جہاں اتنا کیا ہے وہاں آر پار سہی - حبیب الرحمن

ہم اکثر یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ "قومِ رسولِ ہاشمی اپنی ترکیب میں خاص ہے" اس لئے اقوام عالم سے اس کا موازنہ نہ کیا جائے تو بہتر ہے لیکن معاملہ اس کے بر عکس ہے۔ پوری دنیا ہمیں مسلمان سمجھتی ہے لیکن دنیا بھر کے سارے مسلمان ایک دوسرے کی نظر میں کافر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا تو ہمارے طرز فکر و عمل کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا بھی چاہتی ہے اور چلنا بھی چاہتی ہے لیکن ہم جب بھی گرفتارِ بلا ہوتے ہیں، دنیا کی جانب منھ موڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ایک عیب ہم میں اور بھی ہے، وہ یہ ہے کہ جو حکومت اقتدار میں ہوتی ہے اور وہ جو اقدامات بھی اٹھا تی ہے، وہ از خود تو بہر لحاظ اٹھائے جانے والے اقدامات کیلئے ہزار جواز اور دلیلیں رکھتی ہی ہے، ملک کا سارا میڈیا اور حکومت کے سپورٹرز اس سے کہیں زیادہ دلیلیں اس کے حق میں لیکر کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن اگر اسی اٹھائے جانے والے قدم سے حکومت اچانک یو ٹرن لے لے تو پاکستان کا سارا میڈیا اور حکومت کے سپورٹر یو ٹرن کے حق میں پہلے سے بھی کہیں بڑھ کر دلائل کا ڈھیر لگا دیتے ہیں۔کورونا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔ جب دنیا کی نقالی کرتے ہوئے صوبوں نے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیا تو پاکستان ٹی وی کا ہر چینل لاک ڈاؤن ہی کو اس آفت ناگہانی کا واحد علاج ثابت کرنے پر تلا رہا لیکن جب پوری دنیا نے یہ محسوس کیا کہ جب تک کورونا کا علاج دریافت نہ ہو جائے اس وقت تک اسے پھیلنے سے دنیا اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی لحاظہ ضروری ہے کہ اس وبا کے ساتھ ہی جینا سیکھ لیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد دنیا لاک ڈاؤن کے سلسلے میں نہ صرف نرمی کی جانب گامزن ہو گئی بلکہ امکان اسی بات کا ہے کہ اب یہ لاک ڈاؤن پوری دنیا سے اٹھا ہی لیا جائے گا۔

جونہی دنیا نے اپنے حکمت عملی تبدیل کی فوراً ہی ہم مغرب و امریکا کو اپنا امام تسلیم کرتے ہوئے شمال سے جنوب کی جانب اس طرح پلٹے جیسے مسلمان کبھی حالت نماز میں قبلہ اول سے خانہ کعبہ کی جانب رخ پھیر کر کھڑے ہو گئے تھے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس وبا کا حملہ سب سے پہلے چین میں ہوا تھا۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ چین نہ صرف اللہ کا انکاری ہے بلکہ وہاں اللہ کا نام لینے والے مسلمان سخت آزمائش کا شکار بھی ہیں لیکن اس وبا کے حملے نے چین کے حکمرانوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا اور جس ملک میں اسلام کا نام لینا موت کو دعوت دینے کے برابر سمجھا جاتا تھا، اس ملک کے حکمران خود مسجدوں کی جانب دوڑتے نظر آئے۔ اسی طرح جن ممالک میں کئی کئی سو سال لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی پابندیاں تھیں وہاں کے شہر اذانوں سے گونجتے سنائی دیئے لیکن صد افسوس کہ مسلمان ممالک میں مسجدوں میں تالے لگائے گئے، عبادتگاہیں اور زیارتیں سیل کر دی گئیں یہاں تک کہ حرمین شریفین جیسے مقامات مقدسہ نہ صرف سیل کر دیئے گئے بلکہ مکہ اور مدینے میں کرفیو تک لگا دیا گیا۔

اس وقت تک دنیا میں صفائی ستھرائی کے سلسلے میں جتنی بھی ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں ان میں کوئی ایک بھی ایسی نہیں جس کو مسلمان 15 سو سال سے نہ اپنائے ہوئے ہوں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ واقعی قومِ رسول ہاشمی دنیا کی ساری اقوام میں خاص ہے لیکن وہ خود اپنے "خاص" ہونے کو پہچان لینے کیلئے تیار نہیں۔لاک ڈاؤن تو اب شاید پوری دنیا سے اٹھا لیا جائے اور اس کی تقلید میں پاکستان کسی بھی طور پیچھے نہیں رہے گا۔ جب کورونا اور انسانوں کو اب ایک ساتھ ہی رہنا طے ہے تو پھر میری حکومت پاکستان سے گزارش ہوگی کہ وہ چند پابندیاں اور بھی اٹھالے تو کورونا کا خوف دلوں سے مزید کم ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ کورونا کی وجہ سے اموات کی اوسط بہت تشویشناک نہیں جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی اوسط بہت خوش کن ہے۔

جس مرض کا اب تک کوئی علاج ہی دریافت نہ ہو سکا ہو اس سے از خود صحتیابی ہمیں یہ درس دے رہی ہے کہ اس میں وہ دہشتناکی نہیں کہ شہر کے شہر سیل کر دیئے جائیں لہٰذا حکومت سے گزارش ہے کہ وہ گلیوں اور محلوں کو سیل کرنے اور کورونا کے مریضوں کو اچھوت بنانے کی بجائے ان پر لگائی ہر پابندی ختم کردیں۔ اگر قورنطائن میں جاکر بنا علاج مریض صحتیاب ہو سکتا ہے تو گھر میں رہ کر کیوں صحتیاب نہیں ہو سکتا۔ زندگی کو معمول پر لایا جائے اور اگر لاک ڈاؤن اٹھا لیا گیا ہی ہے تو پھر اس کا مقابلہ مورچہ بند ہو کر کرنے کی بجائے کھلے میدان میں کیا جائے اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیئے جائیں۔ یا پردہ پورا کیا جائے یا کھل کر سامنے آیا جائے یہ چلمن سے لگے بیٹھے رہنے سے کہیں بہتر ہے پوری بیباکی کے ساتھ جلوہ افروز ہوا جائے۔ امید ہے کہ حکومت اگر مقابلے پر اتر ہی آئی ہے تو پھر گھمسان کا رن پڑ ہی جائے تو بہتر ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com