بھارت کی نظر آزاد کشمیر پر نہیں، بلکہ.... - حبیب الرحمن

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف جعلی فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مودی کا آر ایس ایس سے متاثرہ نظریہ بالکل واضح ہے۔ مقبوضہ خطے پر قبضہ مضبوط کرکے کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت سے مکمل محروم کیا جائے۔ ان سے ناروا اور غیر انسانی سلوک کیا جائے۔ ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ بھارت کے آگے ہتھیار ڈال کر اپنی خود مختاری کے حق سے دستبردار ہوجائیں اور خاموشی کے ساتھ بھارت کی غلامی قبول کرلیں۔

وزیر اعظم کا یہ بیان مبنی برحقیقت ہے اور کشمیر پر بھارت کی دراندازی اور 5 اگست 2019ء سے شروع ہونے والی ساری کارروائیاں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ یہ ایک ایسا جبر مسلسل ہے جس پر پوری دنیا شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دے کر بیٹھی نظر آرہی ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک، جہاں مسلمان امتیازی سلوک کا شکار ہیں، ان کے بارے میں ویسے بھی دنیا نے طوطا چشمی اختیار کی ہوئی ہے اور بااعتبارِ ظلم وزیادتی، ان کے لیے ایسی مؤثر آوازیں نہیں اٹھائی جارہیں جو اس قسم کے امتیازی، غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک پر اٹھائی جانی چاہئیں۔ اس کے برعکس اگر کسی بھی مسلمان ملک میں کسی غیرمسلم اقلیت کے خلاف کوئی نامناسب سلوک ہوتا ہے (جو بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے) تو دنیا کا ردِ عمل فوراً سامنے آجاتا ہے اور حقوقِ انسانی کی ساری تنظیمیں حرکت میں آجاتی ہیں۔

پاکستان کشمیر کے سلسلے میں بہت واضح پالیسی رکھتا آیا ہے اور دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔ چند ماہ پہلے وزیر اعظم پاکستان نے اقوامِ عالم کے فورم پر کشمیر کے سلسلے میں جس موثر انداز میں کشمیریوں کی ترجمانی کی تھی، ان کی تقریر کی وہ گونج ابھی تک اقوام عالم کے در و دیوار پر سنائی دے رہی ہے لیکن اقوام عالم نے اس پر توجہ دینے کی بجائے پاکستان کو لولی پاپ کے سوا کچھ نہ دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کے حوصلوں کو بڑھوتری ملی اور اس نے پوری وادی پر پہلے تو فوجی تسلط حاصل کیا اور پھر قانونی و آئینی طور پر اس کو اپنا حصہ بنالیا۔

پاکستان اگر چاہتا تو بھارت کے جارحانہ طرزِ عمل کے سامنے اسی قسم کا ردِ عمل دے سکتا تھا لیکن وہ خطے کو جنگ میں جھونک دینے کی بجائے مسلسل اس کو شش میں ہے کہ کسی طرح دنیا کی ساری اقوام اس جارحیت کے خلاف کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہوجائے اور خطہ کسی شدید کشیدگی کا شکار ہونے سے بھی بچا رہے لیکن دنیا کی پُر اسرار خاموشی بھارت کے حوصلے فزو تر کیے جارہی ہے اور وہ مقبوضہ وادی پر اپنے پنجے گاڑ لینے کے بعد اُس خطے کی جانب بھی پیش رفت کرتا نظر آ رہا جو پاکستان کے زیر نگرانی ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیر کی ساری وادی ترنگے جھنڈے کے تحت آ جائے، چنانچہ آئے دن ایل او سی کی خلاف ورزیاں اور مسلسل دھمکی آمیز لب و لہجہ کسی بھی وقت خطے کی صورت حال کو خراب کرسکتا ہے اور دونوں ممالک کسی بڑی جنگ کے لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو وزیر اعظم پاکستان کی تشویش کا باعث ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کے عزائم دنیا کے سامنے آ تے رہیں اور دنیا ان کے حل کے لیے پاکستان کی مدد و اعانت کرے تاکہ ایسا نہ ہو کہ دو ایٹمی ممالک کا ٹکراؤ دنیا کو تباہی و بربادی کی لپیٹ میں لے لے۔

یہاں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ دنیا دو بڑی لابیوں میں منقسم نظر آتی ہے۔ امریکا اور چین ایک دوسرے کے مد مقابل آچکے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بڑا دھماکا ہوسکتا ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سی پیک بھارت اور امریکا کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہ کسی وقت بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان آتش فشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے بھارت کی ریشہ دوانیاں صرف کشمیر پر تسلط ہی کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ وہ سی پیک کی راہیں مسدود کرنے کے لیے بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہنی چاہیے کہ ایسا کچھ کرنے میں امریکا، جو بظاہر پاکستان کا دوست ہے، خود اس کی پالیسی کا عمل دخل ان ریشہ دوانیوں میں بھی شامل ہو۔ وزیر اعظم پاکستان اور افواج پاکستان کو اس اہم نقطے کی جانب بھی دیکھنا ہوگا اور بھارت کو کسی بھی قسم کی جارحیت کو ایل او سی کے اُس پار تک ہی محدود کردینا ہوگا۔ کسی بھی قسم کے فلیگ آپریشن یا پاکستان میں اندر تک گھسنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانا ہوگا اور اس سلسلے میں دنیا کو بھی اپنے اعتماد میں لینا ہوگا۔ اسی قسم کے بھرپور اقدامات پاکستان اور خطے کو تباہی و بربادی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */