ہر ڈاکٹر کی کہانی‎ - ڈاکٹر محمد شافع صابر

رات کے دو بجے ہیں، گھڑی کی ٹک ٹک ماحول کے شور میں کہیں کھو سی گئی ہے۔بعض و وقار گھمبیر رش میں وقت رک سا جاتا ہے۔میں الائیڈ ہسپتال کے ہڈی و جوڑ وارڈ میں موجود اپنی خدمات پہ معمور ہوں، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے، سونے کے لیے جب بھی آنکھیں موندوں، کسی مریض کا لواحق ڈاکٹرز روم کا دروازہ کھٹکھٹاتا کہ ہمارا مریض چیک کریں ۔

اور میرے سن ہوتے وجود میں اک بار پھر خون دوڑنے لگتا ہے۔ میں اسکے بیڈ پر جاتا ہوں، موزوں دوا لکھتا ہوں، یہ سلسلہ صبح آٹھ بجے سے جاری و ساری ہے، 24 گھنٹے کی کال ختم ہونے میں ابھی بھی چھے گھنٹے باقی ہیں۔ میرے تمام سینئر ڈاکٹرز میری مدد کے لیے آن کال موجود ہیں اور کسی بھی پریشانی پر میرے لئے دوڑے چلے آنے پہ آمادہ ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے، مجھے میرے دوست ڈاکٹر فرحان کی کال آئی تھی، وہ کہہ رہا تھا کہ سحری اکھٹے کریں گے اور یوں میرے خشک ہوتے ہونٹوں پہ مسکراہٹ در آئی۔

یہ صرف میری جانفشانی کی کہانی نہیں، یہ ہر اس ڈاکٹر کی کہانی ہے، جو ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔اپنا سکون و آرام برباد کر کے انسانیت کی بیلوث خدمت کر رہے ہیں۔ اپنی اس oath کا مان رکھے ہوئے ہے کہ فیلڈ میں جا کے ملک و قوم کی خدمت میں جان لگا دینی ہے اور کسی خوف اور پریشانی کو ڈیوٹی پہ حاوی نہیں ہونے دینا۔کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ڈاکٹرز ہو رہے ہیں، میرے اپنے وارڈ کے تیرہ ڈاکٹرز کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے اور ٹیسٹنگ کے عمل سے گزر رہے ہیں، اسی وجہ سے باقی ڈاکٹرز پر کام کا بوجھ زیادہ ہے،یہ سرجیکل وارڈ کی صورتحال ہے، میڈیسن وارڈ کا آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ہر ڈاکٹر اپنی ہمت سے زیادہ کام کر رہا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے، ان سب خدمات کے باوجود بھی، ہم ڈاکٹرز کو گالیاں دیتے ہیں، ان سے بدتمیزی کرتے ہیں، لواحقین ڈاکٹرز ہر ہاتھ بھی اٹھا دیتے ہیں،سوشل میڈیا پر ان کے خلاف کمپین چلاتے ہیں اور حکام بالا تک بات بھی پہنچاتے ہیں جو جوابی طور پہ ڈاکٹرز کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہیں۔

میری ذاتی زندگی اور روزمرہ کی روٹین اسی ہسپتال کی فضا میں گم ہو گئی ہے۔ مجھے اپنے دوستوں سے بات کیے بھی عرصہ دراز ہو گیا ہے، کوئی کسی وارڈ میں بزی ہے تو کوئی کسی اور میں،جس دن میری چھٹی ہوتی ہے، وہ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں اور چل سو چل، اگر قسمت اچھی ہو تو افطاری یا سحری پر ملاقات ہوتی ہے، یہ ملاقات بھی روایتی ملاقات نہیں ہوتی، ہم اپنے اپنے وارڈ کے مریض ہی ایک دوسرے سے ڈسکس کرتے ہیں۔اب چونکہ پروفیشن میں آ گئے ہیں تو پوری طرح اس میں ڈھل گئے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ، ابھی بھی ڈاکٹرز بنا حفاظتی سامان کے کام کر رہے ہیں، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے، سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ تر مریضوں کا تعلق لوئر کلاس سے ہوتا ہے، یہ کرونا سے زیادہ متاثرہ ہیں اور جو بھی ڈاکٹر انکو چیک کرتا ہے، اس میں انفیکشن کا رسک بھی باقیوں کی نسبت زیادہ بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ پھر بھی انکو اتنی ہی لگن سے چیک کرتے ہیں. حفاظتی سامان کے لیے احتجاج کرتے ضرور ہیں، لیکن اگر سامان نا بھی ملے، مریض چیک کرنا نہیں چھوڑتے۔ میرے اپنے ہی بہت پیارے سنئیر، ڈاکٹر مبشر ابرار بھی کرونا کا شکار ہو گئے تھے، انکا علاج ابھی بھی جاری ہے، یہی صورتحال ہر دوسرے ڈاکٹر کی ہے۔

لیکن ان سب مشکل حالات کے باوجود، جب آپکی دوا سے مریض کو سکون ملتا ہے، اسکے ساتھ آئے لوگ، جب اپکو دعائیں دیتے ہیں، اپکا شکریہ ادا کرتے ہیں تو ساری مشکلیں بھول جاتی ہیں، دل مطمئن ہو جاتا ہے، جو لوگ سوشل میڈیا پر گالیاں دیتے ہیں وہ پھر کوئی معنی نہیں رکھتیں۔شاید انہی خوبیوں کی وجہ سے ڈاکٹرز اس قوم کا فخر ہیں، جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں، دوسروں کو سکون دینے کے لیے، اپنے سکون کی قربانی دیتے ہیں۔ حالات چاہئے کتنے ہی ناساز کیوں نا ہوں، یہ آپ کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ شفا تو خدا کی ذات دیتی ہے مگر اسکے وسیلے یہاں دنیا میں مخصوص لوگوں کی جانب سے ہی پہنچتے ہیں،سو خدا اور خدا کے وسیلوں کی قدر اور شکرگزاری انسان کے بڑیپن کی علامت ہے۔

فائنل ائیر میں، ہمارے ڈاکٹرز ہمیں سمجھایا کرتے تھے کہ آپ جس شعبہ میں آ چکے ہیں، اس کا ایک ہی اصول ہے وہ ہے بے لوث خدمت، آپ کے لیے سب سے زیادہ اہم آپ کا مریض ہے، اب یہ بات سمجھ آ چکی ہے، اب ڈاکٹرز کو دن رات یوں کام کرتے دیکھتا ہوں، تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے اس شعبے کے لیے چنا، اب سہری کا وقت ہے، ڈاکٹر فرحان میرا انتظار کر رہے ہیں، باقی باتیں پھر سہی!!دعا کیجئے کہ قوم کے سپوت اپنا کام اسی جانفشانی اور محنت سے کرتے رہیں اور ان کی زندگیاں محفوظ و توانا رہیں، آمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com