دورِ جدید کے چنگیز اور ان کا انجام!- جمال عبداللہ عثمان

”اگر کسی سے سن لو کہ منگولوں کو فلاں میدانِ جنگ میں شکست ہوئی ہے تو اس پر یقین نہ کرو۔ وہ یقینا جھوٹ بول رہا ہوگا۔“

منگولوں کا عروج تھا، جہاں جاتے، سروں کے مینار کھڑے کرتے۔ ان کے نام سے ہی لرزہ طاری ہوجاتا۔ ان کے جانے سے پہلے ان کی ہیبت پہنچ چکی ہوتی۔ بغداد تک جب پہنچے تو اس قدر خون بہایا کہ کئی دنوں تک دریا خون سے سرخ رہا۔ مسلسل فتح اور مقابل کو دی جانے والی شکستوں سے یہ مشہور ہوگیا کہ ان کی شکست کی خبر پر یقین نہ کیا جائے۔

صفحہ ہستی سے مگر مٹ گئے۔ ظلم کا ایک استعارہ بن کر رہ گئے۔ دنیا کو قتل وغارت کے سوا کچھ نہ دے سکے۔ وجہ؟ کوئی ایجادات کیں نہ ہی انسانوں کی فلاح کے لیے کوئی کارنامہ سرانجام دیا۔

کراچی میں ”الطاف حسین“ کے نام سے ایک شخص تھا۔ پورے شہر میں اس کا طوطی بولتا تھا۔ وہ کہتا کہ شہر بند ہو، لمحوں میں بند ہوجاتا۔ وہ کہتا کہ کھول دو، سب کھل جاتا۔ طاقتور ترین ادارہ ”میڈیا“ پر ایک لفظ اس کے خلاف بولنا اپنی ”بوری“ کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ گھنٹوں طویل تقاریر سنائی جاتیں۔ چینلز اپنا لاکھوں کا نقصان برداشت کرکے کمرشل تک روک دیتے۔ اس شخص کا دعویٰ تھا کہ میں انتخابات میں کسی کھمبے کو کھڑا کروں تو وہ بھی جیت جائے۔ کوئی مبالغہ بھی نہیں تھا۔ کراچی کی کوئی دیوار نہ ہوتی جس پر ”الطاف بھائی“ کی تصویر نہ ہو۔ کوئی چوراہا نہ ہوتا جہاں ”الطاف بھائی“ کی پارٹی کا پرچم نہ لہرا رہا ہو۔

میں اس وقت روزنامہ ”اُمت“ کے لیے مستقل کالم لکھتا اور یہ واحد اخبار تھا جہاں آپ ”الطاف بھائی“ اور ان کی جماعت کے خلاف کھل کر لکھ سکتے تھے۔ بارہا لکھا کہ ظلم کی یہ اندھیری رات ختم ہوکر رہے گی، چاہے کتنی ہی طویل ہو۔ سویرا ہوکر رہے گا، وقت چاہے کتنا ہی لگ جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کبھی تو خود بھی یقین ڈگمگانے لگ جاتا۔ ”جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں کیا واقعی ممکن ہوسکے گا؟ ہوگا بھی تو کب اور کیسے؟ اس عروج کو زوال؟ ناممکن! شاید ہم اپنی زندگیوں میں تو نہ دیکھ سکیں۔“

لیکن عروج کو زوال آیا۔ وہی سب ہوا جس کا سامنا ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے۔ آج آپ پورے کراچی میں چکر لگالیں، کہیں اس شخص کا نام نظر نہیں آئے گا۔ میں نے اس بار کراچی میں دو دن گزارے۔ جہاں گیا، وہاں کوشش کی کہ ”الطاف بھائی“ کے ساتھ نسبت رکھنے والی کوئی شے دیکھوں، لیکن بہت حد تک ناکامی۔ ممکن ہے کہ کچھ دلوں میں اب بھی زندہ ہوں، لیکن مجموعی لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ تاریخ کا کردار بن کر رہ گیا ہے۔ ایک ایسا شخص، تاریخ جسے ایک سفاک، ظالم اور اپنی ہی کمیونٹی کو دیوار کے ساتھ لگالینے والے شخص کے طور پر یاد کرے گی۔

ایک ایسا شخص جسے خدا نے کئی مواقع دیے۔ بلاشرکت غیرے اقتدار دیا۔ وہ چاہتا تو شہر کی قسمت بدل سکتا تھا۔ تعلیم کا مرکز بناسکتا تھا۔ لیکن افسوس! یہ شخص اس شہر کو عذاب کے سوا کچھ نہ دے سکا۔ جس کمیونٹی کے لیے کچھ کرگزرنے کا علم لے کر اُٹھا تھا، اس کے نوجوانوں کے ہاتھوں سے کتاب چھین کر انہیں پستول اور کلاشنکوف پکڑادی۔ وہ کمیونٹی جس کے پڑوس میں رہنا لوگ اپنے لیے شرف کا باعث سمجھتے تھے کہ اس سے کچھ سیکھا جاسکے، اس کی ایک بڑی تعداد کو قابلِ نفرت بنادیا۔ جس شہر کی پہچان حکیم سعید اور پروفیسر عبدالغفور احمد جیسے لوگ تھے، اسے جاوید لنگڑا، نصیر بھونپو اور نصرت کن کٹا جیسے نام دیے۔

جانور بھی کہیں بیٹھتا ہے تو بیٹھنے کی جگہ کو اپنی دُم سے صاف کرلیتا ہے۔ تقریباً 40 سال کے قریب یہ شخص طاقت میں رہا۔ مقتدر قوتوں کا ”لاڈلا“ رہا۔ لیکن یہ اس شہر کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ جہاں سے اسے عروج ملا اور جہاں اس کا مرکزی دفتر تھا، عزیز آباد، وہاں کوئی ڈھنگ کی ڈسپنسری تک نہ بنواسکا۔ وہاں کی سڑکیں، وہاں کی گلیاں دیکھ لیں۔ وہاں کے سرکاری اسکولوں کا حال ملاحظہ کریں۔ اُبلتے گٹر اور کچرے سے بھری ہوئی گلیاں!
میں اس بار کراچی گیا تو یہی سوچتا رہا کہ عروج کو کیسے زوال آتا ہے۔ کیسے لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں رہنا ہے اور تاقیامت رہنا ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ رہ جانے والی چیز صرف مخلوق خدا کی خدمت اور ان کی فلاح ہے۔ جس نے انسانوں کی بھلائی کے لیے کچھ کیا، وہی باقی رہے گا، باقی سب ماضی کا قصہ بن کر رہ جائیں گے۔ میں سوچ رہا تھا الطاف حسین اور شہر کراچی میں کتنا زبردست سبق ہے ان جماعتوں اور شخصیات کے لیے۔ جو طاقت اور قوت کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتی ہیں۔ جو دِل کے بجائے جسم پر حکمرانی چاہتی ہیں۔ کاش! کوئی کھلی آنکھوں سے دیکھنے والی اس زبردست اور حقیقی کہانی سے سبق سیکھنے پر آمادہ ہو۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */