کرونا وائریس اور خدمتِ خلق - ندیم احمد میر

کرونا وائریس ایک ایسی وبا ہے جو دسمبر ۲۰۱۹ء؁ کے آخری ہفتے میں چین کے ووہان شہر میں اٹھی اور اس وبائی لہر نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔ پوری دُنیا اس وبا کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی اپنا بھر پورزور دکھائی دینے میں مصروف ہیں۔

اس عالمگیر وبا سے تقریبًا زندگی کا ہرکوئی شعبہ متاثر ہوا اور پوری دُنیا اب جیل خانہ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ہر کوئی انسان ایک Vaccineکا انتظار کر رہا ہے۔ طبی ماہرین خاص طور پر اپنی خداداد صلاحیتوں(Inherent Abilities) کو استعمال میں لا کر اس Vaccineکو دن رات ڈھونڈنے میں سرگرم عمل ہیں لیکن انہیں بھی ہر طرف مایوسی ہی مایوسی دکھائی دے رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر Vaccineملنے کی روشن کرن فی الحال میسر نہ آئی تو پھرکیا ہم اسی نا اُمیدی کے دلدل میں پھنس کر رہ جائیں گے یا پھر کچھ کرنے کے کام بھی ہیں۔ اس سوال کا جواب ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات یعنی اسلام میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دُنیا میں جو بھی مصیبت ظہور پزیر ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ لہٰذا کرونا وائریس جیسی ایک عالمگیر مصیبت کو دور کرنے کی طاقت اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ اسلئے بہتر یہی ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹیں اور اللہ تعالیٰ کو دُعا کرنے کے ساتھ ان اعمال کو حرزِ جان بنائیں جو اللہ تعالیٰ کی حقیقی خوشنودی کا سبب بنیں۔ کرونا وائریس جیسی عالمگیر وبا میں یوں تو بہت سارے اعمال ہیں جن کی نشاندہی ہم یہاں کر سکتے ہیں لیکن وقت کی قلت کو مِد نظر رکھتے ہوئے ہم خدمتِ خلق کو ہی اپنا آج کا موضوع بناتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات پر بار بار غور کیجئے۔ آپ یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ایک طرف اللہ کی بندگی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے بندوں کی خدمت بھی ہے گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد اچھی زندگی گزارنے کے دو اہم شعبے ہیں جن کی پاسبانی سے ہی کامیابی کی نو ید ملتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سارے دیندار لوگ حقوق اللہ کو بڑی جانفشانی سے ادا کرتے ہیں لیکن حقوق العباد ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی خوشنودی سے محروم رہ جاتے ہیں۔

آج کرونا وائریس جیسی عالمگیر وبا میں اگر ہم چو طرفہ نظر دوڑائیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ معاشرے میں بہت سارے لوگ ہماری خدمت کے منتظر ہیں۔ اِن حالات میں ہمارے لئے خدمتِ خلق کے بہت سارے مواقع ہیں لہٰذا احتیاطی تدابیر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ معاسرے میں مفلوق الحال لوگوں تک پہنچنے کی امکانی حد تک کوشش کرنا وقت کے ایک اہم تقاضے کے ساتھ ساتھ ہمارا دینی، اخلاقی، ملی اور معاشرتی فریضہ بن جاتا ہے۔

کروناوائریس اور خوش نصیب راہی:

کرونا وائریس نامی مرض کے پھیلاؤ کے موقع پر جو لوگ خدمتِ خلق کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ، وہ انتہائی عظیم مشن کے خوش نصیب راہی ہیں۔ مذکورہ موضوع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہاں ہم بطور مثال ایک حدیث قدسی پیش خدمت کرتے ہیں تا کہ بات سمجھنے میں آسانی پیدا ہو۔

ایک حدیثِ قدسی میں ہے:
’’ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت بندے سے فرمائے گا: میں بیمار تھا، لیکن تو نے میری دیکھ بال نہیں کی تھی۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں کیسے تیری دیکھ بال کرتا، تو تو سارے جہاں کا نگہبان ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا! کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو نے اس کی دیکھ بھال کی ہوتی تو مجھے اس کے پاس پاتا؟پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، مگر تو نے مجھے نہیں کھلایا تھا۔ بندہ کہے گا! اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھلاتا ، تو تو سارے جہاں کا پالن ہار ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا، مگر تو نے اسے نہیں پلایا تھا۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اسے پلاتا تو اسے میرے پاس پاتا؟‘‘ (مسلم)

اس حدیث پاک سے بہ خوبی اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ اسلام میں خدمتِ خلق کو کتنا عظیم مقام دیا گیا ہے۔ ایک انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی مدد کرتا ہے۔ وہ بھوکے ہوں تو ان کے لئے راشن یا کھانے کا نظم کرتا ہے۔ پیاسے ہوں تو ان کے لئے پانی کا انتظام کرتا ہے۔ بیمار ہوں تو ان کے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا کرنے والے فرد نے انسانوں کی مدد نہیں کی بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی مدد کی ہے۔
اس تصور کو قرآن و حدیث میں بہت نمایاں کرکے پیش کیا گیا ہے کہ یہ مال و دولت اور آسودگی، اللہ کا دیا ہوا انعام ہے۔ لیکن جب ایک بندہ مومن اسے انسانوں کی ضروریات پر خرچ کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنے ذمے قرض کی حیثیت دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ روزِ قیامت اسے خوب بڑھا چڑھا کر خرچ کرنے والے کو واپس کرے گا۔ قرآن کریم میں ہے: ’’کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے، تاکہ اللہ اُسے کئی گنا بڑھا چڑھاکر واپس کرے؟‘‘ (البقرہ۲:۲۴۵)

اسی طرح ایک حدیث میں ہے: ’’جب وہ انسان اپنی پاکیزہ کمائی میںسے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسے خوب اہتمام سے پروان چڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے پالتو جانور کے بچے کی نگہ داشت اور پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس نے ایک کھجور کا صدقہ کیا ہو تو وہ اللہ کی نگرانی میں بڑھتے بڑھتے پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘ (بخاری)

کرونا وائریس میں دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرنے کا سُنہری موقعہ:

اسلام نے حقوق اللہ اورحقوق العباد دونوں شعبوں کو اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر ان میں سے ایک شعبہ کمزور رہ جاتا ہے تو بندوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور اس میں حقوق العباد تو اس قدر اہمیت رکھتے ہیں کہ جب تک بندے آپس میں ایک دوسرے کو معاف نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے یہاں چھٹکارا مشکل ہے۔ پر شکوہ عمارتیں بنا لینا یا بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں کو عبور کر لینا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔ آئیے دیکھیں کہ قرآن کے نزدیک بلندیوں کو چھونا کسے کہتے ہیں: ’’مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزر گھاٹی؟ (وہ یہ ہے کہ) کسی گردن کو غلامی سے چُھڑانا، یا فاقے کے دن میں کھانا کھلانا، کسی قرابتدا ر یتیم کو یا کسی خاکسار مسکین کوـ۔‘‘ (البلد:۶ا:۱۱)

اس آیت پر صاحبِ تفہیم القرآن نے جو نوٹ لکھا ہے وہ بڑا ہی قابلِ دید ہے۔ لکھتے ہیں: ’’اقتحام کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقّت طلب کام میں ڈالنا۔ اور عَقَبہ اُس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کے لئے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اُسے دکھائے ان میںسے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقّت طلب او ر دشوار گزار ہے۔اُس میں آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڈوں میں اُترتا ہے، مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دینا کا فی ہے، پھر آدمی خود نشیب کی طرف لڑھکتا چلا جا تا ہے۔ اب یہ آدمی جس کو ہم نے دونوں راستے دکھا دیے تھے، اِس نے اُن میں سے پستی کی جانب والے راستے کو اختیار کر لیا اور اُس مشقّت طلب راستے کو چھوڑ دیا جو بلندی کی طرف جانے والا ہے۔

اوپر چونکہ اُس کی فضول خرچیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ بڑائی کی نمائش اور لوگوں پر اپنا فخر جتانے کے لئے کرتا ہے۔ اس لئے اب اس کے مقابلے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کونسا خرچ اور مال کا کونسا مصرف ہے جو اخلاق کی پستیوں میں گرانے کے بجائے آدمی کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، مگر اُس میں نفس کی کوئی لذت نہیں ہے بلکہ آدمی کسی غلام کو خود آزاد کرے، یا اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کرکے رہائی حاصل کر لے، یا کسی غریب کی گردن قرض کے جال سے نکالے، یا کوئی بے وسیلہ آدمی اگر کسی تاوان کے بوجھ سے لد گیا ہو تو اُس کی جان اُس سے چُھڑائے۔ اِسی طرح وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی بھوک کی حالت میں کسی قریبی یتیم (یعنی رشتہ دار یا پڑوسی یتیم) اور کسی ایسے بے کس محتاج کو کھانا کھلائے جسے غربت و افلاس کی شدت نے خاک میں ملا دیا ہو اور جس کی دستگیری کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ایسے لوگوں کی مدد سے آدمی کی شہرت کے ڈنکے تو نہیں بجتے اور نہ ان کو کھلا کر آدمی کی دولت مندی اور دریا دلی کے وہ چرچے ہوتے ہیں جو ہزاروں کھاتے پیتے لوگوں کو شاندار دعوتیںکرنے سے ہوا کرتے ہیں ، مگر اخلاق کی بلندیوں کو طرف جانے کا راستہ اِسی دشوار گزار گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، جلد ۶، ص۳۴۲۔۳۴۱)

کرونا مہاماری اور عید الفطر: یتیموں اور مساکین کی دلجوئی کیجیے: پوری دُنیا میں لاک ڈائون سے جو صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے وہ خون کے آنسو رُلانے والی ہے۔ اِ ن حالات میں وقت کے اہم تقاضے کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ دینی فریضہ بھی بنتا ہے کہ ہم یتیموں اور مسکینوں کی خبر گیری کریں تا کہ ہم اُن بشارتوں کے حقیقی مصداق بن سکیں جو اُن کی دیکھ بال کے متعلق حضورؐ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ اس موضوع کے حوالے سے حدیث کی کتابوں میں بہت ساری مُستند احادیث موجود ہیں لیکن ان سب کا یہاں لانا بہت ہی مشکل ہے اسلئے ہم اختصار کے ساتھ چند ہی احادیث کو پیش خدمت کرتے ہیں: حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺْ نے فرمایا میں اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کرلے، جنت میں اِس طرح ہوں گے۔ یہ فرما کر آپؐ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھا کر دکھایا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔‘‘ (بخاری)

حضرت ابو ہریرہؓ حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’’ مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے نیک سلوک ہو رہا ہو اور بد ترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے بُرا سلوک ہو رہا ہو۔ ‘‘ ( ابن ماجہ)
حضرت ابو اُمامہ ؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا’’ جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محض اللہ کی خاطر پھیرا اُس بچے کے ہر بال کے بدلے جس پر اس شخص کا ہاتھ گزرا اُس کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ نیک برتائو کیا وہ اور میں جنت میں اِس طرح ہوں گے۔ اور یہ فرما کر حضورؐ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر بتائیں۔‘‘ (ترمذی)

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺْ سے شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے۔ حضورؐ نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا۔‘‘ (مسند احمد)حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کی مدد کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا۔ اور حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضورؐ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا ہے اور آرام نہ لے اور جو پے در پے روز ے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

آخر پر ہم مذکورہ موضوع کے حوالے سے یہاں خون کے آنسو رُلا دینے والا ایک واقعہ پیش خدمت کرتے ہیں تاکہ دلوں پر اثر ہو جانے کے بعد ہم یتیموں اور مساکین کے لیے محو ِ جدو جہد ہو جائیں اور نتیجًا اللہ تعالیٰ کی حقیقی خوشنودی کے ہم مصداق بن سکیں۔ واقعہ اس طرح ہے:عید کا دن ہے،مدینے کے گلی کوچوں میں ہر طرف چہل پہل ہے، مسلمان نوجوان، بوڑھے اور ہوشیار بچے صاف ستھرے کپڑے پہنے عید گاہ کی طرف جا رہے ہیں۔ مدینے کی گزر گاہیں تکبیر و تہلیل کی صدائوں سے گونج رہی ہیں، ایک راستے سے نبی ﷺْ بھی عید کی دو گانہ ادا کرنے کے لئے عید گاہ جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے ایک مقام پر بے اختیار آپ کے قدم رُک گئے۔ کچھ بچے بڑی بے فکری سے اچھے اچھے کپڑے پہنے کھیل کود میں مگن ہیں، مگر ایک لڑکا ان سب سے الگ تھلگ غمگین بیٹھا ہے، میلے کچیلے کپڑے پہنے سارے بچوں کو حسرت سے دیکھ رہا ہے ۔ رحمت عالم ﷺْ اُس مصیبت کے مارے لڑکے کے پاس پہنچے۔ اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔ اور فرمایا۔’’ بیٹے! تم نہیں کھیلتے؟ تم نے کپڑے نہیں بدلے بیٹے! تم اتنے غمگین کیوں ہو؟‘‘

بچے نے سر اٹھاکر دیکھا اور فوراً آنکھیں جھکا لیں، ہمدردی کا برتائو دیکھ کر اور جملے سُن کر بے اختیار اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اور ٹالتے ہوئے بولا…… ’’ چچا میاں ! میری قسمت میں کھیل اور خوشی کہاں؟ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ خدا کے رسولؐ کا دل بھر آیا، لڑکے کو گلے سے چمٹا لیا اور فرمایا’’ بیٹے! بتائو تو سہی تمہیں کیا دُکھ پہنچا ہے، آخر تم پر کیا مصیبت آ پڑی ہے؟‘‘ ’’ چچا میاں! آپ میری بپتا کی داستان سُن کر کیا کریں گے، میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے باپ بھی نہیں ہیں اور میری ماں، ………یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھر آ گئی اور وہ جملہ پورا نہ کر سکا۔ خدا کے رسولﷺْ نے بچے کو کچھ اور اپنے سے قریب کر لیا، اور کہا، بیٹے تمہارے ماں باپ کا کب انتقال ہوا؟‘‘

’’ چچا میاں ! میرے باپ ایک جنگ میں کافروں سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے ۔میری ماں نے دوسرا نکاح کر لیا، اور میرا باپ کا چھوڑا ہوا سارا سامان لے کر اپنے نئے گھر میں چلی گئیں، میں بھی خوش خوش اپنی امی کے ساتھ گیا، مگر چند ہی دن کے بعد میرے دوسرے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب نہ میرا کوئی گھر در ہے، نہ ولی اور سر پرست۔ اب مجھ پر ترس کھانے والا کوئی نہیں۔ چچا میاں میرا کوئی بھی تو نہیں ہے۔‘‘ اور لڑکے کی ہچکی بندھ گئی۔‘‘ میری امی بھی تو کچھ نہیں کرتیں۔ مگر وہ مجبور ہیں، اب وہ کیا کر سکتی ہیں۔‘‘ بچے کی حالت سُن کر اور اس کا رونا دھونا دیکھ کر نبی ﷺْ کی آنکھوں میں بھی آنسو بہہ پڑے۔ اور بڑے پیار و محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا:

’’بیٹے تم کیا یہ پسند کرو گے کہ محمدؐ تمہارے باپ بن جائیں، عائشہؓ تمہاری ماں بن جائیں ، فاطمہؓ تمہاری بہن بن جائیں، اور حسنؓ و حسینؓ تمہارے بھائی بن جائیں۔‘‘ محمدﷺْ کا نام سُنتے ہی بچے نے عقیدت و حیرت کے ساتھ آپؐ کے چہرے مبارک کو دیکھا۔ اور انتہائی عاجزی اور احترام سے بولا۔ یا رسول اللہ ! مجھے معاف فرمایئے۔ پہلی بار میںنے آپﷺ کی بات کا جواب بڑی بے توجّہی سے دیا تھا، دراصل میں آپ کو جانتا نہ تھا۔ یا رسول اللہ! میرے باپ ہزار بار قربان ہیں خدا کے رسول ؐ پر حضرت عائشہؓ سے اچھی ماں کہاں ملیں گی۔ حضرت فاطمہؓ سے اچھی بہن اور حضرت حسنؓ اور حسینؓ سے اچھے بھائی کہاں میسر آئیں گے۔ مجھ سے زیادہ خوش نصیب کون ہو گا، اگر خدا مجھے ایسا خاندان دلوائے۔ اور لڑکے کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے۔

خدا کے رسول ﷺْ نے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ گھر کی طرف لے کر روانہ ہوئے۔ گھر پہنچے، تو حضرت عائشہؓ سے فرمایا ’’عائشہ ، لو یہ تمہارا بیٹا ہے، اسے نہلا کر کپڑے پہنائو، اور اسے کھانا کھلائو۔
یہ لڑکا آخر دم تک نبیﷺْ کے پاس رہا، آپؐ جب اس دُنیا سے رخصت ہوئے، تو اس لڑکے کا بُرا حال تھا۔ اس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی، اور وہ کہتا تھا، آج میں یتیم ہو گیا،ابو بکر صدیق ؓ نے لڑکے کی یہ کیفیت دیکھی تو پیار سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنی سر پرستی میں لے لیا۔ (بحوالہ روشن ستارے از مولانا محمد یوسف اصلاحی، ص ۲۳۵۔۲۳۳)

اس واقعہ سے درس لیتے ہوئے اور کرونا وائریس کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آئیے انشاء اللہ ہم سب مل کر باقی ایّام میں بالعموم اور عید الفطر کے دن بالخصوص یتیموں اور مساکین کے لئے روشنی کی کرن بن جانے کی کوشش کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */