عبادت میں ضد نہیں کیا کرتے - حبیب الرحمن

غلط بات غلط ہی ہوا کرتی ہے خواہ وہ کوئی بھی کرے۔ کسی کی غلط حرکت کو جواز بنا کر اسی بات کو خود دہرانا اس بات کو درست نہیں کر سکتا اس لئے کہ جو منفی نتائج کسی کے غلط کرنے سے نکل سکتے ہیں، ضد اسے مثبت نہیں بنا سکتی اس کیلئے آواز تو اٹھائی جائے یا اس کے خلاف بند تو باندھیں جائیں لیکن جواز بنا کر ان سارے غلط اقدامات کو اختیار کرلینا دانشمندی قرار نہیں دی جا سکتی۔

جب سے کورونا کی وبا ملک میں عام ہوئی ہے پورے پاکستان کے عوام کو مسلسل اس کی خطرناکیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ جو اس وبا کی خطرناکیت سے آگاہ ہو چکے ہیں وہ تو اپنی جانب سے اس بات کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے طور پر ان احتیاطوں کو جتنا اختیار کیا جا سکتا ہے کیا جائے لیکن عوام کی ایک واضح اکثریت ایسی ہے جو کسی ایک تدبیر کو اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں۔
جب یہ بات تحقیق شدہ ہے کہ ایک خاص فاصلے سے کم فاصلہ اختیار کرنے، کسی سے ہاتھ ملانے، گلے ملنے، باربار منھ، ناک آنکھ کو چھوتے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہونے سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کورونا ایک انسانی جسم سے دوسرے انسانی جسم میں بہر صورت منتقل ہوجائے گا تو اس کے بعد ان تمام احتیاطوں کو اختیار نہ کرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہےہو سکتا ہے۔

بات صرف اتنی ہے کہ حکومت ضلعی ہو، صوبائی ہو یا وفاقی، اگر ایمانداری سے بات کی جائے تو یہ ساری حکومتیں اس وقت کی ناکام و ناکارہ ترین حکومتیوں میں شمار کی جا سکتی ہیں جن میں حکومت کرنے، حالات پر قابو پانے، امور مملکت چلانے اور عدل و انصاف کے مطابق اقدامات اٹھانے کی کوئی بھی صلاحیت موجود نہیں۔ ان کے ہر معاملے میں اتنے چہرے ہیں جن کو شمار کیا جانا ناممکنات میں سے ہے۔ ملک کا کوئی بھی طبقہ ہو، سب ان کے اقدامات سے نہ صرف یہ کہ ناخوش ہیں بلکہ خطرہ اس بات کا ہے کہ ملک کے کسی بھی شہر، ضلع یا صوبے میں کوئی بہت بڑی خونریزی کسی وقت بھی برپا ہو سکتی ہے۔ ایک جانب کاروبار کھولے جارہے ہیں تو دوسری جانب ان میں تفریق کو بر قرار بھی رکھا جا رہا ہے۔

ایک جانب مختلف عبادات، نمازوں، مسجد میں جمع ہونے، اعتکاف میں بیٹھنے یہاں تک کہ نماز جنازہ تک میں شرکت پر اس لئے پابندیاں ہیں کہ کسی جگہ بھی انسانوں کا پر ہجوم ہونا وبا کی شدت میں اضافہ کر سکتا ہے تو دوسری جانب بازاروں، گلیوں، سڑکوں اور مارکٹوں میں انسانوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ پر حکومت کو کسی قسم کا کوئی اعتراض دکھائی نہیں دے رہا۔ کہیں چھوٹے تاجر متاثر ہو رہے ہیں تو کہیں بڑے بڑے شاپنگ مال بھوت بنگلوز میں تبدیل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک جانب جمعہ جیسی عبادت پر کرفیونافذ ہے تو کہیں بہت ساری دینی مجالس اور بڑے بڑے ماتمی جلوس نہ صرف دندناتے بھر رہے ہیں بلکہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اس میں کورونا کی ساری ایس او پیز کو جوتے کی نوک پر رکھے نہایت بد احتیاطی کے ساتھ شریک نظر آ رہے ہیں۔

حکومتوں کا ہی نہیں، پولیس، رینجرز اور افواج پاکستان جنھوں نے پاکستان میں امن و امان قائم رکھنے کا حلف لیا ہوا ہے، ان کے یہ دہرے معیار ہر اس دنیوی اور دینی طبقے کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ طیش میں آکر ایسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائے جن کا تقاضہ ان کی دنیوی یا دینی مفادات ان سے کر رہے ہیں۔ جب کسی جگہ ہجوم کورونا کی شدت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے تو پھر وہ ہجوم کسی بھی مقصد کیلئے جمع ہو، نتائج وہی نکلیں گے اور ملک کا قانون جب ایسا کرنے سے منع کرتا ہو تو اس پر عمل درآمد کرانا حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہی ہوا کرتا ہے ناکہ اس میں شامل ہو کر اس کا جزولا ینفک بن جانا ہوتا ہے۔
بے شک حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہرے معیار کو اپنائے ہوئے ہیں ۔

لیکن ان کا یہ دہرا معیار بہر حال کسی طبقے کو اس بات کی اجازت پھر بھی نہیں دیتا کہ وہ ضد میں آکر وہی غلط اقدامات اٹھائیں جس سے کورونا کی آگ سرد ہونے کی بجائے مزید بھڑ کے۔ ایسا طبقہ جو لگائی گئی پابندیوں پر عمل پیرا ہے اسے تحمل کا دامن کسی صورت بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومتوں اور اداروں کو اپنے دہرے معیار پر توجہ دینی چاہیے ورنہ ایک جانب کورونا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ ملک میں جلوہ افروز ہے تو دوسری جانب اگر امن و امان کی صورت حال اسی دہرے معیار کی وجہ سے بگڑ گئی تو پھر یہ سنبھالے نہ سنبھل سکے گی اور ہم اپنی غلط پالیسیوں کا شکار ہو کر اپنے آپ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے۔