چھوڑ دو - نِیلم ملک

"کھول دو" سعادت حسن منٹو کے مقبول ترین افسانوں میں سرفہرست ہے۔ اس افسانے میں تقسیمِ برصغیر اور ہجرت کے دوران ایک لڑکی سکینہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جن سے اس کی ذہنی حالت اس قدر متاثر ہو جاتی ہے کہ کہ وہ نیم بے ہوشی میں جب کھڑکی کے لیے ڈاکٹر کے منہ سے کھول دو کے الفاظ سنتی ہے تو۔اس افسانے میں بری سوچ، غلط تربیت اور منتشر حالات کے نتیجے میں پروان چڑھنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں ایک لڑکی کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں پڑھنے اور سننے ہوئے دردمند دل رکھنے والے لوگ کئی دہائیوں سے آبدیدہ و دل گرفتہ ہوتے آ ریے ہیں۔

زمانے کا چلن بدلا تو کھول دو کی جگہ اب لفظوں کا ایک اور جوڑا "چھوڑ دو" ہر طرف گونجتا سنائی دیتا ہے۔ جو بظاہر بدصورت نہ ہو کر بھی اپنے استعمال کے محل سے بدصورت معلوم ہونے لگا ہے۔ لفظوں کا یہ جوڑا دراصل ایک مخصوص سوچ کے تحت ہمارے معاشرے میں عام کیا جا رہا ہے اور ہم سب اس کی تشہیر میں یہ جانے بغیر پیش پیش ہیں کہ ایسا کر کے ہم اپنے لیے ہی کھائی کھود رہے ہیں۔ ہماری شبانہ روز جانفشانی سے کی جانے والی تشہیر و تائید کے نتیجے میں لفظوں کا یہ جوڑا انسانوں کے جوڑے توڑنے میں تندہی سے منہمک ہے۔ انسانوں کا جوڑا بھلے دوستوں کا ہو ، بھائی بہنوں کا ہو، میاں بیوی کا ہو یا پھر ولد و والد کا، "چھوڑ دو" کی تباہ کاریوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔

ایکس کو چھوڑ دو ۔۔۔ وائی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔ زی کو چھوڑ دو۔۔۔

چھوڑ دو کی یہ گونج الیکٹرانک میڈیا پر نسبتاً کم شدت سے سنائی دیتی ہے۔ کیونکہ بحرحال وہاں پہ کچھ نہ کچھ حدود و قیود قائم ہیں۔ البتہ سوشل میڈیا کے بیشتر فورمز پر اس کی گونج ہیجان خیز حد تک شدید ہے جس سے ظاہر ہے کہ بہت سے ذہن متاثر ہو رہے ہیں۔
ضرور ہے کہ ماڈرن ازم کے نام پر دوسروں کی پیروی کرنا مقصود ہے تو کسی بھلے کام میں کیجیے۔ کیونکہ ایک مستحکم معاشرت کے قیام کے حوالے سے ہمارے اپنے اصول اُن سے بدرجہا بہتر ہیں جن کی پیروی کرنے میں ہم اپنی سہولت اور جدت سمجھے ہوئے ہیں۔"چھوڑ دو" کے پرچار سے جہاں کئی رشتے ناطے، دوستیاں، تعلقات اور گھر ٹوٹتے ہیں وہیں اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ اور مشکل صورتحال بھی سامنے آتی ہے۔ وہ یوں کہ ظاہر ہے ہر کوئی ہر کسی کو باآسانی چھوڑ نہیں سکتا۔ ہر کوئی، ہر رشتہ توڑ بھی نہیں سکتا۔ اس کی بے شمار معاشی ، معاشرتی ، قلبی، نفسیاتی، خانگی ، اقتصادی اور اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔لیکن اس "چھوڑ دو" کے پرچار سے بے شمار ذہنوں میں یہ سوچ راسخ ہو جاتی ہے کہ کوئی تعلق یا رشتہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ نہیں۔ نہ اس کا ہمیشہ قائم رہنا اور رکھنا ہمارے لیے ضروری۔

یہ سوچ افراد کو ایک ایسی ذمہ داری سے آزاد کر دیتی ہے جو اس سے پہلے وہ اپنی معاشرتی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں خود پر محسوس کرتے رہے۔یوں اس پرچار کے نتیجے میں لاتعلقی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ لاتعلقی کبھی باہر والوں یعنی دوست احباب اور دیگر متعلقہ افراد سے شروع ہو کر گھر والوں اور قریبی رشتوں تک پہنچتی ہے۔کبھی گھر والوں سے شروع ہو کر باہر والوں کی طرف سفر کرتی ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان کا تخمینہ کم و بیش برابر نکلتا ہے۔ اس پرچار کے بعد فرد کو کسی اختلافِ رائے، ناچاقی یا نااتفاقی کے پیدا ہوتے ہی ہر رشتہ یا تعلق ذمہ داری کے بجائے فقط ایک ضرورت یا بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے۔ جسے مجبوراََ ڈھوتے اور نبھاتے ہوئے وقت سے بہت پہلے وہ ہانپنے لگتا یے۔ جبکہ ہمارے اصل طریق میں ہر کسی سے اس کی رعیت کے بارے میں جواب طلبی تو ہے ہی۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے سے بھی مختلف حوالوں سے جڑت کو ضروری سمجھا گیا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو اگر "چھوڑ دو" کے بجائے ہم خود بھی یہ سمجھیں اور دوسرے کو بھی یہی صلاح دیں کہ ہر رشتہ، ہر تعلق ، ہر دوستی ہماری ذمہ داری ہے جو ہمارا معاشرہ، ہمارا عقیدہ اور ہماری تہذیب ہمیں سونپتی ہے۔ سو اسے احسن طریق پہ نبھانے کے لیے ضرور ہے کہ ہم اس تعلق یا رشتے میں کہیں خرابی یا کمی پائیں تو اس کی وجہ کا کھوج لگائیں۔پھر اس وجہ کو دور کرنے کی کوشش ضرور کریں۔ لیکن اس رشتے کو ختم کر کے آگے بڑھنے کو خود پر آسان نہ کریں۔ اصل مقصد تو خرابی کو دور کرنا ہو نہ کہ خراب کو۔ آج کل ترکی کے ڈرامہ ارطغرل غازی کی ہمارے ہاں بڑی دھوم ہے۔ ترکی کی شاندار تاریخ اپنی نظیر آپ ہے۔ ارطغرل کو اس ڈرامے میں معجزاتی حد تک طاقت اور بصیرت کا حامل دکھایا گیا ہے۔ کہانیوں ، افسانوں میں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ڈراموں اور فلموں میں کسی کردار کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا اور اسی کے گرد دیگر کرداروں کی مدد سے کہانی کا تانا بانا بننا کہانی کے پلاٹ کو اوسط درجے کے ذہنوں کے لیے پرکشش بناتا ہے،اسی لیے یہ کمرشل کہانی کا جزوِ لازم بھی سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّمہ اور ناقابلِ تردید ہے کہ لیڈرشپ کی اہمیت اپنی جگہ جبکہ ایسی شاندار تاریخ قوموں، قبیلوں، دوستوں، ہمدردوں اور خاندانوں کے اتحاد سے ہی بنتی ہے، فردِ واحد کو اس کا تمام کریڈٹ نہیں دیا جا سکتا۔

یہی ترکی ایک بڑی مثال ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ شاندار تاریخ کا حامل یہ معاشرہ تنزلی کے ایک ایسے دور سے بھی گزر چکا ہے جب اس کا وجود، اس کی بقا تک خطرے میں پڑ چکی تھی۔ صلیبیوں نے ان پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا اور یہ خود بھی اس غلامی کے عادی ہو چلے تھے کیونکہ انہوں نے بھی اپنے اصل کو چھوڑ کر دوسروں کے نقشِ قدم پر چلنے میں اپنی بقا سمجھ لی تھی۔ جس سے نہ یہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کا ہوئے۔یہ الگ بات کہ تُرک اپنا اصل کھو کر بھی ہم سے بدرجہا بہتر تھے۔ اس لیے ان کی درجہ بہ درجہ تنزلی میں بھی اک طویل عرصہ صرف ہوا۔ہم بیچارے تو اک جھٹکے کی مار ہیں جس کے بعد پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہم کبھی اپنا علیحدہ وجود بھی رکھتے تھے۔ ترکوں کی خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی کہ ان کو ایسی لیڈرشپ میسر آ گئی جس نے تہذیب کی قربانی دے کر معیشت کو بچا لیا۔ اس حکمتِ عملی نے ان کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور وہاں کے عوام کو بھی آسودہ کر دیا۔ ان کی معیشت کو بھی مستحکم کر دیا اور قانون کی عمل داری کو بھی کافی حد تک یقینی بنا دیا۔ لیکن ایک کمی جو پوری نہیں ہو سکی وہ ہے آپسی یگانگت، رشتوں کا تقدس اور آپسی تعلقات کی پاسداری۔ جس سے نہ صرف معاشرتی بلکہ خاندانی نظام بھی خاصا متاثر ہوا۔

مغرب جیسی لاتعلقی نہ سہی، بہرحال پہلی سی مثالی یگانگت بھی وہاں موجود نہ رہی۔ لاتعلقی اب اس معاشرے کا بھی ایسا حصہ بن چکی ہے جسے حقیقت کی طرح قبول کر لیا گیا ہے۔ ارطغرل غازی ڈرامہ میں ابن العربی کہتے ہیں "پرندے اپنے اپنے جھنڈ میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ شاہین شاہینوں میں اور کوے کوؤں میں"۔جبکہ تُرک اب کوے ہیں نہ شاہین۔ ہم شاہین نہ سہی، تیتر بٹیر جو بھی ہیں، ہماری بہرطور ابھی ایک پہچان باقی ہے۔ لیکن اس وقت ہم جس نہج پر ہیں یہ ہمیں بھی معلق کر دینے والی ہے۔ ہمارے پاس نہ ترکوں جیسی شاندار تاریخ ہے جس کے نام پر دنیا میں کسی مقام کا بھرم رکھ سکیں۔ نہ اُن جیسی لیڈر شپ میسر آنے کا مستقبل قریب و بعید میں امکان ہے۔ جس کی بنیاد پر حالات بدلنے کی امید رکھی جا سکے۔ اس لیے جو یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں کہ "یہ کام ریاست کا ہے کہ وہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی ذہنی صحت کو ایک متوازن ماحول فراہم کرے جو صرف بہترین سکولنگ سے ہی ممکن ہے"۔ ان کو خبر ہو کہ اپنی آسانی کا یہ راستہ کسی منزل کو نہ جائے گا۔ اس وقت ضرور ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے جو بچتا ہے اسے بچا لے۔

ہمارے پاس صرف لمحہِ موجود ہے جسے سنبھال کر ہم خود کو آنے والی تنزلی بلکہ مسماری سے محفوظ رکھ کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے انفرادی کوششوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بھلے وہ کوشش اپنی ذاتی زندگی ہی سے منسلک کیوں نہ ہو۔ کیونکہ فرد ہی معاشرے کی اکائی ہے۔ اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اور سب سے لازمی طور پر "چھوڑ دو" والی سوچ کو چھوڑنا ہو گا اور ایک دوسرے سے منسلک رہنے کا وہی اصول اپنانا ہو گا جو ہمارا اصل ہے۔ ابھی وقت کا آخری سرا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ابھی ہم سوچ سکتے ہیں کہ "کھول دو" صرف ایک لڑکی کی بربادی کی کہانی ہے ۔ اگر ہم نے "چھوڑ دو" کی سوچ کو نہ چھوڑا تو اگلے وقتوں میں کوئی پِنٹو، چِنٹو یا وَن ٹُو "چھوڑ دو" کے عنوان سے ہمارے پورے معاشرے کے بارے میں یوں رقم طراز ہو گا کہ ۔۔ "مشرق میں ایک ایسا معاشرہ ہوا کرتا تھا جو اپنی منفرد تہذیب کا حامل تھا"۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */