تن حرم میں روح بت خانہ - عبدالخالق بٹ

مساجد کو اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ہی سے مرکزیت حاصل رہی ہے، اور اس کی سب سے روشن مثال مسجدِ نبوی ہے، جسے بیک وقت عبادت گاہ، مشاورت گاہ، تربیت گاہ، عدالت، حکومت کا سیکرٹریٹ اور جہادی سرگرمیوں کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کا مقام حاصل تھا۔

مسجد کی اسی ہمہ گیر افادیت اور مسلمانوں کی اس سے محبت کے پیشِ نظر ہی منافقین مدینہ نے "مسجد ضرار" بنائی تھی، تاکہ یہاں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشی سرگرمیاں بآسانی جاری رکھ سکیں اور عام مسلمانوں پر اْن کی پارسائی کا پردہ بھی پڑا رہے۔ مگر خود اللہ نے منافقین کی سازش کا پردہ چاک کردیا:
”کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوتِ حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہلِ ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اْس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اْس کے رسولۖ کے خلاف برسرپیکار رہ چکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھاکر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی، وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اْس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو، اْس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔" (سورہ توبہ:108 – 107)

”مسجد ضرار” کا یہ واقعہ قرآن کا حصہ بن کر تاقیامت محفوظ ہوگیا اور یوں صدیوں تک پھر کسی کو "مسجد" کے نام پر دھوکا دینے کی ہمت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ مسلمان اپنا عروج دیکھ کر زوال کی راہ پر لڑھکنے لگے، اور یورپ نشاة ثانیہ سے گزر کر عالمی سیادت کا دعویدار بن گیا۔ عظیم خلافتِ عثمانیہ یورپی اقوام کی چیرہ دستی اور شریفِ مکہ اور مصطفی کمال پاشا اتاترک کی امت سے بے وفائی کے سبب١٩٢٤ء میں ختم کردی گئی۔

چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
(اقبال/بانگِ درا)

یہ اسلامی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب مسلمان مرکزِ خلافت سے محروم کردیے گئے، اور یوں حضرت ابوبکرصدیق (وفات:١٣ ہجری) سے شروع ہونے والا سفرِ خلافت ۱۳۳۲ سال بعد خلیفہ عبدالمجید خان ثانی (پیدائش: مئی ١٨٦٨ء – اگست ١٩٤٤ء ) کی برطرفی پر تمام ہوا۔

سلسلہ خلافت کے انقطاع میں تمام یورپی اقوام حصہ بقدرِ جثہ کے مصداق شریک تھیں۔ یورپ مسلم دنیا پر چڑھ دوڑا تھا، ایسے میں الجزائر، تیونس، شام اور لبنان فرانسیسی استبداد کا نشانہ بنے۔ فرانس اپنے مقبوضات کے لیے اٹِیلا اور ہلاکو ثابت ہوا۔ صرف سرزمین شام میں فرانس نے١٩٢٤ء کے دوران بیس ہزار مسلمان شہید کردیے۔ فرانسیسی توپ خانے اور جنگی جہازوں نے دومرتبہ دمشق کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

سرزمینِ شام کو متعدد انبیائے کرام اور صحابہ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، پھر دارالحکومت دمشق کا شمار دنیا کے اْن چند قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے جہاں ہزاروں سال میں ایک دفعہ بھی زندگی معدوم نہیں ہوئی اور یہ شہر طویل عرصہ سے آباد چلے آرہے ہیں۔

سرزمین انبیاء میں اس قتل عام نے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر پیدا کردی تھی، جسے فرانسیسی استعمار نے بھی بھانپ لیا تھا، لہٰذا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور انھیں اپنی اسلام دوستی کا یقین دلانے کے لیے پیرس میں مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دینے کا اعلان کیا اور یوں ١٩٢٦ء میں پیرس کے انتظامی علاقے نمبر٥ میں ”جامع مسجد پیرس” (Grande Mosque de Paris) کا قیام عمل میں آیا۔

جامع مسجد پیرس

جامع مسجد پیرس "المغرب" طرزِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، دس ہزار نمازیوں کی گنجائش کے ساتھ اسے یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مسجد کا افتتاح اْس وقت کے فرانسیسی صدر گستون دومرگ (پیدائش: یکم اگست ١٨٦٣ء-وفات:١٨ جون ١٩٣٧ء) نے کیا جبکہ پہلی نماز صوفی شیخ احمد بن مصطفی العلاوی (پیدائش : ١٨٦٤ء – وفات : ١٤ جولائی ١٩٣٤ء ) کی امامت میں ادا کی گئی۔

یورپ کے قلب میں ایک پْر شکوہ مسجد کا قیام بظاہر ایک اہم واقعہ تھا مگر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ( پیدائش : ٩ نومبر ١٨٧٧ء – وفات:١٢اپریل ١٩٣٨ء) کی عمیق نگاہیں اس مسجد کی تعمیر کے پس پردہ فرانسیسی استعمار کے مقاصد کو بھانپ گئیں تھیں، لہٰذا انھوں نے "پیرس کی مسجد" پر شدید ردعمل کا اظہار کیا:

مری نگاہ کمالِ ہنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرمِ مغربی ہے بیگانہ!

حرم نہیں ہے فرنگی کرشمہ بازوں نے
تن حرم میں چھپادی ہے روح بْت خانہ!

یہ بت کدہ اْنھیں غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہْوا ہے ویرانہ!
(نظم : پیرس کی مسجد /ضربِ کلیم)

مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور اْن پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باوجود اپنی "مسلم دوستی" کے ثبوت کے طور پر "مسجد کی سیاست" صرف مسجدِ ضرار اور جامع مسجد پیرس تک ہی محدود نہیں بلکہ اس منافقانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ ماضی قریب میں شیشان (Chechnya) میں بھی کیا گیا۔

قفقاز کے علاقے میں شیشان ہمیشہ سے مزاحمت کا مرکز رہا ہے۔ پہلے زارِ روس پھر سوشلسٹ روس اور اب روسی فیڈریشن ، ہر دور میں ماسکو نے قفقاز کے مسلمانوں کو زیرِ دام لانے کے لیے بدترین مظالم ڈھائے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ روسی افواج کو یہاں چپے چپے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، ماسکو کی بالادستی کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنے والوں میں مندرجہ ذیل افراد کو نمایاں مقام حاصل ہے:

٭ امام منصور
٭ امام شامل
٭ جوہر دادیوف
٭ زیلم خان یندربائیوف
٭ اسلان مسخادوف
٭ شامل بسائیوف

اہلِ شیشان کا جذبہ حریت ایک زندہ حقیقت ہے جس کا ماسکو نے سالہا سال تلخ تجربہ کیا ہے۔ اس لیے اس نے پہلی جنگِ شیشان ( ١١ ستمبر ١٩٩٤ء- ١٣اگست١٩٩٦ء) اور دوسری جنگِ شیشان (اگست ١٩٩٩ء- مئی ٢٠٠٠ء) کے دوران مجاہدین کے خلاف بدترین جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دارالحکومت گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنادیا اور حالات "معمول" پرآنے کے بعد ماسکو نے اہلِ شیشان کا "دل موہنے" کے لیے گروزنی کے نواح میں ایک "شاندار مسجد" تعمیر کردی۔

جامع احمد قادروف کا بیرونی منظر

مسجد کا باقاعدہ افتتاح شیشان کے موجودہ صدر رمضان احمد قادروف (پیدائش : ٥اکتوبر١٩٧٦ء ) نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں‌اس وقت کے روسی وزیرِ اعظم ولادی میر پوتین اور روسی صوبہ جات سے تعلق رکھنے والے مختلف مذاہب و مسالک کے سربراہان سمیت 18ممالک کے نمایندوں نے شرکت کی۔

