان میں مذہبی کتابوں کے بیشتر ناشرین نے اب کئی بروشر تیار کیے ہیں جن میں صبح و شام کی دعایئں اور قرآن و حدیث سے اخذ کردہ دوسرے وظائف مل جاتے ہیں، ان کو لے کر ہی تقسیم کر دیجیے۔

اسی طرح تراجم اور تفاسیر کو انفرادی طور پر تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد میں بھی رکھوایا جائے تو زیادہ لوگ فائدہ حاصل کریں گے۔ ان سب کم کاموں میں دائمیت کا پہلو ہے اور یہ آ پ کے نامہِ اعمال میں اس وقت تک اضافے کا باعث بنتا رہے گا جب تک ان کتابوں کو پڑھنے والے پڑھتے اور عمل کرتے رہیں گے۔

آ پ کسی مارکیٹ سے ایک دو درجن خوبصورت تسبیحیں خریدیں اور ان کو کسی قریبی مسجد یا مصلے میں رکھوایئں یا ان کو کسی دوست کو تحفتاً دیجیے۔ ترکی کی اکثر مساجد میں آپ کو مرکزی محراب کے آس پاس ایک "تسبیح سٹینڈ " ضرور نظر آئے گاجس میں نمازیوں کے ذِکر کے لیے بڑے سائز کی کچھ تسبیحیں پڑی ہوتی ہیں۔ (یاد رہے کہ یہ کام آپ حج و عمرہ سے واپس آئے بغیر بھی کر سکتے ہیں)۔

بہت سے لوگ مسجد آتے ہیں تو تلاوت قرآن کرنا چاہتے ہیں۔ مگر نظر کا چشمہ ساتھ نہ ہونے کے سبب ایسا کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے حضرات کی آسانی کے لیے آپ معروف نمبروں کے چشمے (جیسے1، 1.5، 2، 2.5 اور 3 نمبر) مسجد میں ایک مخصوص جگہ پر رکھواسکتے ہیں۔ مسجد میں پڑے چشمے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہیں جوعموماً نظر کا چشمہ جیب میں نہیں رکھتے۔

عُود یا کوئی اور اچھی خوشبو خریدیں اور اسے مسجد میں رکھوا دیں، جہاں نمازی حسبِ خواہش اُس کو لگاسکیں۔ اسی طرح اگر آپ کے آس پاس کسی قریبی مسجد یا مصّلے میں ٹشو پیپر رکھنے کا رواج نہیں ہے تو آپ ٹشو پیپر لا کر رکھنا شروع کردیں۔

غرض بے شمار طریقوں سے آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور آسانیاں بانٹ سکتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کا سب سے محبوب شخص وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے نفع بخش ہو۔ اور اللہ عزّوجل کے نزدیک سب سے محبوب عمل یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کے لیے خوشی کا باعث بنو، اس کی کسی مشکل کو آسان کرو یا اس کا قرض ادا کرو یا اس کی بھوک مٹاؤ"
(صحیح الترغیب وا لترھیب، 2623)

Comments

زاہد الرحمٰن کھوکھر

زاہد الرحمٰن کھوکھر

زاہد الرحمٰن کھوکھر علم و ادب، اسلامی مالیاتی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور مطالعہ مذاہب سے شغف رکھتے ہیں۔ اسلامی مالیات میں پی ایچ ڈی ہیں اور اسی شعبے میں ملائشیا میں ایک بین الاقوامی ادارے کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور قائم مقام سربراہ رہ چکے ہیں۔ جہاں گردی اور سماجی بھلائی میں مشغول رہنا پسند کرتے ہیں۔ آج کل عمان میں مرکزی بنک سے منسلک ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محترم زاہد بھائی،
    ماشااللہ بہت عمدہ تحریر ہے۔ اسلامی معاشرے کا یہ خاصہ جو ہمارے ملک میں شاید ناپید ہو چکا اُسے سے اُجاگر کرنے اور معاشرے میں دوبارہ سے اپنی روح کے ساتھ اُجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ آپکی اِس کاوش کو قبول فرمائے، امین