رمضان المبارک آخری عشرہ لوٹ سیل - حفصہ افضل

”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیۓ سراسر ہدایت ہے“ (سورہ بقرہ, آیت ١٨٥)جس طرح بازاروں میں آخری دن سیل کے ہوتے ہیں اور مال سستا کرکے بیچا جاتا ہے کہ جس سیل کے پیچھے لوگ جلدی جلدی بھاگ رہے ہوتے ہیں اس ڈر سے کہ کہییں سیل ختم نہ ہو جاۓ چونکہ سیل کے بعد ملنے والی چیز مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے اسی لیۓ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سیل پکڑ لی جاۓ تو بہت اچھا ہے۔

بلکل اسی طرح اللہ پاک نے بھی اپنے بندوں کے لیۓ رمضان کے آخری عشرے میں ایک سیل رکھ دی جسکی فضیلت ہی فضیلت ہے ثواب ہی ثواب ہے۔ سوچیۓ! کہ وہ سیل کونسی ہوگی آخر؟ ہاں وہ، وہ سیل ہے کہ جس سیل سے ہر بندہ باآسانی فاٸدہ اٹھا سکتا ہے اُس سیل کا کوٸی دام مقرر نہیں کوٸی کرایہ مقرر نہیں، کتنی پیاری اور کتنی خوبصورت سیل ہے کہ اللہ پاک رمضان کے آخری دس دن کو حصول و ثواب اور جنت کے لیۓ لوٹ سیل کے دن بنا دیتا ہے نہ صرف دن بلکہ راتیں بھی۔ ویسے تو پورا رمضان المبارک کا مہینہ رحمتوں، برکتوں اور مغفرت والا ہے لیکن یہ آخری عشرہ جو جہنم سے نجات کا ہے اسی آخری عشرے میں اللہ نے ہم سب کے لیۓ پانچ راتیں مقرر کردی ہیں اور ان پانچ راتوں میں ہی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے جو بہت فضیلت والی اور بڑی عظمت والی رات ہے جسے ”لیلتہ القدر اور شبِ قدر“ کہا جاتا ہے۔

شب قدر وہ رات ہے کہ جس میں قرآن و مجید نازل ہوا جو تمام دنیا والوں کے لیۓ خیر و برکت اور ہدایت بن کر آیا۔ یہ رات بہت عظمت والی ہے جس رات میں فرشتے نازل ہوتے ہیں جبرٸیل علیہ السلام کے جلو میں اور مصافحہ کرتے ہیں ان خوش نصیبوں سے جو کھڑے اور بیٹھے ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ گویا وہ رات سراسر سلامتی والی ہے کہ اس رات شام سے صبح تک خیر ہی خیر ہے اور تمام شر اور فتنے سے پاک ہے۔
وہ رات تو ایک ہے لیکن اللہ نے اس رات کو مخفی کردیا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں کا ذوق وشوق مطلوب تھا، اجر سے انکی جھولیاں بھرنی تھیں فرمایا: آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، رات ایک ہے لیکن اجر پانچ راتوں کے برابر رکھ دیا۔اب ذرا سوچیۓ کہ وہ شخص بد نصیب ہوۓ جو یہ راتیں سستی اور غفلت میں گزار دیتے ہیں اور بے حساب اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ فرمان نبیﷺ ہے : ”جو اس رات سے محروم رہ گیا گویا سارے ہی خیر سے محروم رہ گیا“ (ابن ماجہ، مشکوة)

آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دنیوی کاموں کے لیۓ ایک ایک رات نہیں کٸی راتیں جاگتے ہیں ہواٸی جہازوں کا تمام عملہ جو راتوں کو ڈیوٹیاں دیتا ہے کہ رات ملک سے نکلے تو دوسرے ملک دن میں پہنچتے ہیں۔اسی طرح دیگر اداروں میں ملازمت کرنے والے لوگ جن کی شفٹیں مقرر ہوتی ہیں کبھی رات کی تو کبھی دن کی، ڈاکٹرز کا عملہ جو رات دن جاگ کر ڈیوٹیاں کرتے ہیں، بازار جو رات گٸے آخری عشرے میں کھلے رہتے ہیں اور ہم اپنی ساری بھلاٸیوں کو بازار میں گزار دیتے ہیں۔ یہ صرف شیطان کا بہت بڑا وسوسہ ہے نہیں تو تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور اللہ کے خاص بندے دن کو کاموں میں مصروف رہتے اور راتیں اللہ کے حضور قیام و سجود میں گزارتے گویا اصل بات لگن اور تڑپ کی ہے اللہ کی خوشنودی کی طلب اور آتش دوزخ کی فکر ہے۔ نبیﷺ کا فرمان ہے: ”جو شخص لیلتہ القدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرے اسکے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں“۔( متفق علیہ)

پھر عبادت کے لیۓ ضروری ہے کہ انسان کے اندر ایمان اور پھر احتساب موجود ہو کیونکہ ایمان اور احتساب کے ساتھ کی جانے والی عبادت کا لطف الگ ہی نظر آتا ہے۔ ایک طرف اللہ کی رحیِمت و محبت ذہن میں ہو تو دوسری جانب اپنے گناہوں کے انبار آنکھوں کے سامنے ہوں، ندامت و شرمندگی ہو، بندہ رات کی تنہاٸی میں اللہ کے حضور جھکا ہوا ہو تو کیا کیفیت ہوگی؟؟ پھر مالک رٶف الرحیم کے عطا و وجودُ کرم کا دریا کتنا جوش مارے گا۔ سبحان اللہ

اور وہ رب خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹاتا۔ہےناں آخر کتنی پیاری سیل رحمتوں برکتوں اور مغفرت کی ہےناں اس سیل میں کتنی فضیلت والی رات جو اپنے آپکو اللہ سے قریب کرنے کا بہت ہی خوبصورت موقع ہے۔ بس لگن اور تڑپ ہو تو ہر کام آسان ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی اپنے خوش نصیب لوگوں میں شامل فرماۓ اور یہ راتیں عطا کر اور بعد رمضان بھی ہم اللہ کے حکم پر عمل پیرا رہیں آمین۔