چاند کی رؤیت: شرعی یا سائنسی مسئلہ؟ مغالطے ہی مغالطے - ڈاکٹر محمد مشتاق

ایک صاحبِ قلم لکھتے ہیں:
"اپنی جان بچانا شرعی مسئلہ ہے لیکن اگر سائنس مدد نہ کرتی تو آج بھی کروڑوں لوگ بھوک اور قحط کا شکار ہوتے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار انسان بھوک کے ہاتھوں مرنے کے خوف سے آزاد ہوا ہے۔"

یہاں مغالطے ملاحظہ کیجیے:
کیا واقعی انسان بھوک کے ہاتھوں مرنے کے خوف سے آزاد ہوا ہے یا یہ محض افسانہ ہے؟ کچھ نہیں تو ورلڈ فوڈ پروگرام کی ویب سائٹ سے ہی ڈیٹا اکٹھا کرکے دیکھ لیجیے۔ سائنس ہی کی وجہ سے وسائل پر بعض ممالک کی اجارہ داری کیسے قائم ہوئی ہے اور کیسے کروڑوں انسان ان کے محتاج بن کر رہ گئے ہیں، ہر کوئی بچشمِ سر دیکھ سکتا ہے۔ پہلے بھوک سے مرنے کے واقعات ہوتے تھے اور اب بھی ہوتے ہیں۔ سائنس نہ پہلے اس کا حل پیش کرسکتی تھی، نہ اب کرسکتی ہے، نہ آیندہ کرسکے گی کیونکہ اصل مسئلہ وسائل کی موجودگی کا نہیں، بلکہ انسان کی خود غرضی، حرص، سنگدلی، نفرت، کینہ، بغض اور دوسروں پر اقتدار کی ہوس جیسے امراض کا ہے جس کا علاج شریعت کے پاس ہی ہے۔

پھر اگر ان کی بات مان بھی لی جائے تو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ سائنس تو محض آلہ ہے جو کیمیاوی، جراثیمی، جوہری اور سائبر ہتھیار بھی بناسکتی ہے، اور ان ہتھیاروں سے انسانوں کے بچاؤ کی تدابیر بھی دے سکتی ہے۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ سائنس کو یہ یہ کرنا چاہیے یا وہ؟ اور یہ سوال عین شرعی سوال ہے۔

چلتے چلتے نوٹ کرلیں کہ سائنس ہمیشہ سے صاحبانِ اقتدار کی لونڈی رہی ہے۔ کبھی اس نے بادشاہوں اور شہزادوں کی قوتِ باہ میں اضافے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا تو آج یہ نت نئی عالمگیر وبائیں تخلیق کرنے کا فریضہ بھی بخوبی ادا کررہی ہے۔

آگے فرماتے ہیں:
"غلاموں کو آزاد کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے، لیکن انسان کو اس غیر انسانی ادارے سے نجات اس وقت ملی جب سائنس نے مشینیں ایجاد کرکے غلاموں کی ضرورت ختم کردی۔"

یہاں بھی وہی مغالطے ملاحظہ کیجیے:
کیا واقعی سائنس نے انسان کو غلامی سے نجات دے دی ہے یا اس نے غلامی کی ایسی نت نئی صورتیں تخلیق کی ہیں جن کا ماضی میں تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ اس پر کئی بار تفصیل سے لکھ چکا ہوں ۔ (جدید دور میں غلام اور باندی بنانے کا تصور) غلامی کی دوسری صورتیں چھوڑیں، صرف "شخص قانونی کی غلامی" (Corporate Slavery) پر ہی ذرا چاچا گوگل سے رہنمائی حاصل کرکے دیکھ لیں تو معلوم ہو کہ مغرب میں ہی، جہاں سائنس کی حکمرانی ہے، اس پر کیا کچھ لکھا جاچکا اور لکھا جارہا ہے۔ اور ہاں، مشینوں کی غلامی ، موبائل اور لیپ ٹاپ کی غلامی اور چاچا گوگل کی غلامی اس پر مستزاد ہیں۔
پھر سوچیے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ غلامی ختم ہونی چاہیے یا نہیں ، اور یہ عین شرعی مسئلہ ہے۔ سائنس اس میں مدد بھی کرسکتی ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر غلامی کی نئی صورتیں بھی پیدا کرسکتی ہے۔

مزید فرماتے ہیں:
"بیماری سے خود کو بچانا ایک شرعی مسئلہ ہے، لیکن اس کا علاج سائنس نے اس بڑے پیمانے پر تلاش کیا ہے کہ انسان کی اوسط عمر تیس چالیس سال سے بڑھ کر ساٹھ، ستر اور اسی سال ہوگئی ہے۔ بڑی بڑی ایسی بیماریاں جو ہزاروں سال سے انسانوں کو اپنا شکار کررہی تھیں، سائنس نے ان کا وجود دنیا سے مٹا دیا ہے۔"

پچھلی بحث کی روشنی میں یہاں بھی مغالطے بخوبی واضح ہیں، لیکن پھر تذکیر کےلیے سوال اٹھالیتے ہیں کہ سائنس نے ہزاروں سال سے موجود بیماریوں میں سے بہت سی بیماریوں کا علاج دریافت کرلیا ہوگا لیکن ہزاروں نئی بیماریاں تخلیق بھی تو کی ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ سائنس کو یہ کرنا چاہیے یا وہ، اور یہ عین شرعی مسئلہ ہے۔ سائنس محض آلہ ہے جسے یوں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور ووں بھی۔

اور ہاں، بیماری کے علاج کو سائنس کا مسئلہ قرار بھی دیا جائے تو یہ سوال رہتا ہے کہ علاج برائے علاج اور زندگی برائے زندگی ہے یا علاج پاکر اور زندگی کی مدت بڑھا کر کچھ اور مقصود حاصل کرنا ہے۔ کھانا پینا اور شہوانی ضرورت پوری کرنا تو جانوروں کا کام ہے۔ کیا انسان محض جانور ہے؟ اس سوال کا جواب سائنس کے پاس نہیں۔ یہ عین شرعی سوال ہے۔

مزید فرماتے ہیں:
"نمازوں کے اوقات کا تعین ایک شرعی مسئلہ ہے، لیکن سائنس کی مدد سے تیار کیے ہوئے دائمی کیلنڈر ہر مسجد میں لٹکے ہوئے ہیں۔"

مکرّر عرض ہے کہ یہ کوئی دلیل ہی نہیں ہے اور اس سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ دائمی کیلنڈر نہیں تھے، تب بھی نمازیں باقاعدگی سے وقت پر ہی پڑھی جاتی تھیں ۔ مزید یہ کہ سائنس تو محض لونڈی ہے۔ اہل مذہب کے ہاتھ لگی تو ان کی خدمت کرنے لگی، اہل دنیا کے ہاتھ لگی تو ان کا دل لبھانے لگی۔ خود ہی دیکھ لیجیے کہ سائنس نے نماز کی راہ میں کتنی رکاوٹیں ڈال دی ہیں۔ میں کورونا کا ذکر نہیں کروں گا۔ موبائل اور انٹرنیٹ کی مصروفیت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کےلیے وقت پر باجماعت نماز کی ادائیگی کتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ مثالیں اور بھی ان گنت موجود ہیں۔

مزید فرماتے ہیں:
"انسان کا معیار زندگی بلند کرنا شرعی مسئلہ ہے لیکن اسے عملی شکل دینا سائنس کی بدولت ممکن ہوا ہے۔"

یہاں ایک تو یہ نوٹ کرلیں کہ انسان کا معیار زندگی بلند کرنا شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی کیسے یوں بسر کرے کہ اس کی آخرت سنور جائے اور وہ وہاں کی ناکامی سے بچ جائے۔ اس کوشش میں اگر "معیارِ زندگی" بلند ہوتا ہے، تو وہ ایک ضمنی فائدہ ہے، اصل مقصود نہیں ہے۔

اس کے بعد مکرر نوٹ کرلیں کہ سائنس نے معیارِ زندگی تمام انسانوں کا نہیں بلکہ چنیدہ انسانوں کا بلند کیا ہے اور بہت سے لوگوں کی زندگی اس نے اجیرن کردی ہے۔

اور چلتے چلتے یہ ٹیپ کا بند پھر ملاحظہ کیجیے کہ اگر سائنس نے ایسا کیا بھی ہو تو کیا ہوا؟ وہ آلہ ہی تو ہے نا انسان کے ہاتھ میں، اور وہ انسان یہ آلہ یوں استعمال کرے یا ووں، یہ عین شرعی مسئلہ ہے۔

آگے فرماتے ہیں:
"غربت میں کمی ایک شرعی مسئلہ ہے لیکن آج صرف اسی معاشرے میں غریبوں کی تعداد کم ہوئی ہے جس نے سائنس میں ترقی کی ہے۔"
اس جملے پر وہی باتیں دوبارہ پڑھ لیجیے جو شروع میں قحط سالی کے خاتمے کے دعوے کے متعلق عرض کرچکا ہوں۔

مزید فرماتے ہیں:
"چاند دیکھنا ایک شرعی مسئلہ ہے لیکن مفتی منیب الرحمان عینک بھی لگاتے ہیں، دوربینیں بھی استعمال کرتے ہیں، موبائل فون پر ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی شہادتیں بھی موصول کرتے ہیں اور محکمہ موسمیات والوں سے مدد بھی حاصل کرتے ہیں۔۔ اس کے بعد پورے ملک میں ان کا اعلان بھی ٹی وی اور موبائل کے ذریعے پھیلتا ہے ۔۔ حتیٰ کہ جنرل افتخار بھی سائنس کی بدولت ایجاد ہونے والے موبائل فون پر انہیں رویت ہلال کی گواہی دیتے ہیں۔"

ہماری بحث کی روشنی میں یہاں کارفرما مغالطوں کی حقیقت بخوبی واضح ہے۔ سائنس لونڈی ہے، خدمت کررہی ہے۔ کس کی کررہی ہے، اس سے اسے غرض نہیں ہے۔ اصل سوال برقرار رہتا ہے کہ شرعی اصولوں کی روشنی میں کب روزہ رکھنا واجب ہوتا ہے اور کب عید کی نماز واجب ہوتی ہے۔

البتہ یہاں "عینک" پر ذرا مزید وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔ کئی لوگوں نے یہ "دلیل" دی ہے کہ عینک کے ذریعے رویت قابلِ قبول ہے تو ٹیلی سکوپ کے ذریعے کیوں نہیں؟ کیا وہ واقعی اس فرق کو نہیں سمجھ پارہے کہ جس شخص کی نظر کمزور ہو، عینک کے ذریعے اس کی نظر ایک عام انسان کے درجے تک آجاتی ہے، جبکہ ٹیلی سکوپ انسان کو وہ کچھ دکھاتی ہے جو وہ صرف آنکھ سے دیکھ ہی نہیں سکتا ۔ دونوں کو یکساں کیسے فرض کیا جاسکتا ہے؟

یہاں تک بخوبی معلوم ہوا کہ ہمارے مذکورہ صاحبِ قلم کی تحریر میں سوائے صحافیانہ مغالطوں کے کوئی واقعی قابلِ اعتنا دلیل موجود نہیں ہے۔ آگے انھوں نے ان "دلائل" پر بنا کرتے ہوئے کچھ نتائج نکالے ہیں۔ ان پر تبصرہ ضروری ہے۔

چنانچہ فرماتے ہیں:
"سائنسی معاملات میں زبردستی مذہب کو شامل کرنے سے نہ سائنس کا نقصان ہوگا اور نہ ہی مذہب کا بھلا ہوگا۔ علمائے کرام کی عزت اور اہمیت ضرور محدود ہوتی جائے گی اور ان افراد کی حمایت بڑھے گی جو مذہب کو سرے سے مانتے ہی نہیں۔ میڈیا نے اس عمل کو تیز اور سوشل میڈیا نے تیز تر کردیا ہے۔"

سوال یہ ہے کہ سائنسی معاملات میں زبردستی مذہب کو شامل کیا ہی کس نے ہے؟ یہاں تو خالص شرعی مسائل میں زبردستی سائنس کو گھسیڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس لیے جو ایسی کوشش کررہے ہیں، ان سے پوچھیے کہ یہ آپ سائنس کا بھلا کررہے ہیں یا برا؟ باقی رہا میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار، تو ہر قسم کا میڈیا کا ہمیشہ سے کردار شیطان کے اعوان وانصار ہی کا رہا ہے، الا ماشاء اللہ۔ اس لیے اس بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ازل سے تا امروز چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہی ستیزہ کار رہا ہے۔ ہمارے لیے فکر کی بات یہ نہیں کہ میڈیا بشمول سوشل میڈیا کا کردار کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں ہم کس طرف کھڑے ہیں، اور یہ سوال بھی عین شرعی سوال ہےجس کا جواب شریعت سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مزید فرماتے ہیں:
"مذہب کو سائنس پر فوقیت دینے کی کوششوں کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ معاشرے میں سائنس کی طرف رجحان کم ہوگا جس کے نتیجے میں مسلمان معاشرے ان ممالک سے بہت پیچھے رہ جائیں گے جہاں سائنس کو عزت اور اہمیت دی جاتی ہے۔"

ایک دفعہ پھر عرض ہے کہ مسئلے کی تشخیص غلط کی جارہی ہے۔ مسئلہ مذہب کو سائنس پر فوقیت دینے کا نہیں، بلکہ مذہب اور سائنس کے کردار کی تشخیص کا ہے۔ بھلائی و برائی، فوزان و خسران، کامیابی و ناکامی، کیا ہیں، یہ متعین کرنا مذہب کا کام ہے۔ بھلائی ہو یا برائی، فوزان ہو یا خسران، کامیابی ہو ناکامی، سائنس ان میں سے کسی بھی راستے کو چننے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن راہ چننا آپ ہی کا کام ہوگا! اس لیے فکر کرنی ہے تو اس بات کی کریں کہ کہیں آخرت میں بہت سے لوگوں سے پیچھے نہ رہ جائیں کیونکہ وہاں تو عزت اور اہمیت ایمان اور عمل صالح کو دی جاتی ہے۔

یہ بھی نوٹ کرلیں کہ معاشرے میں سائنس کی طرف رجحان کم ہونے کی ذمہ داری مذہب یا علماء پر نہیں، بلکہ سائنس کے نام نہاد ٹھیکیداروں پر عائد ہوتی ہے اور آپ چاہیں تو ان ٹھیکیداروں کے ماؤتھ پیس، یعنی موجودہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی، کو سرفہرست رکھ سکتے ہیں، جو سائنس کی ابجد سے ناواقفیت کے باوجود اس عہدے پر فائز ہوکر دنیا و عاقبت دونوں خراب کررہے ہیں۔ اللہ انھیں ہدایت نصیب کرے۔

آخر میں فرماتے ہیں:
"علمائے کرام منطق کی قلابازیوں اور اپنی فساد پھیلانے کی صلاحیت کی بدولت رویت ہلال کے شعبے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ میرے آقاﷺ کا فرمان ہے کہ انسانوں میں بدترین وہ ہے جس کے شر کی وجہ سے لوگ اس کی عزت کریں۔"

یہ ہے مذہب سے وہ ناواقفیت جو انسان کو مذہب کے متعلق بہت بڑے دعوے کرنے کی جسارت دے دیتی ہے۔ صاحبِ قلم یہاں کس دھڑلے سے حدیث رسول ﷺ کو علمائے کرام پر لاگو کررہے ہیں حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ کن لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے لوگ کسی کی عزت کرتے ہیں اور ہر شخص یہ بھی جانتا ہے کہ ان لوگوں میں سرفہرست صاحبانِ اقتدار اور ایوانِ اقتدار کے جاروب کش و قصیدہ نویس ہی ہیں ۔ جہاں تک علمائے کرام کا تعلق ہے تو رویتِ ہلال کا شعبہ ہو، مسجد کا انتظام و انصرام ہو، قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کو دینی رہنمائی فراہم کرنے کےلیے افتاء اور وعظ و ارشاد کا سلسلہ ہو، یہ اور اس طرح کے دیگر سارے کام علمائے کرام اپنی للہیت، خلوص، تقوی اور علمی رسوخ کی بنا پر سرانجام دے رہے ہیں اور اسی بنا پر ان کو عوام میں قبولیت عامہ حاصل ہے۔ اشرافیہ کےلیے مذہب کا قابلِ قبول ماڈل پیش کرنے کی کوشش کرنے والے دانشوروں کی اصل تکلیف یہی ہے کہ ان کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود عوام ابھی تک کیوں علمائے کرام ہی کی اتباع کررہے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */