وقت کا پہیہ - ردا بشیر

وقت بدل چکا ہے۔ وقت کے ساتھ بدلنا اور خود کو اس کے مطابق ڈھالنا عقل مندی ہے۔ گزرتا وقت متقاضی ہے کہ خود کو بھی ساتھ بدلا جائے۔ وقت کی دوڑ میں وقت کے ساتھ خود کو نہ بدلنا بے وقوفی اور جاہلیت ہے۔ ننٔی ایجادات نعمت بھی ہے اور رحمت بھی۔ لیکن کہیں نا کہیں زحمت بھی ہے۔۔۔
اس دور کے بڑے آج بھی جدیدیت کو قبول نہیں کرتے۔ لکیر کے فقیر بن کر زندگی گزارنا قبول ہے، لیکن نئے آنے والے اصولوں کو اپنانا وہ نہیں‌ چاہتے۔ چاہے وہ کھانے پینے سے متعلق ہو، پہننے اور اوڑھنے سے متعلق ہو، یا پھر جدید ٹیکنالوجی سے متعلق۔

میرے ایک بڑی عمر کے جاننے والے تھے۔ ان کے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے کھیتوں میں کام کرتے دکھائی دئیے۔ مٹی سے اٹے ہوئے کپڑے۔۔۔تہبند کو اکٹھا کرکے زانوں تک لپیٹ کر باندھ رکھا تھا۔ میں نے کہا کہ"بزرگوار!آج کے دور کی نوجوان نسل "shorts"پہنتی ہے آپ بھی وہ لے لیں۔ پہننے میں بھی آسان اور ہے بھی محفوظ۔ کام چھوڑ کر کھڑے ہوئے، کمر سیدھی کی، دونوں ہاتھوں سے کمر کو پکڑا اور گویا ہوئے "وہ دوزخ میں جلیں گے، کافر ہیں وہ۔" میں تو "درس" شروع ہونے سے پہلے بھاگی اور دل میں سوچ رہی تھی کہ خود جو اتنا واہیات لباس پہن رکھا ہے، کیا اس کے باوجود انہیں‌کسی کے لباس پر اعتراض کا کوئی حق بنتا ہے۔

خیر میں تو اپنا فرض پورا کررہی تھی، آسان، جدید اور ایک محفوظ طریقہ بتاکر۔

مجھے تو لگتا ہے جدیدیت کو قبول نہ کرنا اللّٰہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔ بوسیدہ اور خود سے ہی بنائے گئے بے سروپا اصول خود کو ہی اذیت دینے کے سوا کیا ہے۔ ستم یہ کہ ان پر ڈھٹائی سے قائم و دائم بھی رہا جائے اور دوسروں کو اس سے مختلف پاکر انہیں‌کمتر اور "جہنمی" بھی سجھا جائے۔

سائنس نے اگر ترقی کی ہے تو وقت بچانے کے لیے اور سکون مہیا کرنے کے لیے۔ یہاں ایک بات میرے ذہن میں آتی ہے کہ جن کی تو جیب میں پیسہ ہے نا جناب! ان کے لیے ترقی رحمت ہے۔ وقت بچانے کا موجب اور بہترین ذریعہ بھی۔۔۔ اور جن کی جیبیں سائیں سائیں کرتی ہے، وہ اس 'بابے' کی طرح ترقی اور جدیدیت کو کفر اور گناہ کے ترازو میں تولتے نظر آتے ہیں۔ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ 'زمانہ بڑا خراب ہوگیا، حالانکہ اپنے ہاتھوں میں بات کرنے والا آلہ یعنی موبائل فون چوبیس گھنٹے موجود ہوتا ہے۔

یہاں آخر میں مجھے بس وہ بات یاد آتی ہے کہ"جن کے پاس تو وقت کے مطابق جدید سہولیات موجود ہیں، ان کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور جن کے پاس جدید آلات موجود نہیں، وہ بیچارے 'ہاتھ نا آئے تھو کوری' کا راگ آلاپتے نظر آتے ہیں" اور ایسی عجیب مخلوق آپ کو ہر گلی، ہر محلے میں نظر آئے گی۔ جوہر آنے جانے اور گزرنے والے پر اس کی ہیئت کے مطابق جملے کستے نظر آئے گی۔