پروفیسر صاحب قبلہ - عمران زاہد

پروفیسر صاحب سدا کے جذباتی۔ جذبے کی اتنی شدت کہ اپنے باسز کو بھی کھری کھری سنا دیتے ہیں۔ اپنی بات کہنے کے اتنے دھنی کہ بالکل نظرانداز کر دیتے ہیں کہ دوسروں کی کتنی سمع خراشی ہورہی ہے۔ کئی دفعہ تو سڑک کے کنارے کھڑے کھڑے ہی مخاطب کا ہاتھ پکڑے پکڑے نان سٹاپ اپنی بات کہے جاتے ہیں۔ ان سے ساتھ گفتگو میں عموماً فریق مخالف کو بات کرنے کا کم ہی موقع ملتا ہے۔ میٹنگز میں شریک ہوں تو اپنی زوردار اور یکطرفہ گفتگو سے ماحول ہی بدل دیتے ہیں۔ سب لوگ چپ رہتے ہیں کہ جواباً کوئی بات کی تو پھر سے ایک طویل جواب سننا پڑے گا۔ میٹنگ کے بعد اکثر شرکا یہی کہہ رہے ہوتے ہیں یار آیندہ انہیں مدعو نہ کیا کریں۔

ان کے اسی یکطرفہ مکالمے کی عادت کی وجہ سے شیخ صاحب کہتے ہیں کہ انہیں ایموشنل انٹیلی جنس کی ٹریننگ کی اشد ضرورت ہے۔ ایموشنل انٹیلی جنس کی ترجمہ جذباتی ذہانت کیا جاتا ہے جو کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا۔ ہندی میں بہرحال اسے بھاوناتمک بھُدی بولتے ہیں۔ اردو میں اسے تہذیبِ جذبات کہیں تو کیسا ہے۔ مجھے تو تہذیبِ جذبات زیادہ مناسب متبادل لگتا ہے۔

خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔

پروفیسر صاحب ایک چلتی تلوار ہیں۔ جس چیز کو حق سمجھ لیا پھر اس سے پیچھے ہٹنا اپنی راجپوتی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور جسے چیز کو باطل قرار دے دیا اس کی ہر گلی کوچے میں مٹی پلید کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اپنے قرار کردہ باطل کے خلاف شمشیر برہنہ بن جاتے ہیں۔ اس مخالفت میں نہیں دیکھتے کہ خود ان کو کتنا نقصان ہورہا ہے۔ اپنے نقصان پر بھی خوش ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اپنے نقصان پر سمجھتے ہیں کہ ان کا سچ کارگر ہوا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ حق بات کئی دفعہ کڑوی ہوتی ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ پروفیسر صاحب سچ کو لازماً کڑوا اور ہر کڑوی بات کو لازماً سچ سمجھتے ہیں۔

طلبہ کی تعلیم کے معاملے میں بھی شدت پسند ہیں۔ طلبہ پر جبر ہی کیوں نہ کرنا پڑے انہیں سکھا پڑھا کر ہی رہتے ہیں۔ ان پر کام کر بوجھ ان کی اوقات سے بھی زیادہ لاد دیتے ہیں۔ خود بھی ایسے ہی جنونیوں کی طرح تعلیم حاصل کی اور اب توقع رکھتے ہیں کہ ان کے طلبہ دنیا کی ہر چیز سے منہ موڑ کر صرف اور صرف ان کے دئیے ہوئے کام کو دھیان سے کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ طلباء میں تو غیر مقبول ہیں ہی ساتھی اساتذہ بھی نالاں رہتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اب کام نہ کرایا تو عملی زندگی میں خوار ہوں گے اور ساری عمر اپنے استاد کو کوسیں گے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ان کے چنڈھے ہوئے طلباء کو فوراً نوکری مل جاتی ہے اور وہ عملی زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔ زندگی کی کامیابیوں کو سمیٹنے کے بعد میں وہ کبھی اپنے استاد سے ملتے ہیں تو ان کے پاؤں چھوتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ سر آپ بالکل درست تھے۔ کہاوت ہے کہ بزرگوں کی باتوں اور ہرڑ کے مربے کا بعد میں ہی پتا چلتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی نصیحتوں کا بھی ایک عمر گزرنے کے بعد ہی پتا چلتا ہے۔

