قرآن اور ہم‎ - داؤد نبی

جب ہجرت مدینہ کے بعد پے در پے فتوحات کے بعد حقیقی طور اسلام کو غلبہ اور ریاست حاصل ہوئی تو دنیا نے وہ وقت بھی دیکھا جب مسلمانوں کی شان و شوکت, رعب و ہیبت, راستبازی, صلاحیت, خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ڈنکا بج رہا تھا.
قرآن کریم اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کے انسانوں کیلئے آخری کتاب ہے, اور اسی کتاب کو صبحِ قیامت تک کیلئے تمام لوگوں کیلئے دستور حیات قرار دیا گیا.

تاریخ گواہ ہے کہ جب اور جس نے بھی اس کتاب کے مطابق کو اپنا دستور بنایا تو دنیا کی زمین ان کے قدم چومنے کو ترستی تھی, لیکن آج ہماری حالت بلکل مختلف ہے, آج پوری دنیا کے اندر مسلمان ظلم و بربریت کے شکار دکھائی دے رہے ہیں, اس کی وجہ کیا ہے؟کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آج ہم قرآنی تعلیمات سے اتنے ہی دور ہیں جتنے کہ غیر مسلم. عجیب معاملہ ہے کہ ہم با ایمان اور مسلم ہونے کا دعوی تو کررہے ہیں لیکن عملی طور پر ہم اسلام اور قرآن کی تعلیمات سے دور چلے جارہے ہیں. کیا ہم نے کھبی اس کتاب کو کھول کر اس کی آیات پر تدبر اور تفکر کیا ہے ؟ کیا جو حدیں ہمارے لئے مقرر کی گئی ہیں ہم انکا کتنا پاس و لحاظ رکھتے ہیں؟ کیا ہماری زندگی کا بھی وہی مقصد ہے جو قرآن میں ہمارے لئے اللہ تعالی نے مقرر کیا ہے؟ کیا جسے قرآن 'صبغة الله' کہتا ہے ہم اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگنے کیلئے تیار ہیں ؟ کیا ہمارے معاملات, معیشت, معاشرت میں وہ تبدیلی آگئی ہے جو اللہ تعالی ہم سے چاہتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ جب ہمارے معاملات قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہے تو بھلا اللہ تعالی ہم سے کیسے راضی ہوسکتا ہے.

جس قرآن سے پوری انسانیت کو روشنی ملی ہم اسی کو بھلا کر روشنی تلاش کر رہے ہیں, جنہیں ایک بن کر رہنے کو کہا گیا تھا وہ آج آپس میں ہی دست و گریباں ہے, جو قوم ایک ہی اللہ, رسول اور کتاب کو مانتی تھی وہ آج سینکڑوں گروہوں اور فرقوں میں بٹی ہوئی ہے, آج کا مسلمان افتراق اور انشار کا شکار کیوں؟آج کے دور میں بھی ہم آخر کیوں ہم شکستوں پر شکست کھارہے ہیں ؟ آخر کیوں ؟کیا ہم نے کھبی اس پر غور کیا ہے ؟کہیں ہم قرآنی تعلیمات کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے ہیں؟اگر ہمیں اپنا کھویا ہوا مقام پھر حاصل کرنا ہے تو ہمیں لازما قرآن کریم سے اپنا رشتہ از سر نو منظم اور استوار کرنا ہوگا. آج کے ان عظیم اور بابرکت لمحات کو غنیمت جانئیے اور قرآن کریم کی طرف لپک جائیے, کیونکہ بار بار ایسے موقعے نہیں آنے والے کیوںکہ موت کھبی بھی آسکتی ہے.

بقول علامہ اقبال ,

خوار از مہجوری قرآن شدی

شکوہ سنج گردشِ دوران شدی

اے چوں شبنم پر زمین افتندہ

در بغل داری کتاب زندہ

یعنی اے مسلمان تیری ذلت اور خواری کا سبب قرآن کریم سے دوری ہے, لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ تو اپنی زبوں حالی کا الزام زمانے پر لگا دیتا ہے, اے مسلم آج تجھے پیروں تلے روندھا جا رہا ہے, تو بکھرا ہوا ہے, اُٹھ اب, کہ تیرے پاس ایک زندہ کتاب ہے جو تجھے بامِ عروج پر لے جاسکتی ہے. حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمیں آج کے دور جیسے یا اس سے بھی بدتر حالات تب تک دیکھنے پڑیں گے جب تک ہم اپنا رشتہ اس آفاقی پیغام سے نہیں استوار نہیں کریں گے.اس موقعہ پر ملتِ مسلمہ کے علماء کرام کو آپس میں اُلجھنے کے بجائے لوگوں کو روحِ قرآن تک پہنچنے کی ترغیب دینی چاہئے. نیز قرآنی تعلیمات اور ایثار و غیرت پر مبنی معاشرہ کی تعمیر و تشکیل نو کے لئے انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف اُمت کی توجہ مبذول کرانے کی کوششیں کرنی چاہیے. رمضان المبارک کے اس آخری عشرے میں ہماری یہ کوشش رہنی چاہیے کہ ہم قرآن کو پڑھیں, سمجھیں, اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور انہیں عام کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں. اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */