خلیل رحمان قمر کا ارتغرل - قاضی شیراز احمد

خلیل رحمان قمر پاکستان کے ایک نامور ڈرامہ نگار اور شاعر ہیں۔ان کے اکثر ڈراموں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ان کا ایک حالیہ ریلیز ہونے والا ڈرامہ 'میرے پاس تم ہو'کافی مشہور ہوا۔اس کی شہرت کے بعد پاکستان کے نامور ٹی وی چینلز نے اپنے پروگراموں میں خلیل رحمان قمر صاحب کو مدعو کیا۔ایک پروگرام جس کی اینکر پرسن عائیشہ احتشام تھیں اس میں انہوں نے خلیل رحمان قمر اور ماروی سرمد دونوں کو مدعو کر رکھا تھا۔

ماروی سرمد نامی یہ خاتون پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبردار ہیں۔اور اس پلیٹ فارم سے کافی ملکی اور بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکی ہیں۔یہ ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ یہاں ملک دشمنوں کی ہمدردیاں اور سرمایہ حاصل کرنے کے لیے انسانی حقوق کا پلیٹ فارم سب سے بہترین ہے۔حالیہ آزادی مارچ جوکہ سرخ انقلاب اور خواتین کی نام نہاد آزادی کا مربہ تھا اس میں یہ خاتون کافی سرگرم عمل تھیں۔اور میرا جسم میری مرضی والے نظریے کا پرچار جوش وخروش سے کر رہی تھیں کہ اچانک کرونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑی تو ان کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔اس پروگرام میں تشریف لائے خلیل رحمان قمر سے دوران گفتگو یہ خاتون اپنے جارحانہ رویے کی وجہ سے الجھ پڑیں۔

اور خلیل صاحب نے بھی طیش میں آکر ایسے الفاظ ادا کردیے جو شاید ایک طیش میں آیا ہوا مرد صرف گھر میں ہی بولتا ہے۔مگر اس بے باک انسان نے اپنے مدمقابل آئی دوسری بے باک خاتون کو بے باکانہ لہجے میں چند بے باک الفاظ کہہ دیے۔جو کہ ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں معیوب سمجھے جاتے ہیں۔اور خصوصا جب ایک پڑھا لکھا شخص جو اس معاشرے کا ادیب و مصنف ہو۔غصہ میں آنا اور خود پر قابو رکھنا یہی تو ہماری مذہبی اور اخلاقی اقدار ہیں۔خیر اب ہم کہاں اور ہماری اخلاقی اقدار کہاں۔ہم کبھی نیوز اینکر کے سر سے دوپٹہ اتر جانے پر چیخ اٹھتے تھے اب میرے پاس تم ہو جیسے ڈراموں کی آخری قسط کا انتظار ایسے کررہے تھے جیسے دنیا کرونا وائرس کی ویکسین کا انتظار کر رہی ہے۔

خلیل رحمان قمر صاحب ایک اچھے لکھاری اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ تکبر اور انانیت کی بھی اعلیٰ درجے پر فائز ہیں۔وہ خود کو جلال الدین رومی اور ڈاکٹر محمد اقبال سے بہت آگے سمجھتے ہیں۔"میرے پاس تم ہو"جیسے جدید گناہوں اور معاشرتی تنزلیوں کو خدا کی جانب سے الہام کردہ کیفیات اور علم قرار دیتے ہیں۔رب کے جانب سے جن کو الہام ہوتا ہے ان کی زبان و اعمال اور افعال پر بھی رب کا پہرہ ہوتا ہے۔جبکہ موصوف کی زبان کی تیزی سے پوری قوم واقف ہے۔بقول شاعر

میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھے شجروں کو

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا

دریلیس ارتغرل جیسے تاریخی حقائق پر مبنی ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بھی موصوف اپنی حاسدانہ خصلت نہ دبا سکے اور اعلان کر ڈالا کہ میں ارتغرل جیسا کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔اہل ترک ایک قدیم تاریخ رکھتے ہیں اور ان کے پاس ایسے غیور اور بہادر لوگ موجود ہیں۔جنہوں نے تاریخ کو سنہری اوراق بخشے۔جن کے تاریخی کارناموں کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے یہ کامیاب سیریل دنیا کو دکھایا۔مگر ہمارے ہاں ایسی کون سی خلافت قیام میں آئی اور کون سے ایسی حکومت قائم ہوئی جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے قیام پذیر ہوئی ہم تو وہ غدار ہیں جنھوں نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ لگا کر برصغیر تقسیم کیا اور لاکھوں انسان قتل کرائے۔اب تک صدارتی اور پارلیمانی،آمریت و جمہوری نظاموں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔

ہمارے ہاں مذہبی ہم آہنگی کے نام پر وہابی،دیوبندی،سنی،بریلوی اور شیغہ فرقے ہیں جو ملت واحدہ کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔اور رہی سہی کسر ہماری سیاسی جماعتوں نے پوری کر رکھی ہے۔کردار کشی،لاقانونیت اور اقتدار کی ہوس کی آماجگاہ بن گیا ہے میرا وطن۔ایسی صورت حال میں ایک لکھاری ارتغرل جیسا لکھنے چلا ہے جس کا ماضی "صدقے تمہارے"اور حال "میرے پاس تم ہو"ہے۔پہلے وہ بیٹے پیدا کرو۔جن کے اندر رب کی وحدانیت،عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم،شوق شہادت،جذبہ جہاد،امت مسلمہ کی فکر اور غیرت کا مادہ ہو۔پھر ان کے کارنامے اور تاریخ لکھو۔کب تک خیالی پلاؤ پکاو گے اور چند سکوں کے عوض جھوٹی اور خیالی کہانیاں بیچتے پھرو گے۔

تاریخ تمہیں صرف قصہ گو لکھے گی مورخ نہیں۔اور آپ کا ارتغرل اپنی حلیمہ کو صلیبیوں اور سلطان سے بزور شمشیر نہیں چھین پائے گا وہ دانش کی طرح اپنی بے چارگی اور مظلومیت کا رونا روتے رہے گا۔اور اس کو کسی اور کی بانہوں میں دیکھ کر تڑپتے ہوئے جان دے گا۔اور نہ آپ کی حلیمہ سلطان اس قدر غیور ہوگی کہ وہ امیر العزیز کے محل اور بادشاہی کو ایک ترک چرواہے کی محبت پر قربان کردے گی۔بلکہ وہ آپ کی مہوش کی طرح امیری اور تونگری میں عیاشیاں کرے گی۔