مسجد کا نام سابق شیشانی صدر احمد عبدالحامد قادروف ( پیدائش : ٢٣ اگست ١٩٥١ء – ہلاکت : ٩ مئی ٢٠٠٤ء ) کے نام پر "جامع احمد قادروف" رکھا گیا ہے، تاہم اسے ”قلبِ شیشان” بھی کہا جارہا ہے۔ اکتوبر٢٠٠٨ء میں مکمل ہونے والی یہ مسجد استنبول کی مسجدِ سلیمان (تکمیل: ١٥٥٨ء) کا عکس ہے، اس میں ١٠ ہزار نمازی بآسانی سما سکتے ہیں۔ مسجد کی بیرونی اور اندرونی دیواریں کمیاب سنگِ مرمر سے مزین ہیں۔ مسجد میں آویزاں کتبے ترکی کے معروف خطاطوں کے قلمِ معجز رقم کا شاہکار ہیں، ان کتبوں کے لیے قدرتی اور مصنوعی رنگ استعمال کیے گئے ہیں جو کم از کم نصف صدی تک برقرار رہ سکیں گے۔ اس کے علاوہ قرآنی آیات کے لیے اعلیٰ قسم کا سونا استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد کی محراب٨ میٹر اونچے اور٦.٤میٹر چوڑی ہے، جس کی تعمیر میں سفید سنگِ مرمر استعمال کیاگیا ہے۔ مسجد کے مرکزی گنبد کے اندرونی حصے میں آیاتِ قرآنی نقش ہیں جبکہ اس کے اردگرد اسمائے حسنیٰ درج ہیں۔ مسجد کی تزئین میں استعمال ہونے والی اشیا میں سب سے جاذبِ نظر وہ فانوس ہیں جو اعلیٰ ترین بلور (کرسٹل) سے بنائے گئے ہیں، یہ فانوس دنیا کی معروف مساجد (مسجد ِحرام، مسجد ِ بنویﷺ، مسجد ِ اقصیٰ) کی شبیہ اور شیشانی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں۔ مسجد کے مینار ٦٢ میٹر بلند ہیں۔

مسجد سلیمان ترکی

مسجد کا کل رقبہ ١٣٥ایکڑ ہے، جس میں مسلمانوں کی ”روحانی کونسل” کے دفاتر، اسلامی یونیورسٹی، لائبریری اور مہمان خانے کی عمارات واقع ہیں۔ جبکہ باغات، روشیں اور فوارے اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔

مسجد بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ احمد قادروف کا خواب تھا جو انہوں نے اس وقت دیکھا تھا جب وہ ٨٠ کی دھائی میں استنبول میں زیرِ تعلیم تھے اور اس دوران ترکی میں فن تعمیر کا شاہکار "مسجدِ سلیمان" کی پر شکوہ عمارت سے بے حد متاثر ہوئے تھے، اور انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ شیشان میں ایسی ہی مسجد تعمیر کریں گے، مگر وہ اپنی زندگی میں اس خواب کی تعبیر نہ پاسکے، اس کی تکمیل اْن کے بیٹے رمضان احمد قادروف نے کی۔

”جامع مسجد قادروف” کی تعمیر و آرائش کا حال پڑھ کر یقینا دل کو طمانیت ہوئی ہوگی تاہم اگر تھوڑا سا غور سابق صدر اور مفتی اعظم شیشان احمد قادروف اور اْن کے صاحبزادے رمضان احمد قادروف کے کردار اور مسجد کے افتتاح کے موقع پر موجود روسی وزیرِ اعظم ولادیمیر پوتین کی شیشان پالیسی پر کیا جائے تو شاید فوراً بات سمجھ میں آجائے۔

پوتین سابقہ سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ، موجودہ روسی فیڈریشن کے پہلے صدر بورس یلسن ( پیدائش: یکم فروری ١٩٣١ء- وفات : ٢٣ اپریل ٢٠٠٧ء) کے اچانک مستعفی ہونے پر قائم مقام صدر، بعد ازاں مسلسل دوبار باضابطہ صدر، بعد میں بحیثیت وزیراعظم اور اس وقت بطور صدر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کارناموں میں سب سے نمایاں کارنامہ قفقاز کی تحریک مزاحمت کا خاتمہ ہے۔ جس کے لیے انہوں نے حیلے اور ہتھیار سمیت ہر حربہ استعمال کیا اور حالات معمول پر آنے کے بعد احمد عبدالحامد قادروف کو "جمہوریہ شیشان" کا صدر نامزد کیا۔

جامع احمد قادروف کا بیرونی منظر

احمد عبدالحامد قادروف پہلی جنگِ شیشان کے دوران شیشان کے مفتی اعظم کے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم دوسری جنگ شیشان میں انہوں نے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوکر روسی سایہ عاطفت میں ملازمت اختیار کرنے کو ترجیح دی، اور اس دوران اپنی سابقہ پوزیشن کا جو اثر رہا ہوگا، اسے مجاہدین کے خلاف استعمال کرتے رہے، نتیجتاً جنگ کے شعلے سرد پڑنے پر انھیں اِن کی شاندار خدمات کے صلے میں ٥ اکتوبر ٢٠٠٣ء کو ”جمہوریہ شیشان” کا صدر بنا دیا گیا، مگر ماسکو کے ارمانوں پر اْس وقت اْوس پڑ گئی جب احمد قادروف صدربنائے جانے کے چند ماہ بعد ہی ٩مئی ٢٠٠٤ء کو اْس وقت مجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے جب وہ گروزنی میں دوسری جنگِ عظیم (١٩٣٩- ١٩٤٥ء ) کی فتح کی یاد میں منعقدہ ”وکٹری پریڈ” میں شریک تھے۔ احمد قادروف کے مارے جانے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اْن کے بیٹے رمضان احمد قادروف (پیدائش: ٥ اکتوبر ١٩٧٦ء ) کو شیشان کا صدر بنادیا گیا۔

رمضان قادروف روسی فیڈریشن میں شامل ریاستوں کے سربراہان میں سب سے کم عمر صدر ہیں، پہلی جنگِ شیشان میں رمضان قادروف ماسکو کے ”باغی” تھے، مگر ”مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے ” کے مصداق رمضان قادروف نے ”بغاوت سے اطاعت” تک کا سفر اتنی سرعت سے طے کیا کہ خود ماسکو بھی حیران رہ گیا اور اْن کے نظریات میں اس "جوہری" تبدیلی پر ولادی میر پوتین نے انہیں روس کے اعلیٰ ترین اعزاز ”بطلِ روس” (Hero of Russia) سے نوازا اور پھر مارچ ٢٠٠٧ء میں انہیں اہلِ شیشان پر بطورِ صدر مسلط کردیا گیا۔

مسجد کی سیاست کا آغاز منافقین مدینہ کی ”مسجد ِضرار” سے ہوا اور جو آسمانی فیصلے (التوبہ:١١٠-١٢٠) کے نتیجے میں مسجد کے انہدام کے ساتھ ہی تمام ہوگئی، اور کم وبیش ساڑھے تیرہ سو سال بعد اس منافقانہ نفسیات نے اولاً فرانس میں ظہور کیا اور ثانیاً روس میں اِس کے مظاہر سامنے آئے۔ مگر شایداللہ کو کچھ اور منظور تھا،اسی لیے ان مساجد کے قیام سے مسلمان، یورپ کی ”مسلم دوستی ” کے فریب میں تو نہیں آئے البتہ ان مساجد میں پانچ وقت اللہ کی کبریائی ضرور بیان کی جانے لگی اور اللہ اسی طرح شر سے خیر برآمد کرتا ہے۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.