اسلام اور پاکستان پر انتہا درجے کا یقین رکھتے ہیں۔ کئی دفعہ تو یوں لگتا ہے جیسے تحریک پاکستان کا کوئی کارکن پاکستان کو اپنے خوابوں کی جنت بنانے میں جُتا ہوا ہے۔ کئی دفعہ تو ان کی تمناؤں کو دیکھ کر ان پر باقاعدہ ترس آتا ہے۔ لیکن موصوف ہیں کہ مایوس ہی نہیں ہوتے۔ ملک پر یقین کی انتہا ہے کہ بیرون ملک اچھے اداروں میں کام کی پیش کش چھوڑ چھاڑ کر ملک میں آ بسے اور یہاں کے نظام سے لڑتے بھڑتے جیئے جا رہے ہیں۔ اپنے ہنر سے ملک کو فائدہ پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے گھر اور چھوٹی سے گاڑی پر بھی مطمئن ہیں۔ آمدن کا بڑا حصہ غریبوں پر خرچ کردیتے ہیں۔ اپنے احباب کی جیبوں سے بھی اپنے رفاعی کاموں کے لیے پیسے نکلوا لیتے ہیں۔
انتہا درجے کے محقق ہیں۔ ہر سال انتہائی پائے کے تحقیقی مقالے لکھتے ہیں جو انتہائی پائے کے مجلوں میں شائع ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سچے محقق کے اندر ایک شمع جل رہی ہوتی ہے جو اسے بے چین رکھتی ہے۔ اسے کسی پل قرار نہیں لینی دیتی۔ اسے مجبور کرتی ہے کہ اپنے موضوع پر نیا اور انوکھا کام تخلیق کرے ۔ جب کوئی محقق پیسے اور عہدے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے تو یہ شمع بجھ جاتی ہے۔ اپنے کئی جاننے والے بڑے بڑے پروفیسروں کا نام لیے بغیر تذکرہ کرتے ہیں کہ ان کے اندر تحقیق کی شمع گُل ہو چکی ہے۔ یہ بس مانگے تانگے کی تحقیق پر اپنا نام چپکا کر اعزاز لینے والے جعلساز ہیں۔

کام کے اتنے جویا ہیں کہ ایک دفعہ رات گئے تک دفتر میں کام کرتے رہے اور چوکیدار یہ سمجھ کر کہ سب گھروں کو جا چکے ہیں باہر سے تالہ لگاگیا۔ پھر نہ جانے کن جوکھوں سے باہر نکالے گئے۔ لاک ڈاؤن میں بھی انہیں ایک پل چین نہیں ہے۔ ایک ٹانگ رفاہی کاموں میں پھنسا رکھی ہے۔ دوسری ٹانگ لیبارٹری میں۔ تحقیقی کام زور و شور سے جاری ہے۔ اس میں ایک سیکنڈ کا وقفہ نہیں آنے دیا۔ لیکن انسانی فطرت کی بوالعجبی پر حیرت ہوتی ہے کہ اتنا تحقیقی مزاج رکھنے والا شخص سازشی تھیوریوں پر فوراً یقین کرلیتا ہے۔ شاید یہ ان کی اسلام اور اپنے وطن کے لیے حساس ہونے کی علامت ہے۔

ہر مسئلے پر اپنی ایک رائے رکھتے ہیں۔ دنیا کے بڑے سے بڑے مسئلے سے لیکر اپنے شہر یا گھر کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے تک ان کی رائے پختہ اور عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی ہے۔ پہلے بھی عرض کیا کہ جس رائے پر ان کا دل ٹھک گیا اسے کوئی بڑے سے بڑا دانشور بھی تبدیل نہیں کرا سکتا۔ اپنی رائے کے اظہار اتنے پرزور طریقے سے کریں گے تو دوسرے اسے دل سے مانیں نہ مانیں، بظاہر تسلیم کر کے ہی اٹھتے ہیں۔
کچھ عرصہ میری نمازوں میں وقفہ آیا توبغییر کسی رورعایت کے اس طرح متوجہ کر دیا۔ پھر دھیان نہیں دیا تو پھر متوجہ کیا۔ پھر ایک دن تو اٹھا کر ساتھ ہی لے گئے۔

طبیعت کے اعتبار سے صوفی اور درویش ہیں۔ اکثر سچے محقق صوفی ہی ہوتے ہیں۔ جو اپنے چوغے پہنے لیبارٹریز میں فطرت کے سربستہ رازوں کو عیاں کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ان کے اندر کی شمع ہی انہیں سچا صوفی بناتی ہے۔ ہم جیسے ان کے پرستار سمجھتے ہیں کہ ان کی اڈھب شخصیت ان کی اس تحقیقی فطرت کی وجہ سے ہی ہے۔ تخلیقی ذہن رکھنے والے لوگ نہ عام لوگوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں نہ عام لوگوں کی زندگی جیتے ہیں۔یہ ابنارمل لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی ہی ایک الگ دنیا ہوتی ہے جس میں وہ صبح شام گزارتے ہیں۔
پروفیسر صاحب جس دن وہ جذبات کے بغیر ایک نارمل انسان کی طرح ہمارے سامنے آئے تو یقین کیجیے گا کہ ہمیں بالکل بھی اچھے نہیں لگیں گے۔ ہمیں وہ ایسے ہی اچھے لگتے ہیں جیسے وہ ہیں اور ہم ان کی کامیابیوں کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا گو ہیں۔
ہماری بھابھی جان کی ہمت کو سلام ہے جو ان کے ساتھ نباہ کررہی ہیں۔ یقیناً اب تو وہ بھی ہماری طرح ان کی عادی ہوگئی ہوں گی۔ یقین ہے کہ روزِ آخرت ان کی نیکیوں کے پلڑے میں سب سے زیادہ وزن ان کے صبر کا ہوگا اور وہی ان کی بخشش کا باعث بنے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com