لاک ڈاؤن اور سیاست - محمد عنصر عثمانی

کورونا وائرس عالمی جنگوں کی طرح تاریخ میں زندہ رہے گا اور اس کا سماجی، معاشرتی، معاشی اثر نسلوں کو منتقل ہوگا۔ پوری دنیا اس سے وبا سے جان چھڑانے کی کوششوں میں متحد ہوکر مصروف ہے، لیکن ہماری سیاسی فضامیں وہی تلخی ہے۔

اس مشکل صورت حال میں سوائے چند ایک کے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی قد بڑے کیے، عوام کی خدمت میں بہت تھوڑے لوگوں نے ا مدادی مشن میں حصہ لیا، اسی طرح مخیر حضرات نے بھی اپنی مدد آپ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے غریبوں تک پہنچے اور ان کے ساتھ حسب توفیق تعاون کیا، اس سارے عرصے میں سب سے زیادہ مایوس کن کارکردگی حکمران جماعت کی رہی۔ کورونا وائرس کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے منتخب نمائندوں کا رویہ ہر ایک نے دیکھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا دست بازو بنتے، الٹا الزام تراشیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا اور امداد کے پروجیکٹوں پر اپنی اپنی تختیاں چسپاں کرنے اور فرنٹ پر آنے کا جنون سوار رہا۔ عوام نے ہمیشہ سیاست دانوں کے سخت رویوں کا سامنا کیا اورہر دفعہ انہیں ووٹ دے کر قومی اسمبلی میں بیٹھایا تاکہ عوام کا اضطراب ختم ہو، بھوک، غربت، مہنگائی مٹ جائے۔

حکومت نے ملک میں مرحلہ وار لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ 6 نکاتی ایجنڈے پر کیا ہے۔ وفاقی حکومت ہر صورت سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا چاہتی ہے، جبکہ صوبہ بلوچستان، سندھ کی حکومتیں وفاق کے اس فیصلے پر تحفظات کا شکار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت نے ٹانگیں اڑائیں جس کی وجہ سے صورت حال خراب ہوئی اور صوبے میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد سیاسی جماعتوں میں کورونا وائرس کو لے کر اختلافات پیدا ہوگئے۔ سندھ اور وفاق میں خلیج تو پہلے سے تھی مگر کورونا کے آنے کے بعد سب کچھ کورونا کی نذر ہوگیا۔ قومی یکجہتی، عوام کا اعتماد، تحفظ کی امید، غریبوں کی مدد اورہر طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے معاشی امداد کا صحیح طریقہ کارکا ہمیں فقدان نظر آیا۔ کورونا وائرس کے بعدعام آدمی کے لیے جو ریلیف و فنڈز مرکزی و صوبائی حکومتوں نے جارہی کیے اس بارے میں صوبے یا وفاق عدالت کو شفاف رپورٹس دے کر مطمن نہیں کر سکے کہ وہ فنڈز کہاں اور کن مستحقین کو پہنچائے گئے ہیں۔

دوسری طرف گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کورونا ریلیف آرڈیننس مسترد کردیا ہے جس کے تحت حکومت سندھ کی طرف سے یوٹیلیٹی بلوں کی مد میں عوام کو ریلیف ملنے والا تھا۔ اس فیصلے سے سندھ و وفاق کے بیچ تناؤ کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کوروناریلیف کے تحت حکومت سندھ نے عوام کو یوٹیلیٹی بلوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا تھا، جسے یہ کہہ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ہے کہ بجلی و گیس میں رعایت دینے کا کلی اختیار وفاق کو ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت نیشنل گرڈ سے آنے والی بجلی، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 ء کی وجہ سے مرکزی اختیارات کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اندازہ کریں کہ وفاق و صوبائی سیاسی مشینری ایک دوسرے کے بغض میں عوام کو کس طرح مہنگائی کے اندھے کنوئیں میں دھکیل رہے ہیں ؟ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو ڈھائی ماہ سے جن چھوٹے دکان داروں کے کاروبار بند ہیں، ان کو حکومت کی طرف سے ایک دھیلا بھی مدد نہیں ملی۔ متوسط طبقے والے افراد کے لیے مکان ودکان کا کرایہ نکالنا، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، بچوں کی فیسیں دینااور گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو گیا ہے۔

خدشہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے کھلتے ہی یہی چھوٹے کاروباری لوگ مصنوعی مہنگائی کریں گے۔ حکومت نے جن چھ نکات پر لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں سب سے اہم نکات چھوٹی مارکیٹس اور محلے کی دکانیں کھولنا بھی شامل ہے، جہاں سے اشیاء ضروریہ، گھریلو مصارف کا سامان تو مل جاتاہے مگر وہاں حکومت کی وضع کردہ پرائس لسٹیں موجود نہیں ہیں۔ رمضان المبارک میں ویسے بھی ہمارا سلوک حد درجہ سخت ہوجاتا ہے۔ ہر چیز دگنے تگنے داموں فروخت ہوتی ہے۔ قیمتوں میں 80 سے 85 فیصد تک اضافہ کر دیا جاتا ہے جس پر کوئی ادارہ، وفاقی و صوبائی حکومت ایکشن نہیں لیتی۔ مگر اب حکومت مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کے ساتھ مہنگائی پر قابو پانے کی مؤثر حکمت عملی بھی وضع کرے۔

کیوں کہ اس بات کا قومی امکان ہے کہ موجودہ حالات میں جب یہ چھوٹے کاروباروالے معاشی طور پر کافی نقصان برداشت کر چکے ہیں لاک ڈاؤن کھلتے ہی منافع خوری پر پِل پڑیں گے۔ رمضان المبارک میں تو مہنگائی میں ویسے ہی بے پنا اضافہ ہوجاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں اس کا مشاہدہ عام ہے کہ اسی ماہ میں اگلی پچھلی کثر بھی پوری کی جاتی ہے۔ گویا یہ نیکیوں کا مہینہ نہیں بلکہ منافع کماکر اپنی جیبیں بھاری کرنے کا مہینہ ہے۔ یورپی و مغربی ممالک میں رمضان المبارک میں مسلمانوں کو حلال فوڈز تک مکمل و آسانی کے ساتھ رسائی دی جاتی ہے اور وہاں کی غیر مسلم حکومتیں مسلمانوں کے عبادت کے اس پورے مہینے میں ان کا بہترین اکرام کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کو ریلیف دیتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں۔

سخت گرم ملکوں میں وہاں کی کمپنیاں اپنے ورکروں سے گھر سے کام کرواتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں ایسے عوامل کا قلع قمع کرنے کے بجائے ان کی پیٹھ تھپتھپائی جاتی ہے، ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ جتنا چاہیں مصنوعی مہنگائی کریںاور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکھٹا کریں۔ منافع خوری کے اس سارے عمل کا براہ راست گہرا اثرعام اور غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے ساتھ عوام کو معاشی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی کچھ تلافی کی جا سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com