رویتِ ہلال سائنسی مسئلہ ہے یا شرعی؟ - ڈاکٹر محمد مشتاق

بہت سے پڑھے کم لکھے زیادہ لوگ یہ کنفیوژن پھیلارہے ہیں کہ چاند کا مسئلہ سائنسی موضوع ہے، نہ کہ شرعی۔ اس غلط فہمی، یا تلبیس کے ازالے کےلیے درج اس بات پر توجہ کریں کہ رویت سے متعلق چار الگ امور ہیں اور ان کو الگ الگ ہی دیکھنا چاہیے۔

1۔ پہلا امر یہ ہے کہ چاند کب اپنے مدار میں چکر پورا کرکے نیا چکر شروع کرتا ہے، جسے اصطلاحاً نئے چاند کی ولادت کہتے ہیں۔ یہ امر سائنسی حسابات سے بخوبی اور قطعی طور پر معلوم ہوسکتا ہے اور اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔

2۔ دوسرا امر یہ ہے کہ نئے چاند کی ولادت کے بعد وہ کب "قابلِ رویت" ہوجاتا ہے؟ سائنسی تحقیقات کی بنا پر اس سلسلے میں تخمیناً اندازے لگائے جاسکتے ہیں اور اس ضمن میں کئی عوامل پر نظر رکھنی پڑتی ہے، جیسے غروبِ آفتاب کے بعد چاند کی عمر، غروب آفتاب اور غروب قمر کے درمیان مدت، مطلع کا صاف یا ابر آلود ہونا، افق پر چاند کا زاویہ، دیکھنے والے کی نظر کی قوت یا کمزوری وغیرہ۔

پہلا امر سائنسی تحقیقات اور حسابات کی روشنی میں قطعی طور پر معلوم ہوسکتا ہے جبکہ دوسرے امر کے متعلق سائنسی تحقیقات یا حسابات کی بنا پر اندازے ظنی ہوتے ہیں ۔ فواد چودھری کے وزیر سائنس بننے سے صدیوں پہلے سے مسلمان ماہرینِ ہیئت بھی یہ بتاتے آئے ہیں اور پاکستان کے مدارس میں بہت سے علمائے کرام بھی اس فن سے بخوبی واقف ہیں۔

3۔ تیسرا امر یہ ہے کہ چاند کی ولادت اور اس کے قابلِ رویت ہونے کے بعد واقعتاً اس کی رویت ہوجائے۔ اس کےلیے شریعت نے معیار مقرر کیا ہے، جو حنفی فقہ کی رو سے یہ ہے کہ مطلع صاف ہو تو بہت بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھیں (جسے اصطلاحاً جمّ غفیر کہا جاتا ہے) اور مطلع صاف نہ ہو تو رمضان کےلیے ایک جبکہ شوال اور دیگر تمام مہینوں کےلیے کم از کم دو گواہ ہونے چاہئیں۔ ان گواہوں کی اہلیت کےلیے معیار بھی شریعت نے ہی مقرر کیا ہے۔ چنانچہ یہ یہ امر سائنسی نہیں، بلکہ شرعی ہے۔

اگر اس تیسرے امر اور پہلے دو امور میں تعارض آجائے تو کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں دو امکانات ہیں:

ایک یہ کہ سائنسی تحقیقات اور حسابات کی رو سے چاند کی ولادت بھی ہوئی اور وہ قابلِ رویت بھی ہو، لیکن واقعتاً اس کی رویت کی قابلِ قبول شہادت نہ مل سکے۔ اس صورت میں فقہائے کرام کے ہاں یہ امر مسلّم ہے کہ نیا مہینہ شروع نہیں ہوگا اور تیس کی گنتی پوری کی جائے گی۔ اس سے صرف عصرِ حاضر میں سائنسی علمیت اور مغربی تہذیب سے مرعوب بعض لوگوں، بالخصوص نام نہاد مقاصدی فکر کے علم برداروں (اور ہمارے ہاں الموردی دانشوروں) نے ہی اختلاف کیا ہے، اور ان کے اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بہرحال، اس اختلاف کو مانا جائے یا نہ مانا جائے، یہ بات طے ہے کہ یہ امر شرعی ہے، نہ کہ سائنسی، اور اس کا فیصلہ شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات اور حسابات کی رو سے چاند کی ولادت نہ ہوئی ہو، یا وہ (اس مخصوص مقام یا وقت پر) قابلِ رویت نہ ہو، لیکن رویت کے گواہ مل جائیں جو شرعی اہلیت پر پورا اترتے ہوں۔ اس صورت میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ جناب پوپلزئی اور دیگر کئی اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اس صورت میں گواہی پر عمل کیا جائے گا اور سائنسی تحقیقات و حسابات کو نظرانداز کیا جائے گا، جبکہ جناب مفتی منیب الرحمان صاحب اور دیگر اہل علم اس صورت میں گواہی کو ناقابلِ قبول ٹھہراتے ہیں۔ بہرصورت دونوں فریقوں کے نزدیک یہ امر سائنسی نہیں بلکہ شرعی ہے، یعنی اس صورت میں اختلاف کو شرعی اصولوں پر حل کیا جائے گا۔ چنانچہ جو گواہی کو مسترد کرتے ہیں وہ یہ شرعی دلیل ذکر کرتے ہیں کہ سائنسی تحقیقات چونکہ قطعی ہیں ، اس لیے گواہ کی طرف غلطی کی نسبت کی جائے گی؛ جبکہ وہ علمائے کرام جو گواہی کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات اس سلسلے میں قطعی نہیں ہیں جبکہ شریعت نے بااعتماد گواہ کی گواہی پر قتل کے مقدمات تک کے فیصلے کا حکم دیا ہے، حالانکہ متواتر سے کم درجے کی خبر پر یقینی علم حاصل نہیں ہوتا۔

حقیقت یہ ہے، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا کہ چاند کی ولادت کے متعلق سائنسی تحقیقات کو تو قطعی کہا جاسکتا ہے لیکن چاند کے قابلِ رویت ہونے کے متعلق سائنسی اندازے محض اندازے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر گواہ اس صورت میں رویت کی گواہی دیں جب ابھی چاند کی ولادت ہی نہ ہوئی ہو، تو اس کی گواہی کو مسترد کیا جانا چاہیے، جبکہ اس صورت میں جب سائنس دان چاند کو قابلِ رویت نہ مانتے ہوں لیکن گواہ آجائیں ، تو اس صورت میں دونوں پہلو (سائنسی اندازے اور گواہوں کی گواہی) ظنی ہیں۔ اس لیے کسی ایک جانب کی ترجیح کےلیے کچھ اور قرینہ درکار ہوگا۔ اس ضمن میں شریعت کا یہ حکم ترجیح کےلیے کافی قرینہ ہوسکتا ہے کہ گواہ ، اگر قابل اعتماد ہے، تو اس کی گواہی پر فیصلہ کرو۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر آج ، مثلاً، سائنسی تحقیقات پر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اٹھارہ یا سولہ گھنٹے سے کم عمر کا چاند ناقابلِ رویت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کی رویت کے متعلق دستیاب معلومات سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اگر کل کلاں بڑی تعداد میں لوگوں نے بارہ گھنٹے کے چاند کی رویت کی، اور دیگر قرائن سے اس کی تائید ہو، تو پھر سائنسی اعتبار سے بارہ گھنٹے کے چاند کو بھی قابلِ رویت قرار دیا جائے گا۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ امر مشاہدے پر مبنی ہے کہ چاند کب قابلِ رویت ہوتا ہے اور کب نہیں اور مشاہدے کی بہتری پر حکم میں فرق بھی آسکتا ہے۔ اس لیے محض اس بنا پر کہ سائنسی اعتبار سے چاند ناقابلِ رویت ہے، گواہی کو مسترد نہیں کرنا چاہیے، جب تک اس کو مسترد کرنے کےلیے کوئی قوی دلیل نہ ہو۔

یہاں تک خلاصہ یہ ہوا کہ سائنسی تحقیقات اور حساب کی رو سے چاند کی ولادت کے متعلق قطعی اور اس کے قابلِ رویت ہونے کے متعلق ظنی علم ہوتا ہے۔ اس لیے اگر چاند کی ولادت کے متعلق سائنسی تحقیق سے گواہ کی گواہی کا تعارض ہو تو گواہ کی گواہی کو مسترد کیا جانا چاہیے لیکن اس کے قابلِ رویت ہونے کے متعلق سائنسی اندازوں سے گواہ کی گواہی کا تعارض ہو تو محض اس بنا پر اسے مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر دو صورتوں میں فیصلے کی بنا شریعت کے اصول ہیں۔ اس لیے اس تیسرے امر کا یہ سلبی پہلو بھی شرعی ہے جبکہ اس کے ایجابی پہلو کے متعلق ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ وہ شرعی ہے کیونکہ چاہے سائنسی تحقیق کی رو سے چاند کی ولادت ہوچکی ہو اور سائنسی اندازوں کی روشنی میں وہ قابلِ رویت بھی ہو، تب تک نیا مہینہ شروع نہیں ہوسکتا جب تک اس کی رویت کے متعلق شرعاً قابلِ قبول گواہی نہ ملے۔

4۔چوتھا امر یہ ہے، اور یہ سب سے اہم ہے، کہ چاند کی ولادت ہوچکی ہو، وہ قابلِ رویت بھی ہو، اس کی رویت کا دعوی کرنے والے لوگ بھی ہوں، تب بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے کہ ان لوگوں کا یہ دعوی قابلِ قبول ہے اور اسی بنا پر رمضان کا مہینہ ختم ہوا، اب روزہ نہیں رکھا جاسکتا، شوال کا مہینہ شروع ہوچکا اور اب عید کی نماز پڑھنی ہے اور فطر کا صدقہ دینا ہے؟

جیسا کہ ظاہر ہے ، یہ امر تو بالخصوص شرعی ہے اور اس کا فیصلہ شرعی اصولوں پر ہی ہوسکتا ہے۔
اس ضمن میں شریعت کے چند بنیادی اصول یہ ہیں:

رمضان کے چاند کی رویت "دینی امر " ہے۔ چنانچہ جس شخص کا یہ دعوی ہے کہ اس نے خود چاند دیکھا، اس پر رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہوجاتا ہے، خواہ مجاز حاکم اس کی خبر مسترد کردے اور یہ قرار دے کہ رمضان شروع نہیں ہوا، کیونکہ جب اس کے خیال کے مطابق اس پر روزہ لازم ہوچکا ہے تو اس کےلیے اسے کسی شخص سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تاہم یہ شخص کسی اور پر اپنا فیصلہ نافذ نہیں کرسکتا۔ کسی اور پر فیصلہ صرف حکمِ حاکم سے ہی نافذ ہوسکتا ہے۔

شوال (اور دیگر تمام مہینوں) کا معاملہ رمضان سے مختلف ہے کیونکہ وہ صرف "دینی امر" نہیں بلکہ "بندوں کے حقوق" کا بھی معاملہ ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص نے شوال کا چاند دیکھنے کا دعویٰ کیا تو وہ دوسروں پر تو ویسے بھی اپنا فیصلہ نافذ نہیں کرسکتا، خود اس کےلیے بھی جائز نہیں ہوگا کہ وہ روزے ترک کرکے عید کرے! یہاں تک کہ اگر اس کے تیس پورے ہوئے ہوں ، تب بھی وہ عید نہیں کرسکتا، بلکہ یہ فرض کیا جائے گا کہ اس سے ابتدا میں غلطی ہوئی تھی۔

یہی حکم باقی دس مہینوں کےلیے بھی ہے۔

رمضان کے چاند کی رویت کی خبر شرعی اصطلاح میں "روایت" ہے جبکہ شوال اور دیگر دس مہینوں کے چاند کی رویت "شہادت" ہے۔ چنانچہ رمضان کے گواہ پر جرح نہیں ہونی چاہیے اور اگر بظاہر قابلِ قبول ، حتی کہ مستور الحال، ہے تب بھی اس کی خبر قبول کرنی چاہیے، جبکہ شوال اور دیگر مہینوں کے چاند کی رویت کے گواہوں پر باقاعدہ جرح ہونی چاہیے اور جب تک ان کا قابلِ اعتماد ہونا ثابت نہ ہو، ان کی خبر پر فیصلہ نہیں سنانا چاہیے۔ نیز چونکہ شوال اور دیگر دس مہینوں کی خبر شہادت ہے، اس لیے اس کے گواہ کو باقاعدہ مجلس قضاء (عدالت) میں آکر گواہی ریکارڈ کرنی چاہیے، البتہ مجبوری کے عالم میں شہادۃ علی الشہادۃ اور دیگر قانونی طریقوں سے اس کی گواہی مجلسِ قضاء میں پہنچائی جاسکتی ہے۔

مسلمانوں کا حاکم ، خواہ خود شرعی امور سے ناواقف ہو، یا فاسق ہو، فیصلہ اسی کا نافذ ہوتا ہے، البتہ اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اہل علم کی راے پر فیصلہ دے۔

کسی حاکم کا فیصلہ صرف اس کے زیرِ اختیار علاقوں میں ہی نافذ ہوتا ہے۔ کسی دوسرے حاکم کے زیر اختیار علاقے میں اس کا فیصلہ تبھی نافذ ہوسکتا ہے جب وہاں کے حاکم تک یہ فیصلہ شہادۃ علی حکم القاضی اور اس طرح کے دیگر قانونی طریقوں سے باقاعدہ طور پر پہنچایا جائے اور پھر وہ حاکم اس فیصلے کو قبول کرکے اپنے علاقے میں اسے نافذ کرنے کا حکم جاری کرے۔

جہاں مسلمانوں کا حاکم نہ ہو، وہاں مسلمانوں کا جس عالم پر اعتماد ہو، اسے حاکم کے قائم مقام کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، اور رمضان و عیدین اور دیگر مہینوں کے آغاز و اختتام کا فیصلہ اس کے فتوی پر ہونا چاہیے تاکہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہےاور انتشار نہ ہو ۔
یہ رہے اس معاملے میں چند بنیادی شرعی اصول۔

ان اصولوں کی رو سے درج ذیل باتیں بخوبی واضح ہوگئیں کہ:
الف۔ رویتِ ہلال کا فیصلہ سائنسی نہیں بلکہ شرعی ہے؛
ب۔ پاکستان میں حکومت، یا اس کی مقررہ کمیٹی، ہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ چاند کی رویت کےلیے شرعاً قابلِ قبول گواہی میسّر ہے یا نہیں؟
ج۔ کسی دوسرے ملک، جیسے سعودی عرب، کا رویت کے متعلق فیصلہ پاکستان میں تبھی نافذ ہوسکتا ہے جب یہاں کی حکومت، یا اس کی جانب سے مجاز اتھارٹی، یعنی مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی، اس ملک کے فیصلے کو قبول کرکے پاکستان میں اس کے نفاذ کا اعلان کرے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */